আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৯২৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہوگا کی تفسیر میں نبی ﷺ نے فرمایا ہر انسان جہنم میں داخل ہوگا، بعد میں اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکل آئے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ كُلُّهُمْ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے، اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ سُبُلٌ قَالَ يَزِيدُ مُتَفَرِّقَةٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنالیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے قیامت کا قیام بدترین لوگوں پر ہی ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کرلیتے تھے اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ وَيُوصِي أَحَدُنَا بِالْحَاجَةِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود ! قیامت قریب آگئی ؟ اس وقت حضرت ابن مسعود (رض) تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہوگا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے، یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے پوچھا کہ آپ کی مراد رومی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اور اس وقت نہایت سخت جنگ ہوگی اور مسلمانوں کی ایک جماعت یہ عہد کر کے نکلے گی کہ ہم لوگ مرجائیں گے لیکن غالب آئے بغیر واپس نہ آئیں گے، چناچہ وہ جنگ کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات حائل ہوجائے گی اور دونوں لشکر واپس آجائیں گے، جبکہ مسلمانوں کی وہ جماعت کام آچکی ہوگی، تاہم کسی ایک لشکر کا غلبہ حاصل نہیں ہوگا۔ تین دن تک اسی طرح ہوتا رہے گا، چوتھے دن باقی ماندہ تمام مسلمان دشمن پر حملہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ دشمن پر شکست مسلط کردیں گے اور اتنے آدمی قتل ہوں گے کہ اس کی نظیر نہیں ملے گی، حتی کہ اگر کوئی پرندہ ان کی نعشوں پر گذرے گا تو انہیں عبور نہیں کرسکے گا اور گر کر مرجائے گا، اس وقت اگر ایک آدمی کے سو بیٹے ہوئے تو واپسی پر ان میں سے صرف ایک باقی بچا ہوگا، تو کون سی غنیمت پر خوشی ہوگی اور کون سی میراث تقسیم ہوگی ؟ اسی دوران وہ اس سے بھی ایک ہولناک خبر سنیں گے اور ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چناچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتاہوں، وہ اس وقت زمین پر بہترین شہسوار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرٌ إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتْ السَّاعَةُ قَالَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ قَالَ عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ وَنَحَّى بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ قَالَ وَيَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمْ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ لَا يُرَى مِثْلُهَا وَإِمَّا قَالَ لَمْ نَرَ مِثْلَهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا قَالَ فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ قَالَ بَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِنَاسٍ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہوجائیں ( اور سحری کھالیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی، راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا، بلکہ اس طرح ہوتی ہے، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ ثُمَّ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا أَوْ قَالَ هَكَذَا حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک انصاری کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضاء حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے اس سے کہا اے دشمن خدا ! تو نے جو بات کہی ہے، میں نبی ﷺ کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، چناچہ میں نے نبی ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کردی جس پر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن مسعود (رض) سے پوچھا کہ کیا لیلۃ الجن کے موقع پر آپ میں سے کوئی صاحب نبی ﷺ کے ساتھ بھی تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، ہم میں سے ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا، بلکہ ایک مرتبہ رات کو ہم نے نبی ﷺ کو گم پایا، ہم فکر مند ہوگئے کہ کہیں کوئی شخص نبی ﷺ کو دھوکے سے کہیں لے تو نہیں گیا ؟ اور ہم پریشان تھے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ ہم نے وہ ساری رات جو کسی بھی قوم کے لئے انتہائی پریشان کن ہوسکتی ہے، اسی طرح گذاری، جب صبح کا چہرہ دکھائی دیا تو نبی ﷺ بھی ہمیں غار حراء کی جانب سے آتے ہوئے نظر آئے، ہم نے نبی ﷺ سے اپنی فکرمندی اور پریشانی کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جنات میں سے ایک جن دعوت لے کر آیا تھا، میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا، وہ مجھے لے گیا اور اس نے مجھے اپنے آثار اور اپنی آگ کے اثرات دکھائے، (امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے توشہ کی درخواست کی تھی) وہ جزیرہ عرب کے جنات تھے۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمہارے ہاتھوں میں آجائے، اس پر جنات کے لئے پہلے سے زیادہ گوشت آجاتا ہے اور ہر وہ مینگنی یا لید جو تمہارے جانور کریں، ان سے استنجاء نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ فَقَالَ مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنَّا قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُلْنَا اغْتِيلَ اسْتُطِيرَ مَا فَعَلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانِي آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ سَأَلُوهُ الزَّادَ قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ عَامِرٌ فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنْ الْجِنِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ حج کیا، حضرت ابن مسعود (رض) نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنے بائیں ہاتھ رکھا اور منیٰ کو دائیں ہاتھ اور فرمایا یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی ﷺ پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ قَالَ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًي عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے گروہ نسواں ! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو ایک عورت جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی، کھڑی ہو کر کہنے لگی یا رسول اللہ ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ أَوْ مِنْ أَعْقَلِهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ أَوْ لِمَ أَوْ بِمَ قَالَ إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنْ ذَرٍّ عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ مِنْ تَيْمِ الرِّبَابِ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فِيمَ وَبِمَ وَلِمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیرت مند نہیں ہوسکتا، اسی لئے اس نے ظاہری اور باطنی فحش کاموں سے منع فرمایا ہے اور اللہ سے زیادہ تعریف کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے، اسی لئے اپنی تعریف خود کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَقَدْ رَفَعَهُ قَالَ لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اشعار کی طرح ؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں پھر انہوں نے مفصلات کی بیس رکعتیں ذکر کیں، ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ قَالَ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک ؟ فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ قُلْتُ لِسَعْدٍ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَجَّاحٌ قَالَ شُعْبَةُ كَانَ سَعْدٌ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ فَقُلْتُ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں جمع فرمایا : اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ فتح ونصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانابنالینا چاہئے، یزید کے بقول یہ اضافہ بھی ہے کہ اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ حَجَّاجٌ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَ يَزِيدُ جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ فَكُنْتُ فِي آخِرِ مَنْ أَتَاهُ قَالَ إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنْ الْمُنْكَرِ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ يَزِيدُ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو ہم سے حدیث سن کر اسے یاد کرے اور اسے آگے پہنچا دے، کیونکہ بہت سے سننے والوں سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن تک وہ حدیث پہنچائی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ لَهُ مِنْ سَامِعٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاحٌ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً قَالَ حَجَّاجٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ لِي وَقَدْ رَفَعَهُ لِغَيْرِي قَالَ أَنَا أَهَابُ أَنْ أَرْفَعَهُ لِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَلَّمَا كَانَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے اور ان میں سے ہر ایک درجہ اس کی نماز کی طرح ہوگا۔
حَدَّثَنِيهِ بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفَضِّلُ صَلَاةَ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو خیر کے جامع، افتتاحی اور اختتامی کلمات عطاء فرمائے گئے تھے، چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم دو رکعتوں پر بیٹھا کرو تو یوں کہا کرو کہ تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کے بعد جو دعاء اسے اچھی لگے وہ مانگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ فَقَالَ إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنْ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اور ایک موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ عضہ " کیا چیز ہوتی ہے ؟ اس سے مراد وہ چغلی ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔
وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ قَالَ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ
তাহকীক: