আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৪১২৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوگئی، ہم نبی ﷺ سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا قَالَ فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ اقْتُلُوهَا قَالَ فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کو نماز میں سہو لاحق ہوگیا، نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے کلام کرنے کے بعد کر لئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهَا فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১২৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر حضرت ابن مسعود (رض) نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، کسی نے ان سے کہا کہ لوگ تو اسے اوپر سے کنکریاں مار رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور سب لوگوں نے اسے دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا گواہ رہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًي حَتَّى ذَهَبَتْ فِرْقَةٌ مِنْهُ خَلْفَ الْجَبَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) تمام لوگوں پر چار چیزوں میں فضیلت رکھتے ہیں۔ (١) غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے، حضرت عمر (رض) نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ نے ان کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی " لولاکتاب من اللہ " (٢) حجاب کے بارے حضرت عمر (رض) نے ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، حضرت زینب (رض) فرمانے لگیں اے ابن خطاب ! تم ہم پر حکم چلاتے ہو جب کہ ہمارے گھروں میں وحی نازل ہوتی ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو " (٣) نبی ﷺ کی ان کے حق میں دعا کے بارے کہ اے اللہ ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت عطاء فرما۔ (٤) حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رائے کے اعتبار سے کہ انہوں نے ہی سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر (رض) کی بیعت کی تھی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَضَلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِأَرْبَعٍ بِذِكْرِ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ اللَّهُمَّ أَيِّدْ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد ایسے امراء بھی آئیں گے جو ایسی باتیں کہیں گے جو کریں گے نہیں اور کریں گے وہی کام جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی ﷺ کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضرا ہو اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا یا مجھے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ الْهِلَالِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً قَدْ سَمِعْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَ كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ لَا تَخْتَلِفُوا أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ مِسْعَرٌ قَدْ ذَكَرَ فِيهِ لَا تَخْتَلِفُوا إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی ﷺ کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ أَوْ احْمَرَّتْ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ جعرانہ میں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، لوگ نبی ﷺ کے پاس جمع ہوگئے حضور اقدس ﷺ ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار ! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی ﷺ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو صاف فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى قَوْمِهِ فَضَرَبُوهُ وَشَجُّوهُ قَالَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبْهَتِهِ يَحْكِي الرَّجُلَ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، لوگوں کو ان کی چادر میں دو دینار ملے، انہوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ فَذَكَرُوا ذَاكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيَّتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم ﷺ ! کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھالے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں، نبی ﷺ اس کی بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ " انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا " گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ يَهُزُّهُنَّ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کی، میں نے ان سے عرض کیا کہ لوگ تو یہاں سے رمی نہیں کرتے، انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَمَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ فِي بَطْنِ الْوَادِي قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ لَا يَرْمُونَ مِنْ هَاهُنَا قَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے، نبی ﷺ کا کچھ بچوں پر گذر ہوا جو کھیل رہے تھے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں ؟ اس نے پلٹ کر پوچھا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں، حضرت عمر (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن ماروں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قادر نہ ہوسکو گے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْشِي إِذْ مَرَّ بِصِبْيَانٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ دَعْنِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُ الَّذِي تَخَافُ فَلَنْ تَسْتَطِيعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں ان میں کوئی شخص مجھ سے جھگڑا نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو عقلمند اور معاملہ فہم لوگ ہیں انہیں نماز میں میرے قریب رہنا چاہیے، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو، اس کے بعد ان سے ملے ہوئے لوگوں کو (درجہ بدرجہ) اور صفوں میں اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور بازاروں کی طرح مسجد میں شوروغل کرنے سے بچو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابوعقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، میں نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے، اللہ نے سچ کہا اور نبی ﷺ نے پہنچا دیا، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی ﷺ نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی، میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی ﷺ نے فرمایا تھا اس لئے میں نے یہ کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَكُونُ فِي بَنِي دَالَانَ يَزِيدُ الْوَاسِطِيُّ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَوَجَدْتُهُ عَلَى إِنْجَازٍ لَهُ يَعْنِي سَطْحًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَصَعِدْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ قُلْتَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبَّأَنَا أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنْ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ وَإِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ قَالَ فَصَعِدْتُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لیلۃ الجن کے موقع پر جب ان کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ کے ساتھ ہڈی، کالی مٹی، مینگنی اور کوئلہ بھی تھا، نبی ﷺ نے فرمایا جب تم بیت الخلاء جاؤ تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ استنجاء نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ فَقَالَ لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت مقداد بن اسود (رض) کے پاس موجود تھا اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بد دعائیں دے کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! بخدا ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ آپ کو فتح عطاء فرما دے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَحْمَسِيِّ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَقَدْ شَهِدْتُ مِنْ الْمِقْدَادِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَجُلًا فَارِسًا قَالَ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَنَكُونَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَمِنْ خَلْفِكَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پر سورت مرسلات کا نزول سانپ والی رات میں ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا کہ سانپ والی رات سے کیا مرا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ غار حراء میں تھے، اچانک ایک سانپ پہاڑ سے نکل آیا، نبی ﷺ نے ہمیں اسے مار ڈالنے کا حکم دیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو ، وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا لَيْلَةَ الْحَيَّةِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا فَطَلَبْنَاهَا فَأَعْجَزَتْنَا فَقَالَ دَعُوهَا عَنْكُمْ فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا
তাহকীক: