আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৬১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مرد مؤمن کے علاوہ سو چیزوں میں سے ایک کے مثل کوئی بہتر چیز ہم نہیں جانتے۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْلَمُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مِائَةٍ مِثْلِهِ إِلَّا الرَّجُلَ الْمُؤْمِنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سورج اور چاند کو کسی کی موت زندگی سے گہن نہیں لگتا یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اس لئے جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ابتداء نمازیں پچاس تھیں، غسل جنابت سات مرتبہ کرنے کا حکم تھا اور کپڑے پر پیشاب لگ جانے کی صورت میں اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم تھا نبی کریم ﷺ کی مسلسل درخواست پر نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی غسل جنابت بھی ایک مرتبہ رہ گیا اور پیشاب زدہ کپڑے کو دھونا بھی ایک مرتبہ قرار دے دیا گیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عِصْمَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنْ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ وَالْغُسْلُ مِنْ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتْ الصَّلَاةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنْ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَالْغُسْلُ مِنْ الْبَوْلِ مَرَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے ایک درہم کو دو کے بدلے اور ایک صاع کو دو صاع کے بدلے مت بیچو کیونکہ مجھے تمہارے سود میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے، اگر کوئی آدمی ایک گھوڑا کئی گھوڑوں کے بدلے یا ایک شریف الاصل اونٹ دوسرے اونٹ کے بدلے بیچے تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي جَنَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ وَلَا الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَبِيعُ الْفَرَسَ بِالْأَفْرَاسِ وَالنَّجِيبَةَ بِالْإِبِلِ قَالَ لَا بَأْسَ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا جس سے نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن یا کسی اہم واقعے پر لوگوں سے خطاب فرماتے ہوئے ٹیک لگا لیا کرتے تھے، ایک دن کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے قد کے مطابق آپ کے لئے کوئی چیز نہ بنادیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے تین سیڑھیوں کا منبربنادیا اور نبی کریم ﷺ اس پر تشریف فرما ہوگئے، یہ دیکھ کر وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے گائے روتی ہے اور اس کا یہ رونا نبی کریم ﷺ کے فراق کے غم میں تھا نبی کریم ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا یہاں تک کہ وہ پر سکون ہوگیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ أَبِي جَنَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَيْهِ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ فَقَالُوا أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا كَقَدْرِ قِيَامِكَ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ قَالَ فَجَلَسَ عَلَيْهِ قَالَ فَخَارَ الْجِذْعُ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں ایک دن نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَلَبِسَهُ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر حضرت اسامہ بن زید (رض) کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کررہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کرچکے ہو حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي ابْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
محمد بن عمرو (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی ایک جانب سلمہ بن ازرق بھی بیٹھے تھے اتنے میں وہاں سے ایک جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آرہی تھیں، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر یہ لوگ رونا دھوناچھوڑ دیں تو ان ہی کے مردے کے حق میں بہتر ہو، سلمہ بن ازرق کہنے لگے ابوعبدالرحمن ! یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! یہ میں ہی کہہ رہا ہوں کیونکہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی مرگیا، عورتیں اکٹھی ہو کر اس پر رونے لگیں، مروان کہنے لگا کہ عبدالملک ! جاؤ ان عورتوں کو رونے سے منع کرو، حضرت ابوہریرہ (رض) وہاں موجود تھے، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رہنے دو ، ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے اہل خانہ میں سے بھی کسی کے انتقال پر خواتین نے جمع ہو کر رونا شروع کردیا تھا حضرت عمر (رض) نے کھڑے ہو کر انہیں ڈانٹنا اور منع کرنا شروع کردیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب ! رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! سلمہ نے پوچھا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) اسے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ لَكَانَ خَيْرًا لَمَيِّتِهِمْ فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ نَعَمْ أَقُولُهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ دَعْهُنَّ فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْفُؤَادَ مُصَابٌ وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَأْثُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل فرمانا چاہتا ہے تو وہاں کے تمام رہنے والوں پر عذاب نازل ہوجاتا ہے، پھر انہیں ان کے اعمال کے اعتبار سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا (عذاب میں تو سب نیک و بد شریک ہوں گے، جزا سزا اعمال کے مطابق ہوگی)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " ازار " کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے قمیض (شلوار) کے بارے میں بھی وہی حکم ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں (وادی بطحاء میں) پڑھیں، رات وہیں گذاری اور پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طواف کیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ أَيْ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
طاؤس یمانی (رح) کہتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے کتنے ہی صحابہ (رض) کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے کہ ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے اور میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو بھی یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر چیز تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے حتٰی کہ بیوقوفی اور عقلمندی بھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبیدابن جریج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھتاہوں جو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا انہوں نے پوچھا کہ وہ کون سے کام ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کو رنگی ہوئی کھالوں کی جوتیاں پہنے ہوئے دیکھتاہوں کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے ہیں کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک آپ اپناپاؤں رکاب میں نہ رکھ دیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ داڑھی کو رنگین کرتے ہیں ؟ اور میں دیکھتا ہوں کہ جب آپ مکہ مکرمہ میں ہوتے ہیں تو لوگ چاند دیکھتے ہی تلبیہ پڑھ لیتے ہیں اور آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے جب تک ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ نہ آجائے۔ رکن یمانی اور حجر اسود ہی کو بوسہ دینے کی جو بات ہے تو میں نے نبی کریم ﷺ کو صرف انہیں دو کونوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے نبی کریم ﷺ ان دونوں کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے رنگی ہوئی کھال کی جوتیاں پہننے کی جو بات ہے تو خود نبی کریم ﷺ نے بھی ایسی جوتی پہنی ہے اسے پہن کر آپ ﷺ وضو بھی فرما لیتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے داڑھی کو رنگنے کا جو مسئلہ ہے سو میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی داڑھی رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور احرام باندھنے کی جو بات ہے تو میں نے نبی کریم ﷺ کو اس وقت احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھاجب تک سواری آپ ﷺ کو لے کر روانہ نہیں ہوجاتی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هِيَ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں کسی سریہ میں روانہ فرمایا جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو ہم پہلے ہی مرحلے پر بھاگ اٹھے اور رات کے وقت ہی کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آگئے اور روپوش ہوگئے، پھر ہم نے سوچا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس چل کر ان سے اپنا عذر بیان کرتے ہیں، چناچہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم فرار ہو کر بھاگنے والے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔ میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ انْهَزَمْنَا فِي أَوَّلِ عَادِيَةٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ لَيْلًا فَاخْتَفَيْنَا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَذَرْنَا إِلَيْهِ فَخَرَجْنَا فَلَمَّا لَقِينَاهُ قُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَنَا فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں سے صلہ رحمی کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَبَرُّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ إِذْ يُوَلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی اطاعت کے علاوہ کسی اور حال پر مرے تو وہ اس طرح مرے گا کہ قیامت کے دن اس کی کسی حجت کا اعتبار نہ ہوگا اور جو شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے اپنا ہاتھ بیعت سے چھڑا لیاہو تو اس کی موت گمراہی کی موت ہوگی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ مَاتَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ بَيْعَةٍ كَانَتْ مِيتَتُهُ مِيتَةَ ضَلَالَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے اس لئے تم اللہ کی ذمہ داری کو مت توڑو، کیونکہ جو اللہ کی ذمہ داری کو توڑے گا، اللہ اسے تلاش کرکے اوندھے جہنم میں داخل کردے گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ ذِمَّتَهُ فَإِنَّهُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَهُ طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يُكِبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! کسی غلام سے کتنی مرتبہ درگذر کی جائے ؟ نبی کریم ﷺ خاموش رہے، اس نے پھر یہی سوال کیا، نبی کریم ﷺ خاموش رہے تیسری مرتبہ پوچھنے پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے روزانہ ستر مرتبہ درگذر کیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ يُعْفَى عَنْ الْمَمْلُوكِ قَالَ فَصَمَتَ عَنْهُ ثُمَّ أَعَادَ فَصَمَتَ عَنْهُ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يُعْفَى عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ناپ کر یا وزن کر کے غلہ خریدے، اسے اس وقت تک آگے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا بِكَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی چناچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہوگی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہوگی عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہوگی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہوگی الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہوگی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى رَعِيَّتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক: