আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৪০৬৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ لیلۃ الجن کے ایک واقعے میں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، جب نبی ﷺ وہاں سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کا سانس پھولا ہوا تھا، میں نے پوچھا خیر تو ہے ؟ فرمایا اے ابن مسعود ! میری تو موت قریب آگئی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ مِينَاءَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَنَفَّسَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ جمعہ میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْظُرَ فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ لَا يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ لیلۃ الجن کے موقع پر دو آدمی ان میں سے پیچھے رہ گئے اور کہنے لگے کہ ہم فجر کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ پڑھیں گے، نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا عبداللہ ! کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس پانی تو نہیں ہے، البتہ ایک برتن میں نبیذ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ پاکیزہ کھجور بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے چناچہ نبی ﷺ نے اس سے وضو کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ وَقَالَا نَشْهَدُ الْفَجْرَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَيْسَ مَعِي مَاءٌ وَلَكِنْ مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ فَتَوَضَّأَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ جمعہ کی نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي فَيَحْزِمُوا حَطَبًا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ بِالنَّاسِ فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ لَا يَشْهَدُونَ الْجُمُعَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
قاسم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز میں تاخیر کردی، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) یہ دیکھ کر کھڑے ہوئے، اقامت کہی اور لوگوں کو نماز پڑھا دی، ولید نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ؟ کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں امیرالمومنین کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے یا آپ نے کوئی نئی چیز ایجاد کرلی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میرے پاس امیر المومنین کا کوئی حکم آیا ہے اور نہ میں نے کوئی چیز ایجاد کی ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول یہ نہیں چاہتے کہ ہم اپنی نماز کے لئے آپ کا انتظار کریں اور آپ اپنے کاموں میں مصروف رہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْوَلِيدُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ أَجَاءَكَ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْرٌ فِيمَا فَعَلْتَ أَمْ ابْتَدَعْتَ قَالَ لَمْ يَأْتِنِي أَمْرٌ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ أَبْتَدِعْ وَلَكِنْ أَبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا وَرَسُولُهُ أَنْ نَنْتَظِرَكَ بِصَلَاتِنَا وَأَنْتَ فِي حَاجَتِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لاسکا، نبی ﷺ نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا یہ ناپاک ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَبِرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ إِنَّهَا رِكْسٌ ائْتِنِي بِحَجَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ ٢٩ کبھی نہیں رکھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا عبداللہ ! کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا اس برتن میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا نبیذ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ مجھے دکھاؤ، یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے، پھر نبی ﷺ نے ہمیں اس سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ طَهُورٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَمَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ قُلْتُ نَبِيذٌ قَالَ أَرِنِيهَا تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وَصَلَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم خصی نہ ہوجائیں ؟ تو نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی، " اے اہل ایمان ! ان پکیزہ چییزوں کو حرام نہ سمجھو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کر رکھی ہیں "
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَعِشْرِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ جَذَعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قتل خطاء کی دیت میں ٢٠ بنت مخاض ٢٠ ابن مخاض مذکر، ٢٠ بنت لبون ٢٠ حقے اور ٢٠ جذعے مقرر فرمائے ہیں۔ فائدہ : یہ فقہاء کی اصطلاحات ہیں جس کے مطابق بنت مخاض یا ابن مخاض اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے سال میں لگ جائے، بنت لبون اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو تیسرے سال میں لگ جائے، حقہ چوتھے سال والی کو اور جذعہ پانچویں سال والی اونٹنی کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَعِشْرِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ جَذَعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے طاقت نہیں رکھتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَأَنَا الَّذِي رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کلمات تشہد سکھائے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي قَالَ أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِي قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৭৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
شقیق (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَذَكَرَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَبْلَ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ قَالَ قَالَا الْهَرْجُ الْقَتْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک رات ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر پر تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو زمین پر پڑ کر سو جائیں اور ہماری سواریاں چر سکیں، نبی ﷺ نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو پہرہ داری کرنی چاہئے، میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا لیکن مجھے بھی نیند آگئی اور اس وقت آنکھ کھلی جب سورج طلوع ہوچکا تھا، نبی ﷺ ہماری باتوں کی آواز سن کر بیدار ہوئے، حضرت بلال (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت کہی اور نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَرَيْنَا لَيْلَةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ امْتَسَسْنَا الْأَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رِكَابُنَا قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَقَالَ لِيَحْرُسْنَا بَعْضُكُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ أَنَا أَحْرُسُكُمْ قَالَ فَأَدْرَكَنِي النَّوْمُ فَنِمْتُ لَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِكَلَامِنَا فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حلالہ کرنے اور کروانے والا دونوں ملعون ہیں۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ أَبِي الْوَاصِلِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لُعِنَ الْمُحِلُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کرام (رض) نبی ﷺ کے پیچھے قرأت کیا کرتے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے مجھ پر قرآن کو مشتبہ کردیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانُوا يَقْرَءُونَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں اپنے چچا کے ساتھ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے چچا کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہوگیا، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَا وَعَمِّي بِالْهَاجِرَةِ قَالَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَقُمْنَا خَلْفَهُ قَالَ فَأَخَذَنِي بِيَدٍ وَأَخَذَ عَمِّي بِيَدٍ قَالَ ثُمَّ قَدَّمَنَا حَتَّى جَعَلَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى نَاحِيَةٍ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ گذشتہ امتوں میں تم سے پہلے ایک بادشاہ گذرا ہے جو اپنی مملکت میں رہا کرتا تھا، ایک دن وہ غور و فکر کر رہا تھا تو اسے یہ بات سمجھ آئی کہ اس کی حکومت ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی اور وہ جن کاموں میں الجھا ہوا ہے ان کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرنے سے محروم ہے، یہ سوچ کر ایک دن رات کے وقت وہ چپکے سے اپنے محل سے نکلا اور دوسرے ملک چلا گیا، وہاں سمندر کے کنارے رہائش اختیار کرلی اور اپنا معمول یہ بنا لیا کہ اینٹیں ڈھوتا، جو مزدوری حاصل ہوتی، اس میں سے کچھ سے کھانے کا انتظام کرلیتا اور باقی سب اللہ کی راہ میں صدقہ کردیتا، وہ اپنے اس معمول پر ثابت قدمی سے عمل کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ خبر اس ملک کے بادشاہ کو ہوئی، اس کی عبادت اور فضیلت کا حال بھی اسے معلوم ہوا تو اس ملک کے بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلا بھیجا، لیکن اس نے جانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے دوبارہ اس کو پیغام بھیجا لیکن اس نے پھر انکار کردیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ کو مجھ سے کیا کام ؟ بادشاہ کو پتہ چلا تو وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کی طرف روانہ ہوا، جب اس شخص نے بادشاہ کو دیکھا تو بھاگنے لگا، بادشاہ نے یہ دیکھ کر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا لیکن اسے نہ پاسکا، ، بالآخر اس نے دور ہی سے اسے آواز دی کہ اے بندہ خدا ! آپ کو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں (میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا) چناچہ وہ اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور بادشاہ اس کے پاس پہنچ گیا، بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں ؟ اس نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں، فلاں ملک کا بادشاہ تھا، میں نے اپنے متعلق ایک مرتبہ غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میری حکومت تو ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی اور اس حکومت کی وجہ سے میں اپنے رب کی عبادت سے محروم ہوں، اس لئے میں اپنی حکومت چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگیا ہوں تاکہ اپنے رب کی عبادت کرسکوں۔ وہ بادشاہ کہنے لگا کہ آپ نے جو کچھ کیا، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ایسا کرنے کی ضرورت ہے، چناچہ وہ اپنی سواری سے اترا اسے جنگل میں چھوڑا اور اس کی اتباع اختیار کرلی اور وہ دونوں اکٹھے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگے، ان دونوں نے اللہ سے یہ دعاء کی تھی کہ ان دونوں کو موت اکٹھی آئے، چناچہ ایسے ہی ہوا، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں مصر کے اس چھوٹے سے ٹیلے پر ہوتا تو تمہیں ان دونوں کی قبریں دکھاتا جیسا کہ نبی ﷺ نے ہمارے سامنے اس کی علامات ذکر فرمائی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ فِي مَمْلَكَتِهِ فَتَفَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ وَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ وَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ وَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْأَجْرِ فَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ وَعِبَادَتُهُ وَفَضْلُهُ فَأَرْسَلَ مَلِكُهُمْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ فَأَعَادَ ثُمَّ أَعَادَ إِلَيْهِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ وَقَالَ مَا لَهُ وَمَا لِي قَالَ فَرَكِبَ الْمَلِكُ فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ فَلَمْ يُدْرِكْهُ قَالَ فَنَادَاهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ لَهُ مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا تَفَكَّرْتُ فِي أَمْرِي فَعَلِمْتُ أَنَّ مَا أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ فَإِنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُ هَاهُنَا أَعْبُدُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي قَالَ ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ فَسَيَّبَهَا ثُمَّ تَبِعَهُ فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَدَعَوَا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا قَالَ فَمَاتَا قَالَ لَوْ كُنْتُ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৮৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد، نبی ﷺ نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ ﷺ مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَسَكَتُّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَزَادَنِي
তাহকীক: