আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৪১০৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں تھے، نبی ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سو رہے تھے، کہ اچانک نبی ﷺ کے قریب سے ایک سانپ گذرا، ہم بیدار ہوگئے اور نبی ﷺ نے فرمایا جس ذات نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا، اسی نے اسے تم سے محفوظ رکھا اور نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی ﷺ کے منہ مبارک سے نکلتے ہی یاد کرلیا، ابھی وہ سورت نبی ﷺ کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْحِ جَبَلٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَهُمْ نِيَامٌ قَالَ إِذْ مَرَّتْ بِهِ حَيَّةٌ فَاسْتَيْقَظْنَا وَهُوَ يَقُولُ مَنَعَهَا مِنْكُمْ الَّذِي مَنَعَكُمْ مِنْهَا وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا فَأَخَذْتُهَا وَهِيَ رَطْبَةٌ بِفِيهِ أَوْ فُوهُ رَطْبٌ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، لوگ ابتدائی طور پر پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے اور نبی ﷺ کے ساتھ مہاجرین و انصار میں سے صرف اسی آدمی ثابت قدم رہے، ہم لوگ تقریبا اسی قدم پھیچھے آگئے، ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، یہ وہی لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمایا تھا، نبی ﷺ اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، خچر کی رفتار تیز ہوئی تو نبی ﷺ زمین کی طرف جھک گئے، میں نے عرض کیا سر اٹھائیے، اللہ آپ کو رفعتیں عطاء فرمائے، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے ایک مٹھی اٹھا کردو، پھر نبی ﷺ نے وہ مٹی ان کے چہروں پردے ماری اور مشرکین کی آنکھوں میں مٹی بھر گئی، پھر نبی ﷺ نے فرمایا مہاجرین و انصار کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کیا وہ یہ رہے، نبی ﷺ نے فرمایا انہیں آواز دو ، میں نے آواز لگائی تو وہ ہاتھوں میں ستاروں کی طرح چمکتی تلواریں لئے حاضر ہوگئے اور مشرکین پشت پھیر کر بھاگ گئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا وَلَمْ نُوَلِّهِمْ الدُّبُرَ وَهُمْ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةَ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنْ السَّرْجِ فَقُلْتُ لَهُ ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ فَقَالَ نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ثُمَّ قَالَ أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ قُلْتُ هُمْ أُولَاءِ قَالَ اهْتِفْ بِهِمْ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک قوم ہوگی جو جہنم میں اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ کی مشیت ہوگی، پھر اللہ کو ان پر ترس آئے گا اور وہ انہیں جہنم سے نکال لے گا، تو یہ لوگ جنت کے قریبی حصے میں ہوں گے، پھر وہ حیوان نامی ایک نہر میں غسل کریں گے، اہل جنت انہیں جہنمی کہہ کر پکارا کریں گے، اگر ان میں سے کوئی ایک شخص ساری دنیا کے لوگوں کی دعوت کرنا چاہے تو ان کے لئے بستروں کا بھی انتطام کرلے گا، کھانے پینے کا بھی انتظام کرلے گا اور ان کے لئے رضائیوں کو بھی مہیا کرلے گا، غالبا راوی نے یہ بھی کہا کہ اگر ان سب کی شادی کرنا چاہے تو یہ بھی کرلے گا اور اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَسَنٌ عَنْ عَطَاءٍ وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ حَسَنٌ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا ثُمَّ يَرْحَمُهُمْ اللَّهُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَيَوَانُ يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيُّونَ لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الدُّنْيَا لَفَرَشَهُمْ وَأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ وَلَحَفَهُمْ وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ وَلَزَوَّجَهُمْ قَالَ حَسَنٌ لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ؟ نبی ﷺ نے ان کے لئے دعاء کردی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي قَالَ فَرَأَيْتُهُمْ فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ وَهَيْئَاتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ قَالَ حَسَنٌ فَقَالَ أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَؤُلَاءِ قَالَ عَفَّانُ وَحَسَنٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَهُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی ﷺ کا گذر ہوا، نبی ﷺ کے ہمرا حضرات ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے، ابن مسعود (رض) نے سورت نساء کی تلاوت شروع کی اور مہارت کے ساتھ اسے پڑھتے رہے، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو اسے ابن ام عبد کی طرح پڑھنا چاہیے، پھر وہ بیٹھ کر دعاء کرنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا مانگو تمہیں دیا جائے گا، انہوں نے یہ دعاء مانگی کہ اے اللہ ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فناء نہ ہو اور نبی اکرم ﷺ کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں، حضرت عمر (رض) انہیں خوشخبری دینے کے لئے پہنچتے تو پتہ چلا کہ حضرت صدیق اکبر (رض) ان پر سبقت لے گئے ہیں، جس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا اگر آپ نے یہ کام کیا ہے تو آپ ویسے بھی نیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي وَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ النِّسَاءَ فَانْتَهَى إِلَى رَأْسِ الْمِائَةِ فَجَعَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَدْعُو وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْأَلْ تُعْطَهْ اسْأَلْ تُعْطَهْ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ بِقِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ لِيُبَشِّرَهُ وَقَالَ لَهُ مَا سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَارِحَةَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَكَ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ مَا سَبَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں اور سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنالیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا قَيْسٌ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَشِرَارُ النَّاسِ الَّذِينَ تُدْرِكُهُمْ السَّاعَةُ أَحْيَاءً وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو اور میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔ اس پر بنو اسد کی ایک عورت کہنے لگی کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، البتہ مجھے قرآن میں تو یہ حکم نہیں ملتا ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں، یہ بات نبی ﷺ نے فرمائی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِنِّي لَأَظُنُّهُ فِي أَهْلِكَ فَقَالَ لَهَا اذْهَبِي فَانْظُرِي فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ فِيهِمْ شَيْئًا وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ قَالَ بَلَى قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دو مرتبہ ابو وائل سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضرت ابن مسعود (رض) سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ وَمَنْصُورٍ وَسُلَيْمَانَ أَخْبَرُونِي أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ قَالَ زُبَيْدٌ قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ مَرَّتَيْنِ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ کو شدید بخار چڑھا ہوا تھا، میں نے ہاتھ لگا کر پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کو بھی ایسا شدید بخار ہوتا ہے ؟ فرمایا ہاں ! مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے، میں نے عرض کیا کہ پھر آپ کو اجر بھی دوہرا ملتا ہوگا ؟ فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ جسے کوئی تکلیف پہنچے، خواہ وہ بیماری ہو یا کچھ اور اللہ اس کی برکت سے اس کے گناہ اسی طرح نہ جھاڑ دے جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ وَقُلْتُ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قَالَ قُلْتُ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ أَجَلْ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھنیچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہوگیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہوجانا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ فَلَمَّا مَالَتْ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ وَقَامَ بَيْنَنَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً ثُمَّ صَلَّى بِنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہوجائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کرلے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے اے ابو محمد ! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے ؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَيُخْتَلَجَنَّ رِجَالٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ پر سورت نصر نازل ہوئی تو آپ ﷺ کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے " سبحنک اللہم ربنا وبحمدک " اے اللہ ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لیلۃ الجن کے موقع پر ان کے گرد ایک خط کھینچ دیا، جنات میں کا ایک آدمی کھجور کے کئی درختوں کی طرح آتا تھا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اپنی جگہ سے نہ ہلنا، نبی ﷺ نے انہیں قرآن کریم پڑھایا، حضرت ابن مسعود (رض) نے جب جاٹوں کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ اسی طرح کے لوگ تھے، نبی ﷺ نے اس موقع پر مجھ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا نبیذ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! چناچہ نبی ﷺ نے اسی سے وضو کرلیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ خَطَّ حَوْلَهُ فَكَانَ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ مِثْلُ سَوَادِ النَّخْلِ وَقَالَ لِي لَا تَبْرَحْ مَكَانَكَ فَأَقْرَأَهُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا رَأَى الزُّطَّ قَالَ كَأَنَّهُمْ هَؤُلَاءِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ لَا قَالَ أَمَعَكَ نَبِيذٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَوَضَّأَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے، جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہارے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے، تم میں سے ہر ایک کے گھر میں مسجد ہوتی ہے، اگر تم اپنے گھروں میں اس طرح نماز پڑھنے لگے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت کے تارک ہو گے اور جب تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَنْ الْمَسْعُودِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ سُنَنَ الْهُدَى لِنَبِيِّهِ وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ پر سورت نصر نازل ہوئی تو آپ ﷺ کثرت کے ساتھ یوں کہنے لگے تھے " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرحیم " اے اللہ ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
tahqiq

তাহকীক: