আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৪৪৩৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں نبی ﷺ نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَا فَقَالَ ارْكَعْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے اگر خود نہیں کرسکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا وَلَا يُكَارِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
قَالَ وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حجاج کرام آئے ہم نے حضرت جابر (رض) سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نماز ظہر دوپہر کو پڑھتے تھے عصر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمک رہا ہوتا مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھتے تھے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہوگئے ہیں تو جلد پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ اب تک نہیں آئے تو مؤخر کردیتے اور صبح کی نماز منہ اندھیرے ہی پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ وَكَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ قَالَ كَانُوا أَوْ قَالَ كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کردیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی ﷺ کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی ﷺ نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ أَبُو مَذْكُورٍ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ الْقِبْطِىُّ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ مَالٌ غَيْرُهُ قَالُوا لَا قَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِ مِائَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَهْلِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَقَارِبِكَ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَهَاهُنَا وَهَاهُنَا وَهَاهُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى مَنَازِلِنَا وَهِيَ مِيلٌ وَأَنَا أُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو پتہ چلا کہ ان کے کسی صحابی نے اپنے مدبر غلام کو آزاد کردیا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی بھی مال نہ تھا تو نبی ﷺ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے بدلے بیچ دیا اور اسے اس کے آقا کے حوالے کردیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبْدَ بِثَمَانِ مِائَةٍ وَدَفَعَهُ إِلَى مَوَالِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو انصار نے کہا کہ واللہ ہم تو تمہیں اس نام کی کنیت سے نہیں پکاریں گے نبی ﷺ کو بات پتہ چلی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنانام رکھ لیا لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ وَاللَّهِ لَا نُكَنِّيكَ بِهِ أَبَدًا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى الْأَنْصَارِ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھک کرلے آتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ يَحْمِلُهُ مَكْشُوفًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا كُنْتَ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کس طرح غسل فرماتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی ﷺ تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنوہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے توبال بہت لمبے ہیں حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ جَابِرٌ إِنَّ شَعْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وضو کے لئے ایک مد پانی اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی کافی ہوجاتا ہے ایک آدمی نے کہا کہ مجھے تو کافی نہیں ہوتا حضرت جابر (رض) نے فرمایا اتنی مقدار تو اس ذات کو کفایت کر جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی اور ان کے بال بھی مجھ سے زیادہ تھے یعنی نبی ﷺ ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجْزِئُ مِنْ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنْ الْمَاءِ وَمِنْ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي فَقَالَ جَابِرٌ قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعْرًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کردی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن مدینہ منورہ میں ایک قافلہ آیا اس وقت نبی ﷺ خطبہ فرما رہے تھے سب لوگ قافلے کے پیچھے نکل گئے اور صرف بارہ آدمی مسجد میں بیٹھے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، واذاراو تجارۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا قَالَ فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ أَوْ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا مسجد میں ایک جماعت پر گذر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کررہے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ فَقَالَ أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ السَّيْفَ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ کیا آپ کو کسی مضبوط قلعے اور پناہ کی ضرورت ہے زمانہ جاہلیت میں قبیلہ دوس کا ایک قلعہ تھا لیکن نبی ﷺ نے انکار کردیا کہ یہ فضیلت اللہ نے انصار کے لئے چھوڑ رکھی ہے چناچہ جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کرکے آگئے ان کے ساتھ ان کا ایک اور آدمی بھی ہجرت کرکے آگیا وہاں ان کو مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی اور وہ شخص بیمار ہوگیا اور گھبراہٹ کے عالم میں قینچی پکڑ کر اپنی انگلیاں کاٹ لیں جس اسے اس کے ہاتھ خون سے بھر گئے اور اتناخون بہا کہ وہ مرگیا۔ خواب میں اسے عمرو بن طفیل نے دیکھا وہ بڑی اچھی حالت میں دکھائی دیا البتہ اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے طفیل نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ نبی ﷺ کی طرف سے ہجرت کی برکت سے اللہ نے مجھے معاف کردیا انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تمہارے ہاتھ ڈھکے ہوئے نظر آرہے ہیں اس نے جواب دیا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم نے جس چیز کو خود خراب کیا ہے ہم اسے صحیح نہیں کرسکتے اگلے دن طفیل نے یہ خواب نبی ﷺ کو سنایا تو نبی ﷺ نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کا گناہ معاف فرمادے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ قَالَ فَقَالَ حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ قَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ قَالَ قَالَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ قَالَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ شیطان کو کنکریاں ٹھیکری کی بنی ہوئی مارا کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ الْمَكِّيُّ عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ جس شخص کو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں کرسکتا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیزیں نو چیزیں ہیں اور ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم پر صبح کو قیامت آگئی یا شام کو جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے اور میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيَخْطُبُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَيَقُولُ مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا أَوْ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جابر (رض) کے پاس نبی ﷺ کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کے صاحبزادے جو مخلص مسلمان تھے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر آپ نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تو لوگ ہمیں ہمیشہ عار دلاتے رہیں گے چناچہ نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے دیکھا تو اسے قبر میں اتارا جا چکا تھا نبی ﷺ نے فرمایا اسے قبر میں اتارنے سے پہلے مجھے کیوں نہ بتایا پھر اسے قبر سے نکلوایا اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اسے اپنی قمیض پہنا دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ فَقَالَ أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
tahqiq

তাহকীক: