আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৪৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گذرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہوجائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چناچہ وہ اپنی جگہ آجائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آجائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَأَضَلَّهَا فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْهَا قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ فَأَمُوتُ فِيهِ قَالَ فَأَتَى مَكَانَهُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَزَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ وَالْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ فَقَالَ بِهِ هَكَذَا فَطَارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گذرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہوجائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چناچہ وہ اپنی جگہ آجائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آجائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زادراہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلَكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَأَضَلَّهَا فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ فَأَمُوتُ فِيهِ قَالَ فَرَجَعَ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ وَيَحْيَى عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ الْمَعْنَى عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر ہوچکا تو نبی ﷺ نے صحابہ (رض) سے پوچھا کہ ان قیدیوں کے بارے تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ ہی کی قوم اور گھرانے کے لوگ ہیں، انہیں زندہ رہنے دیجئے اور ان سے مانوس ہونے کی کوشش کیجئے، شاید اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہوجائے، حضرت عمر فاروق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں نے آپ کو نکالا اور آپ کی تکذیب کی، انہیں قریب بلا کر ان کی گردنیں اتار دیجئے، حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ! کوئی ایسی وادی تلاش کیجئے جہاں لکڑیاں زیادہ ہوں، انہیں اس وادی میں داخل کر کے ان لکڑیوں کو آگ لگا دیں، اس پر عباس کہنے لگے کہ تم نے رشتہ داری کو ختم کردیا، نبی ﷺ کوئی جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی ﷺ حضرت ابوبکر (رض) کی رائے پر عمل کریں گے، کچھ نے حضرت عمر (رض) اور کچھ نے عبداللہ بن رواحہ (رض) کی رائے کو ترجیح دیئے جانے کی رائے ظاہر کی، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے معاملے میں بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتا ہے حتی کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کردیتے ہیں کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اور ابوبکر ! آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ جو میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو آپ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں اور ابوبکر ! آپ کی مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا اگر آپ انہیں سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر آپ انہیں معاف کردیں تو آپ بڑے غالب، حکمت والے ہیں اور عمر ! تمہاری مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کی سی ہے جنہوں نے فرمایا تھا، پروردگار ! زمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی باقی نہ چھوڑ اور عمر تمہاری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سی ہے جنہوں نے دعاء کی تھی کہ پروردگار ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ ایمان ہی نہ لاسکیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں تم لوگ ضرورت مند ہو اور ان میں سے کوئی شخص فدیہ یا قتل کے بغیر واپس نہیں جائے گا۔ حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میرے منہ سے نکل گیا یا رسول اللہ ! ﷺ سوائے سہیل بن بیضاء کے، کیونکہ میں نے انہیں اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے ؟ اس پر نبی ﷺ خاموش ہوگئے، مجھے اس دن سے زیادہ کبھی اس بات کا خوف محسوس نہیں ہوا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر کوئی پتھر نہ گرپڑے، یہاں تک کہ خود نبی ﷺ نے بھی فرما دیا سوائے سہیل بن بیضاء کے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ نبی ﷺ کے لئے یہ بات مناسب نہ تھی کہ اپنے پاس قیدی رکھیں، یہاں تک کہ زمینیں خون ریزی نہ کرلیں، تم دنیا کا سازوسامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ بڑا غالب، حکمت والا ہے، اگر اللہ کے یہاں پہلے سے فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو تمہارے فدیہ لینے کے معاملے میں تم پر بڑا سخت عذاب آجاتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأَسْرَى قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ قَالَ وَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ وَادِيًا كَثِيرَ الْحَطَبِ فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ثُمَّ أَضْرِمْ عَلَيْهِمْ نَارًا قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ قَطَعْتَ رَحِمَكَ قَالَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ وَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ وَقَالَ نَاسٌ يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنْ اللَّبَنِ وَإِنَّ اللَّهَ لَيَشُدُّ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنْ الْحِجَارَةِ وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ مَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ وَمَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى قَالَ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ قَالَ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا وَإِنَّ مِثْلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى قَالَ رَبِّ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنْ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلَا كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَقَالَ فِي قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِتْرَتُكَ وَأَصْلُكَ وَقَوْمُكَ تَجَاوَزْ عَنْهُمْ يَسْتَنْقِذْهُمْ اللَّهُ بِكَ مِنْ النَّارِ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَأَضْرِمْهُ نَارًا ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ فَقَالَ الْعَبَّاسُ قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْدَاءُ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَآذَوْكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ وَأَنْتَ بِوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ فَاجْمَعْ لَهُمْ حَطَبًا كَثِيرًا ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سَهْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قتل خطا کی دیت پانچ حصوں پر تقسیم کر کے مقرر فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الدِّيَةَ فِي الْخَطَإِ أَخْمَاسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا گلی گلی پھرنے والا، ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لے کر لوٹنے والا مسکین نہیں ہوتا، اصل مسکین وہ عفیف آدمی ہوتا ہے جو لوگوں سے کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنے ضرورت مند ہونے کا احساس ہونے دیتا ہے کہ کوئی اسے خیرات دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَلَا التَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کبھی بےوقت نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو اور اسی دن کی فجر کو اپنے وقت سے آگے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچائی کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ کھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے " صدیق " لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِدِّيقًا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَذَّابًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَأُنَازَعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے ؟ فرمایا اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا قَالَ أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے ؟ فرمایا اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔
سَمِعْت يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالَ قُلْنَا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) نے ابن نواحہ سے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو تیرے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کردیتا، آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ ! اٹھ اور اس کی گردن اڑا دے، چناچہ خرشہ نے اٹھ کر اس کی گردن اڑا دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ يَا خَرَشَةُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
یسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی، ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا جس کی پکار صرف یہی تھی کہ اے عبداللہ بن مسعود ! قیامت قریب آگئی ؟ اس وقت حضرت ابن مسعود (رض) تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میراث کی تقسیم رک نہ جائے اور مال غنیمت پر کوئی خوشی نہ ہو، ایک دشمن ہوگا جو اہل اسلام کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کرے گا اور اہل اسلام ان کے لئے اپنی جمعیت اکٹھی کریں گے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ ایک چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ ان کے پیچھے دجال ان کی اولاد میں گھس گیا، چناچہ وہ لوگ یہ سنتے ہی اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو ہر اول دستہ کے طور پر بھیج دیں گے، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں ان کے اور ان کے باپوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی جانتا ہوں، وہ اس وقت زمین کے بہترین شہسوار ہوں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتْ السَّاعَةُ قَالَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ قَالَ عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ جَاءَهُمْ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ قَالَ هُمْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهَرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں سرگوشی سے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، راوی کہتے ہیں کہ ایک چیز میرے استاذ بھول گئے اور ایک میں بھول گیا، میں ایک مرتبہ استاذ صاحب کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی بھی موجود تھے، میں نے انہیں حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے پایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں کہ میرے حصے میں کتنے اونٹ آئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس تعداد میں مجھ سے دوچار تسمے بھی آگے بڑھے، کیا یہ تکبر نہیں ہے ؟ فرمایا یہ تکبر نہیں ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ كُنْتُ لَا أُحْجَبُ عَنْ النَّجْوَى وَلَا عَنْ كَذَا وَلَا عَنْ كَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَنَسِيَ وَاحِدَةً وَنَسِيتُ أَنَا وَاحِدَةً قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قُسِمَ لِي مِنْ الْجِمَالِ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهَا أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيُ قَالَ لَا لَيْسَ ذَلِكَ بِالْبَغْيِ وَلَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ بَطِرَ قَالَ أَوْ قَالَ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی ﷺ کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی ﷺ کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْنٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، نبی ﷺ نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا آپ نے کیا ارادہ کیا تھا ؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی ﷺ کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرٍ سُوءٍ قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ بِهِ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضرت ابن مسعود (رض) سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِحَقٍّ
তাহকীক: