আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৯৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے، " ولقدیسرناالقرآن للذکر فہل من مدکر "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ هَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سورت نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کرلیا، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ بِهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی ﷺ کا گذر ہوا، نبی ﷺ نے دور ہی سے فرمایا اے ابن ام عبد ! مانگو تمہیں دیا جائے گا، یہ خوشخبری مجھ تک پہنچانے میں حضرات شیخین کے درمیان مسابقت ہوئی، حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ ابوبکر نے مجھ سے جس معاملے میں بھی مسابقت کی وہ اس میں سبقت لے گئے، بہرحال ! انہوں نے بتایا کہ میں اس دعاء کو کبھی ترک نہیں کرتا اے اللہ ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فناء نہ ہو اور نبی اکرم ﷺ کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ عُمَرُ فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَمَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ إِنَّ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَنْ أَدَعَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! پھر پوچھا کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو ؟ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے گا جو مسلمان ہو اور شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بادل ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ قَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ الشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ تمہارے نبی ﷺ کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو ماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہوا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نبی ﷺ کے روئے انور پر راکھ بکھری ہوئی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَاجِدٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابراہیم بن سوید، جو علقمہ کے بعد ان کی مسجد کے امام تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت علقمہ (رض) نے طہر کی نماز پڑھائی، مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے تین رکعتیں پڑھائیں یا پانچ، لوگوں نے ان سے کہا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا اے اعور ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں، اس پر انہوں نے سجدہ سہو کرلیا اور اس کے بعد حضرت ابن مسعود (رض) کے حوالے سے حدیث سنائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ وَكَانَ إِمَامَ مَسْجِدِ عَلْقَمَةَ بَعْدَ عَلْقَمَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ فَلَا أَدْرِي أَصَلَّى ثَلَاثًا أَمْ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَ عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بدشگونی شرک ہے، ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے، لیکن یہ اللہ اسے توکل کے ذریعے ختم کر دے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِيسَى الْأَسَدِيِّ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطِّيَرَةُ مِنْ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی ﷺ اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ وَجْهِهِ فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ فِيمَا نَسِيتُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَسُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہوگئی یا بیشی ؟ بہرحال ! جب سلام پھیرا تو ہم نے نبی ﷺ کو بتایا، یہ سن کر نبی ﷺ نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا اگر نماز کے حوالے سے کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور متنبہ کرتا، بات یہ ہے کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اگر میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہوجائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کرلے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ إِبْرَاهِيمُ الْقَائِلُ لَا يَدْرِي عَلْقَمَةُ قَالَ زَادَ أَوْ نَقَصَ أَوْ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَنَا فَحَدَّثْنَاهُ بِصَنِيعِهِ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا أَجْلَ يُحْزِنُهُ وَلَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ أَجْلَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی۔ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ بِعُقُلِهِ أَوْ مِنْ عُقُلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی ﷺ نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ یوں کہا کرو تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شال ہوجائے گا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي الْأَرْضِ وَفِي السَّمَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ وَزُبَيْدٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فِسْقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ قَالَ فِي حَدِيثِ زُبَيْدٍ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ ﷺ نے حرام قرار نہیں دیا، نیز تعویذ لٹکانے کو اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي رُكَيْنٌ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرًا الصُّفْرَةَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَخَاتَمَ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةَ الذَّهَبِ وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ فِي غَيْرِ مَحِلِّهَا وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالتَّمَائِمَ وَعَزْلَ الْمَاءِ وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُحَرِّمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَيُرْفَعَنَّ لِي رِجَالٌ مِنْكُمْ ثُمَّ لَيُخْتَلَجُنَّ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
তাহকীক: