কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪১৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طویل قیام والی نماز سب سے افضل ہے
44159 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سہارا لیے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور فرما رہے تھے ، تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی تپش سے بچالے۔ پھر فرمایا : خبردار دوزخ کا عمل۔۔۔یا فرمایا۔۔۔دنیا کا عمل سہل ہے لیکن بےفائدہ زمین میں (تین بار فرمایا) خوش بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا جائے، جو شخص فتنوں میں مبتلا ہوا پھر اس نے صبر کیا اس کے لیے بھلائی ہے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44159- عن ابن عباس قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد متوكئا وهو يقول: أيكم يسره أن يقيه الله من فيح جهنم، ثم قال: ألا! إن عمل الجنة حزن بربوة - ثلاثا، ألا - إن عمل النار - أو قال: الدنيا - سهل بسهوة - ثلاثا، والسعيد من وقى الفتن، ومن ابتلى فصبر فيا لها ثم يا لها. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد خیف منیٰ میں خطاب
44160 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد خیف میں ہمیں خطاب کیا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : جو شخص آخرت کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پراگندہ امور کو مجتمع فرمائے گا، اس کی مالداری اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دے گا، دنیا بھر پوررغبت کے ساتھ اس کی طرف آئے گی۔ جو شخص دنیا کو اپنا مقصد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے شیرازے کو منتشر کردیتا ہے، اس کی آنکھوں کے سامنے محتاجی رکھ دیتا ہے جبکہ اسے دنیا سے وہی مل پاتا ہے جو اس کے لیے لکھ دیا گیا ہو۔ رواہ الطبرانی و ابوبکر الخفاف فی معجمہ وابن النجار
44160- عن ابن عباس قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد الخيف فحمد الله وذكره بما هو أهله ثم قال: من كانت الآخرة همه جمع الله شمله وجعل غناه بين عينيه وأتته الدنيا وهي راغمة، ومن كانت الدنيا همه فرق الله شمله وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له. "طب، وأبو بكر الخفاف في معجمه، وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد خیف منیٰ میں خطاب
44161 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : مجھے وصیت کریں۔ ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ، نماز پڑھتے رہو، زکوۃ دیتے رہو ، روزے رکھتے رہو، حج کرتے رہو ، عمرہ کرتے رہو، سماعت و اطاعت کرتے رہو، ظاہر کا اعتبار کرو اور مخفی باتوں سے بچتے رہو۔ رواہ ابن جریر والحاکم
44161- عن ابن عمر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: أوصني، قال: تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم وتحج وتعتمر وتسمع وتطيع. وعليك بالعلانية! وإياك والسرائر. "ابن جرير، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد خیف منیٰ میں خطاب
44162 ام ولید بنت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہیں حیاء نہیں آتی، تم مال جمع کرتے ہو جسے کھاؤ گے نہیں، عمارتیں بناتے ہو جن میں رہوگے نہیں، لمبی چوڑی امیدیں رکھتے ہو جنہیں تم پوری نہیں کرسکتے، کیا تمہیں اس سے حیاء نہیں آتی۔ رواہ الدیلمی
44162- عن أم الوليد بنت عمر بن الخطاب قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس: أما تستحيون! تجمعون ما لا تأكلون، وتبنون ما لا تسكنون، وتؤملون ما لا تدركون، أما تستحيون من ذلك. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد خیف منیٰ میں خطاب
44163 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان خطاب ارشاد فرمانے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! تم عارضی گھر میں ہو اور محو سفر ہو، تمہیں چال میں جلد بازی کا سامنا ہے لہٰذا بعد مسافت کے پیش نظر سامان سفر تیار کرنا ہوگا۔ رواہ الدیلمی
44163- عن علي قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: يا أيها الناس! إنكم في دار هدنة، وأنتم على ظهر سفر، السير بكم سريع فأعدوا الجهاز لبعد المسافة. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا سامان سفر تیارکھو
44164 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے مختصر وصیت کیجئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آخرت کا سامان سفر تیار رکھو، اپنا توشہ درست کرلو، اپنی ذات کے خیر خواہ بن جاؤ، چونکہ اللہ کا کوئی بدل نہیں اور اس کے قول کا الٹ نہیں۔ رواہ الدیلمی وفیہ محمد بن الاشعث
44164- عن علي قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أوصني وأوجز، قال: هيئ جهازك، وأصلح زادك، وكن وصى نفسك، فإنه ليس من الله عوض ولا لقول الله خلف. "الديلمي، وفيه محمد بن الأشعث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا سامان سفر تیارکھو
44165 عنبسہ بن عبدالرحمن، عبداللہ بن حسن، فاطمہ بنت حسین، حسین (رض) کے سلسلہ سند سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی حفاظت کرو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ تعالیٰ کے احکام کی حفاظت کرو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، وسعت و کشائش میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو وہ تمہیں سختی اور تنگی میں یاد رکھے گا۔ جب مدد مانگو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو، قلم خشک ہوچکا ہے، یعنی قیامت تک ہونے والے معاملات کو قلم لکھ چکا ہے، اگر مخلوقات تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہیں جو تیرے مقدر میں نہیں لکھا گیا وہ ایسا نہیں کر پائے گی، اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یقیناً عمل کرسکتے ہو تو ضرور کرو۔ اگر تم اس کی طاقت نہ رکھتے ہو تو ناگوار امور پر صبر کرو چونکہ اس میں خیر کثیر ہے، جان لو نصرت صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور بلاشبہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ رواہ ابن بشران واخرجہ الترمذی ماعدا مابین القوسین وقال حسن صحیح رقم 2638 ۔
44165- عن عنبسة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن الحسن عن أمه فاطمة بنت الحسين عن أبيها عن جدها علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن العباس: احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده أمامك، تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة، وإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، جف القلم [بما هو كائن إلى يوم القيامة، فلو جهد الخلائق أن ينفعوك بشيء لم يكتبه الله عليك لم يقدروا، فإن استطعت أن تعمل لله بالرضاء باليقين فاعمل، وإن لم تستطع فإن في الصبر على ما تكره خيرا كثيرا، واعلم أن النصر مع الصبر وأن الفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا] . "ابن بشران.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا سامان سفر تیارکھو
44166 عمیر بن عبدالملک کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے کوفہ کی مسجد کے منبر پر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اگرچہ میں نے شروع شروع میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال نہیں کیا تھا اور اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی کے متعلق سوال کرتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلا ہی دیتے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے رب تعالیٰ سے حدیث سنائی کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : عرش پر میرے بلند ہونے کی قسم ! جو بھی کسی بستی والے ہوتے ہیں، کوئی اہل خانہ ہوتے ہیں، یا کوئی بھی آدمی کسی جنگل میں ہوتا ہے یہ لوگ میری نافرمانی سے میری فرمان برداری کی طرف بائل ہوتے ہیں میں ان کی ناپسندیدہ چیز یعنی اپنے عذاب کو ان کی محبوب شے یعنی اپنی رحمت سے بدل دیتا ہوں، اور جو بھی بستی والے، کوئی اہل خانہ یا کوئی آدمی بھی میری محبوب شئے یعنی میری فرمان برداری کو میری ناپسندیدہ چیز یعنی نافرمانی سے بدلتے ہیں تو میں بھی ان کی پسندیدہ چیز یعنی اپنی رحمت کو ان کی ناپسندیدہ چیز یعنی اپنے غضب سے بدل دیتا ہوں۔ رواہ ابن مردویہ
44166- عن عمير بن عبد الملك قال: خطبنا علي بن أبي طالب على منبر الكوفة قال: كنت إن لم أسأل النبي صلى الله عليه وسلم ابتدأ بي وإن سألته عن الخير أنبأني، وإن حدثني عن ربه وجل قال: يقول الله عز وجل: وارتفاعي فوق عرشي! ما من أهل قرية ولا أهل بيت ولا رجل ببادية كانوا على ما كرهت من معصيتي ثم تحولوا عنها إلى ما أحببت من طاعتي إلا تحولت لهم عما يكرهون من عذابي إلى ما يحبون من رحمتي، وما من أهل قرية ولا أهل بيت ولا رجل ببادية كانوا على ما أحببت من طاعتي ثم تحولوا عنها إلى ما كرهت من معصيتي إلا تحولت لهم عما يحبون من رحمتي إلى ما يكرهون من غضبي. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا سامان سفر تیارکھو
44167 یمان بن حذیفہ ، علی بن ابی حنظلہ مولیٰ علی بن ابی طالب (رض) ، ابوحنظلہ کے سلسلہ سند سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے تم پر سب سے زیادہ دو چیزوں کا خوف ہے خواہشات نفس کی اتباع اور لمبی لمبی امیدیں ، خواہشات نفس حق سے پھیر دیتی ہیں اور لمبی لمبی امیدیں حب دنیا ہیں۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ دنیا اپنے محبوب بندے کو بھی دیتے ہیں اور مبغوض کو بھی، اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندہ سے محبت کرتے ہیں تو اسے دولت ایمان سے مالا مال کرتے ہیں۔ خبردار ! دین کے بھی کچھ بیٹے ہیں اور دنیا کے بھی کچھ بیٹے ہیں تم دین کے بیٹے بنو دنیا کے بیٹے مت بنو، خبردار ! دنیا پیٹھ پھیر کر چلی جاتی ہے جبکہ آخرت ٹھاٹھ کے ساتھ آتی ہے ، خبردار ! تم عمل کے ایسے دن میں ہو جس کا حساب نہیں۔ خبردار ! تم عنقریب ایک ایسے دن میں ہوگے جس میں حساب ہوگا عمل نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی قصر الامل ونصر المقدسی فی امالیہ والیمان ضعیف۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے المتناھیۃ 1362 ۔
44167- عن اليمان بن حذيفة عن علي بن أبي حنظلة مولى علي ابن أبي طالب عن أبيه عن علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن أشد ما أتخوف عليكم خصلتان: اتباع الهوى، وطول الأمل؛ فأما اتباع الهوى فإنه يعدل عن الحق، وأما طول الأمل فالحب للدنيا، ثم قال: ألا إن الله تعالى يعطي الدنيا من يحب ومن يبغض، وإذا أحب عبدا أعطاه الإيمان، ألا! إن للدين أبناء، وللدنيا أبناء فكونوا من أبناء الدين، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، ألا إن الدنيا قد ارتحلت مولية والآخرة قد ارتحلت مقبلة، ألا! وإنكم في يوم عمل ليس فيه حساب، ألا! وإنكم توشكون في يوم حساب وليس فيه عمل. "ابن أبي الدنيا في قصر الأمل، ونصر المقدسي في أماليه، واليمان ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا سامان سفر تیارکھو
44168 حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کے پاس داخل ہوا میں نے پوچھا مومن کی علامت کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : مومن کی کیا علامت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھ چیزیں اچھی ہیں اور یہی چھ چیزیں اگر چھ آدمیوں میں پائی جائیں تو بہت ہی اچھی ہیں۔ عدل اچھا ہے لیکن امراء میں عدل کا پایا جاتا بہت ہی اچھا ہے، سخاوت اچھی خصلت ہے لیکن مالداروں میں سخاوت کا ہونا بہت ہی اچھا ہے، تقویٰ اچھی چیز ہے لیکن علماء میں تقویٰ کا ہونا بہت ہی اچھا ہے، صبر اچھی عادت ہے لیکن فقراء میں بہت ہی اچھا ہے، توبہ اچھی چیز ہے لیکن نوجوانوں میں کیا ہی اچھی ہے، حیاء اچھی خصلت ہے لیکن عورتوں میں بہت ہی اچھی ہے۔ رواہ الدیلمی
44168- عن جابر بن عبد الله قال: دخلت على علي بن أبي طالب فقلت له: ما علامة المؤمن؟ قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ما علامة المؤمن؟ قال: ستة أشياء حسن ولكن في ستة من الناس أحسن: العدل حسن ولكن في الأمراء أحسن، والسخاء حسن ولكن في الأغنياء أحسن، الورع حسن ولكن في العلماء أحسن، الصبر حسن ولكن في الفقراء أحسن، التوبة حسن ولكن في الشباب أحسن، الحياء حسن ولكن في النساء أحسن. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44169 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب میں حلال و حرام کو بیان فرمایا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام۔ کتاب اللہ کے متشابہات پر ایمان رکھو اس کے محکمات پر عمل کرو اور اس میں بیان کردہ واقعات سے عبرت حاصل کرو۔ رواہ ابن النجار ومندہ واہ
44169- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبة: أيها الناس! قد بين الله لكم في محكم كتابه ما أحل لكم وما حرم عليكم، فأحلوا حلاله، وحرموا حرامه، وآمنوا بمتشابهه، واعملوا بمحكمه، واعتبروا بأمثاله. "ابن النجار وسنده واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44170 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وادی عقیق کی طرف نکلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! یہ پاکی کی چیز اور اس وادی سے اسے بھر لو، بلاشبہ یہ وادی ہم سے محبت کرتی ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے لی اور بھرلی اور جلدی بھی کی، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حق ادا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری چاپ سنی تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے انس ! میں نے تمہیں جو حکم دیا تھا وہ بجا لایا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے علی ! ہر زندگی کے پیچھے ایک غیبت ہوتی ہے۔ اے علی ! ہر غم اور دکھ ختم ہونے والا ہے سوائے دوزخ کے غم ودکھ کے۔ اے علی ! ہر نعمت زائل ہونے والی ہے سوائے جنت کی نعمتوں کے۔ رواہ النجار وفیہ الحسن بن یحییٰ الخشنی متروک
44170- عن أنس قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى وادي العقيق فقال: يا أنس! خذ هذه المطهرة املأها من هذا الوادي، فإنه واد يحبنا ونحبه، فأخذتها فملأتها وعجلت ولحلقت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد علي، فلما سمع حسي التفت إلي فقال: يا أنس! فعلت ما أمرتك به؟ قلت: نعم يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأقبل على علي فقال: يا علي! ما من حياة إلا استتبعها عبرة، يا علي! كل هم منقطع إلا هم النار، يا علي! كل نعيم يزول إلا نعيم الجنة. "ابن النجار وفيه الحسن بن يحيى الخشني متروك"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44171 حسن حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رب تعالیٰ کا فرمان ارشاد فرمایا کہ ! اے ابن آدم ! چار خصلتیں ہیں ان میں سے ایک میرے لیے خاص ہے، ایک تیرے لیے ، ایک میرے اور تیرے درمیان مشترک ہے اور ایک میرے اور میرے بندوں کے درمیان مشترک ہے۔ بہرحال جو تیرے اوپر ہے وہ یہ کہ تو میری عبادت کرے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، جو تیرے نفع میں ہے وہ کہ تو نے جو بھی بھلائی کا عمل کیا اس کا تجھے بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ وہ خصلت جو میرے اور تیرے درمیان مشترک ہے وہ یہ کہ تمہاری دعا ہوتی ہے اور میں اسے قبول کرتا ہوں۔ وہ خصلت جو میرے اور میرے بندوں کے درمیان مشترک ہے وہ یہ کہ تم ان کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ رواہ ابن جریر
44171- عن الحسن عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فيما يروى عن ربه: ابن آدم! أربعة خصال: واحدة منهن لي، وواحدة لك، وواحدة فيما بيني وبينك، وواحدة فيما بينك وبين عبادي؛ فأما التي عليك فتعدبدني ولا تشرك بي شيئا، وأما التي لك فما عملت من خير جزيتك به، وأما التي بيني وبينك فمنك الدعاء وعلي الإجابة، وأما التي بينك وبين عبادي فارض لهم ما ترضى لنفسك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44172 ہاون بن یحییٰ حاطبی عثمان بن عمرو بن خالد زبیری عمرو بن خالد علی بن حسین، حسین کے سلسلہ سند سے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ کارکردگی یا تو دیندار کی ہوتی ہے یا کسی حسب والے کی، ضعیفوں (کمزوروں) کا جہاد حج ہے عورت کا جہاد شوہر کے ساتھ حسن سلوک ہے محبت داری نصف ایمان ہے میانہ روی سے اوپر کوئی نہ جائے صدقہ کے ذریعے رزق کو طلب کرو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا رزق وہاں رکھ دیا ہے جہاں ان کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ رواہ العسکری فی الامثال وقال : ضعیف بمرۃ ورواہ ابن حبان فی الضعفاء
44172- عن هارون بن يحيى الحاطبي عن عثمان بن عمرو بن خالد الزبيري عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الصنيعة إلى ذي دين أو حسب، وجهاد الضعفاء الحج، وجهاد المرأة حسن التبعل لزوجها، والتودد نصف الإيمان - وفي لفظ: نصف الدين - وما عال امرؤ اقتصد - وفي لفظ: وما عال امرؤ على اقتصاد - واستنزلوا الرزق بالصدقة، وأبى الله إلا أن يجعل أرزاق عباده المؤمنين من حيث لا يحتسبون - وفي لفظ: وأبى الله أن يجعل أرزاق عباده المؤمنين إلا من حيث لا يحتسبون. "العسكري في الأمثال وقال: ضعيف بمرة؛ حب في الضعفاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44173 ابوطیب احمد عبداللہ دارمی ، احمد بن داؤد بن عبدالغفار ابو مصعب، مالک ، جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب، ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ بن جراح (رض) جمع ہوئے کسی چیز کے متعلق آپس میں بحث و مباحثہ کرنے لگے ان سے حضرت علی (رض) نے کہا ہمارے ساتھ چلو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے ہیں چنانچہ جب یہ حضرات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے کہنے لگے : یارسول اللہ ! ہم آپ کی خدمت میں ایک شے کے متعلق پوچھنے حاضر ہوئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اگر تم چاہو تو مجھ سے پوچھو اگر میں چاہوں تو تمہیں خبر دوں کہ تم کیوں آئے ہو صحابہ (رض) نے عرض کیا : آپ ہمیں احسان مندی کے صرف نسب والے اور دیندار کے لیے ہے تم میرے پاس نیکی کے متعلق پوچھنے آئے ہو سو بندوں کو چاہیے کہ صدقے کے ذریعے نیکی کو حاصل کرنے کی کوشش کریں تم میرے پاس عورت کے جہاد کرنے کے متعلق پوچھنے آئے ہو چنانچہ عورت کا جہاد خاوند کے ساتھ حسن سلوک ہے تم مجھ سے پوچھنے آئے ہو کہ رزق کہاں سے آتا ہے ؟ سو اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن کو رزق نہیں دیتا مگر ایسی جگہ سے جہاں کا اسے علم بھی نہیں ہوتا (رواہ حبان کہتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی آفت احمد بن داؤد پر گری ہے ابن جوزی نے بھی اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے دارقطنی نے یہ حدیث افراد میں ذکر کی ہے اور حدیث مالک سے اسے غریب گردانا ہے احمد بن داؤد جرجانی متفرد ہے اور وہ ضعیف راوی ہے ابن عبدالبر نے بھی یہ حدیث تمہید میں ذکر کی ہے، اور مالک کی حدیث سے اسے غریب نقل کیا ہے یہ حدیث حسن ہے لیکن محدثین کے نزدیک البر مالک منکر ہے مالک سے اس کی روایت صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اصل ہے اور کہا ہے یہ حدیث ہارون بن یحییٰ خاطبی عثمان بن خالد زبیری ، علی بن ابی طالب کے طریق سے بھی آئی ہے لیکن ضعیف ہے نیز عثمان اور ان سے راوی کو میں نہیں جانتا ہوں لسان میں ہے کہ عثمان کو ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے جبکہ عقیلی نے ہارون کو ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔
44173- حدثنا أبو الطيب أحمد عبد الله الدارمي حدثنا أحد ابن داود بن عبد الغفار حدثنا أبو مصعب حدثنا مالك عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال: اجتمع علي بن أبي طالب وأبو بكر وعمر وأبو عبيدة بن الجراح فتماروا في شيء فقال لهم علي: انطلقوا بنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم نسأله، فلما وقفوا عليه قالوا: يا رسول الله! جئنا نسألك عن شيء! قال: إن شئتم سألتموني وإن شئت أخبرتكم بما جئتم له! قالوا: حدثنا عن الصنيعة، قال: لا ينبغي أن يكون الصنيعة إلا لذي حسب أو دين، جئتم تسألوني عن البر وما عليه العباد فاستنزلوه بالصدقة، وجئتم تسألوني عن جهاد المرأة، جهاد المرأة حسن التبعل لزوجها، جئتم تسألوني عن الرزق من أين يأتي، أبى الله أن يرزق عبده المؤمن إلا من حيث لا يعلم. "قال حب: موضوع، آفته أحمد بن داود، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، وأخرجه قط في الأفراد وقال: غريب من حديث مالك، تفرد به أحمد بن داود الجرجاني وكان ضعيفا عن أبي مصعب عنه، وأخرجه ابن عبد البر في التمهيد وقال: غريب من حديث مالك، وهو حديث حسن، لكنه منكر عندهم عن مالك، لا يصح عنه ولا أصل له في حديثه، وقال: وحدث بهذا الحديث هارون بن يحيى الخاطبي عن عثمان بن خالد الزبيري عن أبيه عن علي بن أبي طالب، وهذا حديث ضعيف، وعثمان لا أعرفه ولا الراوي عنه، قال في اللسان: أما عثمان فذكره حب في الثقات، وهارون ذكره عق في الضعفاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو حلال ، حرام کو حرام سمجھنا
44174 عاصم بن ضمرہ ، حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو بنی اسرائیل کی طرف پانچ کلمات دے کر بھیجا چنانچہ مخلوق کو یحییٰ (علیہ السلام) کا ساتھ رہنا بہت پسند تھا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا تو فرمایا : اے عیسیٰ یحییٰ سے کہو یا تو میرے پیغام کو بنی اسرائیل تک پہنچائے یا تم خود اس کی تبلیغ کرو۔ چنانچہ یحییٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے کسی آدمی کو آزاد کیا ہوا اور اس کے رزق کا اچھی طرح سے بند و بست کیا ہو اور خوب عطا بھی کیا ہو پھر چلا جائے اور اسی کی دلائے نعمت کا کفران کرے اور اس کے غیر کو اپنا متولی بنادے یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی بادشاہ کے پاس جائے اور اس سے مانگے بادشاہ اگر چاہے تو اسے دے چاہے تو منع کردے اللہ تعالیٰ تمہیں زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جیسے دشمن قید کریں اور اس کے قتل کے درپے ہوں وہ کہے جارہا ہو کہ میرے پاس خزانہ ہے مجھے قتل نہ کرو میں اپنی جان کے بدلے میں وہ تمہیں دوں گا چنانچہ وہ اپنا خزانہ دے کر نجات پاجائے اللہ تعالیٰ تمہیں روزے رکھنے کا حکم دیتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے خوددشمن کے پاس چل کر آئے اور دشمن لڑائی کے لیے بھرپور تیار ہوا سے پروا نہ ہو کہ وہ کہاں سے آئے گا اللہ تعالیٰ تمہیں تلاوت کتاب کا حکم دیتا ہے اس کی مثال اس قوم جیسی ہے جو قلعہ بند ہو اور دشمن اس کی طرف چل پڑے یہ قرآن پڑھنے والے کی مثال ہے یہ لوگ مسلسل محفوظ قلعہ میں بند رہتے ہیں۔ رواہ العسکری فی المواعظ و ابونعیم
44174- عن عاصم بن ضمرة عن علي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بعث الله يحيى بن زكريا إلى بني إسرائيل بخمس كلمات؛ وكان يحيى تعجبه البرية أن يكون بها، فلما بعث الله عيسى ابن مريم قال: يا عيسى! قل ليحيى إما أن يبلغ ما أرسلت به إلى بني إسرائيل وإما أن تبلغهم، فخرج يحيى حتى أتى بني إسرائيل فقال: إن الله يأمركم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا، ومثل ذلك مثل رجل أعتق رجلا وأحسن إليه رزقه وأعطاه فانطلق وكفر ولاء نعمته وتولى غيره، وإن الله يأمركم أن تقيموا الصلاة، ومثل ذلك كمثل رجل دخل على ملك من ملوك بني آدم فسأله فإن شاء أعطاه وإن شاء منعه، وإن الله يأمركم أن تؤتوا الزكاة، ومثل ذلك مثل رجل أسره العدو فأرادوا قتله فقال: لا تقتلوني فإن لي كنزا وأنا أفدي به نفسي، فأعطاه كنزه ونجا بنفسه، وإن الله تعالى يأمركم أن تصوموا، ومثل ذلك مثل رجل مشى إلى عدو وقد اعتد للقتال، فلا يبالي من حيث أتى، وإن الله يأمركم أن تقرأوا الكتاب، ومثل ذلك كقوم في حصنهم سار إليهم عدوهم، ذلك مثل من قرأ القرآن، لا يزالون في حرز وحصن حصين. "العسكري في المواعظ، وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باطن اچھا ظاہر پاکیزہ
44175 حضرت انس (رض) کی روایت ہی کی ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اونٹنی پر بیٹھ کر خطاب ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! گویا کہ موت ہمارے غیر پر لکھی جاچکی ہے گویا کہ حق ہمارے غیر پر واجب ہے گویا کہ موت سے سیر ہونے والے تھوڑے ہیں جو ہماری طرف لوٹیں گے ان کے گھر قبریں بن چکے ہیں ان کی میراث کھائی جارہی ہے گویا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں گے ہم ہر طرح کے حادثہ سے بےخوف ہیں ہر وعظ کو ہم نے بھلا دیا ہے خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جسے اس کے عیوب لوگوں کے عیوب سے غافل رکھیں اور وہ بغیر معصیت کے اپنے کمائے ہوئے حلال مال سے خرچ کرتا ہو اور مسکینوں فقیروں سے محبت کرتا ہو ۔ اہل فقہ اور اہل حکمت سے مل بیٹھتا ہو سنت پر عمل کرتا ہو اور بدعت کے قریب تک نہ جاتا ہو اپنا بچا ہوا مال خرچ کرتا ہو فضول بات نہ کرتا ہو خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کا باطن اچھا اور ظاہر پاکیزہ ہو۔
44175- عن أنس قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ناقته الجدعاء وليست بالعضباء فقال: أيها الناس! كأن الموت فيها على غيرنا كتب، وكأن الحق فيها على غيرنا وجب، وكأن الذي يشيع من الأموات سفر عما قليل إلينا راجعون، بيوتهم أجداثهم، وتأكل تراثهم كأنا مخلدون بعدهم، قد أمنا كل جائحة ونسينا كل موعظة، طوبى لمن شغله عيبه عن عيوب الناس، وأنفق من مال اكتسبه من حلال من غير معصية، ورحم أهل الذل والمسكنة، وخالط أهل الفقه والحكمة، واتبع السنة ولم يعدها إلى بدعة، فأنفق الفضل من ماله، وأمسك الفضل من قوله، طوبى لمن حسنت سريرته وطهرت خليقته. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باطن اچھا ظاہر پاکیزہ
44176 زکریا بن یحییٰ دراق، عبداللہ بن وھب ثوری مجالد، ابو وداک ابوسعید کے سلسلہ سند سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے پروردگار مجھے وہ کچھ دکھا جو کچھ تو نے مجھے کشتی میں دکھایا تھا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) عنقریب تو اسے دیکھ لے گا چنانچہ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ان کے پاس خضر تشریف لائے وہ نوجوان تھے ان سے خوشبو مہک رہی تھی اور عمدہ کپڑے پہن کر آئے کہنے لگے : السلام علیک و رحمۃ اللہ اے موسیٰ بن عمران ! تیرے رب نے تمہیں سلام اور صحت بھیجی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہی سلام ہے اس کی طرف سے سلامتی ہے اور سلامتی اس کی طرف لوٹتی ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے جس کی نعمتیں بیشمار ہیں میں اس کا شکر ادا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہوں مگر اس کی معاونت سے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کچھ وصیت کریں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے خضر (علیہ السلام) نے فرمایا : اے علم کے طلبگار ! کہنے والا سننے والا سے کم رسوا ہوتا ہے جب تم بات کرو اپنے ہم نشینوں کو اکتاہٹ میں مبتلا مت کرو جان لو ! تمہارا دل ایک برتن کی مانند ہے لہٰذا دیکھ لو کہ اس میں کیا چیز ڈالتے ہو دنیا سے کنارہ کش رہو اور اسے اپنے پیچھے پھینک دو چونکہ دنیا تمہارا ٹھکانا نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی سکون ہے یہ تو بندوں کے لیے بطور گزارہ کے بنائی گئی ہے تاکہ آخرت کے لیے اس دنیا سے کچھ توشہ لے لو اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنے نفس کو صبر کا عادی بناؤ بردباری پاؤ گے اپنے دل کو تقویٰ کا عادی بنادو۔ علم پاؤ گے نفس کو صبر کا عادی بنادو گناہوں سے خلاصی پاؤ گے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! علم کے اگر خواہشمند ہو تو اس کے لیے فارغ ہوجاؤ، فارغ ہونے والے کے لیے علم ہے زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرو ، چونکہ کثرت سے باتیں کرنا علماء کو عیب دار بنادیتا ہے یوں اس طرح تم سے بڑی بڑی حرکتیں سرزد ہوں گی لیکن میانہ روی کو اختیار کرو یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جاہلوں اور ان کے باطل سے روگردانی کرو بیوقوفوں کے ساتھ بردباری سے پیش آؤ چونکہ یہ حکماء کا فعل ہے اور علماء کی زینت ہے جب کوئی جاہل تمہیں گالی دے تو بردباری اور نرمی کرتے ہوئے اس سے خاموش ہوجاؤ چونکہ اس کی بقیہ جہالت تم پر آن پڑے گی اور تمہیں اس کی گالی بہت بری ہے اے ابن عمران ! تمہیں بہت قلیل علم عطا ہوا ہے چونکہ بہت ہٹ دھرمی اور بےراہ روی نرا تکلف ہے۔ اے ابن عمران ! وہ دروازہ ہرگز مت کھولو جس کاتالہ تمہیں معلوم نہ ہو اور اس دروازے کو ہرگز بند مت کرو جس کے کھلنے سے تم ناواقف ہو، اے ابن عمران ! دنیا سے جس کی ہمت منتہی نہیں ہوتی اور دنیا سے اس کی رغبت ختم نہیں ہوتی وہ عبادت گزار کیسے بن سکتا ہے، جو شخص اپنی حالت کو کمتر سمجھتا ہو اور اپنے کیے کے متعلق غمزدہ نہ ہو وہ زاہد کیسے ہوسکتا ہے جس شخص پر اس کی خواہشات نفس کا غلبہ ہو وہ خواہشات سے کیسے رک سکتا ہے یا پھر اسے علم کیسے نفع پہنچا سکتا ہے جبکہ جاہلیت نے اس کا احاطہ کررکھا ہے چونکہ اس کا سفر آخرت کی طرف ہے حالانکہ وہ دنیا پر مرمٹ رہا ہے اے موسیٰ ! تمہارا علم وہی ہے جسے تم نے عمل کے لیے حاصل کیا ہو محض بیان گوئی کے لیے نہ حاصل کیا ہو۔ ورنہ تمہارے اوپر اس کا وبال پڑے گا اور تمہارے غیر کو اس کا نور حاصل ہوگا۔ اے ابن عمران ! زہدوتقویٰ کو اپنا لباس بنالو علم وذکرتمہارا ۔ کلام ہو زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرو چونکہ تم سے برائیاں بھی سرزد ہوسکتی ہیں۔ اپنے دل کو خوف خدا سے بھراکرو چونکہ اس سے لمہارے رب تم سے راضی رہے گا۔ بھلائی کا عمل کرتے رہو چونکہ برائی کے عامل کو اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں میں نے تمہیں وعظ کردیا ہے اسے یاد رکھو اس کے بعد خضر واپس چل پڑے اور موسیٰ غمزدہ ہو کر روتے رہے۔ رواہ ابن عدی والطبرانی فی الاوسط والمرھبی فی العلم والخطیب فی الجامع و وابن لال فی مکارم الاخلاق والدیلمی وابن عساکر، و زکریا متکلم فیہ ولکن ابن حبان ذکرہ فی الثقاث وقال : یخطی یوخالف اخطافی حدیث موسیٰ حیث قال عن مجالد عن ابی الوداک عن ابی سعید وھو الثوری ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال قال موسیٰ الحدیث وقال العقیلی فی اصل ابن وھب سفیان الثوری، بلغنی ان رسول اللہ قال فدکرہ۔
44176- زكريا بن يحيى الوراق قال: قرئ علي عبد الله بن وهب وأنا أسمع: قال الثوري قال مجالد قال أبو الوداك قال أبو سعيد قال عمر بن الخطاب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال أخي موسى عليه السلام: يا رب! أرني الذي كنت أريتني في السفينة، فأوحى الله إليه: يا موسى! إنك ستراه فلم يلبث إلا يسيرا حتى أتاه الخضر، وهو فتى طيب الريح وحسن الثياب، فقال: السلام عليك ورحمة الله يا موسى بن عمران! إن ربك يقرئك السلام ورحمة الله، قال موسى: هو السلام ومنه السلام وإليه السلام، والحمد لله رب العالمين الذي لا أحصي نعمه ولا أقدر على أداء شكره إلا بمعونته، ثم قال موسى: أريد أن توصيني بوصية ينفعني الله بها بعد! قال الخضر: يا طالب العلم! إن القائل أقل ملالة من المستمع فلا تمل جلساءك إذا حدثتهم، واعلم أن قلبك وعاء فانظر ماذا تحشو به وعاءك، فاعزب عن الدنيا وانبذها وراءك، فإنها ليست لك بدار، ولا لك فيها محل قرار، وإنها جعلت بلغة للعباد، ليتزودوا منها للمعاد؛ ويا موسى! وطن نفسك على الصبر تلق الحلم، وأشعر قلبك التقوى تنل العلم، ورض نفسك على الصبر تخلص من الإثم؛ يا موسى! تفرغ للعلم إن كنت تريده، فإن العلم لمن تفرغ، ولا تكونن مكثارا بالنطق مهذارا 1، فإن كثرة النطق تشين العلماء، وتبدي مساوي السخفاء، ولكن عليك بالاقتصاد، فإن ذلك من التوفيق والسداد، وأعرض عن الجهال وباطلهم، واحلم عن السفهاء، فإن ذلك فعل الحكماء وزين العلماء، إذا شتمك الجاهل فاسكت عنه حلما وحنانة وحرما، فإن ما بقي من جهله عليك وشتمه إياك أعظم وأكبر؛ يا ابن عمران! ولا ترى أنك أوتيت من العلم إلا قليلا، فإن الاندلاث والتعسف من الاقتحام والتكلف؛ يا ابن عمران! لا تفتحن بابا لا تدري ما غلقه، ولا تغلقن بابا لا تدري ما فتحه! يا ابن عمران! من لا ينتهي من الدنيا نهمته 2 ولا ينقضى منها رغبته كيف يكون عابدا! ومن يحقر حاله ويتهم الله فيما قضى كيف يكون زاهدا! هل يكف عن الشهوات من غلب عليه هواه! أو ينفعه طلب العلم والجهل قد حواه! لأن سفره إلى آخرته وهو مقبل على دنياه؛ ويا موسى! تعلم ما تعلمته لتعمل به، ولا تتعلمه لتحدث به، فيكون عليك بوره ويكون لغيرك نوره؛ ويا ابن عمران! اجعل الزهد والتقوى لباسك، والعلم والذكر كلامك، وأكثر من الحسنات، فإنك مصيب السيئات، وزعزع بالخوف قلبك، فإن ذلك يرضي ربك، واعمل خيرا، فإنك لا بد عامل سوء قد وعظت إن حفظت. فتولى الخضر وبقى موسى حزينا مكروبا يبكي. "عد، طس، والمرهبي في العلم، خط في الجامع، وابن لال في مكارم الأخلاق، والديلمي، كر، وزكريا متكلم فيه لكن ذكره حب في الثقات وقال: يخطئ ويخالف، أخطأ في حديث موسى حيث قال: عن مجالد عن أبي الوداك عن أبي سعيد وهو الثوري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال قال موسى - الحديث، وقال عق في أصل ابن وهب: قال سفيان الثوري: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال - فذكره ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44177 عمرو بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کے واسطے وصیت کرتا ہوں تمہارے فقر وفاقہ کے پیش نظر کہ اللہ سے ڈرو اور جس کا وہ اہل ہے اسی طرح اس کی حمدوثناء کرو کہ اس سے تم مغفرت طلب کرو بلاشبہ وہ معاف کرنے والا ہے، جان لو تم اللہ تعالیٰ کے لیے جتنا خلوص کرو گے وہ تمہارا رب ہے اس کی تم اطاعت کرو اسے اور اپنے حق کی حفاظت کرو گزرے دنوں کا جزیہ دیتے رہو اور اسے آنے والے دنوں کے لیے ایک نفل سمجھو حتیٰ کہ تم گزرے جزئیے کو پورا کرلو پھر اللہ کے بندو ! فکر مندی کرو کہ تم پہلے لوگ کل کہاں تھے اور آج کہاں ہیں وہ بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے زمین کو اجاڑا اور آباد کیا وہ بھلا دیئے گئے اور ان کا ذکر ہی ختم ہوگیا وہ آج لاشے کی طرح ہیں ان کے گھر خالی رہ گئے اور وہ قبروں کی تاریکیوں میں جاپڑے فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ھل تحس منھم من احداوتسمع لھم ذکرا۔ کیا ان میں سے کسی ایک (کی حرکت) کو محسوس کرتے ہو یا ان کو کوئی آہٹ سن پاتے ہو۔ تمہارے دوست اور بھائی جنہیں تم جانتے تھے وہ کہاں چلے گئے وہ اپنے اعمال کا حشر بھگتنے چلے گئے ہیں یا تو بدبختی ان کے حصہ میں آچکی ہے یا خوش بختی اللہ اور اللہ کی مخلوق کے درمیان کوئی تعلق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی طرف سے بھلائی دے دے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمان برداری سے برائی ہے وہ بھلائی کیا بھلائی جس کے بعد دوزخ ہی دوزخ ہو جبکہ جنت کے بعد کوئی شر نہیں اقول قول ھذا استغفر اللہ لی والکم ۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ
44177- "مسند الصديق" عن عمرو بن دينار قال: خطب أبو بكر فقال: أوصيكم بالله لفقركم وفاقتكم أن تتقوه وأن تثنوا عليه بما هو أهله، وأن تستغفروه إنه كان غفارا، واعلموا أنكم ما أخلصتم لله فربكم أطعتم، وحقه وحقكم حفظتم، فأعطوا ضرائبكم في أيام سلفكم واجعلوها نوافل بين أيديكم حتى تستوفوا سلفكم وضرائبكم حين فقركم وحاجتكم، ثم تفكروا عباد الله فيمن كان قبلكم أين كانوا أمس وأين هم اليوم! أين الملوك الذين كانوا أثاروا الأرض وعمروها! قد نسوا ونسى ذكرهم فهم اليوم كلاشيء، فتلك بيوتهم خاوية وهم في ظلمات القبور، {هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً} ! وأين من تعرفون من أصحابكم وإخوانكم! قد وردوا على ما قدموا، فجعلوا الشقاوة والسعادة، إن الله عز وجل ليس بينه وبين أحد من خلقه نسب يعطيه به خيرا، ولا يصرف عنه سوءا إلا بطاعته واتباع أمره، وإنه لا خير بخير بعده النار، ولا شر بشر بعده الجنة - أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44278 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ہم سے خطاب فرمایا کرتے تھے انسان کو پیدائش کا ذکر فرماتے اور کہتے : انسان کو پیشاب کی نالی سے پیدا کیا گیا۔ آپ (رض) دو مرتبہ یہ بات فرماتے حتیٰ کہ ہمیں اپنے آپ سے نفرت ہونے لگتی۔
44178- عن أنس قال: كان أبو بكر يخطبنا فيذكر بدء خلق الإنسان فيقول: خلق من مجرى البول مرتين - فيذكر حتى ينقذر أحدنا نفسه. "ش".
তাহকীক: