আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৪৬৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ شب عرفہ میں جو یوم عرفہ سے پہلے تھی مسجد خیف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمیں سانپ کی آواز محسوس ہوئی، نبی ﷺ نے فرمایا : اسے قتل کردو، ہم کھڑے ہوئے تو وہ ایک بل کے سوراخ میں گھس گیا، ایک چنگاڑی لا کر اس بل کو آگ لگا دی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لے کر اس سے اس بل کو کریدنا شروع کیا تو وہ سانپ ہمیں نہ ملا، نبی ﷺ نے فرمایا چھوڑو، اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا ہے، تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا قَالَ فَقُمْنَا قَالَ فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم خصی نہ ہوجائیں ؟ تو نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطاء فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کردیا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے دانائی عطاء فرمائی ہو اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي قَيْسٌ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک چکور خط کھینچا، اس کے درمیان ایک اور لکیر کھینچی اور درمیان والی لکیر کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور ایک لکیر اس چوکور خط کے باہر کھینچی اور صحابہ کرام (رض) سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا اس درمیان والی لکیر سے مراد انسان ہے، اس کے دائیں بائیں جو لکیریں ہیں، وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو ڈستی رہتی ہیں، اگر یہ چوک جائے تو وہ نشانے پر لگ جاتی ہے اور چوکور خط سے مراد انسان کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور بیرونی لکیر سے مراد امید ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ رَبِيْعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخُطُوطًا إِلَى جَنْبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنْ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ الْخَطُّ الْأَوْسَطُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الَّتِي إِلَى جَنْبِهِ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ إِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا أَصَابَهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ بِهِ وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی ﷺ سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہوجائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذِهِ فَقَالَ لِمَنْ عَمِلَ كَذَا مِنْ أُمَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہوجائیں ( اور سحری کھالیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی، راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا، بلکہ اس طرح ہوتی ہے، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ عَنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَضَمَّ يَدَهُ وَرَفَعَهَا وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَفَرَّقَ يَحْيَى بَيْنَ السَّبَّابَتَيْنِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَحَدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا آگاہ رہو، بہت زیادہ بحث مباحثہ کرنے والے ہلاک ہوگئے، یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک ؟ فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ قُلْتُ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا ہماری خبر گیری کون کرے گا ؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا ؟ ) حضرت بلال (رض) نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم بھی سوگئے تو ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سرج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہوگئے، ان میں حضرت عمر (رض) بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی ﷺ بھی بیدار ہوگئے اور فرمایا اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے (نماز حسب معمول پڑھ لو) جب لوگ ایسا کرچکے تو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سو جائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ لَيْلًا فَنَزَلْنَا دَهَاسًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ مَنْ يَكْلَؤُنَا فَقَالَ بِلَالٌ أَنَا قَالَ إِذًا تَنَامَ قَالَ لَا فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فِيهِمْ عُمَرُ فَقَالَ اهْضِبُوا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوا مَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ فَلَمَّا فَعَلُوا قَالَ هَكَذَا فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ تمہارے نبی ﷺ کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ خَمْسٍ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھے ہوتے تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی اور میں نے حضرات ابوبکر و عمر (رض) کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ أَوْ خَدِّهِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! پھر پوچھا کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو ؟ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے گا جو مسلمان ہو اور شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بادل ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِينَ فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی ﷺ کا گذر ہوا، نبی ﷺ نے دور ہی سے فرمایا اے ابن ام عبد ! مانگو تمہیں دیا جائے گا، یہ خوشخبری مجھ تک پہنچانے میں حضرات شیخین کے درمیان مسابقت ہوئی، حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ ابوبکر نے مجھ سے جس معاملے میں بھی مسابقت کی وہ اس میں سبقت لے گئے، بہرحال ! ان دونوں حضرات نے ان سے ان کی دعاء کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں اس دعاء کو کبھی ترک نہیں کرتا اے اللہ ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فناء نہ ہو اور نبی اکرم ﷺ کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَابْتَدَرَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ عُمَرُ مَا بَادَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِلَى شَيْءٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَدَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میرے بعد ترجیحات اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے ؟ فرمایا اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔
سَمِعْت يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالَ قُلْنَا وَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد میں نماز کھڑی ہوگئی، ہم لوگ حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ صفوں میں شال ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو حضرت ابن مسعود (رض) بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کرلیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثناء میں سامنے سے گذرا اور کہنے لگا السلام علیک یا ابا عبدالرحمن ! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا رَكَعَ النَّاسُ رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَكَعْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ نَمْشِي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ رَاكِعٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لِمَ قُلْتَ حِينَ سَلَّمَ عَلَيْكَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ إِذَا كَانَتْ التَّحِيَّةُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جس رات نبی ﷺ کی معراج ہوئی، آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آکر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھا لیا جاتا ہے اور فرمایا کہ جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں، بہرحال ! اس موقع پر نبی ﷺ کو تین چیزیں عطاء ہوئیں، پانچ نمازیں، سورت بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کردی جائے گی گو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يُنْتَهَ مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يُنْتَهَ مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَأُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمین میں اللہ کے کچھ فرشتے گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت تمہارے جوتوں کے تسموں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، یہی حال جہنم کا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৮৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا
তাহকীক: