কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৩৫৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں فصل۔۔۔ دس پہلوی احادیث
43579 ۔۔۔ (معاذ ! ) تم نے مجھ سے بڑی بات پوچھی ہے اور وہ اس شخص کے لیے معمولی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کردے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، فرض نماز قائم کرو، زکوۃ مفروضہ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو، کیا میں تمہیں نیکی کے دروازے نہ بتاؤں ! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ برائی کو یوں مٹاتا ہے جیسے آگ کو پانی بجھاتا ہے، رات میں آدمی کا نماز پڑھنا کیا میں تمہٰں دین کی جڑ، اس کا ستون، اور اس کی اونچی چوٹی نہ بتاؤں دین کی جڑ اسلام ہے اور جو مسلمان ہوگیا اس کو سلامتی مل گئی اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلندی کی چوٹی جہاد ہے کیا میں تمہیں اس سب کی مضبوطی سے آگاہ نہ کروں۔ اسے (آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا) قابو میں رکھو ! معاذ تمہیں تمہاری والدہ گم کرے ! لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ صرف ان کی زبانوں کی کٹائی نے گرایا ہے (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم ، بیہقی عن معاذ، زاد طبرانی بیہقی کہ جب تک خاموش رہوگے تو سلامت رہوگے اور جب بولوگے تو تمہارے لیے یا تمہارے خلاف لکھا جائے گا۔
43579- لقد سألتني عن عظيم! وإنه ليسير على من يسره الله عليه، تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان، وتحج البيت؛ ألا أدلك على أبواب الخير! الصوم جنة، والصدقة تطفيء الخطيئة كما يطفيء الماء النار، وصلاة الرجل في جوف الليل؛ ألا أخبرك برأس الأمر وعموده وذروة سنامه! رأس الأمر الإسلام، من أسلم سلم وعموده الصلاة، وذروة سنامه الجهاد؛ ألا؟ أخبرك بملاك ذلك كله! كف عليك هذا - وأشار إلى لسانه، ثكلتك أمك يا معاذ! وهل يكب الناس في النار على وجوههم إلا حصائد ألسنتهم."حم، ت هـ, ك، هب - عن معاذ؛ زاد طب، هب: إنك لن تزال سالما ما سكت، فإذا تكلمت كتب لك أو عليك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نویں فصل۔۔۔ دس پہلوی احادیث
43580 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے ڈر، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر، بیت اللہ کا حج وعمرہ کر۔ اپنے والدین سے اچھا برتاؤ کر، صلہ رحمی کر، مہمان نوازی کر، نیکی کا حکم دے برائی سے منع اور جس طرح حق ہو اس طرف جا ۔ طبرانی فی الکبیر عن محول السلمی۔
43580- اتق الله، وأقم الصلاة، وآت الزكاة، وحج البيت واعتمر، وبر والديك، وصل رحمك، واقر الضيف، وأمر بالمعروف وانه عن المنكر، وزل مع الحق حق حيثما زال."طب - عن مخول السلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ میں میانہ روی آدھی کمائی ہے
43581 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد عقل کی جڑ لوگوں سے محبت کرنا ہے ، دنیا میں محبت والوں کا جنت میں درجہ ہے اور جس کا جنت میں درجہ ہو وہ جنت میں ہوگا، اچھے انداز سے سوال کرنا آدھا علم ہے اور خرچ میں میانہ روی، آدھی گزران ہے آدھے خرچ کو باقی رکھتا ہے پرہیزگاری دو رکعتیں ملے جلے کی ہزار رکعتوں سے افضل ہیں۔ انسان کا دین اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کی عقل پوری ہوجائے اور دعاف فیصلہ غیبی کو ٹال دیتی ہے اور خفیہ صدقہ اللہ کی ناراضگی ختم کردیتا ہے اور ظاہری صڈقی بری موت سے بچاتا ہے اور لوگوں سے احسان کرنے والا آفات و ہلاکتوں کی برائی سے بچ جاتا ہے، دنیا میں نیکی والے آخرت میں بھی نیکی والے ہوں گے، اور عرف لوگوں میں تو ختم ہوجاتا ہے لیکن جس نے اسے بنایا س اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ختم نہیں ہوتا۔ (الشیرازی فی الالقاب بیہقی عن انس)
کلام ۔۔۔ ضعفیف الجامع 3072 ۔۔۔
کلام ۔۔۔ ضعفیف الجامع 3072 ۔۔۔
43581- رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس، وأهل التودد في الدنيا لهم درجة في الجنة، ومن كان له في الجنة درجة فهو في الجنة، ونصف العلم حسن المسألة، والاقتصاد في المعيشة نصف العيش يبقي نصف النفقة، وركعتان من رجل ورع أفضل من ألف ركعة من مخلط، وما تم دين إنسان قط حتى يتم عقله، والدعاء يرد الأمر، وصدقة السر تطفيء غضب الرب وصدقة العلانية تقي ميتة السوء، وصنائع المعروف إلى الناس تقي صاحبها مصارع السوء الآفات والهلكات، وأهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة، والعرف ينقطع فيما بين الناس ولا ينقطع فيما بين الله وبين من افتعله."الشيرازي في الألقاب، هب - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ میں میانہ روی آدھی کمائی ہے
43582 ۔۔۔ اس کے لیے خوشخبری ہے جس نے بغیر کمی کے تواضع کی، بغیر مکسینی کے اپنے آپ کو ذلیل کیا ، اور اپنے جمع کردہ مال سے مصیبت علاوہ میں خرچ کیا، اور اہل حکمت اور فقہ سے میل جول رکھا، اور ذلت و مسکینی والوں پر رحم کیا، اس کے لیے خوشخبری جس نے اپنے آپ کو ذلیل کیا اور اس کی کمائی اچھی ہے اس کی سیرت اچھی ہے اور ظاہری حالت شریفانہ ہے اور لوگوں سے اپنی برائی دور کی ، اس کے لیے خوشخبری ہے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور فالتو مال خرچ کیا اور فضول بت روک رکھی۔
بخاری فی التاریخ والبغوی والباوردی وابن قانع، طبرانی، بیہقی فی السنن عن رکب المشتری۔
کلام ۔۔۔ الاتقان 1048 اسنی المطالب 860 ۔
بخاری فی التاریخ والبغوی والباوردی وابن قانع، طبرانی، بیہقی فی السنن عن رکب المشتری۔
کلام ۔۔۔ الاتقان 1048 اسنی المطالب 860 ۔
43582- طوبى لمن تواضع في غير منقصة، وذل في نفسه في غير مسكنة، وأنفق من مال جمعه في غير معصية، وخالط أهل الفقه والحكمة، ورحم أهل الذل والمسكنة؛ طوبى لمن ذل نفسه وطاب كسبه، وحسنت سريرته، وكرمت علانيته، وعزل عن الناس شره؛ طوبى لمن عمل بعلمه، وأنفق الفضل من ماله، وأمسك الفضل من قوله."تخ، والبغوي، والباوردي، وابن قانع طب، هق - عن ركب المصري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ میں میانہ روی آدھی کمائی ہے
43553 ۔۔۔ جو لوگوں کو زیادہ نفع پہنچائے وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے اور سب سے پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی مسلمان کو خوش کرنا ہے یا تم اس کی کوئی پریشانی دور کردو، یا اس کا قرض ادا کردو، یا اس کی بھوک ختم کردو۔ میں اپنے کسی مسلمان کی ضرورت کے لیے جاؤں یہ مجھے اس مسجد میں مہینہ بھر اعتکاف کرنے سے زیادہ پسند ہے جس نے اپنا غصہ روکا اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا، جس نے غصہ پی لیا باوجودیکہ وہ غصہ نکال سکتا تھا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کا دل خوشی و رضا مندی سے بھر دے گا، جو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کسی ضرورت کے لیے چلا یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری کردی اللہ تعالیٰ اس دن اس کے قدم جمائے گا جس دن قدم ڈگمگائیں گے۔ اور برے اخلاق عمل کو ایسے خراب کرتے ہیں، جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے۔ ابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج ، طبرانی عن ابن عمر۔
43583- أحب الناس إلى الله أنفعهم للناس، وأحب الأعمال إلى الله عز وجل سرور تدخله على مسلم، أو تكشف عنه كربة، أو تقضي عنه دينا، أو تطرد عنه جوعا، ولأن أمشي مع أخي المسلم في حاجة أحب إلي من أن اعتكف في هذا المسجد شهرا ومن كف غضبه ستر الله عورته، ومن كظم غيظا ولو شاء أن يمضيه أمضاه ملأ الله قلبه رضا يوم القيامة، ومن مشى مع أخيه المسلم في حاجة حتى يثبتها له أثبت الله تعالى قدمه يوم تزول الأقدام وإن سوء الخلق ليفسد العمل كما يفسد الخل العسل."ابن أبي الدنيا في قضاء الحوائج، طب - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دہ پہلوہی۔۔۔ از اکمال۔
43584 ۔۔ انبیاء کا تذکرہ عبادت ہے اور صالحین کا تذکرہ گناہوں کا کفارہ ہے اور موت کا ذکر صدقہ ہے، جہنم کا ذکر جہاد ہے اور قبر کی یاد تمہیں جنت کے قریب کردے گی اور قیامت کی یاد تمہیں جہنم سے دور کردے گی، سب سے افضل عبادت، جہالت ترک کرنا ہے اور عام کا سرمایہ تواضع ہے اور جنت کی قیمت حسد نہ کرنا ہے اور گناہوں پر ندامت سچی توبہ ہے۔ الدیلمی عن معاذ۔
کلام ۔۔۔ تذکرۃ الموضوعات 193، التنزیہ ج 2 ص 6 ف 39 ۔
کلام ۔۔۔ تذکرۃ الموضوعات 193، التنزیہ ج 2 ص 6 ف 39 ۔
43584- ذكر الأنبياء من العبادة، وذكر الصالحين كفارة الذنوب، وذكر الموت صدقة، وذكر النار من الجهاد، وذكر القبر يقربكم من الجنة، وذكر القيامة يباعدكم من النار، وأفضل العبادة ترك الجهل، ورأس مال العالم ترك الكبر، وثمن الجنة ترك الحسد، والندامة من الذنوب التوبة الصادقة."الديلمي - عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دہ پہلوہی۔۔۔ از اکمال۔
43585 ۔۔۔ سبحان اللہ ترازو کا آدھا (وزن ) ہے اور الحمد للہ میزان کو بھر دیتی ہے اور لا الہ الا اللہ فضا کو بھر دیتے ہیں، اللہ اکبر آدھا ایمان ہے، نماز نور ہے، زکوۃ دلیل ہے، صبر روشنی ہے قرآن تیرے لیے یا تیرے خلاف حجت ہے ہر انسان صبح کے وقت اپنے آپ کو بیچتا ہے کوئی اسے آزاد کرتا ہے تو کوئی بیچتا ہے اور کوئی ہلاک کرتا ہے۔ (عبدالرزاق عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن مرسلا۔ مسلم کتاب الطہارۃ)
43585- سبحان الله نصف الميزان، والحمد لله تملأ الميزان ولا إله إلا الله تملأ ما بين السماء والأرض، والله أكبر نصف الإيمان، والصلاة نور، والزكاة برهان، والصبر ضياء، والقرآن حجة لك أو عليك، كل إنسان يغدو فمبتاع نفسه فمعتقها أو بايعها فموبقها."عبد الرزاق - عن أبي سلمة بن عبد؟ الرحمن، مرسلا، م كتاب الطهارة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دہ پہلوہی۔۔۔ از اکمال۔
43584 ۔۔۔ تم نے بڑی بات پوچھی یہ اس آدمی کے لیے معمولی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کردے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، فرض نماز قائم کرنا ، فرض زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا، کیا میں تمہیں نیکی کے دروازے نہ دکھاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے صدقہ برائی کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، رات کے حصہ میں آدمی کا نماز پڑھنا، کیا میں تمہیں دین کی جڑ اس کا ستون اور اس کی بلندی کی چوٹی نہ بتاؤں ؟ اس کی جڑ اسلام ہے جو مسلمان ہوجاتا ہے وہ محفوظ ہوجاتا ہے، اس کا ستون نماز، اس کی بلندی کی چوٹی جہاد ہے کیا میں تمہیں اس کی مضبوطی نہ بتاؤں، اپنی زبان قابو میں رکھنا۔ زبان کی طرف اشارہ کیا۔ عرض کیا اللہ کے نبی ! ہماری گفتگو سے ہماری گرفت ہوگی ؟ فرمایا معاذ ! تمہیں تمہاری ماں روئے ! لوگوں کو جہنم میں صرف ان کی زبانوں کی کٹائی نے اوندھے منہ گرایا ہے (ابو داؤد طیالسی ، مسند احمد، ترمذی، حسن صحیح مر برقم 43579 ابن ماجہ، حاکم بیہقی عن معاذ، زاد طبرانی، بیہقی، جب تک خاموش رہوگے سلامت رہوگے اور جب بولوگے تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف لکھا جائے گا) ۔
43586- لقد سألتني عن عظيم! وإنه ليسير على من يسره الله عليه تعبد الله لا تشرك بالله شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤتي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان، وتحج البيت، ألا أدلكم على أبواب الخير! الصوم جنة، والصدقة تطفيء الخطيئة كما يطفيء الماء النار وصلاة الرجل في جوف الليل؛ ألا أخبرك برأس الأمر وعموده وذروة سنامه! رأس الأمر الإسلام، من أسلم سلم، وعموده الصلاة وذروة سنامه الجهاد؛ ألا أخبرك بملاك ذلك كله! كف عليك هذا - وأشار إلى لسانه، قال: يا نبي الله! وإنا لمؤاخذون بما نتكلم قال: ثكلتك أمك يا معاذ! وهل يكب الناس في النار على وجوههم - أو مناخرهم - إلا حصائد ألسنتهم."ط، حم، ت: حسن صحيح مر برقم 43579 هـ, ك، هب - عن معاذ؛ زاد طب، هب: إنك لن تزال سالما ما سكت، فإذا تكلمت كتب لك أو عليك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دسویں فصل ۔۔۔ جامع نصیحتیں اور تقریریں
43857 ۔۔۔ اما بعد ! سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے مضبوط کڑی تقوی کا کلمہ ہے سب سے بہتر ملت، ملت ابراہیمی ہے اور سب سے اچھا طریقہ ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور سب سے اونچی بات اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور سب سے اچھا قصہ قرآن ہے سب سے بہترین کام مضبوط ارادے ہیں، اور سب سے برے کام (دین میں) نئے نئے ہیں اور سب سے اچھا طریقہ انبیاء کا ہے سب سے اونچی موت شہداء کی ہے سب سے زیادہ اندھا پن ہدایت کے بعد گمراہی ہے بہترین علم وہ ہے جو نفع دے ، بہترین ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جائے اور سب سے زیادہ اندھا پن دل کا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے، جو تھوڑا اور کافی ہو وہ زیادہ اس سے بہتر ہے جو غافل کردے، اور بری معذرت موت کے وقت کی ہے۔ اور بری ندامت قیامت کے روز کی ہے بہت سے لوگ نماز کے آخر میں آتے ہیں۔ اور بعض لوگ اللہ تعالیٰ کو بےتوجہی سے یاد کرتے ہیں، اور جھوٹی زبان سب سے بڑی غلطی ہے اور بہترین مالداری دل کی ہے، تقوی بہترین توشہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا خوف حکمت کی جڑ ہے اور دلوں میں جو بہترین چیز بیٹھ جائے وہ یقین ہے اور شک کفر ہے نوحہ جاہلیت کا عمل ہے اور خیانت جہنم کا ڈھیر ہے اور خزانہ جہنم کا داغ ہے اور شعر گوئی ابلیس شیطان کی بانسری ہے، شراب گناہوں کی جامع ہے، عورتیں شیطان کا جال ہیں اور جوانی جنوں کا حصہ ہے اور سود سب سے برائی کمائی ہے اور بدترین کھانا یتیم کا مال ہے نیک بخت وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، بدبخت وہی ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، تم میں سے کوئی (جنت یا جہنم) چار گز جگہ کے قریب ہوجاتا ہے، (لیکن) اعتبار انجام کا ہوتا ہے اور عمل کی مضبوطی اس کا خاتمہ ہے سب سے برے ناقلین جھوٹ کے ناقلین ہیں، جو آ رہا ہے وہ قریب ہے مسلمان کو گالی دینا کھلا گناہ اور مومن کا قتل کفر ہے اور اس کا گوشت کھانا (اس کی غیبت) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور اس کا مال ایسے ہی حرام ہے جیسے اس کا خون، اور جس نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسم کھائی (جن کاموں کا بندے کو اختیار نہیں جیسے فلاں کو اللہ ضرور جہنم میں داخل کرے گا) اللہ اسے جھوٹا کردے گا اور جو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے معاف کردے گا، اور جس نے در گزر کیا اللہ تعالیٰ بھی اسے بخش دے گا اور جس نے غصہ پی لیا اللہ تعالیٰ اسے اجر دے گا جو کسی مصیبت پر صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا عوض دے دے گا، جو تعریف سننے کے پیچھے لگے گا اللہ تعالیٰ اسے شہرے دے دے گا اور جو صبر کرے گا اللہ اسے دہرا اجر دے گا، جس نے اللہ کی نافرمانی کی اللہ اسے عذاب دے گا۔
اے اللہ ! میری اور میری امت کی مغفرت فرما، میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
البیہقی فی الدلائل وابن عساکر عن عقبۃ بن عامر الجھنی ابو نصر السجزی فی الابانۃ عن ابی الدرداء، ابن ابی شیبۃ عن ابن مسعود موقوفا۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1239، الضعیفۃ 2059 ۔
اے اللہ ! میری اور میری امت کی مغفرت فرما، میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
البیہقی فی الدلائل وابن عساکر عن عقبۃ بن عامر الجھنی ابو نصر السجزی فی الابانۃ عن ابی الدرداء، ابن ابی شیبۃ عن ابن مسعود موقوفا۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1239، الضعیفۃ 2059 ۔
(43587 -) أما بعد فان أصدق الحديث كتاب الله تعالى ، وأوثق العرى كلمة التقوى ، وخير الملل ملة إبراهيم ، وخير السنن سنة محمد صلى الله عليه وسلم ، وأشرف الحديث ذكر الله ، وأحسن القصص هذا القرآن ، وخير الامور عوازمها ، وشر الامور محدثاتها ، وأحسن الهدى هدي الانبياء ، وأشرف الموت قتل الشهداء ، وأعمى العمى الضلالة بعد الهدى ، وخير العلم ما نفع ، وخير الهدى ما اتبع ، وشر العمى عمى القلب ، واليد العليا خير من اليد السفلى ، وما قل وكفى خير مما كثر وألهى ، وشر المعذرة حين يحضر الموت ، وشر الندامة يوم القيامة ، ومن الناس من لا يأتي الصلاة إلا دبرا ، ومنهم من لا يذكر الله إلا هجرا ، وأعظم الخطايا اللسان الكذوب ،
وخير الغنى غنى النفس ، وخير الزاد التقوى ، ورأس الحكمة مخافة الله ، وخير ما وقر في القلوب اليقين ، والارتياب من الكفر ، والنياحة من عمل الجاهلية ، والغلول من جثاء جهنم ، والكنز كي من النار ، والشعر من مزامير إبليس ، والخمر جماع الاثم ، والنساء حبائل الشيطان ، والشباب شعبة من الجنون ، وشر المكاسب كسب الربا ، وشر المآكل مال اليتيم ، والسعيد من وعظ بغيره ، والشقي من شقى في بطن أمه ، وإنما يصير أحدكم إلى موضع أربع أذرع ، والامر بآخره ، وملاك العمل خواتمه ، وشر الروايا روايا الكذب ، وكل ما هو آت قريب ، وسباب المؤمن فسوق ، وقتال المؤمن كفر ، وأكل لحمه من معصية الله ، وحرمة ماله كحرمة دمه ، ومن ينأل على الله يكذبه ، ومن يغفر يغفر الله له ، ومن يعف يعف الله عنه ، ومن يكظم الغيظ يأجره الله ، ومن يصبر على الرزية يعوضه الله ، ومن يتبع السمعة يسمع الله به ، ومن يصبر يضعف الله له ، ومن يعص الله يعذبه الله. اللهم اغفر لي ولامتي ! أستغفر الله لي ولكم (البيهقي في الدلائل ، وابن عساكر - عن عقبة بن عامر الجهني ، أبو نصر السجزي في الابانة - عن أبي الدرداء ش - عن ابن مسعود موقوفا).
وخير الغنى غنى النفس ، وخير الزاد التقوى ، ورأس الحكمة مخافة الله ، وخير ما وقر في القلوب اليقين ، والارتياب من الكفر ، والنياحة من عمل الجاهلية ، والغلول من جثاء جهنم ، والكنز كي من النار ، والشعر من مزامير إبليس ، والخمر جماع الاثم ، والنساء حبائل الشيطان ، والشباب شعبة من الجنون ، وشر المكاسب كسب الربا ، وشر المآكل مال اليتيم ، والسعيد من وعظ بغيره ، والشقي من شقى في بطن أمه ، وإنما يصير أحدكم إلى موضع أربع أذرع ، والامر بآخره ، وملاك العمل خواتمه ، وشر الروايا روايا الكذب ، وكل ما هو آت قريب ، وسباب المؤمن فسوق ، وقتال المؤمن كفر ، وأكل لحمه من معصية الله ، وحرمة ماله كحرمة دمه ، ومن ينأل على الله يكذبه ، ومن يغفر يغفر الله له ، ومن يعف يعف الله عنه ، ومن يكظم الغيظ يأجره الله ، ومن يصبر على الرزية يعوضه الله ، ومن يتبع السمعة يسمع الله به ، ومن يصبر يضعف الله له ، ومن يعص الله يعذبه الله. اللهم اغفر لي ولامتي ! أستغفر الله لي ولكم (البيهقي في الدلائل ، وابن عساكر - عن عقبة بن عامر الجهني ، أبو نصر السجزي في الابانة - عن أبي الدرداء ش - عن ابن مسعود موقوفا).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلا فتنہ عورتوں کی صورت میں
43587 ۔۔۔ اما بعد ! دنیا میٹھی شاداب ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا خلیفہ بنانے والا ہے اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، سو دنیا سے بچو اور عورتوں سے ہوشیار رہو، کیونکہ بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں کی صورت میں ظاہر ہوا، خبردار انسان مختلف طبقات پر پیدا ہوئے ہیں، بعض مومن پیدا ہوتے ہیں مومن زندہ رہتے ہیں اور ایمان پر مرتے ہیں۔ اور بعض پیدا ہی کافر ہوتے ہیں کفر پر زندہ رہتے ہیں اور کفر میں ہی ان کی موت ہوتی ہے اور کچھ پیدائش کے وقت مومن ہوتے ہیں زندہ بھی مومن ہی رہتے ہیں (لیکن) کافر مرتے ہیں، اور بعض کافر پیدا ہوتے ہیں کفر میں زندہ رہتے ہیں (لیکن) ایمان کی حالت میں مرتے ہیں، خبردار ! غصہ ایک چنگاری ہے جو انسانوں میں بھڑکائی جاتی ہے کیا تم اس (غضبناک شخص) کی آنکھوں کی سرخی اس کی رگوں کا پھیلاؤ نہیں دیکھتے (یہ اسی کی علامت ہے) جب تم میں سے کوئی یہ کیفیت محسوس کرے، تو زمین پر بیٹھ جائے، زمین سے لگ جائے، آگاہ رہو، بہترین مرد وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے، جلد راضی ہوجائے، اور بد ترین شخص وہ ہے جسے فورا غصہ آئے اور تاخیر سے راضی ہو، جب کوئی شخص دیر سے غصہ ہوتا ہے تو دیر سے راضی ہوتا ہے اور جو فورا غصہ ہوتا ہے فورا راضی ہوجاتا ہے یہ خصلت اس خصلت کے ساتھ ہے۔
خبر دار ! بہترین تاجر وہ ہے جو اچھے طریقے سے ادا کرے اور بہتر انداز سے مطالبہ کرے، اور بدترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی اور مطالبہ میں برا ہو، اگر کوئی شخصد ادائیگی میں اچھا اور مطالبہ میں برا ہو یا ادائیگی میں برا اور مطالبہ میں اچھا ہو تو یہ خصلت اس کے ساتھ ہے، خبردار ! قیامت کے روز ہر غدار کے لیے اس کی بغاوت کے لحاظ سے ایک جھنڈا ہوگا خبردار سب سے بڑی غداری، عوامی امیر کی ہے، خبردار ! انسان کو لوگوں کی دہشت حق گوئی سے باز نہ رکھے جب اسے علم ہو، آگاہ ہو ! سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے، خبردار ! جتنی دنیا گزر چکی اور جنتی رہ گئی وہ تمہارے اس دن کی طرح ہے جس میں جتنا گزر چکا اور جتنا باقی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، حاکم، بیہقی عن ابی سعید)
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1240 ۔۔
خبر دار ! بہترین تاجر وہ ہے جو اچھے طریقے سے ادا کرے اور بہتر انداز سے مطالبہ کرے، اور بدترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی اور مطالبہ میں برا ہو، اگر کوئی شخصد ادائیگی میں اچھا اور مطالبہ میں برا ہو یا ادائیگی میں برا اور مطالبہ میں اچھا ہو تو یہ خصلت اس کے ساتھ ہے، خبردار ! قیامت کے روز ہر غدار کے لیے اس کی بغاوت کے لحاظ سے ایک جھنڈا ہوگا خبردار سب سے بڑی غداری، عوامی امیر کی ہے، خبردار ! انسان کو لوگوں کی دہشت حق گوئی سے باز نہ رکھے جب اسے علم ہو، آگاہ ہو ! سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے، خبردار ! جتنی دنیا گزر چکی اور جنتی رہ گئی وہ تمہارے اس دن کی طرح ہے جس میں جتنا گزر چکا اور جتنا باقی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، حاکم، بیہقی عن ابی سعید)
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1240 ۔۔
(43588 -) أما بعد ! فان الدنيا حلوة خضرة ، وإن الله تعالى مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون فاتقوا الدنيا ، واتقوا النساء ، فان أول فتنة بني إسرائيل كانت في النساء ، ألا ! إن بني آدم خلقوا على طبقات شتى ، من يولد مؤمنا ويحيى مؤمنا ويموت مؤمنا ، ومنهم من يولد كافرا ويحيى كافرا ويموت كافرا ، ومنهم من يولد مؤمنا ويحيى مؤمنا ويموت كافرا ، ومنهم من يولد كافرا ويحيى كافرا ويموت مؤمنا ، ألا ! إن الغضب جمرة توقد في جوف ابن آدم ، ألا ترون إلى حمرة عينيه وانتفاخ أوداجه ! فإذا وجد أحدكم شيئا من ذلك فالارض الارض ! ألا ! إن خير الرجال من كان بطئ الغضب سريع الرضاء ، وشر الرجال من كان سريع الغضب بطئ الرضاء.
فإذا كان الرجل بطئ الغضب بطئ الفئ وسريع الغضب سريع الفئ فانها بها ، ألا ! إن خير التجار من كان حسن القضاء حسن الطلب ، وشر التجار من كان سيئ القضاء سيئ الطلب ، فإذا كان الرجل حسن القضاء سيئ الطلب أو كان سيئ
القضاء حسن الطلب فانها بها ، ألا ! إن لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته ، ألا ! وأكبر الغدر غدر أمير عامة ، ألا ! لا يمنعن رجلا مهابة الناس أن يتكلم بالحق إذا علمه ألا ! إن أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر ، ألا ! إن مثل ما بقي من الدنيا فيما مضي منها مثل ما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه (حم ، ت ، ك ، هب - عن أبي سعيد).
فإذا كان الرجل بطئ الغضب بطئ الفئ وسريع الغضب سريع الفئ فانها بها ، ألا ! إن خير التجار من كان حسن القضاء حسن الطلب ، وشر التجار من كان سيئ القضاء سيئ الطلب ، فإذا كان الرجل حسن القضاء سيئ الطلب أو كان سيئ
القضاء حسن الطلب فانها بها ، ألا ! إن لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته ، ألا ! وأكبر الغدر غدر أمير عامة ، ألا ! لا يمنعن رجلا مهابة الناس أن يتكلم بالحق إذا علمه ألا ! إن أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر ، ألا ! إن مثل ما بقي من الدنيا فيما مضي منها مثل ما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه (حم ، ت ، ك ، هب - عن أبي سعيد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے پہلا فتنہ عورتوں کی صورت میں
43589 ۔۔۔ وہ تو دو چیزیں ہیں، گفتگو اور ہدایت ، سب سے بہتر کلام ، اللہ کا ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد کا ہے، خبردار بدعات سے بچنا، کیونکہ بدعات سب سے برے کام ہیں ہر وہ نیا کام (جو قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر میں نہ ہو اور اسے ایجاد کرلیا ہو اور دین سمجھا جانے لگا ہو وہ 9 بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، خبردار ! ایسا نہ ہو کہ تمہیں لمبے عرصہ کا موقع ملا اور تمہارے دل سخت ہوجائیں، خبردار آنے والی چیز نزدیک ہے اور دور وہ ہے جو آنے والی نہیں، آگاہ رہو بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو اور نیک بخت وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، خبردار مسلمان سے جنگ کفر اور اسے گالی گلوچ کرنا کھلا گناہ ہے، کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین ایام سے زیادہ ناراض رہے خبردار، جھوٹ سے بچنا، کیونکہ سنجیدگی اور مذاق میں جھوٹ جچتا نہیں، (اس جھوٹ کی وجہ سے) آدمی نہ اپنے بیٹے کو شمار کرتا ہے اور نہ اس کے ساتھ وفا کرتا ہے، اور جھوٹ تو گناہ کی راہ بتاتا ہے اور گناہ جہنم کی رہنمائی کرتا ہے اور سچ نیکی پر لگاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ بتاتی ہے اور سچے شخص کو سچا اور نیک کہا جاتا ہے اور جھوٹے کو جھوٹا اور فاجر کہا جاتا ہے، خبردار ! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ عن ابن مسعود)
کلام ۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ 3 ۔ ضعیف الجامع 2063 ۔
کلام ۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ 3 ۔ ضعیف الجامع 2063 ۔
(43589 -) إنما هما اثنتان : الكلام والهدي ، فأحسن الكلام كلام الله ، وأحسن الهدي هدي محمد ألا وإياكم ومحدثات الامور ! فان شر الامور محدثاتها ، وكل محدثة بدعة ، وكل بدعة ضلالة ، ألا ! لا يطولن عليكم الامد فتقسو قلوبكم ، ألا أن كل ما هو آت قريب ، وإنما البعيد ما ليس بآت ، ألا ! إنما الشقي من شقي في بطن أمه ، والسعيد من وعظ بغيره ، ألا ! إن قتال المؤمن كفر وسبابه فسوق ، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاثة ، ألا وإياكم والكذب ! فان الكذب لا يصلح لا بالجد ولا بالهزل ، ولا يعد الرجل صبيه ولا بفي له ، وإن الكذب يهدي إلى الفجور ، وإن الفجور يهدي إلى النار ، وإن الصدق يهدي إلى البر ، وإن البر يهدي إلى الجنة ، وإن يقال للصادق : صدق وبر ، ويقال للكاذب : كذب وفجر ، ألا ! وإن العبد يكذب حتى يكتب عند الله كذابا (ه - عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا
43590 ۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے لیے ظلم حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہرایا ہے سو آپس میں ظلم نہ کرو ! اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ہاں جسے میں ہدایت دوں سو مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت بخشوں گا، اے میرے بندو ! تم سب بھوکے ہو ہاں جسے میں کھانا کھلاؤں سو مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھانا دوں گا، اے میرے بندو ! تم سب ننگے ہوں ہاں جسے میں کپڑا پہناؤں گا، اے میرے بندو تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں اس لیے مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہاری مغفرت کردوں گا، اے میرے بندو ! تم ہرگز میرے نقصان تک نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ میرے نفع تک پہنچ سکتے ہو کہ مجھے نفع پہنچاؤ۔
اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے انس و جن تمہارے ایک پرہیزگار آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس تمہارے ایک گمراہ آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری بادشاہت میں کمی نہیں کرسکتے، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس ایک کھلے میدان میں (جمع ہو کر) مجھ سے سوال کریں پھر میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے اے میرے بندو ! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں پھر تمہیں انہی کا بدلہ دوں گا، سو جو کوئی بھلائی پائے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور جو اس کے علاوہ کچھ پائے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ (مسلم عن ابی ذر)
اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے اور پچھلے انس و جن تمہارے ایک پرہیزگار آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہوگا، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس تمہارے ایک گمراہ آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری بادشاہت میں کمی نہیں کرسکتے، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس ایک کھلے میدان میں (جمع ہو کر) مجھ سے سوال کریں پھر میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے اے میرے بندو ! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں پھر تمہیں انہی کا بدلہ دوں گا، سو جو کوئی بھلائی پائے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے اور جو اس کے علاوہ کچھ پائے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ (مسلم عن ابی ذر)
(43590 -) قال الله تعالى : يا عبادي ! إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته محرما بينكم فلا تظالموا ، يا عبادي ! كلكم ضال إلا من هديته فاستهدوني أهدكم ، يا عبادي ! كلكم جائع إلا من أطعمته فاستطعموني أطعمكم ، يا عبادي ! كلكم عار إلا من كسوته فاستكسوني أكسكم ، يا عبادي ! إنكم تخطئون بالليل والنهار وأنا أغفر الذنوب جميعا فاستغفروني أغفر لكم ، يا عبادي ! إنكم ان تبلغوا ضري فتضروني ، ولن تبلغوا نفعي فتنفعوني ، يا عبادي ! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أنقى قلب رجل واحد منكم ما زاد ذلك في ملكي شيئا ، يا عبادي ! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب رجل منكم ما نقص ذلك من ملكي شيئا ، يا عبادي ! لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم قاموا في صعيد واحد فسألوني فأعطيت كل إنسان مسألته ما نقص ذلك مما عندي إلا كما ينقص المخيط إذا أدخل البحر ، يا عبادي ! انما هي أعمالكم أحصيها لكم ثم أوفيكم إياها ، فمن وجد خيرا فليحمد الله ، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه - عن أبي ذر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا
43591 ۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندو ! تم سارے کے سارے گمراہ ہو مگر جسے میں ہدایت دوں سو مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت سے نوازوں گا اور تم سب کے سب فقیر ہو مگر جسے میں مالدار کروں تو مجھ سے مانگو میں تمہیں رزق دون گا، اور تم سب کے سب گناہ گار مگر جسے میں محفوظ رکھوں، سو جسے یہ علم ہو کہ مجھے گناہ بخشنے کی قدرت ہے وہ مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اس کی مغفرت کردوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں، اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندے اور مردے، خشک و تر میرے کسی بندے کے پرہیزگار دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہوگا اور گر تمہارے اگلے پچھلے زندے مردے خشک اور تر میرے کس بندے کی بدبخت دل کی طرح جمع ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر برابر بھی کمی نہیں ہوگی، اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندے اور مردے خشک اور تر ایک میدان میں جمع ہو کر ہر انسان اپنی تمنا کے مطابق تم میں سے سوال کرے تو اس سے میری بادشاہت میں اتنی کمی بھی نہیں ہوگی جتنی تم میں سے کوئی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکال لے، یہ اس وجہ سے کہ میں سخی ، پانے والا اور بزرگی والا ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہو، میری عطا کلام ہے اور میرا عذاب کلام ہے، میرا تو کسی چیز کو حکم ہوتا ہے جب میں اس کا ارادہ کرتا ہوں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ (نسائی ترمذی، ابن ماجہ عن ابی ذر)
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 6437 ۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 6437 ۔
(43591 -) يقول الله عزوجل : يا عبادي ! كلكم ضال إلا من هديت فسلوني الهدى أهدكم ، وكلكم فقير إلا من أغنيت فسلوني أرزقكم ، وكلكم مذنب إلا من عافيت فمن علم منكم أني ذو قدرة على المغفرة فاستغفرني غفرت له ولا أبالي ، ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أتقى قلب عبد من عبادي ما زاد ذلك في ملكي جناح بعوضة. ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على أشقى قلب عبد من عبادي ما نقص ذلك من ملكي جناح بعوضة ، ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا في صعيد واحد فسأل كل إنسان منكم ما بانت أمنيته فأعطيت كل سائل منكم ما نقص ذلك من ملكي إلا كما لو أن أحدكم مر بالبحر فغمس فيه إبرة ثم رفعها إليه ، ذلك بأبي جواد واجد ماجد أفعل ما أريد ، عطائي كلام وعذابي كلام ، إنما امري لشئ إذا أردته أن أقول له كن فيكون (ن ، ت ، ه - عن أبي ذر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا
43592 ۔۔۔ گزشتہ رات میں نے عجیب (خواب) دیکھا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جسے عذاب کے فرشتوں نے گھیر رکھا ہے تو اس کا وضو آیا اور اسے ان سے چھڑا لیا، اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس پر عذاب قبر وسیع کیا گیا تو اس کی نماز آئی اور اس سے چھڑا لیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جسے شیاطین نے گھیر رکھا ہے تو ذکر اللہ نے آ کر اسے ان سے سے چھڑا لیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو پیاس کی شدت سے زبان نکال رہا تھا تو اس کے پاس روزہ آیا جس نے اسے سیراب کیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کے آگے پیچھے دائیں بائیں، اوپر نیچے تاریکی ہی تاریکی ہے تو اس کے حج وعمرہ آئے جنہوں نے اسے نکال لیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کے پاس موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا، تو والدین کے ساتھ اس کی، کی ہوئی نیکی آئی فرشتہ کو اس سے ہٹا دیا (یعنی یہی وجہ ہے کہ والدین سے اچھا برتاؤ کرنے سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے) میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو مومنین سے گفتگو تو کرتا ہے لیکن وہ اس سے بات چیت نہیں کر رہے تو اس کی صلہ رحمی آئی اور کہنے لگی یہ اپنے رشتہ داروں سے ناتا جوڑنے والا ہے چنانچہ جب اس نے (پھر) ان سے بات کی تو وہ بھی اس سے بولنے لگے اور وہ ان میں شامل ہوگیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا کہ وہ انبیاء کے پاس آیا اور ٹولیوں میں بیٹھے ہیں، وہ جب بھی کسی ٹولی کے پاس جاتا (کہ ان میں بیٹھے) ہٹا دیا جاتا، تو اس کا غسل جنابت آیا اور کا ہاتھ پکڑ کر میرے پاس بیٹھا دیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو اپنے چہرے سے آگ کی لپٹ و تپش ہٹآ رہا ہے تو اس کا (دیا ہوا) صدقہ آیا جو اس پر سایہ اور چ ہے ر (کے لیے آگ) سے (بچاؤ) کا پردہ بن گیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کے پاس عذاب کے فرشتے پکڑنے کے لیے) آئے تو اس کے پاس اس کا نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا آگیا جس نے اسے چھڑا لیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص جہنم میں گرتے دیکھا تو اس کے وہ آنسو آگئے جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہتے تھے انھوں نے اسے آگ سے نکال لیا۔
اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں گرگیا ہے تو اس کا اللہ تعالیٰ سے خوف کرنا آگیا تو اس نے اس کا نامہ اعمال لے کر دائیں ہاتھ میں دے دیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کی ترازو ہلکی ہے تو اس کے آگے بھیجے ہوئے بچے آگئے اور انھوں نے ترازو کو وزنی کردیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کی ترازو ہلکی ہے تو اس کے آگے بھیجے ہوئے بچے آگئے اور انھوں نے ترازو کو وزنی کردیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو جہنم کے کنارے ہے تو اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا ڈر آیا جس نے اسے بچا لیا، اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو ایسے کانپ رہا ہے جیسے کھجور کی شاخیں کانپتی ہیں تو اس کے پاس اس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا یقین آیا جس نے اس کی کپکی روک دی، اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا کہ وہ (پل) صراط پر کبھی گھسٹتا ہے اور کبھی گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اس کے پاس اس کا مجھ پر پڑھا ہو درود وسلام ہے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا دیتا ہے یہاں کبھی گھسٹتا ہے اور کبھی گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اس کے پاس اس کا مجھ پر پڑھا ہوا درود وسلام ہے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ صراط سے گزر جاتا ہے میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو جنت کے دروازوں کی طرف منسوب تھا پھر دروازے اس کے سامنے بند کردیے گئے تو اس کے پاس لا الہ الا اللہ کی گواہی اتی ہے اور اسے جنت میں داخل کر لیت ہے۔ (الحکیم، بیہقی عن عبدالرحمن بن سمرۃ)
کلام ضعیف الجامع 2086 ۔
اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں گرگیا ہے تو اس کا اللہ تعالیٰ سے خوف کرنا آگیا تو اس نے اس کا نامہ اعمال لے کر دائیں ہاتھ میں دے دیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کی ترازو ہلکی ہے تو اس کے آگے بھیجے ہوئے بچے آگئے اور انھوں نے ترازو کو وزنی کردیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جس کی ترازو ہلکی ہے تو اس کے آگے بھیجے ہوئے بچے آگئے اور انھوں نے ترازو کو وزنی کردیا، میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو جہنم کے کنارے ہے تو اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا ڈر آیا جس نے اسے بچا لیا، اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو ایسے کانپ رہا ہے جیسے کھجور کی شاخیں کانپتی ہیں تو اس کے پاس اس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا یقین آیا جس نے اس کی کپکی روک دی، اور میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا کہ وہ (پل) صراط پر کبھی گھسٹتا ہے اور کبھی گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اس کے پاس اس کا مجھ پر پڑھا ہو درود وسلام ہے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا دیتا ہے یہاں کبھی گھسٹتا ہے اور کبھی گھٹنوں کے بل چلتا ہے تو اس کے پاس اس کا مجھ پر پڑھا ہوا درود وسلام ہے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ صراط سے گزر جاتا ہے میں نے اپنی امت کا ایک شخص دیکھا جو جنت کے دروازوں کی طرف منسوب تھا پھر دروازے اس کے سامنے بند کردیے گئے تو اس کے پاس لا الہ الا اللہ کی گواہی اتی ہے اور اسے جنت میں داخل کر لیت ہے۔ (الحکیم، بیہقی عن عبدالرحمن بن سمرۃ)
کلام ضعیف الجامع 2086 ۔
(43592 -) إني رأيت البارحة عجبا ! رأيت رجلا من أمتي قد احتوشته ملائكة العذاب فجاءه وضوؤء فاستنقذه من ذلك ، ورأيت رجلا من أمتي قد بسط عليه عذاب القبر فجاءته صلاته فاستنقذته من ذلك ، ورأيت رجلا من أمتي قد احتوشته اشياطين فجاءه ذكر الله فخلصه منهم ، ورأيت رجلا من أمتي يلهث عطشا فجاءه صيام رمضان فسقاه ، ورأيت رجلا من أمتي من بين يديه ظلمة ومن خلفه ظلمة وعن يمينه ظلمة وعن شماله ظلمة ومن فوقه ظلمة ومن تحته ظلمة فجاءته حجته وعمرته فاستخرجاه من الظلمة ورأيت رجلا من أمتي جاءه ملك الموت ليقبض روحه فجاءه بره بوالديه فرده عنه ، ورأيت رجلا من أمتي يكلم المؤمنين ولا يكلمونه فجاءته صلة الرحم فقالت : إن هذا كان واصلا لرحمه فكلمهم وكلموه وصار معهم ، ورأيت رجلا من أمتي يأتي النبيين وهم حلق حلق ، كلما مر على حلقة طرد ، فجاءه اغتساله من الجنابة فأخذ بياده فأجلسه إلى جنبي ، ورأيت رجلا من أمتي يتقي وهج النار بيديه عن وجهه فجاءته صدقته فصارت ظلا على رأسه وسترا على وجهه ، ورأيت رجلا من أمتي جاءته زبانية العذاب فجاءه أمره بالمعروف ونهيه عن المنكر فاستنقذه من ذلك ، ورأيت رجلا من أمتي هوى في النار فجاءته دموعه اللاتي بكى بها في الدنيا من خشية الله تعالى فأخرجته من النار ، ورأيت رجلا من أمتي قد هوت صحيفته إلى شماله فجاءه خوفه من الله فأخذ صحيفته فجعلها في يمينه ، ورأيت رجلا من أمتي خف ميزانه فجاءه أفراطه فثقلوا ميزانه ، ورأيت رجلا من أمتي على شفير جهنم فجاءه وجله من الله تعالى فاستنقذه من ذلك ، ورأيت رجلا من أمتي يرعد كما ترعد السعفة فجاءه حسن ظنه بالله تعالى فسكن رعدته ، ورأيت رجلا من أمتي يزحف على الصراط مرة ويحبو مرة فجاءته صلاته على فأخذت بيده فأقامته على الصراط حتى جاز ، ورأيت رجلا من أمتي انتهى إلى أبواب الجنة فغلقت الابواب دونه فجاءته شهادة أن لا إله إلا الله فأخذت بيده فأدخلته الجنة (الحكيم ، هب - عن عبد الرحمن بن سمرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43593 ۔۔۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقوی کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ سارے معاملہ کی جڑ ہے قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر اللہ کا التزام کر کیونکہ یہ تیرے لیے آسمان میں ذکر اور زمین میں نور کا باعث ہے سوائے بھلی بات کے اکثر خاموش رہا کر، یہ عمل شیطان کو ہٹاتا اور دین کے معاملہ میں تیرا مددگار ثابت ہوگا، زیادہ ہنسنے سے بچا کر کیونکہ بکثرت ہنسنا دل کو مردہ کردیتا اور چہرے کی رونق کو ختم کردیتا ہے جہاد کی پابندی کرنا کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت (ترک دنیا) ہے مسکینوں سے محبت کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا، اپنے سکم درجہ کو دیکھ اپنے سے بالا مرتبہ کو نہ دیکھ اس سے تیرے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری نہیں ہوگی، اپنے رشتہ داروں سے تعلق برقرار رکھنا اگرچہ وہ ناطہ توڑیں، حق بات کہو چاہے کڑوی ہو اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ کرنا، جو تجھے اپنے عیوب معلوم ہیں وہ تجھے لوگوں سے غافل کردے، اور جو کام تو خود کرتا ہے ان پر غصہ نہ کر، آدمی میں تین خصلتیں عیب کے کافی ہیں۔ لوگوں کی باتیں اسے معلوم ہوں اور اپنی ذات سے ناواقف ہو اور جن کاموں میں خود مبتلا ہو وہ ان کے لیے برے سمجھے اپنے ساتھی کو تکلیف پہنچائے۔ ابو ذر ! تدبیر جیسی عقل نہیں، بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں، حسن اخلاق جیسا کوئی حسب (خاندانی شرافت) نہیں۔ (عبد بن حمید فی تفسیرہ طبرانی عن ابی ذر۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1222 ۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1222 ۔
(43593 -) أوصيك بتقوى الله ، فانه رأس الامر كله ، عليك بتلاوة القرآن وذكر الله ! فانه ذكر لك في السماء ونور لك في الارض ، عليك بطول الصمت إلا من خير ! فانه مطردة للشيطان عنك وعون لك على أمر دينك ، إياك وكثرة الضحك ! فانه يميت القلب ويذهب بنور الوجه ، عليك بالجهاد ! فانه رهبانية أمتي ، أحب المساكين وجالسهم ، انظر إلى من تحتك ولا تنظر إلى من فوقك فانه أجدر ألا تزدري نعمة الله عندك ، صل قرابتك وإن قطعوك ، قل الحق وإن كان مرا ، لا تخف في الله لومة لائم ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك ، ولا تجد عليهم فيما تأتي ، وكفى بالمرء عيبا أن يكون فيه ثلاث خصال : أن يعرف من الناس ما يجهل من نفسه ، ويستحيي لهم مما هو فيه ويؤذي جليسه ، يا أبا ذر ! لا عقل كالتدبير.ولا ورع كالكف ، ولا حسب كحسن الخلق (عبد بن حميد في تفسيره ، طب - عن أبي ذر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43594 ۔۔۔ تین چیزیں ہلاک کرنے والی اور تین چیزیں نجات دینے والی ہیں، تین چیزیں کفارات ہیں اور تین چیزیں (رفع) درجات (کا سبب ) ہیں، رہی ہلاک کرنے والی تو ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے ایسی خواہش جس کے پیچھے چلا جائے اور خود پسندی ہے اور نجات دینے والی تو غصہ میں انصاف کرنا، فقر و مالداری میں میانہ روی اور تنہائی و مجلس میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، کفارات ، تو نماز کے بعد نماز کا انتظار ، سخت سردی میں مکمل وضو کرنا، اور باجماعت نمازوں کے لیے پیدل جانا رہی (رفع) درجات کا سبب تو کھانا کھلانا سلام پھیلانا، جب لوگ محو خواب ہوں نماز پڑھنا۔ طبرانی فی الاوسط عن ابن عمر۔
جامع مواعظ۔۔۔ از اکمال
جامع مواعظ۔۔۔ از اکمال
(43594 -) ثلاث مهلكات ، وثلاث منجيات ، وثلاث كفارات وثلاث درجات ، فأما المهلكات : فشح مطاع ، وهوى متبع ، وإعجاب المرء بنفسه ، وإما المجيات : فالعدل في الغضب والرضى ، والقصد في الفقر والغنى ، وخشية الله في السر والعلانية ، وأما الكفارات : فانتظار الصلاة بعد الصلاة ، وإسباغ الوضوء في لسبرات ونقل الاقدام إلى الجماعات ، وأما الدرجات فاطعام الطعام ، وإفشاء السلام ، والصلاة بالليل والناس نيام (طس - عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43595 ۔۔۔ لوگو ! اما بعد سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے مضبوط کڑی تقوی کی بات ہے اور سب سے بہتر ملت، ملت ابراہیمی ہے اور سب سے اچھا طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور سب سے اونچی بات اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اور سب سے اچھے قصے یہ قرآن ہے اور بہترین کام مضبوط ہیں (جن کی صداقت پر یقین ہو) اور برے کام نئے نئے ہیں، اور بہترین طریقہ انبیاء کا ہے اور سب سے اونچی موت شہداء کی ہے اور سب سے زیادہ اندھا پن ہدایت کے بعد گمراہی ہے اور بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہے اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جاتی اور بدترین اندھا پن، دل کا اندھا پن ہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے جو تھوڑا اور کافی ہو وہ اس زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کردے، اور بہترین معذرت موت کے وقت کی ہے اور بدترین ندامت قیامت کے روز کی ہے اور بہت سے لوگ جمعہ کی نماز میں تاخیر سے آتے ہیں، اور ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کو بےتوجہی سے یاد کرتے ہیں سب سے زیادہ خطا کار جھوٹی زبان ہے، سب سے بہتر مالداری دل کی بےنیازی ہے، تقوی بہترین توشہ ہے، حکمت و دانش کی جڑ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور دل میں قرار پکڑنے والی بہترین چیز یقین ہے اور (خدا رسول اور ان کی ذت وصفات میں) شک کرنا کفر ہے نوحہ کرنا جاہلیت کا عمل ہے اور (مال غنیمت میں) خیانت جہنم کا ڈھیر ہے اور (سونے چاندی اور پیسوں کے) خزانے جہنم کا داغ ہیں ، شعر شیطانی بانسری ہے، سب سے بری کمائی سود کی کمائی ہے اور سب سے برا کھانا یتیم کا مال ہے، نیک بخت وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، بدبخت بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیت میں بدبخت ہو، تم میں سے کوئی چار گز کی جگہ کے قریب ہوچکا ہوتا ہے لیکن انجام کا اعتبار ہے ، اور کام کی مضبوطی اس کا خاتمہ ہے، سب سے برے ناقلین، جھوٹ کے ہیں، جو آنے والا ہے وہ قریب ہے، مسلمان کو گالی دینا کھلا گناہ اور اس سے جگن کرنا کفر ہے اور اس کی غیبت کرنا اللہ کی نافرمانی ہے اور اس کا مال ایسا ہی حرام ہے جیسا اس کا خون حرام ہے اور جس نے اللہ پر کوئی قسم ڈالی اللہ اسے جھوٹا کردے گا جو بخشے گا اللہ اسے بخشے گا، جو معاف کرے اللہ اسے معاف کرے گا جو غصہ پی لیتا ہے اللہ اسے اجر دے گا جو مصیبت پر صبر کرے گا اللہ اسے اس کا عوض عطا کردے گا، اور جو شہرے کے پیچھے لگے گا اللہ تعالیٰ اسے شہرے دے دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے دہرا اجر دے گا، جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا، آپ نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میری اور میری امت کی مغفرت فرما، میں اپنے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ بیہقی فی الدلائل ، الدیلمی وابن عساکر عن عقبۃ بن عامر الجہنی، ابو نصر السجزی فی الابانۃ، عن ابی الدرداء ابن ابی شیبہ، حلیۃ الاولیاء، عن ابن مسعود موقوفا۔
(43595 -) أيها الناس ! أما بعد فان أصدق الحديث كتاب الله ، وأوثق العرى كلمة التقوى ، وخير الملل ملة إبراهيم ، وخير السنن سنة محمد ، وأشرف الحديث ذكر الله ، وأحسن القصص هذا القرآن ، وخير الامور عوازمها ، وشر الامور محدثاتها ، وأحسن الهدي هدي الانبياء ، وأشرف الموت قتل الشهداء ، وأعمى العمى الضلالة بعد الهدى ، وخير العلم ما نفع ، وخير الهدى ما اتبع وشر العمى عمى القلب ، واليد العليا خير من اليد السفلى ، وما قل وكفى خير مما كثر وألهى ، وشر المعذرة حين يحضر الموت وشر الندامة ندامة يوم القيامة ، ومن الناس من لا يأتي الجمعة إلا دبرا ، ومنهم لا يذكر الله إلا هجرا ، وأعظم الخطايا اللسان الكذوب ، وخير الغنى غنى النفس ، وخير الزاد التقوى ، ورأس الحكمة مخافة الله ، وخير ما وقر في القلب اليقين ، والارتياب من الكفر ، والنياحة من عمل الجاهلية ، والغلول من جثى جهنم والكنزكي من النار ، والشعر من مزامير إبليس ، وشر المكاسب كسب الربا ، وشر المآكل مال اليتيم ، والسعيد من وعظ بغيره ، والشقي من شقي في بطن أمه ، وإنما يصير أحدكم إلى موضع أربع أذرع ، والامر إلى آخره ، وملاك العمل خواتمه وشر الروايا روايا الكذب ، وكل ما هو آت قريب ، وسباب المسلم فسوق ، وقتال المؤمن كفر ، وأكل لحمه من معصية الله وحرمة ماله كحرمة دمه ، ومن يتأل على الله يكذبه ، ومن يغفر يغفر الله له ، ومن يعف يعف الله عنه ، ومن يكظم الغيظ يأجره الله ، ومن يصبر على الرزية يعوضه الله ، ومن يتبع السمعة يسمع الله به ، ومن يصبر يضعف الله له ، ومن يعص الله يعذبه الله اللهم اغفر لي ولامتي ثلاثا ، استغفر الله لي ولكم (ق في الدلائل الديلمي ، وابن عساكر - عن عقبة بن عامر الجهني ، أبو نصر السجزي في الابانة - عن أبي الدرداء ، ش ، حل - عن ابن مسعود موقوفا).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43596 ۔۔ لوگو ! گویا اس (دنیا) میں موت ہمارے علاوہ کے لوگوں کے لیے فرض کی گئی، گویا حق ہمارے علاوہ کس پر واجب ہے گویا ہم جن مردوں کو چھوڑنے جا رہے ہیں وہ تھوڑی دیر بعد لوٹ آئیں گے، ان کے گھر قبریں ہیں، اور ہم ان کی میراث کھا رہے ہیں گویا ہم ان کے بعد ہمیشہ رہیں گے، اس کے لیے خوشخبری ہے جو اپنے عیب کی وجہ سے دوسروں کے عیوب سے غافل ہوجائے، اس کے لیے خوشخبری ہے جو بغیر کمی کے اپنے آپ کو (اللہ کے ہاں) ذلیل کرے اور ذلت و مسکینی والوں پر رحم کرے، فقہ و حکمت والوں سے میل جول رکھے، اس کے لیے خوشخبری ہے جس نے اپنی ذات کو ذلیل کیا، اس کی کمائی پاک ہو اور اس کی سیرت درست ہو اس کا اخلاق اچھا ہو، اس کی ظاہری حالت اچھی ہو، لوگوں سے اپنی برائی روک کر رکھے اس کے لیے خوشخبری ہے جس کا اپنے علم پر عمل ہو اپنا زائد مال خرچ کرے اور اپنی فضول بات کو قابو میں رکھے ۔ (الحکیم عن انس)
(43596 -) أيها الناس ! كأن الموت فيها على غيرنا كتب وكأن الحق فيها على غيرنا وجب ، وكأن ما نشيع من الموتى عن قليل إلينا راجعون ، بيوتهم أجداثهم ، ونأكل تراثهم كأنا مخلدون من بعدهم ، فطوبى لمن شغله عيبه عن عيب غيره ، طوبى لمن ذل نفسه من غير منقصة ، ورحم أهل الذل والمسكنة ، وخالط أهل الفقه والحكمة ، طوبى لمن ذل نفسه ، وطاب كسبه ، وصلحت سريرته ، وحسنت خليقته ، وكرمت علانيته ، وعزل عن الناس شره ، طوبى لمن عمل بعلمه وأنفق الفضل من ماله ، وأمسك الفضل من قوله (الحكيم - عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43597 ۔۔ اپنے زمانے سے بھلائی طلب کرو، اپنی طاقت کے مطابق جہنم سے بھاگو، کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا طلب گار سوتا نہیں اور جہنم ایسی چیز ہے جس سے بھاگنے والا چین کی نیند نہیں سوتا، آخرت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانک دیا گیا ہے اور دنیا پسندیدہ چیزوں اور شہوات سے ڈھکی ہوئی ہے تو تمہیں دنیا کی خواہشات لذتیں آخرت سے ہرگز غافل نہ کریں، کیونکہ جس کی آخرت نہیں اس کا کوئی دین نہیں، اور جس کا دین نہیں اس کی آخرت نہیں، اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں ایسی حلال کر رکھی ہیں جن میں کشادگی ہے اور ناپاک چیزیں حرام کردی ہیں تو جو چیزیں اس نے تم پر حرام کی ہیں ان سے بچو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ ہرگز کسی حرام کردہ چیز کو حلال اور نہ کسی حلال کردہ چیز کو تمہارے لیے حرام کردے گا، جس نے حرام چھوڑ دیا اور حلال کو حلال سمجھا تو اس نے رحمن تعالیٰ کی فرمان برداری کی، اور ایسی مضبوط کڑی کو تھاما جو ٹوٹنے والی نہیں، اور دنیا و آخرت دونوں ہی اس کے لیے یکجا ہوگئیں، یہ (انعام) اس کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمان برداری کرے۔ (ابن صصری فی امالیہ عن یعلی بن الاشدق عن عبداللہ بن جراد)
(43597 -) اطلبوا الخير دهركم ، واهربوا من النار جهدكم ، فان الجنة لا ينام طالبها ، وإن النار لا ينام هاربها ، وإن الآخرة محففة بالمكاره ، وإن لدنيا محففة باللذات والشهوات ، فلا تلهينكم شهوات الدنيا ولذاتها عن الآخرة ، إنه لا دين لمن لا آخرة له ، ولا آخرة لمن لا دين له ، إن الله قد أبلغ في المعذرة وبلغ الموعظة ، إن الله قد أحل كثيرا طيبا فيه سعة ، وحرم خبيثا فاجتنبوا ما حرم الله عليكم ، وأطيعوا الله عزوجل فانه لن يحل الله شيئا حرمه ولن يحرم شيئا أحله ، وإنه من ترك الحرام وأحل الحلال أطاع الرحمن واستمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها واجتمعت له الدنيا والآخرة هذا لمن أطاع الله عزوجل (ابن صصري في أماليه - عن يعلى بن الاشدق عن عبد الله بن جراد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43598 ۔۔۔ جہنم سے بھاگو اور پوری کوشش سے جنت کا مطالبہ کرو ! کیونکہ جنت کا طلبگار اور جہنم سے بھاگنے والا سوتا نہیں، اور آخرت ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھکی ہے دنیا شہوتوں اور لذتوں سے ڈھکی ہے تو تمہیں اس کی لذتیں اور شہوتیں آخرت سے ہرگز غافل نہ کریں۔
ابن مندہ عن یعلی بن الاشدق عن کلیب بن جری عن معاویۃ بن خفاجہ وقال غریب
ابن مندہ عن یعلی بن الاشدق عن کلیب بن جری عن معاویۃ بن خفاجہ وقال غریب
43598- اهربوا من النار، واطلبوا الجنة جهدكم، فإن الجنة لا ينام طالبها، وإن النار لا ينام هاربها، وإن الآخرة محفوفة بالمكاره، وإن الدنيا محفوفة بالشهوات واللذات، فلا تلهينكم عن الآخرة لذاتها وشهواتها."ابن منده - عن يعلى بن الأشدق عن كليب بن جري عن معاوية بن خفاجة، وقال: غريب".
তাহকীক: