কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪১৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44179 ھغیک بھ قحمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا خطبہ ہوتا تھا کیا تم جانتے ہو کہ تم صبح وشام ایک مدت کے لیے کرتے ہو، لہٰذا جو شخص مدت پوری کرسکتا ہودراں حالیکہ اللہ کے عمل میں تو وہ ایسا کرے ایسا تم اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے کرسکتے ہو چنانچہ قوموں کے اپنی اجلیں غیروں کے لیے مقرر کرلی ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں ان جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسھم انفسھم ان لوگوں جیسے مت ہوجاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انھیں بھی بھلا دیا۔ جنہیں تم اپنے بھائی سمجھتے تھے وہ کہاں وہ گزرے ایام میں اپنے کیے تک جا پہنچے ہیں اور شقاوت وسعادت میں جا اترے ہیں وہ پہلے جابرین کہاں گئے جنہوں نے شہر بنائے اور ان کے گرد چار دیواریاں لگائیں وہ چٹانوں اور آثار کے نیچے جا پہنچے یہ کتاب اللہ ہے اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے تاریک دن کے لیے اس سے روشنی اس کی شفا اور بیان سے نصیحت حاصل کرو اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) اور ان کے اہل بیت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : کانوا یسار عون فی الخیرات ویدعو ننا رغبا اور ھبا وکانوا لنا خاشعین بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے تھے اور ہم سے رغبت وڈر سے ہماری عبادت کرتے تھے اور وہ ہم سے ڈرتے تھے ۔ اس بات میں کوئی بھلائی نہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ کہی گئی ہو۔ اس مال میں کوئی بھلائی نہیں جسے اللہ کی راہ میں نہ خرچ کیا جائے، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جس کی جہالت اس کی بردباری پر غالب آجاتی ہو اور اس شخص میں بھی کوئی بھلائی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں ملامت گر کی ملامت سے ڈرتا ہو۔ رواہ الطبرانی و ابونعیم فی الحلیۃ وقال ابن کثیر اسنادہ جید
44179- عن نعيم بن قحمة قال: كان في خطبة أبو بكر الصديق: أما تعلمون أنكم تغدون وتروحون لأجل معلوم، فمن استطاع أن ينقضى الأجل وهو في عمل الله فليفعل، ولن تنالوا ذلك إلا بالله، إن أقواما جعلوا آجالهم لغيرهم، فنهاكم الله أن تكونوا أمثالهم، {وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ} أين من تعرفون من إخوانكم! قدموا على ما قدموا في أيام سلفهم وحلوا فيه بالشقوة والسعادة، أين الجبارون الأولون الذين بنوا المدائن وحففوها بالحوائط! قد صاروا تحت الصخر والآثار، هذا كتاب الله لا تفنى عجائبه، فاستضيئوا منه ليوم ظلمة، وانتضحوا بشفائه وبيانه، إن الله عز وجل أثنى على زكريا وأهل بيته فقال: {كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَهَباً وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} لا خير في قول لا يراد به وجه الله، ولا خير في مال لا ينفق في سبيل الله، ولا خير فيمن يغلب جهله حلمه، ولا خير فيمن يخاف في الله لومة لائم. "طب، حل؛ قال ابن كثير: إسناده جيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44180 عبداللہ بن حکیم کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے امابعد ! میں تمہیں اللہ عزوجل کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ جس کا وہ اہل ہو اس کی تعریف کرو ، اور تم رغیت وخوف کو یکجا رکھو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر مانگو اللہ تعالیٰ زکریا (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہے : اے اللہ کے بندو ! جان لو ! بلاشبہ اللہ عزوجل نے اپنے حق کے بدلہ میں تمہاری جانوں کو رہن کرلیا ہے اور اس پر تم سے پختہ عہد لے لیے ہیں تم سے تھوڑے فانی کو کثیر باقی کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اس کے عجائب ختم نہیں ہوں گے اور اس کا نور بجھے گا نہیں اس کے قول کی تصدیق کرو اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو، یوم ظلمت کے لیے روشنی حاصل کرو بلاشبہ اللہ نے تمہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور تمہیں کرام کا تبین کے سپرد کیا ہے جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے جان لو کہ تم صبح وشام ایک مدت میں ہو جس کا علم تم سے غائب ہوچکا ہے اگر تم اجلوں کو پورا کرسکو اللہ کے عمل میں تو ایسا کرلو اور یہ تم اللہ کی مدد سے کرسکتے ہو اپنی موت کی مہلت میں سبقت کرلو مدت ختم ہونے سے قبل ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں سوء اعمال کی طرف دھکیل دے ایک قوم ن یاپنی اجلیں غیروں کے لیے مقرر کردیں اور اپنے آپ کو بھول گئے اللہ تعالیٰ تمہیں ان جیسا ہونے سے منع کرتا ہے نجات کی طرف جلدی کرو چونکہ تمہارا طلبگار تمہارے پیچھے ہے اور اس کا معاملہ بڑا جلدی ہوجاتا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ وھناد و ابونعیم فی الحلیۃ والحاکم والبیہقی ودری بعضہ ابن ابی الدنیا فی قصرالامل
44180- عن عبد الله بن عكيم قال: خطبنا أبو بكر فقال:أما بعد فإني أوصيكم بتقوى الله عز وجل، وأن تثنوا عليه بما هو أهله، وأن تخلطوا الرغبة بالرهبة، وتجمعوا الإلحاف بالمسألة، فإن الله عز وجل أثنى على زكريا وعلى أهل بيته فقال: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَهَباً وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} ثم اعلموا عباد الله! إن الله عز وجل قد ارتهن بحقه انفسكم، وأخذ على ذلك مواثيقكم، واشترى منكم القليل الفاني بالكثير الباقي، وهذا كتاب الله فيكم لا تفنى عجائبه، ولا يطفأ نوره، فصدقوا قوله وانتصحوا كتابه، واستبصروا فيه ليوم الظلمة، فإنما خلقكم للعبادة، ووكل بكم الكرام الكاتبين يعلمون ما تفعلون، ثم اعلموا عباد الله! إنكم لتغدون وتروحون في أجل قد غيب عنكم علمه، فإن استطعتم أن تنقضى الآجال وأنتم في عمل الله فافعلوا، ولن تستطيعوا ذلك إلا بالله، فسابقوا في مهل آجالكم قبل أن ينقضى فتردكم إلى سوء أعمالكم، فإن قوما جعلوا آجالهم لغيرهم فنسوا أنفسهم، فنهاكم أن تكونوا أمثالهم، الوحا 1 الوحا! النجا 2 النجا! إن وراءكم طالبا حثيثا، أمره سريع. "ش، وهناد، حل، ك، ق، في، وروى بعضه ابن أبي الدنيا في قصر الأمل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44181 ابن زبیر کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے حیاء کرو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! میں جب قضائے حاجت کے لیے جاتا ہوں تو رب تعالیٰ سے حیاء کرتے ہوئے اپنا سر ڈھانپ لیتا ہوں۔ رواہ ابن المبارک وابن ابی شیبہ ورستہ والخرائطی فی مکارم الاخلاق
44181- عن ابن الزبير أن أبا بكر قال وهو يخطب: يا معشر الناس! استحيوا من الله، فوالذي نفسي بيده! إني لأظل حتى أذهب إلى الغائط في الفضاء مغطيا رأسي - وفي لفظ: مقنعا رأسي - استحياء من ربي. "ابن المبارك، ش، ورسته، والخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44182 عمرو بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے حیاء کرو بخدا ! میں بیت الخلاء میں داخل ہوتا ہوں اور دیوار کے ساتھ سہارا لے کر سر ڈھانپ لیتا ہوں چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ سے حیاء آجاتی ہے۔ رواہ عبدالرزاق وھناد والخرائطی
44182- عن عمرو بن دينار قال قال أبو بكر: استحيوا من الله، فوالله إني لأدخل الكنيف فأسند ظهري إلى الحائط وأغطي رأسي حياء من الله عز وجل. "عب، وهناد، والخرائطي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44183 محمد بن ابراہیم بن حارث کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور پاکدامنی اختیار کرو تمہیں بہت معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑے حتیٰ کہ تم روٹی اور مکھن سے سیر ہو۔ رواہ ابن ابی الدنیا والدینوری
44183- عن محمد بن إبراهيم بن الحارث إن أبا بكر الصديق خطب الناس فقال: والذي نفسي بيده! لئن اتقيتم وأحصنتم ليوشكن أن لا يأتي عليكم إلا يسير حتى تشبعوا من الخبز والسمن. "ابن أبي الدنيا، والدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44184 موسیٰ بن عقبہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) خطاب کرتے اور فرمایا کرتے تھے : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے میں اسی کی حمد کرتا ہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں ہم مرنے کے بعد اس سے عزت کا سوال کرتے ہیں بلاشبہ میری اور آپ کی موت قریب ہوچکی ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں حق کے ساتھ بشارت سنانے والے اور ڈر سنانے والے اور چمکتا ہوا چراغ بنا کر بھیجا ہے تاکہ زندہ انسان کو ڈر سنائے جبکہ کافروں پر بات ثابت ہوچکی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوا جس نے ان کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے امر کو مضبوطی سے تھا رکھو جو تمہارے لیے مشروع کیا بلاشبہ کلمہ اخلاص کے بعد یہی ہدایت اسلام کے جامع کلمات ہیں اللہ تعالیٰ نے جسے حکومت (شرعی) سونپی ہو اس کی اطاعت بجا لاؤ چونکہ جو شخص امر بالمعروف و نہی المنکر کرنے والے حکمران لی اطاعت کرتا ہے وہ کامیاب ہو اور اس نے اپنا حق ادا کردیا۔ اتباع خواہشات سے بچو چنانچہ جو شخص اتباع خواہشات طمع اور غصہ پی گیا وہ کامیاب ہوا فخر سے بچو بھلا اس کا کیا فخر جو مئی سے پیدا ہو اور پھر مئی میں جائے گا اور اسے کیڑے چٹ کر جائیں گے پھر وہ آج زندہ ہے اور کل مردہ ہوگا لہٰذا دن بدن اور ساعت بساعت عمل کرتے رہو مظلوم کی دعا سے بچو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو صبر کرو چونکہ سارا عمل صبر ہے ڈرتے رہو چونکہ ڈر نفع بخش ہے عمل کرتے رہو چونکہ عمل مقبول ہوتا ہے اللہ سے ڈرتے رہو وہ تمہیں عذاب سے نجات دے گا اللہ تعالیٰ کی موعود رحمت کی طرف بڑھتے رہو سمجھ پیدا کرو اور تقویٰ اختیار کرو بچ جاؤ گے اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ہلاک شدگان کو بیان کیا ہے اور نجات پانے والوں کے متعلق بھی خبر دی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال و حرام کو بیان کردیا ہے اور اپنے محبوب و مکروہ اعمال کو بھی بیان کردیا ہے چونکہ مجھے نہ تمہاری پروا ہے نہ ہی اپنی اللہ ہی مددگار سے نیکی کی قوت اور معصیت سے بچنے کی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ جان لو تم اللہ تعالیٰ کے لیے جو اعمال کبھی تم خلوص کے ساتھ کرو گے سو اللہ تعالیٰ کی تم نے اطاعت کردی اپنے حصہ کی تم نے حفاظت کردی اور اس طرح تم قابل رشک ہو۔ تم نفلی عبادت جس قدر بھی کرو گے اس کی جزا آنے والی زندگی میں پالو گے جبکہ اس وقت نفلی عبادت کی حاجت اور ضرورت بےمثال ہوگی پھر اللہ کے بندو اپنے ساتھیوں اور بھائیوں کے متعلق فکر کرو جو دنیا سے جاچکے ہیں۔ اپنے کیے ہوئے اعمال کے پاس جا پہنچے ہیں۔ موت کے بعد شقاوت یا سعات کے پاس جا اترے ہیں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور کسی کے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہیں ، اللہ تعالیٰ بندے سے برائی کو صرف طاعت کے ذریعے دور کرتا ہے چونکہ دوزخ کے بعد پھر کسی بھلائی کی توقع ہیں کی جاسکتی اور جنت کے بعد کسی قسم کے شرکا سامنا نہیں ہوگا۔ اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولم وصلوا علی نبیکم والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الحدروابن عساکر
44184- عن موسى بن عقبة أن أبا بكر الصديق كان يخطب فيقول: الحمد لله رب العالمين، أحمده وأستعينه، ونسأله الكرامة فيما بعد الموت، فإنه قد دنا أجلي وأجلكم، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا، وسراجا منيرا، لينذر من كان حيا ويحق القول على الكافرين، ومن يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فقد ضل ضلالا مبينا، أوصيكم بتقوى الله والاعتصام بأمر الله الذي شرع لكم وهداكم به، فإنه جوامع هدى الإسلام بعد كلمة الإخلاص، السمع والطاعة، لمن ولاه الله أمركم! فإنه من يطع والي الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فقد أفلح وأدى الذي عليه من الحق، وإياكم واتباع الهوى! قد أفلح من حفظ من الهوى والطمع والغضب، وإياكم والفخر! وما فخر من خلق من تراب ثم إلى التراب يعود ثم يأكله الدود! ثم هو اليوم حي وغدا ميت! فاعملوا يوما بيوم وساعة بساعة، وتوقوا دعاء المظلوم، وعدوا أنفسكم في الموتى، واصبروا فإن العمل كله بالصبر، واحذروا فالحذر ينفع، واعملوا فالعمل يقبل، واحذروا ما حذركم الله من عذابه، وسارعوا فيما وعدكم الله من رحمته، وافهموا تفهموا، واتقوا توقوا، فإن الله تعالى قد بين لكم ما أهلك به من كان قبلكم وما نجا به من نجا قبلكم، قد بين لكم في كتابه حلاله وحرامه وما يحب من الأعمال وما يكره، فإني لا آلوكم ونفسي - والله المستعان ولا حول ولا قوة إلا بالله! واعلموا أنكم ما أخلصتم لله من أعمالكم فربكم أطعتم، وحظكم حفظتم واغتبطتم، وما تطوعتم به فاجعلوه نوافل بين أيديكم تستوفوا بسلفكم وتعطوا جزاءكم حين فقركم وحاجتكم إليها، ثم تفكروا عباد الله في إخوانكم وصحابتكم الذين مضوا! قد وردوا على ما قدموا فأقاموا عليه، وحلوا في الشقاء والسعادة فيما بعد الموت، إن الله ليس له شريك، وليس بينه وبين أحد من خلقه نسب يعطيه به خيرا، ولا يصرف عنه سوء إلا بطاعته واتباع أمره، فإنه لا خير في خير بعده النار، ولا شر في شر بعده الجنة - أقول قولي هذا واستغفر الله لي ولكم، وصلوا على نبيكم صلى الله عليه والسلام عليه ورحمة الله وبركاته. "ابن أبي الدنيا في كتاب الحذر، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواعظ وخطبات ابوبکر
44185 قاسم بن محمد کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عمر اور والید بن عقبہ کی طرف خط لکھا آپ (رض) نے ان دونوں کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تھا دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ہی طرح کی وصیت کی چنانچہ فرمایا : ظاہر اور پوشیدہ میں اللہ سے ڈرتے رہو چونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سختی وتنگی سے نکلنے کا راستہ دیتے ہیں اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتے ہیں جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں مٹا دیتے ہیں اور اس کو اجر عظیم دیتے ہیں، اللہ کے ڈر سے جب تک خیر خواہی کی جائے تو بہتر رہتا ہے ، تم اللہ کی راہ میں ہو تمہیں مداہنت تفریط اور غفلت ناروا ہیں چونکہ جس سے تم غفلت برتو گے اس میں تمہارے دین کی کامیابی ہے اور تمہارے امر کی عصمت ہے لہٰذا بھول چوک سے دور رہو۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا پھر فرمایا : خبردار ! اہرامر کے جوامع ہوتے ہیں جو ان تک پہنچ گیا وہ اسے کافی ہیں جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوگا ، تم اپنے اوپر کوشش اور میانہ روی کو لازم کرلو چونکہ میانہ روی مقصد تک پہنچا دیتی ہے خبردار جس کا ایمان نہیں اس کا دین نہیں جس میں خلوص نہیں اس کا جروثواب نہیں جس کی نیت نہیں اس کا عمل نہیں خبردار میرے پاس اللہ کی کتاب ہے جو جہاد فی سبیل اللہ کے ثواب پر واضح دلیل ہے اللہ تعالیٰ نے اسی نجات پر دلیل بھی دی ہے اسی کے ذریعے رسوائی سے نجات ملتی ہے دنیا و آخرت میں حق اسی پر دائر ہے۔ رواہ ابن عساکر مواعظ وخطبات عمر (رض)
44185- عن القاسم بن محمد قال: كتب أبو بكر إلى عمرو والوليد بن عقبة وكان بعثهما على الصدقة، وأوصى كل واحد منهما بوصية واحدة: اتق الله في السر والعلانية، فإنه من يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب، ومن يتق الله يكفر عنه سيئآته ويعظم له أجرا، فإن تقوى الله خير ما تواصى به عباد الله، إنك في سبيل الله لا يسعك فيه الإدهان 1 والتفريط ولا الغفلة عما فيه قوام دينكم وعصمة أمركم، فلا تن ولا تفتر، وقام أبو بكر في الناس خطيبا فحمد الله وصلى على رسوله صلى الله عليه وسلم وقال: ألا! إن لكل أمر جوامع، فمن بلغها فهو حسبه، ومن عمل لله عز وجل كفاه الله، عليكم بالجد والقصد، فإن القصد أبلغ، ألا إنه لا دين لأحد لا إيمان له، ولا أجر لمن لا حسبة له، ولا عمل لمن لا نية له، ألا! وإن لي كتاب الله من الثواب على الجهاد في سبيل الله ما ينبغي للمسلم أن يحب أن يحضره، هي النجاة التي دل الله عليها، ونجا بها من الخزي، وألحق بها الكرامة في الدنيا والآخرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44186 قبیلہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو منبر پر کھڑے فرماتے سنا ہے : جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا جو بخشتا نہیں اس کی بخشش بھی نہیں کی جاتی جو توبہ نہیں کرتا اس کی توبہ بھی قبول نہیں کیا جاتا اور جو تقویٰ نہیں اختیار کرتا اسے بچایا بھی نہیں جاتا۔ رواہ البخاری فی الادب المفرد وابن خزیمۃ وجعفر القاری فی الزھد
44186- عن قبيصة قال: سمعت عمر وهو يقول على المنبر: من لا يرحم لا يرحم، ومن لا يغفر لا يغفر له، ومن لا يتوب لا يتاب عليه، ومن لا يتق لا يوقه. "خ في الأدب، وابن خزيمة، وجعفر القاري في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44187 باھلی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) شام میں جابیہ کے مقام پر لوگوں کے درمیان خطاب فرمانے کھڑے ہوئے : قرآن مجید سیکھو اور اس میں تعرف پیدا کرو، قرآن میں سمجھ بوجھ پیدا کرو اہل قرآن میں سے ہوجاؤ گے چونکہ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں رہتے ہوئے صاحب حق کے مقام تک نہیں پہنچا جاسکتا، جان لو قول حق اور تذکیر عظیم اجل کے قریب نہیں کرتی اور نہ ہی اللہ کے رزق سے دور کرتی ہے، جان لو بندے اور اس کے رزق سے زیادہ نہیں حاصل کرپاتا ، گھوڑوں کو پالو نیزہ بازی سیکھو بغل استعمال کرو، مسواک کرو اور اپنے دادا معد کی عادت اپناؤ (یعنی صحیح عرب کے اخلاق جو اسلامی ہیں اپناؤ) عجم کے اخلاق و عادات سے پرہیز کرو ظاہر و جابر حکمرانوں کی مجاورت سے بچو جو اپنے سینوں پر صلیب اٹھالیتے ہیں ایسے دستر خوان پر مت بیٹھو جس پر شراب پی گئی ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل مت ہو اپنی عورتوں کو حماموں میں مت جانے دو چونکہ یہ حلال نہیں عجمیوں کے شہروں میں ایسا کسب اختیار نہ کرو جو تمہیں وہیں کا کردے چونکہ عنقریب تمہیں اپنے شہروں میں لوٹنا ہوگا تم عرب کے چلتے پھرتے اموال کو پالو جنہیں تم جہاں جی چاہے لے جاتے ہو جان لو شرابیں تین چیزوں سے بنائی جاتی ہیں : کشمش سے شہد سے اور کھجوروں سے ان سے جو مواد حاصل کیا جاتا ہے وہ شراب ہے سرکہ نہیں ہوتا، جان لو اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کا تزکیہ نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی قیامت کے دن انھیں اپنے قریب کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا ایک وہ شخص جو اپنے امام سے محض دنیا کے لیے سودہ کرے اگر اسے دنیا مل گئی تو اس کے بچاؤ کا سامان کرتا رہتا ہے اور اگرچہ کچھ نہ ملا تو اس کا وعدہ وفا نہیں رہتا، ایک وہ شخص جو عصر کے بعدنکلے اللہ کی قسمیں اٹھائے کہ ہر چیز اتنے کی خریدی ہے پھر وہ چیز اسی کے قول پر خرید لی جائے مومن کو گالی دینا فسق ہے مومن کو قتل کرنا کفر ہے تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑو۔ جو شخص جادو گر کاہن یا نجومی کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی تعلیمات کا انکار کیا۔ رواہ العدانی
44187- عن الباهلي أن عمر قام في الناس خطيبا مدخله في الشام بالجابية فقال: تعلموا القرآن تعرفوا به، واعملوا به تكونوا من أهله، فإنه لم يبلغ منزلة ذي حق أن يطاع في معصية الله، واعلموا أنه لا يقرب من أجل ولا يبعد من رزق الله قول بحق وتذكير عظيم، واعلموا أن بين العبد وبين رزقه حجابا، فإن صبر أتاه رزقه، وإن اقتحم هتك الحجاب ولم يدرك فوق رزقه، وأدنوا الخيل وانتضلوا وانتعلوا وتسوكوا وتمعددوا 1؛ وإياكم وأخلاق العجم، ومجاورة الجبارين وأن يرفع بين ظهرانيكم صليب، وأن تجلسوا على مائدة يشرب عليها الخمر، وتدخلوا الحمام بغير إزار، وتدعوا نساءكم يدخلن الحمامات، فإن ذلك لا يحل؛ وإياكم أن تكسبوا من عقد الأعاجم بعد نزولكم في بلادهم ما يحبسكم في أرضهم! فإنكم توشكون أن ترجعوا إلى بلادكم؛ وإياكم والصغار أن تجعلوه في رقابكم! وعليكم بأموال العرب الماشية تنزلون بها حيث نزلتم! واعلموا أن الأشربة تصنع من ثلاثة: من الزبيب والعسل والتمر، فما عتق منه! فهو خمر لا يخل؛ واعلموا أن الله لا يزكي ثلاثة نفر، ولا ينظر إليهم، ولا يقربهم يوم القيامة، ولهم عذاب أليم: رجل أعطى إمامه صفقة يريد بها الدنيا، فإن أصابها وقى له، وإن لم يصبها لم يف له؛ ورجل خرج بساعته بعد العصر فحلف بالله لقد أعطى بها كذا وكذا فاشتريت لقوله؛ وسباب المؤمن فسوق وقتاله كفر، ولا يحل لك أن تهجر أخاك فوق ثلاثة أيام؛ ومن أتى ساحرا أو كاهنا أو عرافا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم. "العدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44788 سائب بن مہجان شامی (انہوں نے بعض صحابہ (رض) کو پایا ہے) کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) شام میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی ، وعظ و نصیحت کی، اچھی باتوں کا حکم کیا اور بری باتوں سے روکا پھر فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری طرح خطاب کرنے کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے تقویٰ صلہ رحمی اور آپس کے تعلقات کی بہتری کا حکم دیا اور فرمایا : کہ جماعت کو اپنے اوپر لازم کرلو ایک روایت میں ہے کہ سمع وطاعت کو لازم کرلو، چونکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے جبکہ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے دو آدمیوں سے دوررہتا ہے ہرگز کوئی آدمی عورت کے ساتھ خلوت نہ اختیار کرے چونکہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوگا جس شخص کو اس کی برائی پریشان کرے اور نیکی خوش کرے تو یہ اس کے مومن و مسلمان ہونے کی نشانی ہے، جبکہ منافق کی نشانی یہ ہے کہ برائی اسے پریشان نہیں کرتی نیکی اسے خوش نہیں کرتی اگر بھلائی کا عمل کرے بھی تو اسے ثواب کی کوئی امید نہیں ہوتی اگر براعمل اس سے سرزد ہو تو اس شرپر مرتب ہونے والی عقوبت سے نہیں ڈرتا، طلب دنیا میں اچھائی پیدا کرو چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو چونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام کتاب اسی کے پاس ہے۔ صلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ۔ رواہ ابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر وقال ھذ خطبۃ عمر بن خطاب علی اھل الشام ارھا عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
44188- عن السائب بن مهجان من أهل الشام وكان قد أدرك الصحابة قال: لما دخل عمر الشام حمد الله وأثنى عليه ووعظ وذكر وأمر بالمعروف ونهى عن المنكر ثم قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فينا خطيبا كقيامي فيكم، فأمر بتقوى الله وصلة الرحم وصلاح ذات البين، وقال: عليكم بالجماعة - وفي لفظ: بالسمع والطاعة - فإن يد الله على الجماعة، وإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد، لا يخلون رجل بامرأة فإن الشيطان ثالثهما، ومن ساءته سيئته وسرته حسنته فهي أمارة المسلم المؤمن، وأمارة المنافق الذي لا تسوءه سيئته ولا تسره حسنته، إن عمل خيرا لم يرج من الله في ذلك الخير ثوابا، وإن عمل شرا لم يخف من الله في ذلك الشر عقوبة، فأجملوا في طلب الدنيا، فإن الله قد تكفل بأرزاقكم، وكل سيتم له عمله الذي كان عاملا، استعينوا بالله على أعمالكم فإنه يمحو ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب، صلى الله على نبينا محمد وعلى آله، وعليه السلام ورحمة الله، السلام عليكم. "ابن مردويه، هب، كر، وقالا: هذه خطبة عمر بن الخطاب على أهل الشام أثرها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44189 حضرت عمر (رض) نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر (رض) کو خط لکھا امابعد ! میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں چونکہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بہتر بدلہ دیتا ہے جو شکر ادا کرتا ہے اللہ اسے مزید عطا کرتا ہے تقویٰ تمہارا اصل مقصد ہونا چاہیے، تمہارے عمل کا ستون ہونا چاہے، تمہارے دل کا نور ہونا چاہے چونکہ جس کی نیت نہیں ہوتا اس کا عمل نہیں ہوتا جو خالص اللہ کے لیے عمل نہیں کرتا اس کا اجر نہیں ہوتا جس میں نرمی نہیں اس امال نہیں جس شخص میں عمدہ اخلاق نہیں اس کی کوئی بزرگی نہیں۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی التقوی و ابوبکر الصولی فی جزنہ وابن عساکر
44189- عن عمر أنه كتب إلى ابنه عبد الله بن عمر: أما بعد فإني أوصيك بتقوى الله، فإنه من اتقى الله وقاه، ومن توكل عليه كفاه، ومن أقرضه جزاه، ومن شكر زاده، ولتكن التقوى نصب عينيك وعماد عملك وجلاء قلبك، فإنه لا عمل لمن لا نية له، ولا أجر لمن لا حسبة له، ولا مال لمن لا رفق له، ولا جديد لمن لا خلق له. "ابن أبي الدنيا في التقوى، وأبو بكر الصولى في جزئه، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44190 جعفر بن برقان کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے کسی گورنر کو خط لکھا، اس کے آخر میں تھا : کشادگی اور نرمی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرو شدت اور سختی کے حساب سے پہلے پہلے چونکہ جو شخص آسودگی میں اپنا محاسبہ کرتا ہے شدت کے حساب سے پہلے اس کا مرجع رضاء ورشک ہوتا ہے جس شخص کو اس کی زندگی غافل کردے اور برائیں اسے مشغول کردیں اس کا مرجع ندامت و حسرت ہوتا ہے جو تمہیں وعظ کیا جائے اس سے نصیحت حاصل کرو تاکہ تم امور منبی عنہ سے رک سکو۔ رواہ البیہقی فی الزھد وابن عساکر
44190- عن جعفر بن برقان قال: بلغني أن عمر بن الخطاب كتب إلى بعض عماله فكان في آخر كتابه أن حاسب نفسك في الرخاء قبل حساب الشدة، قال من حاسب نفسه في الرخاء قبل حساب الشدة عاد مرجعه إلى الرضاء والغبطة، ومن ألهته حياته وشغلته سيئاته عاد مرجعه إلى الندامة والحسرة، فتذكر ما توعظ به لكي تنتهى عما تنهى عنه. "ق في الزهد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44191 حسن کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! میں اہل دیہات میں سے ہوں اور میری بہت ساری مشغولیات ہیں مجھے وصیت کیجئے جو میرے لیے قابل اعتماد ہو فرمایا : بات سمجھو ! مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ تو انھوں نے اپنا اتھ حضرت عمر (رض) کو تھما دیا فرمایا : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز پڑھو فرض زکوۃ دو حج وعمرہ کرتے رہو امیر کی اطاعت بجا لاؤ اور اپنی ظاہری حالت کو درست کرو باطنی امور کے ٹوہ مت لگاؤ ایسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرلو جس کے ذکر ونشر سے تمہیں حیاء نہ آئے اور تمہیں رسواء نہ کرے ایسی چیز سے گریز کرو جس کے ذکر ونشر سے تمہیں حیاء آئے اور تمہیں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔ دیہاتی بولا : اے امیر المومنین میں ان امور پر عمل کرتا رہوں گا اور جب رب تعالیٰ سے میری ملاقات ہوگی میں کہوں گا کہ ان امور کے متعلق مجھے عمر بن خطاب (رض) نے خبر دی تھی ، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان کو اختیار کرو جب اپنے رب سے ملاقات کرو جو تمہارے دل میں آئے کہہ دو ۔ رواہ ابن عساکر
44191- عن الحسن قال: أتى عمر بن الخطاب رجل فقال: يا أمير المؤمنين! إني رجل من أهل البادية وإن لي أشغالا، فأوصني بأمر يكون لي ثقة وأبلغ به، فقال: اعقل، أرني يدك، فأعطاه يده، فقال: تعبد الله لا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة المفروضة، وتحج وتعتمر، وتطيع، وعليك بالعلانية! وإياك والسر! وعليك بكل شيء إذا ذكر ونشر لم تستحي منه ولم يفضحك! وإياك وكل شيء إذا ذكر ونشر استحييت وفضحك! فقال: يا أمير المؤمنين! أعمل بهن، فإذا لقيت ربي أقول: أخبرني بهن عمر بن الخطاب، فقال: خذهن، فإذا لقيت ربك فقل له ما بدا لك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44192 ۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عمر فرماتے تھے کہ دوزخ کا کثرت سے تذکرہ کرو کیونکہ اس کی گرمی شدید ہے اور اس کی گہرائی زیادہ ہے اور اس کے ہتھوڑے لوہے کے ہیں۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
44192- عن الحسن قال: كان عمر يقول: أكثروا ذكر النار، فإن حرها شديد، وإن قعرها بعيد، وإن مقامعها حديد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44193 حضرت عمر (رض) نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) کی طرف خط لکھا کہ ! امابعد ! حق کے ساتھ لازم رہو، حق تمہارے لیے اہل حق کی منازل واضح کرے گا، فیصلہ حق کے ساتھ کرو۔ والسلام ۔ رواہ ابوالحسن بن رزقویۃ فی جرہ
44193- عن عمر أنه كتب إلى معاوية بن أبي سفيان: أما بعد! فالزم الحق يبين لك الحق منازل أهل الحق، ولا تقض إلا بالحق - والسلام. "أبو الحسن بن رزقويه في جزئه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44194 ابو خالد غسانی کی روایت ہے کہ اہل شام کے چندمشائخ جنہوں نے حضرت عمر (رض) کو پایا ہے ان کا کہنا ہے کہ جب حضرت عمر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا آپ (رض) منبر پر چڑھے جب لوگوں کو اپنے سے نیچے دیکھا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اس کے بعد آپ کا پہلا ۔ کلام یہ تھا۔
ھون علیک فسان الامبور
یکف الالیہ مققا دیرھا
فیشس بساتبک منھیا
ولا قاصر عنک ما مور ھا
ترجمہ : اپنے اوپر آسانی کرو چونکہ امور کی مقاد یر الہ کو روک دیتی ہیں ان امور میں سے منبی عنہ کو بجالانے والا بہت برا ہے اور مامور سے کوتاہی کرنے والا بھی بر آدمی ہے۔ رواہ العسکری
ھون علیک فسان الامبور
یکف الالیہ مققا دیرھا
فیشس بساتبک منھیا
ولا قاصر عنک ما مور ھا
ترجمہ : اپنے اوپر آسانی کرو چونکہ امور کی مقاد یر الہ کو روک دیتی ہیں ان امور میں سے منبی عنہ کو بجالانے والا بہت برا ہے اور مامور سے کوتاہی کرنے والا بھی بر آدمی ہے۔ رواہ العسکری
44194- عن أبي خالد الغساني قال: حدثني مشيخة من أهل الشام أدركوا عمر قالوا: لما استخلف عمر صعد المنبر فلما رأى الناس أسفل منه حمد الله؛ ثم كان أول كلام تكلم به بعد الثناء على الله وعلى رسوله: هون عليك فإن الأمور ... بكف لإله مقاديرها
فليس بآتيك منهيها ... ولا قاصر عنك مأمورها
"العسكري".
فليس بآتيك منهيها ... ولا قاصر عنك مأمورها
"العسكري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44195 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ اگر تم اللہ کے ساتھ خلوت کرو۔ العسکری فی السرائر
44195- عن عمر قال: أوصيكم بالله إن أنتم بالله خلوتم. "العسكري في السرائر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44196 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جو چیز تمہیں اذیت پہنچائے اس سے دور ہو نیک دوست کو اپنائے رکھو جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں ان سے مشاورت کرو۔
رواہ البیہقی فی شعب الایمان
رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44196- عن عمر قال: اعتزل ما يؤذيك، وعليك بالخليل الصالح! وقل ما تجده وشاور في أمرك الذين يخافون الله. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44197 سماک بن حرب کی روایت ہے کہ معرور اور ابن معرور تمیمی کہتے ہیں، میں نے عمر بن خطاب (رض) کو منبر پر کہتے ہوئے سنا اور آپ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھڑے ہونے کی جگہ سے دو سیڑھی نیچے کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے جیسے تمہارا حکمران بنایا ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ رواہ ابن جریر
44197- عن سماك بن حرب قال: سمعت معرورا أو ابن معرور التميمي قال سمعت عمر بن الخطاب وصعد المنبر، قعد دون مقعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بمقعدين فقال: أوصيكم بتقوى الله، واسمعوا وأطيعوا لمن ولاه الله أمركم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44198 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) اپنے خطبہ میں فرمایا : کرتے تھے : تم میں سے اس شخص نے فلاح پائی جو خواہشات نفس، طمع اور غصہ سے محفوظ رہا اور اسے بات میں سچ بولنے کی توفیق دی گئی، چونکہ سچ بھلائی کی طرف لے جاتا ہے، جو جھوٹ بولتا ہے فجور کرتا ہے جو فجور کرتا ہے وہ ہلاک ہوجاتا ہے فجور (گناہ) سے بچو ! جو مٹی سے پیدا ہو اس نے کیا فجور کرنا جس نے پھر مٹی میں واپس جانا ہے، آج زندہ ہے اور کل مردہ ہوگا، دن بدن عمل کرتے رہو، مظلوم کی بددعا سے بچو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔
44198- عن أبي هريرة قال: كان عمر بن الخطاب يقول في خطبته: أفلح منكم من حفظ من الهوى والغضب والطمع، ووفق إلى الصدق في الحديث، فإنه يجره إلى الخير، من يكذب يفجر، ومن تفجر يهلك، إياكم والفجور! ما فجور من خلق من التراب وإلى التراب يعود، اليوم حي وغدا ميت! اعملوا عمل يوم بيوم، واجتنبوا دعوة المظلوم، وعدوا أنفسكم من الموتى. "ق".
তাহকীক: