কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪১৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44138 اے ابوسفیان تم ایسے ہی جیسا ک کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ نیل گائے کے پیٹ میں ہر طرح کا شکار موجود ہوتا ہے۔ رواہ الدیلمی عن بصیر بن عاصم اللیثی عن ابیہ
44139- يا خولة! لا تصبر على حر ولا تصبر على برد. "هب - عن خولة بنت قيس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44139 اے خولہ ! گرمی پر صبر مت کرو اور صرف سردی ہی پر صبر مت کرو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن خولۃ بنت قیس
44140- يا خولة! لا تصبر على حر ولا برد، يا خولة! إن الله أعطاني الكوثر وهو نهر في الجنة، وما خلق أحب إلى ممن يرده من قومك، يا خولة! رب متخوض في مال الله ومال رسوله فيما اشتهت نفسه له النار يوم القيامة. "طب - عن خولة بنت قيس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44140 اے خولہ صرف گرمی اور سردی پر صبر مت کرو، اے خولہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کوثر عطا فرمائی ہے وہ جنت میں ایک نہر ہے اور تیری قوم میں سے جو لوگ اس نہر پر وارد ہوں گے مخلوق میں ان سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہیں ہے۔ اے خولہ ! اللہ اور اللہ کے رسول کے مال میں بہت سے لوگ گھسنے والے ہیں قیامت کے دن آگ ان کی سب سے زیادہ خواہشمند ہوگی۔ رواہ الطبرانی عن خولۃ بنت قیس۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تبییض الصحیفہ 50 ۔
44141- يبصر أحدكم القذى في عين أخيه وينسى الجذع - أو قال: الجذل - في عينه. "ابن المبارك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44142 جس کا غم بڑھ جاتا ہے اس کا بدن بیمار پڑجاتا ہے، جس کے اخلاق برئے ہوجائیں اس کے نفس کو عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ جو مردوں سے جھگڑتا ہے اس کی مروت ساقط ہوجاتی ہے اور اس کی کرامت جاتی رہتی ہے۔ رواہ ابوالحسن ابن معروف فی فضائل بنی ہاشم وابن عملیق فی جزہ والخطیب فی المتفق والمفترق عن علی وفیہ بشر بن عاصم عن حفص بن عمر قال الخطیب کلاھما محھولان ۔۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان 1918، 2010 وکشف الخفائ 2589 ۔
44142- من كثر همه سقم بدنه، ومن ساء خلقه عذب نفسه، ومن لاحى 1 الرجال سقطت مروءته وذهبت كرامته. "أبو الحسن ابن معروف في فضائل بني هاشم، وابن عمليق في جزئه، خط في المتفق والمفترق - عن علي، وفيه بشر بن عاصم عن حفص ابن عمر، قال خط: كلاهما مجهولان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44143 قرابتدار وہ ہے جسے محبت قریب کردے گو کہ اس کا نسب بعید ہو۔ دوری والا وہ ہے جسے بغض و عداوت دور کردے گو کہ اس کا نسب قریب کا کیوں نہ ہو، ہاتھ جہنم کے زیادہ قریب ہے، بلاشبہ ہاتھ جب دھوکا کرتا ہے کاٹ دیا جاتا اور جب کاٹ دیا جاتا ہے تو پھر داغا جاتا ہے۔ رواہ ابونعیم والدیلمی عن جعفر بن محمد عن ابیہ معضلا وابن النجار عنہ عن علی بن الحسین عن الحسین عن علی بن ابی طالب موصولا۔
44143- القريب من قربته المودة وإن بعد نسبه، والبعيد من باعدته البغضاء وإن قرب نسبه، ولا شيء أقرب من يد إلى جسد، وإن اليد إذا غلت قطعت وإذا قطعت حسمت. "أبو نعيم، والديلمي - عن جعفر بن محمد عن أبيه معضلا، ابن النجار - عنه عن علي بن الحسين عن الحسين عن علي بن أبي طالب موصولا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44144 موت غنیمت ہے، معصیت مصیبت ہے، محتاجی راحت ہے، مالداری عقوبت ہے، عقلمندی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدیہ ہے، جہالت گمراہی ہے، ظلم ندامت ہے، طاعت آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اللہ کے خوف سے رونا دوزخ سے نجات ہے ہنسی بدن کی ہلاکت ہے، گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ ہی نہیں کیا۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان وضعفہ والدیلمی عن عائشۃ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تبییض الصحیفہ 19 ۔
44144- الموت غنيمة والمعصية مصيبة، والفقر راحة والغنى عقوبة والعقل هدية من الله والجهل ضلالة، والظلم ندامة والطاعة قرة العين، والبكاء من خشية الله النجاة من النار والضحك هلاك البدن والتائب من الذنب كمن لا ذنب له. "هب وضعفه، والديلمي - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44145 اگر میں ان لوگوں کے پاس کہلا بھیجوں کہ وہ حجون پہاڑ پر نہ آئیں ان میں سے بعض ضرور اس پر آجائیں گے گو کہ انھیں کوئی حاجت نہ ہو۔ رواہ الطبرانی عن عبدۃ السوانی
44145- لو بعثت إليهم فنهيتهم أن يأتوا الحجون لأتاه بعضهم وإن لم يكن له به حاجة. "طب - عن عبدة السوائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی اور جہالت
44146 اگر میں لوگوں کو منع کروں کہ وہ حجون پہاڑ پر نہ آئیں تو ضرور اس پر آئیں گے گو کہ انھیں کوئی کام نہ ہو۔ رواہ ابونعیم عن عبدۃ بن حزن
44146- لو نهيت رجالا أن يأتوا الحجون 1 لأتوها وما لهم بها حاجة. "أبو نعيم - عن عبدة بن حزن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44147 بیشک تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میں اسی کی حمد کرتا ہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں، ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب سب سے بہتر بات ہے، وہ آدمی کامیاب ہوا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کو مزین کردے اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل کرے اور اس کی بات کو لوگوں کی بات پر ترجیح دے، بلاشبہ کتاب اللہ سب سے بہترین اور بلیغ بات ہے، جسے اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہو اسے تم بھی محبوب رکھو، اپنے پورے دلوں سے اللہ تعالیٰ کو محبوب رکھو، اللہ تعالیٰ کے ۔ کلام اور اس کے ذکر سے اکتاؤ نہیں، اپنے دلوں کو پتھر مت بناؤ، سو اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین عمل اور بہترین بات قرار دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے لوگوں کو حرام و حلال سے آگاہ کیا، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور اس سے اس طرح ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم جو کچھ اپنے مونہوں سے بات کہتے ہو اس کی بھلی بات کو اللہ کے ہاں سچ سمجھو، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپس میں محبت کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو اس پر غصہ آتا ہے کہ اس کا وعدہ توڑا جائے والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ رواہ ھناد عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن ابن عوف مرسلاً
44147- إن الحمد لله، أحمده وأستعينه، نعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له؛ إن أحسن الحديث كتاب الله قد أفلح من زينه الله في قلبه وأدخله في الإسلام بعد الكفر، واختاره على ما سواه من أحاديث الناس إنه أحسن الحديث وأبلغه، أحبوا من أحب الله، أحبوا الله من كل قلوبكم، ولا تملوا كلام الله وذكره، ولا يقسى قلوبكم، فقد سماه الله خيرته من الأعمال والصالح من الحديث وعلى كل ما آوى 1 الناس من الحلال والحرام، فاعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا. واتقوه حق تقاته. واصدقوا الله صالح ما تقولون بأفواهكم، وتحابوا بروح الله عز وجل بينكم، إن الله يغضب أن ينكث عبده والسلام عليكم ورحمة الله. "هناد - عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ابن عوف مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44148 تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس نے جو چاہا کردیا اور جو چاہے گا کرے گا اور بیشک بیان میں جادو ہوتا ہے۔ رواہ احمد والطبرانی عن معن بن یزید
44148- إن الحمد لله، ما شاء جعل بين يديه وما شاء جعل خلفه، وإن من البيان سحرا. "حم، طب - عن معن بن يزيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44149 حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے خطاب کیا حتیٰ کہ پردہ نشین عورتوں نے بھی اس کی سماعت کی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بآواز بلند فرمایا : اے زبان سے ایمان لانے والوں کی جماعت ! جن کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا، مسلمانوں کی غیبت مت کرو، ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے مت ہو، بلاشبہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ بات کی کھوج میں لگے گا اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ بات کی کھوج کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کی پوشیدہ بات کے درپے ہوجاتا ہے اللہ اسے گھر کے بیچ میں رسوا کردیتا ہے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44149- عن البراء بن عازب قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أسمع العواتق في الخدور ينادي بأعلى صوته: يا معشر من آمن بلسانه ولم يخلص الإيمان إلى قلبه! لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم، فإن من يتبع عورة أخيه المسلم يتبع الله عورته، ومن يتبع الله عورته يفضحه في جوف بيته. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44150 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے صحابہ (رض) کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گویا کہ موت ہمارے غیر پر لکھی گئی ہے، گویا کہ حق ہمارے غیر پر واجب ہوا ہے، گویا کہ اموات سے باخبر نے اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹنا انھیں قبروں میں چھوڑ چکے ہو، ان کی میراث کھائے جارہے ہو، گویا کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے، ہم ہر طرح کے وعظ کو بھلا چکے ہیں، ہر قسم کے حادثہ سے بےخوف ہیں، خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جسے اس کا عیب لوگوں کے عیوب سے مشغول کردے، بشارت ہے اس کے لیے جس کا کسب پاکیزہ ہو، اور اس کا اندرونی حال اچھا، اس کا ظاہر عمدہ ہو، اس کی چال چلن سیدھی ہو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرنے والے کے لیے بشارت ہے اور اس میں کمی نہیں ہوگی اور وہ اپنا مال بہت خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں خرچ نہیں کرتا، اور وہ اہل فقہ اور اہل حکمت کے ساتھ مل بیٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ متواضعین اور مسکینوں پر رحم فرمائے، بشارت ہے اس شخص کے لیے جو اپنا فالتو مال خرچ کردے اور فضول بات کرنے سے رک جائے، سنت پر عمل کرے اور بدعت کی طرف مائل نہ ہو، اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نیچے اتر آئے۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ
44150- عن علي رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا على أصحابه فقال: يا أيها الناس! كأن الموت على غيرنا فيها كتب، وكأن الحق على غيرنا وجب، وكأن الذي يشيع من الأموات سفر عما قليل إلينا راجعون، نأويهم أجداثهم وتأكل تراثهم كانا مخلدون، قد نسينا كل واعظة وأمنا كل جائحة، طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس! طوبى لمن طاب كسبه، وصلحت سريرته، وحسنت علانيته، واستقامت طريقته! طوبى لمن تواضع لله من غير منقصة، وأنفق مالا جمعه في غير معصية، وخالط أهل الفقه والحكمة، ورحم الله أهل الذل والمسكنة! طوبى لمن أنفق الفضل من ماله، وأمسك الفضل من قوله، ووسعته السنة ولم يعد عنها إلى بدعة، ثم نزل. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44151” مسند حرملہ بن عبداللہ عنبری “ حیان بن عاصم کے دادا حرملہ ابو امامہ تھے انھیں ان کی دو دادیوں صفیہ بنت علبیہ اور دحیبیہ بن علیبہ نے حدیث سنائی کہ حرملہ بن عبداللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، حرملہ کہتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اپنے علم میں کچھ اضافہ کرلوں، چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوگیا پھر میں نے عرض کیا، یارسول اللہ آپ مجھے کس چیز کا حکم دیتے ہیں جو میں بجا لاؤں ؟ ارشاد فرمایا : اے حرملہ ! اچھا عمل کرو اور بری بات سے بچو، پھر میں چل پڑا اور اپنی اونٹنی کے پاس آگیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا لگ بھگ پہلی جگہ یا اس کے قریب کھڑا ہوگیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : اے حرملہ ! اچھا عمل کرو اور برائی سے بچتے رہو، میں چل پڑا حتیٰ کہ اپنی اونٹنی کے پاس آگیا، میں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا اور لگ بھگ پہلی جگہ یا اس کے قریب قریب کھڑا ہوگیا، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : اے حرملہ ! اچھا عمل کرو اور برائی سے بچتے رہو اور دیکھو کہ جب تمہارے کان ایسی بات سنیں جسے لوگ بھلائی کہتے ہیں جب تم ان کے پاس سے اٹھو تو اس بات کو بجا لاؤ اور دیکھو جس بات کو لوگ تمہارے لیے بری کہتے ہوں اور جب تم ان کے پاس سے اٹھو تو اس سے بچ جاؤ۔ حرملہ کہتے ہیں جب میں ان کے پاس سے اٹھا میں نے دیکھا کہ یہ دو حکم ہیں جنہیں ترک نہیں کیا جارہا یعنی بھلائی کا بجا لانا اور برائی سے اجتناب کرنا۔ رواہ ابن النجار
44151- "مسند حرملة بن عبد الله العنبري" عن حيان ابن عاصم - وكان جده حرملة أبو أمه - حدثتاه جدتاه صفية ودحية ابنتا عليبة أن حرملة بن عبد الله أخبرهم أنه خرج حتى أتي النبي صلى الله عليه وسلم - وكان عنده حتى عرفة - فقال حرملة: ارتحلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزداد من العلم، فجئت حتى قمت بين يديه ثم قلت يا رسول الله! ما تأمرني أن أعمل به؟ قال يا حرملة! ائت المعروف واجتنب المنكر، فذهبت حتى أتيت راحلتي، ثم رجعت فقمت بين يديه في مقامي أو قريبا منه فقلت: يا رسول الله! ما تأمرني؟ قال يا حرملة! ائت المعروف واجتنب المنكر، وانظر الذي سمعت أذنك يقوله القوم من الخير إذا قمت من عندهم فأته، وانظر الذي تكره أن يقوله القوم لك إذا قمت من عندهم فاجتنبه، قال حرملة: فلما قمت من عنده نظرت فإذا هما أمران لم يتركا شيئا: إتيان المعروف واجتناب المنكر. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44152” ایضاً “ ضرغامہ بن علیبہ بن حرملہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ میں قبیلے کے چند لوگوں کے ہمراہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، نماز کے بعد میں اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف دیکھنے لگا میں اسے تاریکی کی وجہ سے پہچان نہیں سکتا تھا، جب میں نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کیجئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جب کسی مجلس میں ہو اور لوگوں کو کسی پسندیدہ بات کے متعلق کہتے ہوئے سنو تو اسے بجا لاؤ اور اگر انھیں کسی بات کے متعلق ناپسند کہتے ہوئے سنو تو اس سے گریز کرو۔ رواہ الطبرانی و ابونعیم
44152- "أيضا" عن ضرغامة بن عليبة بن حرملة حدثني أبي عن أبيه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم في ركب من الحي، فصلى بنا صلاة الصبح فجعلت انظر الذي بجنبي فما أكاد أعرفه من الغلس، فلما أردت الرجوع قلت: أوصني يا رسول الله! قال: اتق الله، وإذا كنت في مجلس فقمت عنه فسمتعهم يقولون ما يعجبك فأنه، وإذا سمعتهم يقولون ما تكره فلا تأته. "ط، وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44153” مسند ابی دویحہ خالد بن رباح “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن حضرت بلال (رض) کے بھائی خالد بن رباح (رض) کہتے ہیں : لوگوں کی تین قسمیں ہیں۔ سالم، غام، اور شاجب ، چنانچہ سالم وہ ہے جو خاموش رہتا ہو ، غانم وہ ہے جو نیکی کا حکم دیتا ہو اور برائی سے روکتا ہو اور شاجب وہ ہے جو بیہودہ گو ہو اور ظلم کی مدد کرتا ہو۔ رواہ ابن عساکر
44153- "مسند أبي دويحة خالد بن رباح" عن خالد بن رباح أخي بلال مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الناس ثلاثة: سالم، وغانم، وشاجب، فالسالم الساكت، والغانم الذي يأمر بالخير وينهى عن المنكر، والشاجب الناطق بالخنى والمعين على الظلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب المواعظ والرقائق والخطبات والحکم۔۔۔ازقسم افعال فصل۔۔۔مواعظ اور خطبات کے بیان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبات اور مواعظ
44154 شیخ جلال الدین سیوطی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے شیخ شمس الدین بن قماح کے مجموعہ میں انہی کا لکھا ہوا پایا ہے کہ ابو العباس مستغفری کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے طلب علم کے ارادہ سے مصر کا قصد کیا تاکہ وہاں امام ابوحامد مصری سے علمی استفادہ کروں اور ان سے حضرت خالد بن والید (رض) کی حدیث سنوں، چنانچہ آپ (رح) نے مجھے ایک سال روزے رکھنے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد میں ان کے پاس واپس لوٹا چنانچہ آپ نے خالد بن ولید (رض) تک اپنے مختلف مشائخ کی سند حدیث سنائی کہ حضرت خالد بن ولید (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا : میں آپ سے دنیا اور آخرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ فرمایا : جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو پوچھو، وہ آدمی بولا میں لوگوں سے سب سے زیادہ صاحب علم بننا چاہتا ہوں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب علم ہوجاؤ گے، اس نے عرض کیا : میں لوگوں میں سب سے زیادہ مالدار بننا چاہتا ہوں فرمایا : قناعت اختیار کرو لوگوں سے سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے۔ عرض کیا، میں لوگوں میں سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں، حکم ہوا، لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچاتا ہو لہٰذا تم لوگوں کو نفع پہنچانے والے بن جاؤ، عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ لوگوں میں سب سے زیاہ عدل کرنے والا بن جاؤں، حکم ہوا کہ لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، عرض کیا میں اللہ تعالیٰ کا خاص الخاص بندہ بننا چاہتا ہوں، فرمایا : اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جاؤ گے۔ عرض کیا میں محسنین میں سے ہونا چاہتا ہوں، حکم ہوا : اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادل کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو گو کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے لیکن وہ تو تمہیں دیکھتا ہے۔ عرض کیا میں چاہتا ہوں کہ میرا ایمان مکمل ہوجائے، حکم ہوا : اپنے اندر اخلاق حسنہ پیدا کرو ایمان مکمل ہوجائے گا۔ عرض کیا، میں اللہ تعالیٰ کے فرمان برداروں میں سے ہونا چاہتا ہوں، حکم ہوا اللہ تعالیٰ کے فرائض ادا کرو اس کے فرمان بردار بن جاؤ گے، عرض کیا : میں گناہوں سے پاک وصاف ہو کر اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہوں۔ حکم ہوا پاک ہونے کے لیے جنابت سے غسل کیا کرو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے کہ تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوگا، عرض کیا، میں چاہتا ہوں کہ قیامت کے دن نور میں میرا حشر کیا جائے، حکم ہوا، ظلم مت کرو قیامت کے دن نور میں جمع کیے جاؤ گے ، عرض کیا، میں چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھ پر رحم کرے، حکم ہوا، تم اپنے اوپر رحم کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ لوگوں میں زیادہ عزت و اکرام والا ہوں، حکم ہوا مخلوق سے اللہ تعالیٰ کی شکایت مت کرو لوگوں میں عزت والے ہوجاؤ گے۔ عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ میرے رزق میں وسعت پیدا ہو، فرمایا کہ طہارت پر ہمیشگی کرو تمہارے رزق میں وسعت کردی جائے گی۔ عرض کیا، میں اللہ اور اس کے رسول کا محبوب بننا چاہتا ہوں، حکم ہوا جس چیز کو اللہ اور اللہ کا رسول محبوب رکھتا ہو اسے تم بھی محبوب رکھو اور جسے اللہ اور اللہ کا رسول مبغوض سمجھتے ہوں اسے تم بھی مبغوض سمجھو ۔ عرض کیا میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے غصہ سے محفوظ ہوجاؤں، فرمایا : کسی پر غصہ مت کرو اللہ تعالیٰ کے غصہ سے محفوظ ہوجاؤ گے ، عرض کیا میں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول کی جائے، فرمایا : حرام سے بچو تمہاری دعا قبول کی جائے گی، عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے سرعام رسوانہ کرے ، فرمایا : اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو اللہ تعالیٰ تمہیں سرعام رسوا نہیں کرے گا عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے عیوب پر پردہ کرے، حکم ہوا : تم اپنے بھائیوں کے عیوب پر پردہ کرو اللہ تعالیٰ تمہیں سرعام رسوا نہیں کرے گا عرض کیا : کونسی چیز خطاؤں کو مٹا دیتی ہے، حکم ہوا آنسو، خضوع اور امراض، عرض کیا : کونسی نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں افضل ہے فرمایا : حسن اخلاق، تواضع، آزمائش کے وقت صبر اور رضا بالقضاء ، عرض کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی برائی کونسی ہے۔ حکم ہوا بدخلقی اور بخل ، عرض کیا : کونسی چیز اللہ تعالیٰ کے غصہ کو مٹاتی ہے فرمایا : صدقہ پوشیدہ کرو اور صلہ رحمی کرو ، عرض کیا کونسی چیز دوزخ کی آگ کو بجھاتی ہے۔ حکم ہوا روزہ دوزخ کی آگ کو بجھاتا ہے۔
44154- قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وجدت بخط الشيخ شمس الدين بن القماح في مجموع له عن أبي العباس المستغفري قال: قصدت مصر أريد طلب العلم من الإمام أبي حامد المصري والتمست منه حديث خالد بن الوليد فأمرني بصوم سنة، ثم عاودته في ذلك فأخبرني باسناده عن مشايخه إلى خالد بن الوليد قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني سائلك عما في الدنيا والآخرة، فقال له: سل عما بدا لك، قال: يا نبي الله! أحب أن أكون أعلم الناس، قال: اتق الله تكن أعلم الناس، فقال: أحب أن أكون أغنى الناس، قال: كن قنعا تكن أغنى الناس، قال: أحب أن أكون خير الناس، فقال: خير الناس من ينفع الناس فكن نافعا لهم، فقال: أحب أن أكون أعدل الناس، قال: أحب للناس ما تحب لنفسك تكن أعدل الناس، قال: أحب أن أكون أخص الناس إلى الله تعالى، قال: أكثر ذكر الله تكن أخص العباد إلى الله تعالى، قال: أحب أن أكون من المحسنين، قال: اعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك، قال: أحب أن يكمل إيماني، قال: حسن خلقك يكمل إيمانك، فقال: أحب أن أكون من المطيعين، قال: أد فرائض الله تكن مطيعا، فقال: أحب أن ألقى الله نقيا من الذنوب، قال اغتسل من الجنابة متطهرا تلقى الله يوم القيامة وما عليك ذنب، قال: أحب أن أحشر يوم القيامة في النور، قال: لا تظلم أحدا تحشر يوم القيامة في النور، قال: أحب أن يرحمني ربي، قال: ارحم نفسك وارحم خلق الله يرحمك الله، قال: أحب أن تقل ذنوبي، قال: استغفر الله تقل ذنوبك، قال: أحب أن أكون أكرم الناس، قال: لا تشكون الله إلى الخلق تكن أكرم الناس، فقال: أحب أن يوسع علي في الرزق، قال: دم على الطهارة يوسع عليك في الرزق، قال: أحب أن أكون من أحباء الله ورسوله، قال: أحب ما أحب الله ورسوله وأبغض ما أبغض الله ورسوله، قال: أحب أن أكون آمنا من سخط الله، قال: لا تغضب على أحد تأمن من غضب الله وسخطه، قال: أحب أن تستجاب دعوتي، قال: اجتنب الحرام تستجب دعوتك، قال: أحب لا يفضحني الله على رؤس الأشهاد، قال: احفظ فرجك كيلا تفتضح على رؤس الأشهاد، قال: أحب أن يستر الله على عيوبي، قال: استر عيوب إخوانك يستر الله عليك عيوبك، قال: ما الذي يمحو عني الخطايا، قال: الدموع والخضوع والأمراض، قال: أي حسنة أفضل عند الله، قال: حسن الخلق والتواضع والصبر على البلية والرضاء بالقضاء، قال: أي سيئة أعظم عند الله، قال: سوء الخلق والشح المطاع، قال: ما الذي يسكن غضب الرحمن؟ قال: إخفاء الصدقة وصلة الرحم، قال: ما الذي يطفئ نار جهنم؟ قال: الصوم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی بات سننے سے بچو جس سے معذرت کرنی پڑے
44155 حضرت ابوایوب (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے نصیحت کریں اور مختصر کریں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نماز پڑھو تو رخصت کیے ہوئے شخص کی سی نماز پڑھو (جو کہ اس کی آخری نماز ہوتی ہے) ایسی بات سے بچو جس سے تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس موجود اشیاء سے مایوس ہوجاؤ ۔ رواہ الحاکم
44155- عن أبي أيوب أن رجلا قال: يا رسول الله! عظني وأوجز، قال: إذا كنت في صلاتك فصل صلاة مودع، وإياك وما يعتذر منه! واجمع اليأس مما في أيدي الناس. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی بات سننے سے بچو جس سے معذرت کرنی پڑے
44156 سعد انصاری، اسماعیل بن محمد انصاری کے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے مختصر نصیحت کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کے پاس موجود اشیاء سے مایوسی اپنے اوپر لازم کرلو، طمع سے بچتے رہو، چونکہ طمع ہر وقت موجود رہنے والا فقر وفاقہ ہے۔ رخصت کیے ہوئے آدمی کی سی نماز پڑھو، ایسی بات مت کرو جس سے تمہیں معذرت کرنی پڑے۔ رواہ الدیلمی
44156- عن سعد الأنصاري عن إسماعيل بن محمد الأنصاري عن أبيه عن جده أن رجلا من الأنصار قال: يا رسول الله! أوصني وأوجز، قال: عليك باليأس مما في أيدي الناس، وإياك والطمع! فإنه الفقر الحاضر، وصل صلاتك وأنت مودع، وإياك وما يعتذر منه. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسی بات سننے سے بچو جس سے معذرت کرنی پڑے
44157” مسندابی ذر “ اے ابوذر ! کیا میں تمہیں وصیتیں نہ کروں، اگر تم ان کی حفاظت کرو گے اللہ تمہیں نفع پہنچائے گا۔ قبروں کی زیارت کرو چونکہ وہ تمہیں آخرت یاد دلائیں گی۔ قبروں کی دن کو زیارت کرو رات کو نہیں۔ مردوں کو غسل دو چونکہ بدن کے معالجہ کے لیے اس میں ایک نصیحت ہے، جنازے کے ساتھ چلا کرو چونکہ یہ دلوں میں حرکت پیدا کرتا ہے اور انھیں غمزدہ بھی کرتا ہے اور جان لو کہ اہل حزن اللہ تعالیٰ کے امن میں ہوتے ہیں۔ مبتلائے آزمائش ، مساکین اور اپنے خادم کے پاس بیٹھا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن بلندی عطا فرمائے، کھردرے اور موٹے کپڑے پہنا کرو اللہ کے حضور تواضع کے لیے تاکہ تم میں فخر وتکبر جنم نہ لے سکے، پاکدامنی اور تکرم کی خاطر کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے غنا میں مزین بھی ہو، انشاء اللہ یہ تمہارے لیے باعث ضرر نہیں ہوگا کیا بعید اس سے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ اے ابوذر ! شرم گاہ حلال نہیں ہوتی مگر دو صورتوں میں، نکاح جو ولی اور دو گواہوں کی موجودگی میں کیا جائے یا آدمی کسی لونڈی کا مالک ہوجائے، اس کے علاوہ ہر صورت زنا ہوگا، اے ابوذر ! تین صورتوں کے علاوہ قتل کرنا جائز نہ ہیں ہے، جان کے بدلہ میں جان ، شادی شدہ زانی، اسلام سے برگشتہ ہوجانے والا اگر توبہ کرکے اسلام پر آجائے تو صحیح ورنہ قتل کیا جائے۔ ہر وہ مال جو تمہیں چار ذرائع سے ہٹ کر کسی اور طرح سے حاصل ہو وہ حرام ہے۔ وہ مال جو تمہیں بزدر تلوار ملایا باہمی رضا مندی کی تجارت سے حاصل ہو یا تمہیں کوئی مسلمان بھائی دلی رضامندی سے تمہیں دے دے یا کتاب تمہیں وراثت میں دے دے۔ رواہ ابن عساکر
44157- "مسند أبي ذر" يا أبا ذر! ألا أوصيك بوصايا إن أنت حفظتها نفعك الله بها: جاور القبور تذكر بها وعيد الآخرة، وزرها بالنهار ولا تزرها بالليل، واغسل الموتى فإن في معالجة جسد خاو عظة، واتبع الجنائز فإن ذلك يحرك القلب ويحزنه واعلم أن أهل الحزن في أمن الله، وجالس أهل البلاء والمساكين وكل معهم ومع خادمك لعل الله يرفعك يوم القيامة، والبس الخشن والصفيق من الثياب تذللا لله عز وجل وتواضعا لعل الفخر والعز لا يجدان فيك مساغا، وتزين أحيانا في غنى الله بزينة حسنة تعففا وتكرما، فإن ذلك لا يضرك إن شاء الله، وعسى أن تحدث لله شكرا، يا أبا ذر! إنه لا يحل فرج إلا من وجهين: نكاح المسلمين بولى وشاهدي عدل، أو فرج تملك رقبته، وما سوى ذلك زنى، يا أبا ذر! إنه لا يحل قتل نفس إلا باحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمرتد عن دينه في الإسلام يستتاب فإن تاب وإلا قتل، يا أبا ذر! وكل مال أصبته في غير أربع وجوه فهو حرام: ما أصبت بسيفك، أو تجارة عن تراض، أو ما طابت به نفس أخيك المسلم، وما ورث الكتاب. "ابن عساكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طویل قیام والی نماز سب سے افضل ہے
44158 حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں داخل ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تنہا بیٹھے ہوئے ہیں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ گیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوذر بلاشبہ مسجد کے آداب ہیں ایک ادب دو رکعتیں پڑھنا بھی ہے لہٰذا کھڑے ہوجاؤ اور دو رکعتیں پڑھو۔ میں کھڑا ہوا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر عرض کیا ، یارسول اللہ آپ نے مجھے نماز کا حکم دیا ہے نماز کیا ہے۔ ارشاد فرمایا : نماز بہتر موضوع ہے جو چاہے کم کرے اور جو چاہے زیادہ کرے، میں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے ہاں کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے ؟ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا، کامل مومن کون ہے ؟ فرمایا : جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ میں نے عرض کیا کون مسلمان سب سے زیادہ محفوظ ہے ؟ فرمایا : جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں، عرض کیا : کونسی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا : جو گناہوں سے ہجرت کرے، عرض کیا : کونسی رات افضل ہے ؟ فرمایا : نصف رات کا بقیہ حصہ عرض کیا کونسی نماز افضل ہے ؟ فرمایا : جس میں قیام طویل ہو میں نے عرض کیا : روزہ کیا ہے ؟ فرمایا : فرض جس کا اللہ کے ہاں کئی گنا ثواب ہے۔ میں نے عرض کیا : کونسا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا : جس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں اور اس کے (مالک کا) خون بہادیا جائے ، عرض کیا : کونسی گردن افضل ہے ؟ فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور مالکوں کے نزدیک عمدہ ہو، عرض کیا : کونسا صدقہ افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا : بھوکے کی بھوک کو دور کرنا، میں نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے آپ پر افضل ترین آیت کونسی نازل کی ہے ؟ فرمایا : آیت الکرسی پھر ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! سات آسمانوں کی مثال کرسی کے ساتھ ایسی ہے جیسے کہ ایک حلقہ ہو کھلے میدان میں پڑا ہو، عرش کو کرسی پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی کھلے میدان کو حلقے پر ، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کتنے انبیاء ہوئے ہیں : فرمایا : ایک لاکھ بیس ہزار، میں نے عرض کیا : ان میں رسول کتنے ہیں ہیں ؟ فرمایا : تین سو تیرا ایک بڑی جماعت۔ میں نے عرض کیا : ان میں سے پہلا کون ہے ؟ فرمایا : آدم (علیہ السلام) ۔ میں نے عرض کیا، کیا یہ بھی نبی مرسل تھے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے ہاتھ سے بنایا پھر ان میں اپنی روح پھونکی اور پھر ان سے ۔ کلام کیا۔ پھر فرمایا : اے ابوذر ! چار انبیاء سریانی ہیں۔ آدم، شیث ، خنوخ (وہ ادریس (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا ) اور نوح (علیہ السلام) ۔ چار انبیاء عرب میں سے ہوئے ہیں ھود، صالح، شعیب اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ابوذر ! پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آخری نبی محمد ہیں۔ بنی اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور ان کے آخری نبی عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جبکہ ان کے درمیان ایک ہزار انبیاء ہیں۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل کی ہیں ؟ فرمایا : ایک سو چار کتابیں۔ شیث (علیہ السلام) پر پچاس صحیفے نازل کیے، خنوخ (علیہ السلام) پر تین صحیفے نازل کیے، ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل کیے، موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے نازل کیے، اور اللہ تعالیٰ نے توراۃ ، انجیل، زبور اور فرقان نازل کیں، میں نے عرض کیا : ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں کیا تھا ؟ فرمایا : وہ سب کی سب امثال تھیں (مثلاً ) اے بادشاہ مسلط کیا ہوا، مغرور اور آزمائشوں میں مبتلا ! میں نے تجھے دنیا جمع کرنے کے لیے نہیں بھیجا، میں نے تجھے تو اس لیے بھیجا تھا تاکہ تو مجھ پر مظلوم کی دعا کو رد کرے بلاشبہ میں اس کی دعا کو رد نہیں کروں گا، گو کہ کافر کی کیوں نہ ہو۔ ان صحیفوں میں امثال تھیں۔ عقلمند پر واجب ہے کہ اس کی تین گھڑیاں ہوں، پہلی گھڑی میں وہ اپنے رب سے مناجات میں مشغول ہوتا ہو، دوسری گھڑی میں وہ اپنے کھانے پینے کی حاجت پوری کرتا ہو۔ ایک گھڑی میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو، ایک ساعت میں وہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری کے متعلق سوچتا ہو، عقلمند کو چاہیے کہ وہ تین چیزوں کے لیے سفر کرے توشہ آخرت کے لیے ، تلاش معاش کے لیے یا حلال چیز کی لذت کے لئے۔ عقلمند پر واجب ہے کہ وہ اپنے زمانے کی بصیرت رکھتا ہو، اپنی شان پر توجہ دیتا ہو، اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہو، جو شخص اپنے عمل سے ۔ کلام کا حساب کرتا ہے اس کا ۔ کلام قلیل ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں کیا تھا ؟ ارشاد فرمایا : ان میں عبرت کی باتیں تھیں۔ (مثلاً ) مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر وہ خوش بھی رہتا ہے۔ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو دوزخ کی آگ کا یقین رکھتا ہے اور پھر ہنستا بھی ہے، مجھے اس پر تعجب ہے جو تقدیر کا یقین رکھتا ہے اور پھر ناصبی بن جاتا ہے، مجھے اس پر تعجب ہے جو دنیا کو دیکھ لیتا ہے اور اسے اپنے اہل خانہ کی طرف پھیر دیتا ہے اور پھر مطمئن بھی ہوجاتا ہے۔ تعجب ہے اس شخص پر جو کل حساب کا یقین رکھتا ہے اور پھر عمل نہیں کرتا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں کچھ آپ پر بھی نازل ہوا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اے ابو ذر پڑھو ” قدافلح من تزکی۔۔۔صحف ابراھیم و موسیٰ “ میں نے عرض کیا : مجھے اور زیادہ وصیت کریں۔ فرمایا : تلاوت قرآن اور ذکر اللہ کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ چونکہ یہ تمہارے لیے زمین پر خور ہوں گے اور آسمانوں میں تمہارا تذکرہ۔ میں نے عرض کیا مجھے اور زیادہ وصیت کریں۔ ارشاد فرمایا : خاموشی کو اپنے اوپر لازم کرلو ہاں البتہ بھلاگی کی بات کرنی ہو، چونکہ خاموشی شیطان کو تم سے دور بھگائے گی اور دین کے معاملہ میں تمہاری مدد کرے گی۔ میں نے عرض کیا اور زیادہ کیجئے : فرمایا : جہاد کو اپنے اوپر لازم کرلو چونکہ جہاد میری امت کی رہبانیت ہے۔ میں نے اور اضافہ کی درخواست کی، ارشاد فرمایا : مسکینوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ بیٹھا کرو۔ میں نے اور زیادتی چاہی۔ فرمایا : اپنے ماتحت کو دیکھو اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھو۔ یوں اس طرح تم نعمت خدائے تعالیٰ کی ناشکری کے مرتکب نہیں ہوگے۔ میں نے اور زیادتی چاہی فرمایا : اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے مت ڈرو، میں نے مزید اضافہ چاہا : فرمایا : حق بات کہو اگرچہ وہ کڑوی کیوں نہ ہو۔ اے ابوذر ! حسن تدبیر کی طرح کوئی عقلمندی نہیں، گناہوں سے رک جانے کی طرح کوئی تقویٰ نہیں ہے، حسن اخلاق کی طرح کوئی خاندانی شرافت نہیں۔ رواہ الحسن بن سفیان وابن حبان و ابونعیم فی الحلیۃ وابن عساکر
44158- عن أبي ذر قال: دخلت المسجد فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وحده فجلست إليه فقال: يا أبا ذر! إن للمسجد تحية، وتحيته ركعتان فقم فاركعهما، قال: فقمت فركعتهما، ثم قلت؛ يا رسول الله! إنك أمرتني بالصلاة، فما الصلاة؟ قال: خير موضوع، فمن شاء أقل ومن شاء أكثر، قلت: يا رسول الله! أي الأعمال أحب إلى الله عز وجل؟ قال: إيمان بالله وجهاد في سبيله، قلت: فأي المؤمنين أكملهم إيمانا؟ قال: أحسنهم خلقا، قلت: فأي المسلمين أسلم، قال: من سلم الناس من لسانه ويده، قلت: فأي الهجرة أفضل؟ قال: من هجر السيئات، قلت: فأي الليل أفضل؟ قال: جوف الليل الغابر، قلت: فأي الصلاة أفضل؟ قال: طول القنوت، قلت: فما الصيام؟ قال: فرض مجزيء وعند الله أضعاف كثيرة، قلت: فأي الجهاد أفضل؟ قال: من عقر جواده وأهريق دمه، قلت: فأي الرقاب أفضل؟ قال: أغلاها ثمنا وأنفسها عند أهلها، قلت: فأي الصدقة أفضل؟ قال: جهد من مقل تسر إلى فقير، قلت: فأي آية ما أنزل الله عليك أفضل؟ قال: آية الكرسي؛ ثم قال: يا أبا ذر! ما السماوات السبع مع الكرسي إلا كحلقة ملقاة بأرض فلاة، وفضل العرش على الكرسي كفضل الفلاة على الحلقة، قلت: يا رسول الله! كم الأنبياء؟ قال: مائة ألف وعشرون ألفا، قلت: كم الرسل من ذلك؟ قال: ثلاثمائة وثلاثة عشر جما غفيرا، قلت: من كان أولهم؟ قال: آدم، قلت: أنبي مرسل؟ قال: نعم، خلقه الله بيديه ونفخ فيه من روحه ثم سواه وكلمه قبلا، ثم قال: يا أبا ذر! أربعة سريانيون: آدم وشيث وخنوخ - وهو إدريس وهو أول من خط بالقلم - ونوح، وأربعة من العرب: هود وصالح وشعيب ونبيك؛ يا أبا ذر! وأول الأنبياء آدم وآخرهم محمد، وأول نبي من أنبياء بني إسرائيل موسى وآخرهم عيسى، وبينهما ألف نبي، قلت: يا رسول الله! كم كتاب أنزل الله؟ قال: مائة كتاب وأربعة كتب، أنزل على شيث خمسون صحيفة وأنزل على خنوخ ثلاثون صحيفة، وأنزل على إبراهيم عشر صحائف، وأنزل على موسى قبل التوراة عشر صحائف، وأنزل التوراة والإنجيل والزبور والفرقان، قلت: فما كانت صحف إبراهيم؟ قال: كانت أمثالا كلها: أيها الملك المسلط المغرور المبتلى! إني لم أبعثك لتجمع الدنيا بعضها على بعض، ولكني بعثتك لترد على دعوة المظلوم فإني لا أردها ولو كانت من كافر، وكان فيها أمثال: على العاقل ما لم يكن مغلوبا على عقله أن يكون له ثلاث ساعات: ساعة يناجي فيها ربه، وساعة يحاسب فيها نفسه، وساعة يتفكر فيها صنع الله، وساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب؛ وعلى العاقل أن لا يكون ظاعنا إلا لثلاث: تزود لمعاد ومرمة لمعاش، أو لذة في غير محرم، وعلى العاقل أن يكون بصيرا بزمانه، مقبلا على شأنه، حافظا للسانه، ومن حسب كلامه من عمله قل كلامه إلا فيما يعنيه؛ قلت: فما كان في صحف موسى؟ قال: كانت عبرا كلها: عجبت لمن أيقن بالموت ثم هو يفرح، عجبت لمن أيقن بالنار: ثم هو يضحك، عجبت لمن أيقن بالقدر ثم هو ينصب، عجبت لمن رأى الدنيا وتقلبها لأهلها ثم اطمأن إليها، عجبت لمن أيقن بالحساب غدا ثم لا يعمل، قلت: يا رسول الله! هل فيما أنزل عليك شيء مما كان في صحف إبراهيم وموسى؟ قال: يا أبا ذر! تقرأ {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى - إلى قوله: صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى} ، قلت: يا رسول الله! أوصني، قال: أوصيك بتقوى الله فإنه رأس الأمر كله، قلت: زدني، قال: عليك بتلاوة القرآن وذكر الله، فإنه نور لك في الأرض وذكر لك في السماء، قلت: زدني، قال: إياك وكثرة الضحك! فإنه يميت القلب ويذهب بنور الوجه، قلت: زدني، قال عليك بالصمت إلا من خير، فإنه مطردة للشيطان عنك وعون لك على أمر دينك، قلت: زدني، قال: عليك بالجهاد، فإنه رهبانية أمتي، قلت: زدني، قال: أحب المساكين وجالسهم، قلت: زدني، قال: انظر إلى من تحتك ولا تنظر إلى من فوقك، فإنه أجدر أن لا تزدري نعمة الله عندك، قلت: زدني، قال: لا تخف في الله لومة لائم، قلت: زدني، قال: قل الحق وإن كان مرا، قلت: زدني، قال: ليردك عن الناس ما تعرف من نفسك، ولا تجد عليهم فيما يأتي، وكفى بك عيبا أن تعرف من الناس ما تجهل من نفسك أو تجد عليهم فيما تأتي، يا أبا ذر! لاعقل كالتدبير، ولا ورع كالكف؛ ولا حسب كحسن الخلق. "الحسن بن سفيان، حب، حل، كر".
তাহকীক: