কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪০৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیب عشاری بمعہ مزید۔۔۔حصہ اکمال
44059 اے علی ! جو چیز میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی میں تمہارے لیے پسند کرتا ہوں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے بھی ناپسند کرتا ہوں ، رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرات مت کرو، بالوں کا جوڑا بنا کر نماز مت پڑھو، نماز میں کنکریوں کے ساتھ مت کھیلو، نماز میں اپنے بازؤ وں کو مت پھیلاؤ، امام کو لقمہ مت دو ، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشم سے مخلوط بنے ہوئے کپڑے اور عصفر بوٹی میں رنگے ہوئے کپڑے مت پہنو اور سرخ رنگ کی زینوں پر مت سوار ہو چونکہ یہ شیطان کی سواریاں ہیں۔ رواہ عبدالرزاق والبیہقی فی السنن عن علی وضعفہ
44059- يا علي! إني أحب لك ما أحب لنفسي وأكره لك ما أكره لنفسي، لا تقرأ وأنت راكع ولا أنت ساجد ولا تصل وأنت عاقص شعرك فإنه كفل الشيطان، ولا تقع 2 بين السجدتين، ولا تعبث بالحصى في الصلاة، ولا تفترش ذراعيك، ولا تفتح على الإمام، ولا تختم بالذهب، ولا تلبس القسى ولا المعصفر، ولا تركب على المياثر الحمر فإنها مراكب الشيطان. "عبد الرزاق، هق - عن علي؛ وضعفه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیب وترھیب۔۔۔حصہ اکمال
44060 اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل ” سبحۃ الحدیث “ ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مبغوض عمل ” حذیف “ ہے۔ عرض کیا گیا ، یا رسول اللہ ! ” سبحۃ الحدیث “ کیا چیز ہے، ارشاد فرمایا : لوگ بیٹھے باتوں میں مشغولہوں جبکہ ایک آدمی تسبیح میں مشغول ہو ، عرض کیا گیا : تحذیف کیا ہے ؟ فرمایا : لوگ تو بخیریت ہوں چنانچہ ان کے حال کے متعلق ان کا پڑوسی یا کوئی اور سوال کرے وہ جواب دیں ہمیں بڑے کڑے حالات کا سامنا ہے گویا وہ شکایت کنندہ ہوں۔ رواہ الطبرانی عن عصمۃ بن مالک
44060- أحب الأعمال إلى الله سبحة الحديث، وأبغض الأعمال إلى الله التحذيف، قيل: يا رسول الله! وما سبحة الحديث؟ قال: يكون القوم يحدثون والرجل يسبح. قيل: وما التحذيف؟ قال: القوم يكونون بخير، فيسألهم الجار والصاحب فيقولون: نحن بشر يشكون. "طب - عن عصمة بن مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیب وترھیب۔۔۔حصہ اکمال
44061 اصحاب جنت تین لوگ ہیں : صاحب سلطنت جسے اللہ تعالیٰ انصاف کی توفیق عطا فرمادے، وہ شخص جو ہر قریبی اور ہر مسلمان کے لیے رحم دل ہو اور وہ شخص جو پاکدامن فقیر اور صدقہ کرنے والا ہو، جبکہ دوزخ والے بھی پانچ قسم کے لوگ ہیں : وہ شخص جس کی طمع مخفی نہ ہو اگر اسے پرکھا جائے تو وہ خیانت کا نرا مٹکا معلوم ہو، وہ شخص جو صبح شام تمہیں تمہارے اہل ومال کے متعلق دھوکا دیتا رہے، وہ ضعیف جس میں عقل نام کی کوئی چیز نہ ہو، وہ لوگ جو تمہارے درمیان موجود ہوں لیکن انھیں نہ اہل کی ضرورت ہو نہ مال کی، بدخلق فاحش آدمی (حدیث میں) بخیل اور جھوٹے کا بھی ذکر ہوا ہے۔ رواہ الطبرانی والحاکم عن عیاض بن حمار
44061- أصحاب الجنة ثلاثة: ذو سلطان مقسط موفق، ورجل رحيم رقيق القلب بكل ذي قربى ومسلم، ورجل عفيف فقير متصدق؛ وأصحاب النار خمسة: رجل لا يخفى له طمع وإن دق إلا خانه، ورجل لا يمسي ولا يصبح إلا وهو يخادعك عن أهلك ومالك، والضعيف الذي لا زبر له 1، الذين هم فيكم تبعا لا يبغون أهلا ولا مالا، والشنظير 2 الفحاش - وذكر البخل والكذب "طب، ك - عن عياض بن حمار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیب وترھیب۔۔۔حصہ اکمال
44062 اہل جنت میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مرتے نہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کے کانوں کو اپنی معیوب باتوں سے بھر نہ دے اور اہل دوزخ اس وقت تک مرتے نہیں جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے کانوں کو اپنی ناپسندیدہ باتوں سے بھر نہ دے۔ رواہ سمویہ والحاکم والضیاء عن ابن انس، قال ابوزرعۃ : وھم ابوالمظفر فی رفعہ
44062- إن أهل الجنة من لا يموت حتى يملأ الله مسامعه مما يحب، وأهل النار من لا يموت حتى ملأ الله مسامعه مما يكره. "سمويه، ك، ض - عن ابن أنس، قال أبو زرعة: وهم أبو المظفر في رفعه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیب وترھیب۔۔۔حصہ اکمال
44063 دوزخ والوں میں ہر شخص سخت قبعثری ہے، عرض کیا گیا : یاروسل اللہ قبعثری کون شخص ہے ؟ ارشاد فرمایا : جو اپنے اول و عیال پر سختی کرتا ہو، جو اپنے ساتھی پر سختی کرتا ہو اور جو اپنے خاندان پر سختی کرتا ہو، جبکہ اہل جنت میں ہر شخص کمزور اور پرہیزگار ہوتا ہے۔ رواہ الشیرازی فی الالقاب والدیلمی عن ابی عامرالاشعری
44063- أهل النار كل شديد قبعثري، قيل: يا رسول الله! من القبعثري؟ قال: الشديد على الأهل الشديد على الصاحب، الشديد على العشيرة؛ وأهل الجنة كل ضعيف مزهد. "الشيرازي في الألقاب، والديلمي - عن أبي عامر الأشعري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیب وترھیب۔۔۔حصہ اکمال
44064 ہر تندخو، بدخلق، متکبر، ہر قسم کے گناہوں کا جامع اور خیروبھلائی سے منع کرنے والا جہنمی ہے، جبکہ اہل جنت ضعفاء اور مغلوب لوگ ہیں۔ رواہ احمد والحاکم عن ابن عمرو
44064- أهل النار كل جعظري 1 جواظ 2 مستكبر جماع مناع، وأهل الجنة الضعفاء المغلوبون. "حم، ك - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44065 اے ابودرداء میں تمہیں دوزخیوں کے متعلق خبر نہ دوں ؟ ہر وہ جو تند خو ہو، سخت مزاج ہو، متکبر ہو، برائیوں کا جامع ہو، بھلائی کے کاموں سے منع کرے والا ہو، میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر مسکین شخص اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھائے تو اسے پوری کردے۔ رواہ الطبرانی عن ابی الدرداء
44065- ألا أخبرك يا أبا الدرداء بأهل النار؟ كل جعظري جواظ مستكبر جماع منوع، ألا أخبرك بأهل الجنة؟ كل مسكين لو أقسم على الله لأبره. "طب - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44066 میں تمہیں اہل جنت کے متعلق آگاہ نہ کروں ؟ وہ جو ضعفاء اور مظلوم ہوں، میں تمہیں اہل دوزخ کے متعلق آگاہ نہ کروں ؟ ہر وہ شخص جو سخت اور تند مزاج ہو۔ رواہ احمد بن رجل
44066- ألا أدلكم على أهل الجنة؟ الضعفاء المتظلمون، ألا أدلكم على أهل النار؟ كل شديد جعظري. "حم - عن رجل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44067 اے سراقہ بن مالک ! میں تمہیں اہل جنت اور اہل نار کے متعلق خبر نہ دوں ؟ اہل جنت وہ لوگ ہیں جن کے کان اچھی تعریفوں سے بھر جائیں اور وہ سنتا بھی ہو، اہل نار وہ ہیں جن کے کان بری تعریفوں سے بھرے ہوئے ہوں اور ہ سنتا بھی ہو۔ رواہ ابن المبارک عن ابی الجوزاء مرسلاً
44067- يا سراقة بن مالك! ألا أخبرك بأهل الجنة وأهل النار؟ أهل الجنة من ملئت مسامعه من الثناء الحسن وهو يسمع، وأهل النار من ملئت مسامعه من الثناء السييء وهو يسمع. "ابن المبارك - عن أبي الحوراء مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44069 میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں سے محبت بھی کرتے ہوں ، میری امت کے برے لوگ تجار ہیں جو کثرت سے قسمیں کھاتے ہوں گو کہ وہ سچے ہی کیوں نہ ہوں۔ رواہ ابن النجار عن ابوہریرہ مرسلاً
44069- خيار أمتي من دعا إلى الله تعالى وحبب عباده إليه وشرار أمتي التجار من كثرت أيمانه وإن كان صادقا. "ابن النجار - عن أبي هريرة مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44070 میں تمہیں اہل نار اور اہل جنت کے متعلق آگاہ نہ کروں۔ الخ رواہ احمد بن حنبل عن انس
44070- ألا أخبركم بأهل النار وأهل الجنة ... "حم عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44071 تقویٰ اور حسن اخلاق کثرت سے لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا جبکہ منہ اور شرمگاہ کثرت سے لوگوں کو دوزخ میں داخل کریں گے۔ رواہ احمد بن حنبل فی الادب والترمذی وقال : صحیح غریب وابن ماجہ والحاکم وابن حبان واللبیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ
44071- أكثر ما يدخل الناس الجنة تقوى الله وحسن الخلق، وأكثر ما يدخل الناس النار الأجوفان: الفم والفرج. "حم، في الأدب، ت: 1 صحيح غريب؛ هـ، ك حب، هب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44072 بلاشبہ اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو محبوب رکھتا ہے اور تین آدمیوں کو مبغوض رکھتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کو بوڑھے زانی، متکبر فقیر اور دولت کی کثرت کے خواہشمند بخیل سے بغض ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو ان تین آدمیوں سے محبت ہے، ایک وہ آدمی جو کسی لشکر میں ہو اور بار بار پلٹ کر (دشمن پر) حملہ آور ہوتا ہو اور مسلمانوں کی حفاظت کرتا ہو یہاں تک کہ قتل کردیا جائے یا اللہ تعالیٰ اسے فتح سے کامران کردے، ایک وہ شخص جو کسی قوم میں ہو اور سفر سے رات کے آخری حصہ میں واپس ہو، انھیں نیند ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو وہ نیند کو چھوڑ کر میری آیات کی تلاوت اور میری عبادت میں مشغول ہوجائے اور ایک وہ شخص جو کسی قوم میں ہو اور ان کے پاس ایک آدمی آئے جو انھیں قرابت داری کا واسطہ دے کر سوال کرے وہ لوگ اس کو کچھ دینے میں بخل کرجائیں اور وہ ان کے پیچھے ایسا رہے گویا اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کسی نے دیکھا تک نہیں۔ رواہ احمد وابن حبان و سعید بن المنصور عن ابی ذر
44072- إن الله تعالى يحب ثلاثة ويبغض ثلاثة: يبغض الشيخ الزاني، والفقير المختال، والمكثر البخيل؛ ويحب ثلاثة: رجل كان في كتيبة فكر يحميهم حتى قتل أو فتح الله عليه، ورجل كان في قوم فأدلجوا فنزلوا من آخر الليل وكان النوم أحب إليها مما يعدل به وقام يتلو آياتي ويتملقني، ورجل كان في قوم فأتاهم رجل يسألهم لقرابة بينه وبينهم فبخلوا عنه وخلف بأعقابهم حيث لا يراه إلا الله تعالى ومن أعطاه. "حم، حب، ص - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44073 بیشک اللہ تعالیٰ کو تین آدمیوں سے محبت ہے اور تین آدمیوں سے بغض ہے۔ چنانچہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی را ہمیں جہاد کرتا ہو وہ لڑتے لڑتے قتل کردیا جائے ایک وہ شخص جس کا کوئی پڑوسی ہو جو اسے اذیت پہنچاتا ہو لیکن وہ اس کی اذیت پر صبر کرتا ہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ حیات وموت سے اس کی کفایت کردے، ایک وہ شخص جو کسی قوم کے ساتھ محو سفر ہو حتیٰ کہ آخر رات میں ان پر نیند کا غلبہ ہوجائے چنانچہ وہ لوگ سوجائیں لیکن یہ شخص کھڑاہو جائے اور وضو کرکے نماز میں مصروف ہوجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور اس کے پاس موجود انعامات میں رغبت کرتے ہوئے۔ جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کو بغض ہے وہ یہ ہیں، بخیل جو احسان جتلاتا ہو، متکبر فخر کرنے والا اور قسمیں اٹھانے والا تاجر۔ رواہ الطبرانی والحاکم والبیہقی و سعید بن المنصور عن ابی ذر
44073- إن الله تعالى يحب ثلاثة ويبغض ثلاثة: رجل غزا في سبيل الله صابرا محتسبا فقاتل حتى قتل، ورجل كان له جار يؤذيه فصبر على أذاه حتى يكفيه الله إياه بحياة وموت، ورجل سافر مع قوم فارتحلوا حتى إذا كان من آخر الليل وقع عليهم الكرى فنزلوا فضربوا برؤسهم، ثم قام وتطهر وصلى رهبة لله ورغبة فيما عنده، والثلاثة الذين يبغضهم الله: البخيل المنان، والمختال الفخور، والتاجر الحلاف. "طب، ك، ق، ص - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44073 بیشک اللہ تعالیٰ کو تین آدمیوں سے محبت ہے اور تین آدمیوں سے بغض ہے۔ چنانچہ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی را ہمیں جہاد کرتا ہو وہ لڑتے لڑتے قتل کردیا جائے ایک وہ شخص جس کا کوئی پڑوسی ہو جو اسے اذیت پہنچاتا ہو لیکن وہ اس کی اذیت پر صبر کرتا ہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ حیات وموت سے اس کی کفایت کردے، ایک وہ شخص جو کسی قوم کے ساتھ محو سفر ہو حتیٰ کہ آخر رات میں ان پر نیند کا غلبہ ہوجائے چنانچہ وہ لوگ سوجائیں لیکن یہ شخص کھڑاہو جائے اور وضو کرکے نماز میں مصروف ہوجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور اس کے پاس موجود انعامات میں رغبت کرتے ہوئے۔ جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کو بغض ہے وہ یہ ہیں، بخیل جو احسان جتلاتا ہو، متکبر فخر کرنے والا اور قسمیں اٹھانے والا تاجر۔ رواہ الطبرانی والحاکم والبیہقی و سعید بن المنصور عن ابی ذر
44073- إن الله تعالى يحب ثلاثة ويبغض ثلاثة: رجل غزا في سبيل الله صابرا محتسبا فقاتل حتى قتل، ورجل كان له جار يؤذيه فصبر على أذاه حتى يكفيه الله إياه بحياة وموت، ورجل سافر مع قوم فارتحلوا حتى إذا كان من آخر الليل وقع عليهم الكرى فنزلوا فضربوا برؤسهم، ثم قام وتطهر وصلى رهبة لله ورغبة فيما عنده، والثلاثة الذين يبغضهم الله: البخيل المنان، والمختال الفخور، والتاجر الحلاف. "طب، ك، ق، ص - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمی لوگوں کی فہرست
44074 اچھائی اور برائی دونوں ایک ایسی عادات ہیں جو قیامت کے دن لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی بھلائی بھلے لوگوں کو بشارت دے گی اور ان سے اچھائی کا وعدہ کرے گی جبکہ برائی، برے لوگوں سے کہے گی : تم اپنی خیر مناؤ، چنانچہ جہاں تک ہوسکے گا انھیں برائی ہی لازم رہے گی۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج عن ابی موسیٰ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ۔
44074- إن المعروف والمنكر خليقتان ينصبان للناس يوم القيامة، فأما المعروف فيقول لأصحابه: إليكم إليكم! وما يستطيعون له إلا لزوما. "ابن أبي الدنيا في قضاء الحوائج - عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز بھلائی اور برائی والے ممتاز ہوں گے
44075 قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اچھائی اور برائی دونوں چیزیں قیامت کے دن لوگوں کے لیے کھڑی کی جائیں گی، اچھائی تو اچھے لوگوں کو خوشخبری سنائے گی اور ان سے بھلائی کا وعدہ کرے گی، جبکہ برائی کہے گی : میں تمہاری ہی طرف ہوں چنانچہ برائی انھیں لازم ہوجائے گی۔ رواہ احمد بن حنبل عن ابی موسیٰ
44075- والذي نفسي بيده! إن المعروف والمنكر خليقتان ينصبان للناس يوم القيامة، فأما المعروف فيبشر أصحابه ويعدهم الخير وأما المنكر فيقول: إليكم إليكم! وما يستطيعون له إلا لزوما. "حم عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز بھلائی اور برائی والے ممتاز ہوں گے
44076 کیا میں تمہیں برائی سے بہتر بھلائی کی خبر نہ دوں۔ چنانچہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی امید کی جاتی ہو اور اس کے شر سے محفوظ رہا جاتا ہو، جبکہ تم میں سے برا شخص وہ ہے جس سے بھلائی کی امید نہ کی جاتی ہو اور اس کے شر سے کوئی بےخوف نہ ہو۔ رواہ احمد بن حنبل والترمذی وقال حسن صحیح وابن حبان عن ابوہریرہ
44076- ألا أخبركم بخيركم من شركم! خيركم من يرجى خيره ويؤمن شره، وشركم من لا يرجى خيره ولا يؤمن شره. "حم، ت: حسن صحيح، حب - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز بھلائی اور برائی والے ممتاز ہوں گے
44077 کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کے متعلق خبر نہ دوں جس کا حکم نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو دیا تھا، چنانچہ نوع (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹے ! میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چیزوں سے روکتا ہوں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم کہو : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اگر آسمانوں اور زمین کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں اس کلمہ کو رکھ دیا جائے تو کلمے والا پلڑا جھک جائے گا، اے بیٹے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم کہو : سبحان اللہ وبحمدہ چونکہ یہ کلمات مخلوق کی نماز ہے، مخلوق کی تسبیح ہے اور انہی کے ذریعے مخلوق کو رزق عطا کیا جاتا ہے ، اے بیٹے میں تمہیں شرک سے منع کرتا ہوں چونکہ جو شخص شرک کا مرتکب ہوتا ہے اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبرہو اس پر جنت حرام کردی جاتی ہے۔ حضرت معاذ ابن جبل (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ چیز بھی تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے پاس سواری ہو وہ اس پر سوار ہوتا ہے وہ جوتے اور کپڑے پہنے ہوئے ہو اور اس کے ساتھی اس کے پاس کھانا لاتے ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ تکبر نہیں ہے، لیکن تکبر یہ ہے کہ تم حق کو چھوڑ دو اور مومن کو حقیر سمجھو، میں تمہیں چند ایسی عادات بتاؤں گا جس میں یہ ہوں گے وہ متکبر نہیں ہوسکتا۔ (وہ یہ ہیں) بکریاں پالنا، گدھے پر سواری کرنا، اون کے کپڑے پہننا، فقراء مومنین کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر کھانا کھانا۔ رواہ عبدبن حمید وابن عساکر عن جابر وابویعلیٰ والبیہقی وابن عساکر عن ابن عمرو
44077- ألا أخبركم بشيء أمر به نوح ابنه! إن نوحا قال لابنه: يا بني! آمرك بأمرين وأنهاك عن أمرين: آمرك أن تقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيي ويميت، وهو على كل شيء قدير، فإن السماوات والأرض لو جعلتا في كفة وجعلت في كفة وزنتهما، ولو جعلتا حلقة قصمتها، وآمرك يا بني أن تقول: سبحان الله وبحمده، فإنها صلاة الخلق وتسبيح الخلق وبها يرزق الخلق؛ وأنهاك يا بني عن الشرك، فإنه من أشرك بالله حرم عليه الجنة وفي قلبه مثقال حبة من خردل من كبر، فقال معاذ بن جبل: يا رسول الله! أمن الكبر أن يكون لأحدنا دابة يركبها، والنعلان يلبسهما، والثياب يلبسها، والطعام يجمع عليه أصحابه؟ قال: لا، ولكن الكبر أن تسفه 1 الحق وتغمص 2 المؤمن وسأنبئك بخلال من كن فيه فليس بمتكبر: اعتقال الشاة، وركوب الحمار، ولبوس الصوف، ومجالسة فقراء المؤمنين وأن يأكل أحدكم مع عياله. "عبد بن حميد، وابن عساكر - عن جابر؛ ع، ق، وابن عساكر - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز بھلائی اور برائی والے ممتاز ہوں گے
44078 حضرت نوح (علیہ السلام) نے بوقت وفات اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اور میری وصیت پر ڈٹ جاؤ، میں تمہیں دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں، میں تمہیں لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین (ترازو کے) ایک پلڑے میں رکھ دے جائیں اور دوسرے پلڑے میں یہ کلمہ رکھ دیا جائے تو کلمے والا پلڑا جھک جائے گا۔ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک حلقے کی مانند ہوجائیں یہ کلمہ انھیں اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے میں تمہیں سبحان اللہ وبحمدہ کی وصیت کرتا ہوں چونکہ یہ کلمات مخلوق کی نماز ہے اور انھیں کے ذریعے مخلوق کو رزق عطا کیا جاتا ہے میں تمہیں کفر اور تکبر سے منع کرتا ہوں، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! تکبر کیا ہے چنانچہ کسی آدمی کے پاس جوڑا ہو جسے وہ پہنتا ہو اور خوبصورت گھوڑا ہو جس پر وہ سواری کرتا ہو کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ تکبر یہ ہے کہ تم حق سے روگردانی کرجاؤ اور لوگوں کو کمتر سمجھتے لگو۔ رواہ احمد بن حنبل والطبرانی والحاکم عن ابن عمرو
44078- إن نبي الله نوحا لما حضرته الوفاة قال لابنه: يا بني! إني موصيك فقاصر على الوصية، آمرك باثنتين وأنهاك عن اثنتين: آمرك بلا إله إلا الله، فلو أن السماوات السبع والأرضين السبع وضعن في كفة ولا إله إلا الله في كفة لرجحت بهن، ولو أن السماوات السبع والأرضين السبع كانت حلقة مبهمة قصمهن لا إله إلا الله، وأوصيك بسبحان الله وبحمده، فإنها صلاة الخلق وبها يرزق الخلق؛ وأنهاك عن الكفر والكبر، قيل: يا رسول الله! ما الكبر؟ أهو أن يكون للرجل حلة يلبسها، وفرس جميل يعجبه جماله؟ قال: لا، الكبر أن تسفه الحق وتغمص الناس. "حم، طب، ك - عن ابن عمر".
তাহকীক: