আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৪০৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے ؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْبَاقِي ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ ثُمَّ يَقُولُ أَلَا عَبْدٌ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میانہ روی سے چلنے والا کبھی محتاج اور تنگدست نہیں ہوتا۔ فائدہ : امام احمد (رح) کے صاحبزادے عبداللہ نے حدیث ٤٢٥٥ سے ٤٢٦٩ تک کی احادیث کے بارے فرمایا ہے کہ میں نے والد صاحب کو یہ احادیث پڑھ کر سنائی ہیں اور اس سے آگے کی احادیث انہوں نے مجھے خود سنائی ہیں حضرت ابن مسعود (رض) سے آیت قرآنی " اقتربت الساعۃ وانشق القمر " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! گواہ رہو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ قَالَ حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَالَ مَنْ اقْتَصَدَ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد إِلَى هُنَا قَرَأْتُ عَلَى أَبِي وَمِنْ هُنَا حَدَّثَنِي أَبِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ قَالَ قَدْ انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ منیٰ کے میدان میں، میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ را سے میں حضرت عثمان غنی (رض) سے ملاقات ہوگئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، حضرت عثمان غنی (رض) فرمانے لگے کہ ابو عبدالرحمن ! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے علقمہ کو بلا کر یہ حدیث بیان کی کہ ہم سے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے گروہ نوجواناں ! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ وِجَاؤُهُ أَوْ وِجَاءَةٌ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ ان کے گھر میں اسود اور علقمہ تھے، حضرت ابن مسعود (رض) نے انہیں بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی اور خود ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا جب تم تین آدمی ہوا کرو تو اسی طرح کیا کرو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آدمی کو امامت کرنی چاہئے اور رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ کر جھکنا چاہئے، کیونکہ وہ منطر میرے سامنے اب تک موجود ہے کہ میں نبی ﷺ کی انگلیاں منتشر دیکھ رہا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى هَؤُلَاءِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ وَقَامَ وَسَطَهُمْ وَقَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَلْيَحْنَأْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ سبیعہ بنت حارث کے یہاں ان کے شوہر کی وفات کے صرف پندرہ دن بعد بچے کی ولادت ہوگئی، اس دوران ابوالسنابل ان کے یہاں گئے تو کہنے لگے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم دوسری شادی کرنا چاہتی ہو ؟ جب تک تم لمبی مدت والی عدت نہیں گذار لیتیں، تمہارے لئے دوسری کرنا جائز نہیں، سبیعہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور انہیں ابوالسنابل کی بات بتائی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابوالسنابل سے غلطی ہوئی، اگر تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے جو تمہیں پسند ہو تو مجھے آکر بتانا اور نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ان کی عدت پوری ہوچکی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَاءَةِ مَا لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ فَأْتِينِي بِهِ أَوْ قَالَ فَأَنْبِئِينِي فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدْ انْقَضَتْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَقَالَ فِيهِ وَإِذَا أَتَاكِ كُفُؤٌ فَأْتِينِي أَوْ أَنْبِئِينِي وَلَيْسَ فِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ و قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ خِلَاسٍ عَنِ ابْنِ عُتْبَةَ مُرْسَلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس کچھ لوگوں نے آکر یہ مسئلہ پوچھا (کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟ ) حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس وہ لوگ تقریبا ایک مہینے تک آتے رہے، ان کا یہی کہنا تھا کہ آپ کو اس مسئلے کا جواب ضرور دینا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں، وہ آپ کے سامنے بیان کردیتا ہوں، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہوگا اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہوگا، اللہ اس کے رسول اسے سے بری ہیں، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ حضرت ابن مسعود (رض) کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک گروہ کھڑا ہوا جن میں جراح اور ابوسنان (رض) بھی تھے اور کہنے لگا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسہلم نے ہماری ایک عورت کے متعلق یہی فیصلہ فرمایا ہے جس کا نام بروع بنت واشق تھا، اس پر حضرت ابن مسعود (رض) بہت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی ﷺ کے فیصلے کے موافق ہوگیا۔ عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس کچھ لوگوں نے آکر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟۔۔۔۔ " پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔ عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود رضی الہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آکریہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ وَلَا يَفْرِضُ لَهَا يَعْنِي ثُمَّ يَمُوتُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ وَأَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ اخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذَلِكَ شَهْرًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا لَا بُدَّ مِنْ أَنْ تَقُولَ فِيهَا قَالَ فَإِنِّي أَقْضِي لَهَا مِثْلَ صَدُقَةِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ فَإِنْ يَكُ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ فَقَامَ رَهْطٌ مِنْ أَشْجَعَ فِيهِمْ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَيْتَ فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِذَلِكَ فَرَحًا شَدِيدًا حِينَ وَافَقَ قَوْلُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ أَبِي وَقَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ فَاخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ ابْنَ مُرَّةَ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيَّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ خِلَاسٍ وَأَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ اخْتُلِفَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَمَاتَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَامَ الْجَرَّاحُ وَأَبُو سِنَانٍ فَشَهِدَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِيهِمْ فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ وَكَانَ اسْمُ زَوْجِهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ عَفَّانُ قَضَى بِهِ فِيهِمْ فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ يَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ يَقُولُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کردیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، بخدا ! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا، چناچہ اس نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کردیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کردیتے ہیں، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے ؟ اے اللہ ! تو فیصلہ فرما، چناچہ آیت لعان نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ وَلَئِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ وَإِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ وَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْتَحْ اللَّهُمَّ افْتَحْ قَالَ فَنَزَلَتْ الْمُلَاعَنَةُ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام (رض) کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور فراغت کے بعد رخ پھیرلیا، لوگوں کو تشویش ہونے لگی چناچہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا کر منہ پھیر دیا ؟ نبی ﷺ نے یہ سن کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا اور فرمایا میں بھی ایک انسان ہی ہوں اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ الْهُزَيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَوَاتُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
وابصہ اسدی (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کوفہ میں اپنے گھر میں تھا کہ گھر کے دروازے پر آواز آئی السلام علیکم ! کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ میں نے کہا وعلیکم السلام ! آ جائیے، دیکھا تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) تھے، میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمن ! اس وقت ملاقات کے لئے تشریف آوری ؟ وہ دوپہر کا وقت تھا (اور گرمی خوب تھی) انہوں نے فرمایا کہ آج کا دن میرے لئے بڑا لمبا ہوگیا، میں سوچنے لگا کہ کس کے پاس جا کر باتیں کروں (تمہاے بارے خیال آیا اس لئے تمہاری طرف آگیا) پھر وہ مجھے نبی ﷺ کی احادیث سنانے لگے اور میں انہیں سنانے لگا، اس دوران انہوں نے یہ حدیث بھی سنائی کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب فتنہ کا زمانہ آنے والا ہے، اس زمانے میں سویا ہوا شخص لیٹے ہوئے سے بہتر ہوگا، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، اس زمانے کے تمام مقتولین جہنم میں جائیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ایسا کب ہوگا ؟ فرمایا وہ ہرج کے ایام ہوں گے، میں نے پوچھا کہ ہرج کے ایام سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جب انسان کو اپنے ہم نشین سے اطمینان نہ ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا زمانہ پاؤں تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا اپنے نفس اور اپنے ہاتھ کو روک لو اور اپنے گھر میں گھس جاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں آجائے تو کیا کروں ؟ فرمایا اپنے کمرے میں چلے جاؤ، میں نے عرض کیا کہ اگر وہ میرے کمرے میں آجائے تو کیا کروں ؟ فرمایا کہ اپنی مسجد میں چلے جاؤ اور اس طرح کرو، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر انگوٹھے پر رکھ دی اور فرمایا یہ کہتے رہو کہ میرا رب اللہ ہے یہاں تک کہ اسی ایمان و عقیدے پر تمہیں موت آجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَلِجُ قُلْتُ عَلَيْكُمْ السَّلَامُ فَلِجْ فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ قَالَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنْ الْمَاشِي وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنْ الرَّاكِبِ وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنْ الْمُجْرِي قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَتَى ذَلِكَ قَالَ ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ قُلْتُ وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ قَالَ حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ قَالَ قُلْتُ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي قَالَ فَادْخُلْ بَيْتَكَ قَالَ قُلْتُ أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي قَالَ فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ وَاصْنَعْ هَكَذَا وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ وَقُلْ رَبِّيَ اللَّهُ حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے یہ بہت بری بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَوْ لِلْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ أَوْ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے آیت قرآنی " لقدرای من آیات ربہ الکبری " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جنت کا ایک سبز ریشمی لباس دیکھا (جو جبرئیل (علیہ السلام) نے پہن رکھا تھا) اور جس نے افق کو گھیر رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفْرَفًا أَخْضَرَ مِنْ الْجَنَّةِ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ ذَكَرَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے باغ میں ایک عورت مل گئی، میں نے اسے اپنی طرف گھسیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا اور اسے بوسہ دے دیا اور خلوت کے علاوہ سب ہی کچھ کیا ؟ نبی ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، وہ آدمی چلا گیا، حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ اگر یہ اپنا پردہ رکھتا تو اللہ نے اس پر اپنا پردہ رکھا ہی تھا، نبی ﷺ نے نگاہیں دوڑا کر اسے دیکھا اور فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ چناچہ لوگ اسے بلا لائے، نبی ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں " حضرت معاذ بن جبل (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا قَبَّلْتُهَا وَلَزِمْتُهَا وَلَمْ أَفْعَلْ غَيْرَ ذَلِكَ فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَوْ سَتَرَ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ فَقَالَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ إِلَى الذَّاكِرِينَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَهُ وَحْدَهُ أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گرپڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعَانَ قَوْمَهُ عَلَى ظُلْمٍ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الْمُتَرَدِّي يَنْزِعُ بِذَنَبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے میدان عرفات سے حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ کوچ کیا، جب وہ مزدلفہ پہنچے تو وہاں پہنچ کر حضرت ابن مسعود (رض) نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائی اور درمیان میں کھانا منگوا کر کھایا اور سوگئے، جب طلوع فجر کا ابتدائی وقت ہوا تو آپ بیدار ہوئے اور منہ اندھیرے ہی فجر کی نماز پڑھ لی اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس جگہ ان دو نمازوں کو ان کے وقت سے مؤخر کردیا تھا، مغرب کو تو اس لئے کہ لوگ یہاں رات ہی کو پہنچتے ہیں اور فجر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے، پھر انہوں نے وقوف کیا اور جب روشنی پھیل گئی تو فرمانے لگے اگر امیرالمومنین اب روانہ ہوجائیں تو وہ صحیح کریں گے، چناچہ حضرت ابن مسعود (رض) کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ حضرت عثمان غنی (رض) وہاں سے روانہ ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَفَضْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا الْعَشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمَّا قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أُخِّرَتَا عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ أَمَّا الْمَغْرِبُ فَإِنَّ النَّاسَ لَا يَأْتُونَ هَاهُنَا حَتَّى يُعْتِمُوا وَأَمَّا الْفَجْرُ فَهَذَا الْحِينُ ثُمَّ وَقَفَ فَلَمَّا أَسْفَرَ قَالَ إِنْ أَصَابَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ دَفَعَ الْآنَ قَالَ فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى دَفَعَ عُثْمَانُ
তাহকীক: