কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪২১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44199 یحییٰ بن جعدہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) یسار کے پاس سے گزرے آپ (رض) نے انھیں سلام کیا اور فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہیں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
44199- عن يحيى بن جعدة قال: مر عمر بن الخطاب على يسار فسلم عليه وقال: والذي لا إله إلا هو! ما من إله إلا الله، وأوصيكم بتقوى الله. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44200 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے جماعت قرائ ! اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ اور دیکھو رستہ کس قدر واضح ہے، بھلائی کی کاموں میں آگے بڑھو اور مسلمانوں پر بوجھ مت بنو۔
رواہ العسکری فی المواعظ والبیہقی فی شعب الایمان
رواہ العسکری فی المواعظ والبیہقی فی شعب الایمان
44200- عن عمر قال: يا معشر القراء! ارفعوا رؤوسكم، ما أوضح الطريق! فاستبقوا الخيرات، ولا تكونوا كلا على المسلمين. "العسكري في المواعظ، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44201 حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ فکر مندی کے آنسو بہاؤ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی والدینوری
44201- عن عمر قال: استغزروا الدموع بالتذكر. "ابن أبي الدنيا في ... والدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےرحم پر رحم نہیں کیا جاتا
44202 حضرت عمر (رض) نے ایک آدمی کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا : تم لوگوں کو اپنے نفس سے غافل مت سمجھو بلاشبہ معاملہ ان کی بجائے تیری طرف لوٹ آئے گا صرف چلتے چلتے دن کو مت ختم کردو، چونکہ دن میں تم جو عمل بھی کرو گے وہ تمہارے اوپر محفوظ رہے گا جب تم سے برائی سرزد ہوجائے تو اس کے بعداچھائی بھی کرو اس لیے میں نے طلب جلدی حق ہونے کے اعتبار سے کوئی نیک نہیں دیکھی سوائے اس کے جو پر پرانے گناہ کو مٹانے کے لیے نیکی کی گئی ہو۔ رواہ الدنیوری
44202- عن عمر أنه وعظ رجلا فقال: لا تلهك الناس عن نفسك، فإن الأمر يصير إليك دونهم، ولا تقطع النهار ساربا، فإنه محفوظ عليك ما عملت، وإذا أسأت فأحسن، فإني لا أرى شيئا أشد طلبا ولا أسرع دركة من حسنة حديثة لذنب قديم. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفسوں کا محاسبہ
44203 حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو قبل اس سے کہ تمہارا حساب لیا جائے چونکہ یہ تمہارے حساب سے آسان تر ہے، اپنے نفسوں کا وزن کرلو قبل اس سے کہ تمہارا وزن کیا جائے، بڑے دن کی پیشی کے لیے تیاری کرو چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ” یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیۃ “ تمہیں پیش کیا جائے گا اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں رہے گے۔ رواہ ابن المبارک و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل فی الزھد، وابن عساکر، وابن ابی الدنیا فی محاسبۃ النفس و ابونعیم فی الحلیۃ وابن عساکر
44203- عن عمر أنه قال في خطبته: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، فإنه أهون لحسابكم، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا، وتزينوا للعرض الأكبر يوم {تُعْرَضُونَ لا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ} . "ابن المبارك، ص، ش، حم في الزهد، كر، وابن أبي الدنيا في محاسبة النفس، حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفسوں کا محاسبہ
44204 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص حق کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنا معاملہ ظاہر رکھے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
44204- عن عمر قال: من أراد الحق فلينزل بالبراز يعني يظهر أمره. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفسوں کا محاسبہ
44205 جو یبرضحاک سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا : امابعد ! عمل میں قوت ہے اس لیے آج کے عمل کو کل پر مت ٹالو چونکہ جب تم ایسا کرو گے تمہارے اعمال کا تدارک ہوتا رے گا اور تمہیں کسی عمل کو اختیار کرنے کی تمیز نہیں رہے گی اگر تمہیں دوکاموں میں اختیار دیا جائے ان میں سے ایک دنیاوی ہو اور دوسرا اخروی ہو تم اخروی کو دنیاوی پر ترجیح دو ۔ چونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور کتاب اللہ کو سیکھتے سیکھاتے رہو چونکہ کتاب اللہ علم کا سرچشمہ اور دلوں کی بہار ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
44205- عن جويبر عن الضحاك قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري: أما بعد! فإن القوة في العمل أن لا تؤخروا عمل اليوم لغد، فإنكم إذا فعلتم ذلك تداركت عليكم الأعمال، فلا تدرون أيها تأخذون فأضعتم، فإن خيرتم بين أمرين أحدهما للدنيا والآخر للآخرة فاختاروا أمر الآخرة على أمر الدنيا، فإن الدنيا تفنى والآخرة تبقى، كونوا من الله على وجل، وتعلموا كتاب الله فإنه ينابيع العلم وربيع القلوب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفسوں کا محاسبہ
44206 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کتاب کے برتن اور علم کی چشمے بن جاؤ اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو اور اللہ تعالیٰ سے دن بدن کا رزق طلب کرو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں زیادہ رزق دے دیا تو تمہارے لیے باعث ضرر نہیں ہوگا۔ رواہ سفیان بن عینیۃ فی جامعہ واحمد بن حنبل فی الزھد و ابونعیم فی الحلیۃ
44206- عن عمر قال: كونوا أوعية الكتاب وينابيع العلم، وعدوا أنفسكم من الموتى، واسألوا الله رزق يوم بيوم، ولا يضركم إن يكثر لكم. "سفيان بن عيينة في جامعه، حم في الزهد، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے نفسوں کا محاسبہ
44207 سعید بن ابی بردہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ (رض) کو خط لکھا : امابعد ! چرواہوں میں سب سے زیادہ خوش بخت وہ ہے جس کی بکریاں اچھی ہوں، اور سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس کی بکریاں بری ہوں تم غلط چراگاہ سے بچو چونکہ تمہاری رعیت بھی غلط چرنے لگے گی اس کی مثال اس چوپائے کی سی ہے جو زمین پر سبزہ دیکھے اور وہ موٹا ہونے کے لیے اس میں جاکر چرنے لگے، حالانکہ اس کی موت موٹا ہونے میں ہے۔ والسلام علیکم۔ رواہ ابن ابی شیبۃ و ابونعیم فی الحلیۃ
44207- عن سعيد بن أبي بردة قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد! فإن أسعد الرعاة من سعدت رعيته، وإن أشقى الرعاة من شقيت رعيته، وإياك أن ترتع فترتع عمالك! فيكون مثلك عند ذلك مثل بهيمة نظرت إلى خضرة من الأرض فرتعت فيها تبتغي بذلك السمن، وإنما حتفها في سمنها - والسلام عليك. "ش، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک کو عدل و انصاف ملنا
44208 محمد بن سوقہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نعیم بن ابی ھند کے پاس آیا انھوں نے مجھے ایک کتابچہ نکال کر دکھایا کیا دیکھتا ہوں اس میں ایک خط ہے (جس کا مضمون یہ ہے) ابوعبیدہ بن جراح (رض) ومعاذ بن جبل (رض) کی جانب سے عمر بن خطاب (رض) کو ملے ۔ السلام علیکم ! امابعد جب ہم آپ کے ساتھ رہے اس وقت آپ کے نفس کا معاملہ آپ کے ہی سپرد تھا جبکہ صبح کو اس امت کے سرخ و سیاہ کے امور کے آپ والی تھے، اب آپ کے سامنے شریف بھی بیٹھے گا کمتر و حقیر بھی دشمن بھی بیٹھے گا اور دوست بھی، ہر ایک کو عدل وانصارف کا حصہ ملنا چاہیے، اے عمر (رض) اس وقت آپ کی حالت کیسی ہوگی، ہم آپ کو اس دن سے ڈراتے ہیں جس دن چہرے تھکے ہوئے ہوں گے ، دل خشک ہوچکے ہوں گے، جس دن تمام تر حجتیں ایک ہی بادشاہ کے جبروقہر سے قطع ہوجائیں گی مخلوق اس کے آگے جھکی ہوئی ہوگی، لوگ اس کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہوں گے، ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس امت کا معاملہ یوں لوٹے گا کہ لوگ ظاہراً بھائی بھائی ہوں گے جبکہ باطنا ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہماری کتاب کو اس کے مرتبہ سے الگ اتارا جائے جو مرتبہ اس کا ہمارے دلوں میں ہے، بلاشبہ ہم نے آپ کی طرف نصیحت لکھی ہے۔ والسلام علیک۔ حضرت عمر (رض) نے جواب لکھا : عمر بن خطاب کی جانب سے ابوعبیدہ اور معاذ بن جبل کو۔ السلام علیکم ! امابعد ! تم نے مجھے خط لکھا اور یاد کرایا کہ تم میرے پاس تھے اور میرا معاملہ انہی کی طرح ہے، بلاشبہ میں نے صبح کی تو مجھے اس امت کے سرخ و سیاہ کے امر کا والی بنادیا گیا تھا میرے ساتھ سامنے شریف، کمتر، دشمن اور دوست سب بیٹھیں گے ہر ایک کو اس کا حصہ ملنا ہے، تم نے لکھا کہ اے عمر ! دیکھو اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، حال یہ ہے کہ اس وقت معصیت سے بچانے والا اور طاعت کی قوت دینے والا عمر کو کوئی نہیں ہوگا بجز اللہ تعالیٰ کے تم نے مجھے اس چیز سے ڈرایا ہے جس سے سابقہ امتوں کو ڈرایا جاتا تھا چنانچہ قدیم زمانے سے لوگوں کی اجل کو لیے دن رات کا اختلاف چلا آرہا ہے۔ ہر بعید کو قریب کررہے ہیں اور ہر جدید کو بوسیدہ کرتے چلے آرہے ہیں، دن رات ہر موعود کو ساتھ لاتے ہیں حتیٰ کہ لوگوں کو ان کے ٹھکانوں تک پہنچا دیتے ہیں، یعنی جنت میں یا دوزخ میں، تم نے لکھا کہ اس امت کا معاملہ آخری زمانے میں یوں ہوگا کہ ظاہر میں آپس میں بھائی بھائی اور باطن میں آپس میں دشمن ہوں گے، لیکن تم وہ نہیں ہوا بھی وہ زمانہ نہیں آیا اس زمانہ میں رغبت ورھبت ظاہر ہے چنانچہ بعض لوگوں کی رغبت بعض دوسرے لوگوں کی طرف ان کی دنیا کی اصلاح کے لیے ہوگی اور بعض کا بعض دوسروں سے خوف بھی ہوگا تم نے مجھے نصیحت کے طور پر خط لکھا کہ ہمارے خط کو اس مرتبہ پر اتارنا جو تمہارے دلوں میں ہے بلاشبہ تم نے ٹھیک لکھا اور مجھے خط لکھنا مت چھوڑو میں تم سے بےنیاز نہیں ہوں والسلام علیکم۔ رواہ ابن ابی شیبۃ وھناد
44208- عن محمد بن سوقة قال: أتيت نعيم بن أبي هند فأخرج إلي صحيفة فإذا فيها: من أبي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل إلى عمر بن الخطاب، سلام عليك، أما بعد! ّ فإنا عهدنا وأمر نفسك لك مثلهم، وأصبحت وقد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها يجلس بين يديك الشريف والوضيع، والعدو والصديق، ولكل حصته من العدل، فأنت كيف أنت عند ذلك يا عمر! فإنا نحذرك يوما تعيي فيه الوجوه، وتجف فيه القلوب، وتقطع فيه الحجج بملك قهرهم بجبروته والخلق داخرون له، يرجون رحمته ويخافون عقابه، وإنا كنا نحدث أن أمر هذه الأمة سيرجع في آخر أن تكون إخوان العلانية أعداء السريرة؛ وإنا نعوذ بالله أن ينزل كتابنا إليك سوى المنزل الذي نزل من قلوبنا، فإنا كتبنا به نصيحة والسلام عليك، فكتب إليهما: من عمر بن الخطاب إلى أبي عبيدة ومعاذ بن جبل، سلام عليكما، أما بعد! فإنكما كتبتما إلي تذكر أن أنكما عهدتماني وأمر نفسي لي مثلهم، فإني قد أصبحت وقد وليت أمر هذه الأمة أحمرها وأسودها يجلس بين يدي الشريف والوضيع، والعدو والصديق، ولكل حصته من ذلك؛ وكتبتما فانظر كيف أنت عند ذلك يا عمر! وإنه لاحول ولاقوة عند ذلك لعمر إلا بالله، وكتبتما تحذراني ما حذرت به الأمم قبلنا، وقديما كان اختلاف الليل والنهار بآجال الناس يقربان كل بعيد ويبليان كل جديد، يأتيان بكل موعود حتى يصيران الناس إلى منازلهم من الجنة والنار؛ كتبتما تذكران أنكما تحدثان أن أمر هذه الأمة سيرجع في آخر زمانها أن تكون إخوان العلانية أعداء السريرة، ولستم بأولئك، هذا ليس بزمان ذلك، وإن ذلك زمان تظهر فيه الرغبة والرهبة، تكون رغبة بعض الناس إلى بعض لصلاح دنياهم، ورهبة بعض الناس من بعض؛ كتبتما به نصيحة تعظاني بالله أن أنزل كتابكما سوى المنزل الذي نزل من قلوبكما، فإنكما كتبتما به وقد صدقتما فلا تدعا الكتاب إلي، فإني لا غنى بي عنكما والسلام عليكما. "ش، وهناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک کو عدل و انصاف ملنا
44209 ابن زبیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ہیں جو باطل کو مٹا دیتے ہیں اور حق کو زندہ رکھتے ہیں، بھلائی کے کاموں میں رغبت رکھتے ہیں اور انھیں رغبت دی بھی جاتی ہے وہ ڈرتے بھی ہیں اور انھیں ڈر عطا بھی ہوا ہے وہ خوف خدا سے خالی نہیں رہتے جو انھوں نے دیکھا نہیں ۔ (آخرت) اس کا وہ یقین رکھتے ہیں، نہ ختم ہونے والی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، انھیں خوف ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انھوں نے آخرت کے لیے دنیا کو چھوڑ دیا ہے حیات ان کے لیے نعمت اور موت ان کے لیے کرامت ہے حورعین سے ان کی شادی کرائی جائے گی اور جنتی لڑکوں سے ان کی خدمت کروائی جائے گی۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ
44209- عن ابن الزبير قال: قال عمر بن الخطاب: إن لله عبادا يميتون الباطل بهجره، ويحيون الحد بذكره، رغبوا فرعبوا، ورهبوا فرهبوا، إن خافوا فلا يأمنون، أبصروا من اليقين ما لم يعاينوا، فخلطوه بما لم يزالوا، أخلقهم الخوف، فكانوا يهجرون بما ينقطع عنهم لما يبقي لهم، الحياة عليهم نعمة والموت لهم كرامة. فزوجوا الحور العين وأخدموا الولدان المخلدين. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک کو عدل و انصاف ملنا
44210 زید بن حدیر کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے زید بن حدیر ! کیا تم جانتے ہو کہ کونسی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے گمراہ امام، منافق کا قرآن کے ساتھ جھگڑا ، وہ قرض جو تمہاری گردنوں کو توڑ ڈالے مجھے تمہارے اوپر عالم کے پھسل جانے کا خدثہ ہے گمراہ عالم اگر ہدایت پر آجائے تو اس کے دین کی تقلید مت کرو، اگر عالم گمراہ رہے تو اس سے مایوس مت ہوجاؤ چونکہ عالم توبہ بھی کرسکتا ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ غنا ڈال دے گویا اس نے فلاح پائی۔ رواہ العسکری فی المواعظ
44210- عن زياد بن حدير أن عمر بن الخطاب قال: يا زياد ابن حدير! هل تدري ما يهدم الإسلام؟ إمام ضلالة، وجدال منافق بالقرآن ودين يقطع أعناقكم، وأخشى عليكم زلة عالم، فأما زلة العالم فإن اهتدى فلا تقلدوه دينكم، وإن زل فلا تقطعوا منه إياسكم، فإن العالم يزل ثم يتوب، ومن جعل الله غناه في قلبه فقد أفلح. "العسكري في المواعظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک کو عدل و انصاف ملنا
44211 حسن کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : لوگو ! جو شخص شر سے بچتا رہا، اسے بچا لیا جاتا ہے، اور جو شخص خیروبھلائی کی اتباع کرتا ہے اسے بھلائی عطا کردی جاتی ہے۔ رواہ العسکری فی المواعظ
44211- عن الحسن أن عمر كان يقول: يا أيها الناس! إنه من يتق الشر يوقه، ومن يتبع الخير يؤته. "العسكري في المواعظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیر و شر کی پہچان عمل ہے
44212 ابوفراس کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! خبردار ہم تمہیں اس وقت جانتے تھے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود تھے جب وحی کا نزول ہوتا تھا جب ہمیں اللہ تعالیٰ تمہاری خبریں دے دیتا تھا خبردار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے اب ہم تمہیں اپنے قول سے پہچانیں گے جس نے بھلائی کی ہم اس کی بھلائی کا خیال رکھیں گے اور اسے اپنا دوست سمجھیں گے جس نے ہمارے ساتھ برائی کی ہم بھی اس کے بارے میں برا خیال رکھیں گے اور اس سے بغض رکھیں گے تمہارے پوشیدہ حالات تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہیں خبردار ! مجھے ایک زمانہ گزر چکا ہے میں سمجھتا ہوں کہ جس نے اللہ کی رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا اس نے مجھے یہ خیال دیا کہ کچھ لوگ دنیا کے لیے قرآن خوانی کرتے ہیں، خبردار میں اپنے عمال کو تمہارے پاس تمہیں بشارتیں سنانے کے لیے نہیں بھیجتا ہوں اور نہ ہی تمہارے اموال لینے کے لیے بھیجتا ہوں لیکن میں اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین سکھائیں جو بھی اس کے علاوہ کوئی اور کام کرے اسے میرے پاس لاؤ بخدا ! میں اس سے ضرور بدلہ لوں گا ، خبردار ! مسلمانوں کو مت مارو، یوں اس طرح تم انھیں رسوا کردو گے تم انھیں نشانہ مت بناؤ انھیں فتنہ میں ڈال دو گے تم انھیں حقوق سے محروم مت کرو ورنہ تم انھیں کفر تک پہنچا دو گے انھیں پس پردہ مت ڈالو ورنہ انھیں ضائع کردو گے۔ رواہ احمد وابن سعد، وابن عبدالحکم فی فتوح مصر وابن راھویہ فی حلق افعال العباد وھناد ومسدد وابن خزیمۃ والعسکری فی المواعظ وابوذر الھروی فی الجامع والحاکم والبیہقی وابن عساکر و سعید بن المنصور۔
44212- عن أبي فراس قال: خطب عمر بن الخطاب فقال: أيها الناس! ألا إنما كنا نعرفكم إذ بين ظهرانينا النبي صلى الله عليه وسلم وإذ ينزل الوحي وإذ ينبئنا الله من أخباركم، ألا! وإن النبي صلى الله عليه وسلم قد انطلق وانقطع الوحي، وإنما نعرفكم بما نقول لكم، من أظهر منكم خيرا ظننا به خيرا وأحببناه عليه، ومن أظهر لنا شرا ظننا به شرا وأبغضناه عليه، سرائركم بينكم وبين ربكم، ألا إنه قد أتى على حين وأنا أحسب أن من قرأ القرآن يريد الله وما عنده، فقد خيل إلي بآخره أن رجالا قد قرؤه يريدون به ما عند الناس، فأريدوا الله بقراءته. وأريدوه بأعمالكم، ألا! وإني والله ما أدجل عمالي إليكم ليضربوا أبشاركم ولا ليأخذوا أموالكم، ولكن أرسلهم إليكم ليعلموكم دينكم وسنتكم، فمن فعل به سوى ذلك فليرفعه إلي، فوالذي نفسي بيده! إذا لأقصنه منه، ألا! لا تضربوا المسلمين فتذلوهم، ولا تجمروهم فتفتنوهم، ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم، ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم. "حم، وابن سعد، وابن عبد الحكم في فتوح مصر، وابن راهويه في خلق أفعال العباد، وهناد ومسدد وابن خزيمة، والعسكري في المواعظ، وأبو ذر الهروي في الجامع، ك، ق، كر ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیر و شر کی پہچان عمل ہے
44213 ۔۔۔ حضرت یعقوب بن عبدالرحمن زہری موسیٰ بن عقبہ کی روایت ہے کہ جابیہ کے موقع پر حضرت عمر (رض) کا خطاب یہ تھا، اما بعد ! میں تمہیں تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اس کے سوا جو کچھ ہے وہ فنا ہے۔ تقویٰ ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو عزت عطا فرماتا ہے اور معصیت کی وجہ سے اپنے دشمنوں کو گمراہ کردیتا ہے، جو شخص ضلالت کو ہدایت سمجھ کر کرتا ہے وہ ہلاک ہوجاتا ہے اور اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا اور جس حق کو اس نے ضلالت سمجھ کر چھوڑ دیا اس کے لیے بھی کوئی عذر نہیں جو نگہبان (حکمران) اپنی رعیت سے معاہدہ کرتا ہے اس کا معاہدہ اللہ کا مقرر کردہ ہونا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ رعیت کو حق کی ہدایت دے ، ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم تمہیں وہی حکم کریں جس کا حکم ہمیں اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، یعنی اس کی اطاعت کا حکم دیں اور اس کی نافرمانی سے تمہیں روکیں یہ کہ ہم قریب وبعید کو اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لانے کا کہتے ہیں : ہمیں مالی حق کی کوئی پروا نہیں ہے، حالانکہ مجھے علم ہے کہ بہت سے اپنے دین کے متعلق تمنا رکھتے ہیں اور کہتے ہیں : ہم نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ مجاہدین کے ساتھ جہاد کرتے ہیں، ہم ہجرت بھی کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ کرتے ہیں لیکن اس کا حق نہیں بجا لاتے۔ ظاہری بناؤ سنگھار سے ایمان نہیں ہوتا، نماز کا مقررہ وقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے بطور شرط مقرر کیا ہے اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی تاہم فجر کا وقت تب ہوتا ہے جب رات بیت جائے اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجائے ، ظہر کا وقت تب ہوتا ہے جس سورج آسمان سے ڈھلنا شروع ہوجائے اور تمہارا سایہ تمہارے مثل ہوجائے۔ جاڑے میں تب ہوتا جب فلک سے سورج ڈھل جائے۔ حتیٰ کہ تمہہاری دائیں جانب ہو۔ وضو، رکوع اور سجو د میں اللہ تعالیٰ کی شرطوں کی رعایت کے ساتھ۔ یہ اس لیے تاکہ نمازی سو نہ جائے۔ عصر کا وقت تب ہوتا ہے جب سورج سفید ٹکیا کی مانند ہو اور ابھی زردی مائل نہ ہو۔ حتیٰ کہ سورج غروب ہونے سے قبل مسافر بھاری بھرکماونٹ پر دو فرسخ سفر کرلے۔ مغرب کا وقت تب ہوتا ہے جب سورج غروب ہوجائے اور روزہ دار روزہ افطار کرے۔ عشاء کا وقت تب ہوتا ہے جب رات چھا جائے اور افق کی سرخی غائب ہوجائے۔ حتیٰ کہ ایک تہائی رات تک، اس سے قبل جو شخص سو جائے اللہ تعالیٰ ای کی آنکھ کو نہ سلائے یہ نمازوں کے اوقات ہیں بلاشبہ نماز مومنین پر وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔ کوئی گناہ گار شخص یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ میں نے ہجرت کی، حالانکہ اس نے ہجرت نہیں کی۔ چونکہ ہجرت تو گناہوں کو چھوڑ کر ہوتی ہے۔ بہت ساری قومیں کتی ہیں کہ ہم نے جہاد کیا، جہاد تو وہ ہے جو فی سبیل اللہ کیا جائے اور دشمن سے لڑا جائے اور حرام سے اجتناب کیا جائے۔ بہت ساری قوموں نے اچھا قتال کیا ہے، حالانکہ اس سے ان کا ارادہ اجر وثواب کا نہیں ہوتا۔ بلاشبہ قتل تو ایک طرح کی موت ہے ہر آدمی پر وجہ قتل برقرار رہتی ہے۔ بلاشبہ آدمی اپنی طبعی شجاعت کے بل بوتے پر لڑتا ہے۔ پس معروف وغیر معروف نجات پا جاتا ہے۔ ایک آدمی اپنی طبعی سستی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے اور اپنے ماں باپ کو محفوظ رکھ لیتا ہے بلاشبہ کتا اس کے گھر پر بھونک رہا ہوتا ہے ، جان لو کہ وہ روزہ حرام ہے جس میں مسلمانوں کو اذیت پہنچائی جائے۔ مسلمان کو اذیت پہنچانا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح (بحالت روزہ) کھانا پینا اور بیوی سے ہمبستری کرنا حرام ہے یہی کامل روزہ سمجھا جاتا ہے۔ ادائے زکوۃ بھی اللہ تعالیٰ کا فریضہ ہے جو تمہیں وعظ کیا گیا ہے اسے خوب سمجھو۔ خوش بخت وہ ہے جسے اس کے غیر کی وصیت کی جائے۔ بدبخت تو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت ہوتا ہے۔ بدعتیں بدترین امور ہیں ، سنت کے معاملہ میں میانہ روی بہترین ہے بنسبت بدعت میں کوشش کرنے سے ۔ بلاشبہ لوگوں میں ان کے حکمرانوں کے متعلق نفرت پائی جاتی ہے۔ میں نفرت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، تم کینہ، بدعات اور دنیاداری سے بچتے رہو۔ میں ظالموں کی طرف میلان کرنے سے ڈرتا ہوں۔ مالدار سے مطمئن مت رہو، اس قرآن کو مضبوطی سے پکڑے رکھو، چونکہ قرآن میں نور اور شفاء ہے اور قرآن کے علاوہ میں شقاوت ہے۔ میں نے رب تعالیٰ کی عطا کی ہوئی ولایت کے متعلق امور کو پورا کیا ہے، تمہاری خیر خواہی کے لیے میں نے تمہیں وعظ کیا ہے، ہمیں تمہیں عطا کرنے کا حکم ہوا ہے، ہم نے تمہارے لیے بہت سارے لشکر تیار کیے ہیں اور تمہارے لیے غزوات کا سامان مہیا کیا ہے ، تمہاری منازل کو ہم نے ثابت رکھا ہے اور تمہاری نہج میں ہم نے وسعت پیدا کی ہے۔ تم اپنی تلواروں سے لڑتے رہو، تمہارے لیے اللہ پر کوئی حجت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمہارے اوپر حجت ہے۔ اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم۔
44213- حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الزهري حدثنا موسى ابن عقبة قال: هذه خطبة عمر بن الخطاب يوم الجابية: أما بعد! فإني أوصيكم بتقوى الله الذي يبقى ويفنى ما سواه، الذي بطاعته يكرم أولياؤه، وبمعصيته يضل أعداؤه، فليس لهالك هلك معذرة في فعل ضلالة حسبها هدى، ولا في ترك حق حسبه ضلالة، وإن أحق ما تعاهد الراعي من رعيته أن يتعاهدهم بما لله عليه من وظائف دينهم الذي هداهم الله له، وإنما علينا أن نأمركم بما أمركم الله به من طاعته وننهاكم عما نهاكم الله عنه من معصيته، وأن نقيم فيكم أمر الله عز وجل في قريب الناس وبعيدهم، ولا نبالي على من مال الحق، وقد علمت أن أقواما يتمنون في دينهم فيقولون: نحن نصلي مع المصلين، ونجاهد مع المجاهدين، وننتحل الهجرة، وكل ذلك يفعله أقوام لا يحملونه بحقه، وإن الإيمان ليس بالتحلي، وإن للصلاة وقتا اشترطه الله فلا تصلح إلا به، فوقت صلاة الفجر حين يزايل المرء ليله ويحرم على الصائم طعامه وشرابه، فآتوها حظها من القرآن، ووقت صلاة الظهر إذا كان القيظ فحين تزيغ عن الفلك حتى يكون ظلك مثلك، وذلك حين يهجر المهجر، فإذا كان الشتاء فحين تزيغ عن الفلك حتى تكون على حاجبك الأيمن مع شروط الله في الوضوء والركوع والسجود، وذلك لئلا ينام عن الصلاة، ووقت صلاة العصر والشمس بيضاء نقية قبل أن تصفار قدر ما يسير الراكب على الجمل الثقال فرسخين قبل غروب الشمس، وصلاة المغرب حين تغرب الشمس ويفطر الصائم، وصلاة العشاء حين يعسعس الليل وتذهب حمرة الأفق إلى ثلث الليل، فمن رقد قبل ذلك فلا أرقد الله عينيه، هذه مواقيت الصلاة، إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا، ويقول الرجثي: قد هاجرت، ولم يهاجر، وإن المهاجرين الذين هجروا السيئات، ويقول أقوام: جاهدنا، وإن الجهاد في سبيل الله مجاهدة العدو واجتناب الحرام، وقد يقاتل أقوام يحسنون القتال، لا يريدون بذلك الأجر ولا الذكر، وإنما القتل حتف من الحتوف، وكل امرئ على ما قاتل عليه، وإن الرجل ليقاتل بطبيعته من الشجاعة فينجي من يعرف ومن لا يعرف، وإن الرجل ليجبن بطبيعته فيسلم أباه وأمه وإن الكلب ليهر 1 من وراء أهله. واعلموا أن الصوم حرام يجتذب فيه أذى المسلمين، كما يمنع الرجل من لذته من الطعام والشراب والنساء، فذلك الصيام التام، وإيتاء الزكاة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم طيبة بها أنفسهم، فلا يرون عليها برا، فافهموا ما توعظون به، فإن الحرب من حرب دينه، وإن السعيد من وعظ بغيره، وإن الشقى من شقى في بطن أمه، وإن شر الأمور مبتدعاتها، وإن الاقتصاد في سنة خير من الاجتهاد في بدعة، وإن للناس نفرة عن سلطانهم، فعائذ بالله أن يدركني! وإياكم ضغائن مجبولة وأهواء مشبعة ودنيا مؤثرة! وقد خشيت أن تركنوا إلى الذين ظلموا فلا تطمئنوا إلى من أوتى مالا، وعليكم بهذا القرآن! فإن فيه نورا وشفاء، وغيره الشقاء، وقد قضيت الذي علي فيما ولاني الله عز وجل من أموركم، ووعظتكم نصحا لكم، وقد أمرنا لكم بأرزاقكم، وقد جندنا لكم جنودكم وهيأنا لكم مغازيكم، وأثبتنا لكم منازلكم ووسعنا لكم ما بلغ فيكم وما قاتلتم عليه بأسيافكم، فلا حجة لكم على الله بل لله الحجة عليكم أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم. " ... ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبات ومواعظ حضرت علی کرام اللہ وجہہ
44214 شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنائے گئے، آپ (رض) منبر پر چڑھے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھے ہمت نہ دے کہ میں اپنے آپ کو حضرت ابوبکر (رض) کی جگہ بیٹھا دیکھوں۔ چنانچہ آپ (رض) ایک درجہ نیچے اتر آئے، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : قرآن پڑھتے رہو اور اس سے معرفت پیدا کرو۔ قرآن پر عمل کرو ، اہل قرآن بن جاؤ گے۔ اپنے نفسوں کا وزن کرو قبل اس سے کہ تمہارے اعمال کا وزن کیا جائے۔ قیامت کے لیے تیار رہو، اس دن اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوگی جو شخص معصیت کا مرتکب ہو وہ حق تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا، میں اپنے آپ کو یتیم کے ذمہ دار کی جگہ اتار رہا ہوں اگر میں مالدار ہوا تو عفت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گا، اگر محتاج ہوا تو بھلائی کے طریقے سے کھاؤں گا۔ رواہ الدینوری
44214- عن الشعبي قال: لما ولى عمر بن الخطاب صعد المنبر فقال: ما كان الله ليراني أن أرى نفسي أهلا لمجلس أبو بكر، فنزل مرقاة فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: اقرؤا القرآن تعرفوا به، واعملوا به تكونوا من أهله، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا، وتزينوا للعرض الأكبر يوم تعرضون على الله لا تخفى منكم خافية، إنه لم يبلغ حق ذي حق أن يطاع في معصية الله، ألا! وإني أنزلت نفسي من مال الله بمنزلة ولى اليتيم، إن استغنيت عففت: وإن افتقرت أكلت بالمعروف. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبات ومواعظ حضرت علی کرام اللہ وجہہ
44215 حضرت علی (رض) نے اپنے بیٹے حسن (رض) کو خط لکھا : ایسے باپ کی طرف سے جو فانی ہے، زمانے کا مستقر ہے، عمر کی سوجھ بوجھ رکھنے والا ہے، زمانے کو اس میں استسلام کرتا ہے، دنیا کی مذمت کرنے والا ہے، مردوں کے ٹھکانوں پر رہنے والا ہے جو کل ہی ان کی طرف کوچ کرجائے گا، ایسے بیٹے کی طرف جو نہ پانے والی امیدیں رکھے ہوئے ہے، ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلتا ہے، جو بیماریوں کا معرض ہے، حادثات کا مقبوض ہے، مصیبتوں کا نشانہ ہے۔ دنیا کا بندہ اور دھوکے کا سوداگر ہے، طرح طرح کی موتوں کا مقروض اور حقیقی موت کا قیدی ، غموں کا معاہد، خزنوں کا دوست، آفات وبلیات کا نشانہ، خواہشات کا پچھاڑا ہو، موتوں کا خلیفہ۔ امابعد ! تمہارے اوپر ظاہر ہوچکا ہے کہ دنیا مجھ سے منہ موڑ چکی ہے اور زمانہ مجھ پر امڈآیا ہے آخرت کا اقبال اس پر کہ جو مجھے غیر کے ذکر سے روکنے والی ہے جو کچھ میرے پیچھے ہے اس کا اہتمام لوگوں کے غم کے علاوہ مھے اپنی جان کا بھی غم ہے چنانچہ میری رائے درست ثابت ہو اور مجھ پر جو خواہش نفس کا تصرف ہے میری کوشش اس کو لے رہی ہے جس میں غیر سنجیدگی نہیں ہے سچائی ہے جس میں جھوٹ کا شائبہ تک نہیں اے میرے میرے بیٹے ! میں نے تمہیں اپنا جزپایا ہے بلکہ میں تو تمہیں اپنا کل سمجھتا ہوں تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے گویا وہ مجھے پہنچتی ہے۔ تمہارے معاملہ کی مراد میں ہوں جس طرح مجھے اپنی فکر ہے ، اسی طرح مجھے تیری فکر ہے۔ میں نے تمہاری طرف یہ خط لکھا ہے اگر میں باقی رہا یا فنا ہوگیا۔ اے بیٹے ! میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصفت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے امر کے لزوم کی وصیت کرتا ہوں اللہ کے ذکر سے دل کی عمارت اس کی محبت کے سہارے کی وصیت کرتا ہوں یہ تمہارے اور اللہ کے درمیان مضبوط قسم کا سبب ہے اے بیٹے وعظ سے اپنے دل کو زندہ رکھو زہد سے اسے مارتے رہو یقین کی قوت سے اسے تروتازہ رکھو موت کی یاد سے اسے رسوا کرو نفس کو دنیا کی مصیبتیں دکھاؤ زمانے کے حملے سے اسے ڈراؤ ایام کے تقلب سے اسے دھمکاؤ گزرے لوگوں کے حالات اس پر پیش کرو اپنے سے پہلے لوگوں کے مصائب کا اس سے تذکرہ کرو ان کے ٹھکانوں کی سیر کرو ان کے آثار سے عبرت حاصل کرو دیکھو انھوں نے کیا کیا، کہاں سے چلے ہیں اور کہاں جا اترے ہیں۔ بلاشبہ تم دیکھو گے کہ وہ اپنے دوست و احباب کے پاس سے رخصت ہوئے ہیں اور جنت کے ٹھکانا میں جا اترے ہیں۔ گویا کہ تم دنیا سے کوچ کرتے وقت انہی کی طرح ہوگے اپنا ٹھکانا درست بناؤ اور اپنی آخرت کو محفوظ کرو غیر معروف بات چھوڑ دوجس چیز کا آپ کو ذمہ دار نہیں بنایا گیا اسے چھوڑ دو جب تمہیں گمراہی کا خوف ہو تو اس وقت سفر سے رک جاؤ چونکہ گمراہی سے رک جانا گمراہی کے سفر سے بہتر ہے۔ امربالمعروف کرو اپنی زبان وہاتھ سے نہی عن المنکر کرتے رہو۔ باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف مائل رہو دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرو اپنے نفس کو ناگوار امور پر صبر کرنے کا عادی بناؤ نفس کو ان امور کی طرف متوجہ رکھو جن کا مرجع آخرت ہے۔ اس طرح تم نفس کو محفوظ ٹھکانا مہیا کردو گے اپنے رب سے اخلاص کے ساتھ مانگو چونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں عطاء و حرمان ہے استخارہ کثرت سے کیا کرو ، میری وصیت کو سمجھو اس سے فروتنی نہیں برتنا۔ اے بیٹے ! جب میں نے اپنے آپ کو بڑھاپے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا اور دیکھا کہ مجھ میں کمزوری کا اضافہ ہورہا ہے، میں نے تمہیں وصیت کرنے میں جلدی کی تاکہ میں اپنے دل کی بات تم تک پہنچادوں اور جسم کی طرح رائے میں نقصان نہ کرو یا کہیں ایسا ہوجائے کہ تمہاری طرف غلبہ خواہشات یا دنیا کے فتنے سبقت نہ کرجائیں پھر آسان کام مشکل تر ہوجائے بلاشبہ بدعتی دل بنجر زمین کی طرح ہوتا ہے میں تمہیں ادب کی نصیحت کرتا ہوں اس سے قبل کہ تم سنگدل ہوجاؤ اور تمہاری عقل مشغول ہوجائے تمہاری رائے کی کوشش تمہارے تجربہ کو کافی ہو اس طرح تمہاری طلب کی کفایت ہوگی اور تم تجربہ کی مشقت سے بچ جاؤ گے جس چیز کے پاس ہم چل کر جاتے ہیں وہ خود تمہارے پاس آچکی ہے تمہارے اوپر معاملہ واضح ہوچکا ہے جو بسا اوقات ہمارے اوپر مخفی رہ جاتا تھا میں پہلوں کی عمر تک نہیں پہنچا ہوں میں نے ان کی عمروں اور واقعات میں غور و فکر کیا ہے میں ان کی آثار پہ چلا ہوں حتیٰ کہ مجھے ان میں سے ایک شمار کیا جانے لگا گویا کہ جب ان کے امور مجھ تک پہنچے تو میں ان کا اول تا آخر کا احاطہ کیا ہے، میں نے صاف ستھرے اور گدلے میں فرق کیا ہے۔ اس کے نفع کو ضرر سے جدا کیا ہے، میں نے ہر چیز کے مغز کو خالص کیا ہے ہر چیز کی عمدگی کو تمہارے سامنے رکھا ہے معاملات کی جہالت کو تم سے دور رکھا ہے میں نے دیکھا کہ تم پر شفقت کرنا مجھ پر واجب ہے لہٰذا تمہیں ادب کی بات بتانا میں نے بہتر سمجھا میری وصیت کو غنیمت سمجھ اور اسے اخلاص نیت اور یقین سے قبول کرو کتاب اللہ کی تعلیم و تاویل تمہارے اوپر وابج ہے شرائع اسلام حکام اسلام اور حلال و حرام کا جاننا تمہارے لیے ضروری ہے اگر تم شبہ سے ڈرو کہ لوگوں کی اھواء وآراء کا اس میں اختلاف رہا ہے جیسا کہ لوگ التباس میں پڑجاتے ہیں ایسی صورت میں اس کی تعلیم پر کمر بستہ ہوجاؤ اے بیٹے ! کسی بھی معاملہ میں اپنی عنایت کو مقدم رکھو تاکہ یہ تمہارے لیے ایک نظر ہو جھگڑے اور فخر سے بچتے رہو۔ دنیا کی طلب نہ ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں رشد و ہدایت کی توفیق عطا فرمائے گا اور سیدھی راہ کی ہدایت دے گا میرا عہد اور میری وصیت قبول کرو جان لو اے بیٹے ! میری وصیت میں سب سے زیادہ محبوب چیز جسے تم اپناؤ گے وہ تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ کے اپنے اوپر فرض کیے ہوئے احکام پر اکتفا کرنا ہے اپنے آباؤ اجداد اور نیکوکاروں کے طریقہ کو اپنانا ہے انھوں نے اپنے نفسوں کی کوئی رو رعایت نہیں کی وہ اپنے معاملہ کے مفکر تھے جس طرح کہ تم ہو پھر انھیں معروف عمل کے اختیار کرنے کی طرف فکر مندی پھیر دیتی تھی جس چیز کا انھیں مکلف نہیں بنایا گیا اس سے رک جاتے تھے اگر تمہارا نفس انکار کرے کہ تم اسے قبول کرو بدون اس کے کہ تم جانو جسے وہ جانتے تھے یوں تمہاری طلب تعلیم و تقسیم اور تدبیر سے ہوگی نہ کہ شبہات کے درپے ہونے سے اور خصومات کے علم میں اس معاملہ میں نظر کرنے سے قبل اپنے رب تعالیٰ سے مدد مانگ لو اس کی طرف رغبت کرو اور ر قسم کے شائبہ جو تمہیں کسی قسم کے شبہ کی طرف لے جائے اس سے بچتے رہو جو تمہیں گمراہی کی طرف لے جائے جب تمہیں یقین ہوجائے کہ تمہارا دل صاف ہوچکا ہے تو اس میں خشوع پیدا کرو جب رائے تمام ہوجائے اس مجتمع کرو یوں تمہارا غم ایک ہی غم ہوگا جو تفسیر میں نے تمہارے لیے کی ہے اس پر غور کرو اگر تمہارا محبوب امر تمہاری فراغت نظر کی وجہ سے مجتمع نہیں ہوا تو جان لو کہ تمہیں تاریکی کا خبط ہوگیا ہے جبکہ طالب دین کو خبط اور خلط کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس وقت امساک افضل ہوتا ہے، میں تم سے پہلی اور آخری بات جو کروں وہ یہ کہ میں اللہ تعالیٰ جو میرا اور تمہارا معبود ہے اولین وآخرین کا معبود ہے اس کی حمدوثناء کرتا ہوں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ میں اس کی حمدوثناء کرتا ہوں جس کا وہ اہل ہے جیسا کہ وہ اس کا اہل بھی ہے، جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے اور اس کے لیے مناسب بھی ہے میں رب تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجے یہ کہ ہمارے اوپر اپنی نعمتوں کا اتمام کرے اور ہمارے مانگنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے، چونکہ اسی کے فضل و کرم سے نیک اعمال تمام ہوتے ہیں جان لو اے بیٹے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ان سے خوشخبری سنانیوالے کی طرح راضی رہو، میں تمہارے حق میں نصیحت کرنے سے کوتاہی نہیں کرتا میں اس نصیحت کے پہنچانے میں بھر پور کوشش کرتا ہوں اپنی عنایت اور طویل تجربہ کی بناء پر تمہارے لیے میری نظر ایسی ہی ہے جیسی میرے اپنے لیے جان لو ! اللہ تعالیٰ واحد و بےنیاز ہے، اس کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں اسے زوال نہیں ہر چیز سے پہلے وہ موجود ہے اور اس کی کوئی اولیت نہیں اور آخر بھی وہی ہے اس کی کوئی انتہا نہیں حکیم ہے، علیم ہے قدیم ہے اور لم یزل ہے جب تمہیں اس کی پہچان ہوچکی تو پھر تمہارے لیے جیسے مناسب ہو کر و تمہاری قدرت کم عاجزی زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف محتاجی، زیادہ طلب حاجت میں اپنے رب سے مدد مانگو طاعت سے رب تعالیٰ تقرب حاصل کرو اس کی طرف رغبت رکھو اور ڈرتے بھی رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے وہ جو حکم دیتا ہے اچھا دیتا ہے اور تمہیں صرف قبیح فعل سے روکے گا اپنے نفس کو اپنے اور غیر کے درمیان میزان مقرر کرلو دوسروں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو دوسروں کے لیے بھی وہ چیز ناپسند کرو جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو جس بات کا تمہیں علم نہیں وہ مت کہو بلکہ جو باتیں تمہارے علم میں ہیں انھیں بھی کم سے کم کہو جس بات کو اپنے حق میں ناپسند سمجھو اسے دوسروں کے حق میں کہہنا بھی ناپسند سمجھو اے بیٹے ! سمجھ لو ! اعجاب صواب کی سند ہے اور عقلمندی کی آفت ہے لہٰذا عقلمندی میں پیش رفت رکھو۔ دوسروں کے خزانچی مت بنو، جب تمہیں میانہ روی کی راہنمائی مل جائے تو اپنے رب کے حضور عاجزی کرو جان لو تمہارے سامنے دور کی مشقت والا ایک راستہ ہے جو شدید ہول ناکیوں سے بھر پور ہے تمہیں اچھی تیاری کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے اپنے پاس اس راستے کے لیے اتنا توشہ رکھنا ہے جو تمہیں کافی وافی ہو اور تمہاری کمر کو بھی نہ جھکائے اپنی سکت سے زیادہ بوجھ مت اٹھاؤ ورنہ تمہارے لیے وبال جان بن جائے گا جب کسی ضرورت مند کو پاؤ جو تمہارا توشہ اٹھاسکتا ہے اسے غنیمت سمجھو جو شخص تم سے قرض مانگے اسے قرض دینا غنیمت سمجھو جان لو تمہارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے جس کا انجام یا تو جنت ہے یا جہنم، اپنے آپ کو اس ٹھکانے کے نزول سے پہلے پہلے تیار کرلو موت کے بعد طلب رضامندی کا کوئی راستہ نہیں پھر دنیا کی طرف واپس نہیں لوٹنا ہوگا جان لو ! جس ذات کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کے خزانے ہیں اس نے تمہیں دعا کا حکم دیا ہے اور قبولیت کی ضمانت دی ہے تمہیں مانگنے کا حکم دیا ہے وہ تمہیں عطا کرے گا اس سے تم اپنی حاجت طلب کرو وہ تم سے راضی رہے گا وہ رحیم ذات ہے اس نے تمہارے اور اپنے درمیان حجاب نہیں رکھا وہ تمہیں کسی قسم کی پریشانی کی طرف مجبور نہیں کرتا تمہیں توبہ سے روکتا بھی نہیں اس نے توبہ کو گناہوں سے پاکی کا ذریعہ بنایا ہے تمہاری برائی کو تنہا رکھا ہے اور تمہاری نیکی کو دس گنا رکھا ہے جب تم اسے پکارو گے وہ تمہارا جواب دے گا جب تم اس سے سرگوشی کرو گے وہ تمہاری سرگوشی کو سنے گا اس کے حضور اپنی حاجت بیان کرو اپنے نفس کا حال اس سے بیان کرو اپنے دکھوں کو اس سے بیان کرو اپنے کاموں میں اس سے مدد مانگو، تم اس کی رحمتوں کے خزانوں سے مانگو جن کی عطا پر اس کا غیر قادر نہیں چونکہ وسعت و کشادگی اور تمام نعمت اسی کے پاس ہے لہٰذا لپٹ لپٹ کر اللہ تعالیٰ سے مانگو، دعا سے رحمت کے دروازے کھلتے ہیں قبولیت دعا میں تاخیر تمہیں مایوس نہ کرے بلاشبہ عطیہ بقدر نیت ہوتا ہے بسا اوقات قبول دعا سائل کے مسئلہ کے طول کی خاطر دعا میں تاخیر ہوتی ہے یوں اس کا اجر وثواب بڑھ جاتا ہے بسا اوقات دعا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کرلی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اجر عطا فرماتا ہے، اور اپنے بندوں سے وہی معاملہ کرتا ہے جو دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہوتا ہے ، لیکن حق تعالیٰ کا لطف و کرم ہر ایک نہیں پاسکتا اور اس کی تدبیر باریکیاں اس کے چنیدہ بندے ہی سمجھ سکتے ہیں تمہارا سوال آخرت کے لیے ہونا چاہیے جو دائمی و باقی ہے تمہاری دنیاوی اصلاح کے لیے ہو تمہارے کام کی آسانی کا ہے جو تمہاری عافیت کو بھی شامل ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قریب ہے اور جواب دیتا ہے جان لو، اے بیٹے ! تمہیں آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ دنیا کے لئے، تمہیں مرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے باقی رہنے کے لیے نہیں اب تم عارضی دارالاقامہ میں ہو اور آخرت کے راستے پر گامزن ہو تم موت کی راہ پر ہو جس سے کسی کو مفر نہیں، اس کا طالب اسے فوت نہیں کرسکتا اس کے آن لینے سے ڈرتے رہو کہ تم برائی کی حالت میں ہو یا برے اعمال میں مبتلا ہو یوں ہمیشہ ہمیشہ کی ندامت اور حسرت میں پڑ جاؤ گے اے بیٹے ! موت کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھو، موت کو اپنا نصب العین بناؤ حتیٰ کہ اس تک پہنچ جاؤ موت اچانک تمہیں نہ آن دبوچے کہ تمہیں مبہوت کردے آخرت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو اس کی کثیر نعمتوں عیش و عشرت دائمی زندگی طرح طرح کی لذات اور قلب آفات کو یاد رکھو دوزخ کے مختلف عذابوں عذابوں شدت غم اور دکھ رد کی فکر کرو اگر تمہیں یقین حاصل ہے تو یہ تمہیں دنیا میں زہد کی نعمت سے نوازے گا اور آخرت کی طرف راغب کرے گا دنیا کی زینت کو کمتر کرے گا دنیا کے دھوکے اور رونق سے دور رکھے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخوبی آگاہ کردیا ہے اور دنیا کی برائیاں کھول کر واضح کردی ہیں دھوکا مت کھاؤ دنیا کے طلب گار بھونکنے والے کتوں کی طرح ہیں ضرر رساں درندے ہیں جو ایک دوسرے پر بھونکے جارہے ہیں دنیا کا غالب کمزور کو دبا لیتا ہے دنیا کا کثیر قلیل ہے یوں تم سیدھی راہ سے پھر جاؤ گے تم اندھے راستے پر چلے جاؤ گے درست وصواب سے بچ جاؤ گے چنانچہ دنیا کے طلبگار دنیا کے فتنوں میں غرق ہوچکے ہیں انھوں نے دنیا کو خوشی سے لیا ہے اور دنیا نے ان کے ساتھ اٹکھیلیاں کی ہیں، اپنے پیچھے آنے والی زندگی کو وہ بھول گئے اے بیٹے ! تم عیب دار دنیا سے بچتے رہو اے بیٹے ! تم دنیا سے کنارہ کش رہو چونکہ دنیا کنارہ کش کی سزاوار ہے، اگر تم میری نصیحت کو سنجیدگی سے نہیں لو گے یقین کرلو تم اپنی امید سے دور رہے اور اپنی اجل کا پیچھا نہ کرسکے بلاشبہ تم اپنے پیشروں کے نقش قدم پر ہوگے طلب میں اچھائی پیدا کرو کمائی کا راستہ تلاش کرو چونکہ بعض طلب انسان کو برائی تک لے جاتی ہے ، ہر طالب بھی مصیب نہیں ہوتا ہر غائب لوٹنے والا بھی نہیں ہوتا اپنے آپ کو گھٹیا امور سے دور رکھو اپنے نفس کو عوض بنانے سے بچتے رہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے اس بھلائی کا کوئی نفع نہیں جو آسانی سے نہ حاصل کی جائے اور آسانی مشکل سے حاصل کی جاتی ہے تم ایسی سواریوں سے بچتے رہو جو ہلاکتوں تک پہنچا دیتی ہیں، اگر تم میں طاقت ہو کہ تمہارے اور رب تعالیٰ کے درمیان کوئی صاحب نعمت نہ ہو تو ایسا ضرور کرو چونکہ تم اپنی قسمت پاؤ گے اور اپنا حصہ لو گے چونکہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا تھوڑا عظیم ترہوتا ہے ، گو کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان بہت اعلیٰ ہے بادشاہوں سے تم صرف فخر ہی حاصل کرو گے معاملات میں میانہ روی اختیار کرو تمہاری عقل کی تعریف کی جائے گی بلاشب تم اپنی عزت اور دین کو نہیں بیچو گے مگر ثمن کے بدلے میں، دھوکا دیا ہوا وہ خص ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حصہ سے محروم ہے لہٰذا دنیا کا حصہ اتنا ہی لو جو تمہارے لیے مقدر ہے جو دنیا تم سے پیٹھ پھر جائے تم بھی اس سے پیٹھ پھیر دو طلب میں خوبصورتی پیدا کرو جو تمہاری ہستی کو عیب دار کرے اس سے دور رہو اور سلطان سے بھی دور رہو شیطان کے قرب سے دھوکا مت کھاؤ جب تھی تم اپنے امور میں برائی دیکھو اسے حسن نظر سے درت کرو چونکہ ہر وصف کی صفت ہوتی ہے ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے ہر امر کی ایک وجہ ہوتی ہے عمل کرنے والا جس میں ہدایت پاجاتا ہے بیوقوف اپنے تعسف کی وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے اے بیٹے ! میں نے کتنے ساروں کو دیکھا کہ جس سے کہا گیا ہو : کیا تم پسند کرتے ہو کہ سو سال تک بغیر آفت واذیت کے تمہیں دنیا بمعہ اس کی لذات کے دے دی جائے اس میں تمہارا کوئی شریک نہ ہو ہاں البتہ آخرت میں تمہیں عذاب دائمی ہو چنانچہ وہ اس اختیار کو اپنے لیے روا نہیں سمجھتا اور نہ ہی اسے پسند کرتا ہے، میں نے بعض کو دیکھا ہے جنہوں نے دنیا کی معمولی زینت کے لیے اپنے دین کو ہلاک کردیا ہے، یہ شیطان کا دھوکا اور اس کے پھندے ہیں، شیطان کے دھوکے اور اس کی پھندوں سے بچتے رہو اے بیٹے ! اپنی زبان قابو میں رکھو، وہ بات مت کرو جس کا تمہیں نقصان اٹھانا پڑے بےنفع بات سے خاموشی بہتر ہے تمہاری تلافی آسان ہے تمہارے بےسمجھے ۔ کلام سے برتن کے منبر کو باندھ کر اپنے برتن کی حفاظت کرو یاد رکھو اپنے ہاتھ میں موجود چیز کی حفاظت دوسرے کے ہاتھ میں موجود چیز سے بہتر ہے حسن تدبیر سے کفایت شعاری اسراف سے بدرجہا بہتر ہے اچھی امید لوگوں سے امیدیں وابستہ کرنے سے بہتر ہے بغیر اعتماد کے بات مت کرو جھوٹے ہوجاؤ گے جھوٹ بیماری ہے اس سے الگ رہو اپنے بیٹے ! رزق کی تنگی پاکدامنی کے ساتھ بہتر ہے اس مالداری سے جو گنہگاری کے ساتھ ہو جو فکر مند رہتا ہے وہ صحاب بصیرت ہوتا ہے جس کی خطائیں زیادہ ہوجاتی ہیں وہ یاواگوئی کرنے لگتا ہے بہت سارے طبائع کند ہیں جو خوش نہیں ہوتے بہت سارے کوشش کرنے والے ہوتے ہیں جو نقصان اٹھا جاتے ہیں بھلائی آدمی کا بہترین ساتھی ہے لہٰذا خیر کو اپنا ساتھی بناؤ انہی میں سے ہوجاؤ گے، اہل شر سے دور رہو ان سے الگ ہوجاؤ گے اپنے اوپر بدگمانی کو غالب مت ہونے دو چونکہ بدگمانی تمہارے اور تمہارے دوست کے درمیان بہتری کا راستہ نہیں چھوڑتی۔ کبھی کبھی کہا جاتا ہے احتیاط میں سوء ظن ہے حرام کھانا بہت بڑا ہے کمزور پر ظلم کرنا بدترین ظلم ہے فحش امر دل کو چیر دیتا ہے جب نرمی چھوڑ دی جائے اس کا انجام جاتا رہتا ہے بسا اوقات بیماری دوابن جاتی ہے اور دوا بیماری بن جاتی ہے بسا اوقات غیر ناصح نصیحت حاصل کرلیتا ہے اور ناصح (جو نصیحت کرنے والا ہو) نصیحت کو بھول جاتا ہے تمناؤں پر بھروسہ مت کرو چونکہ تمنا حماقت کا سامان ہے حسد سے اپنے دل کو پاک کرو، جیسے آگ لکڑیوں کو جلا دیتی ہے ، رات کو لکڑیاں چننے والے اور سیلاب کے خش و خاشاک کی طرح مت ہوجاؤ، کفران نعمت رسوائی ہے جاہل کی صحبت نحوست ہے، عقل تجربات کی محافظ ہے، بہترین تجربہ وہ ہے جو تمہارا رہبر ہو، فرصت کی طرف جلدی کرو کہیں تم مصروف و مشغول نہ ہوجاؤ۔ پختہ ارادہ اور عزم عقلمندی ہے حرمان کا سبب ٹالنا ہے توشے کا ضائع کرنا اور آخرت کو تباہ کرنا فساد ہے ہر کام کا ایک انجام ہوتا ہے بہت سارے مشیر دھوکا دے دیتے ہیں حقیر مددگار میں کوئی بھلائی نہیں بدگمان دوست میں بھی کوئی بھلائی نہیں حلال میں طلب کو مت چھوڑو چونکہ گزارہ وقت کے سوا چارہ کار نہیں جو تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔ تاجر خطرے میں رہتا ہے جس نے بردباری اپنائی اس نے سرداری کی جو معاملہ کو سمجھا اس نے اضافہ کیا اہل خیر سے ملاقات دیوں کی تعمیر ہے جو تمہیں رسوائی کی طرف لے جائے اس سے دور رہو اگر برائی سرزد ہوجائے تو اسے وہ تم سے خیانت کو نہ کردے۔ اس کے راز کو مت افشا کرو گو کہ وہ تمہارا راز افشا کردیتا ہو فضیلت کے کام کرو، اچھائی کے مقام پر خرچ کرو لوگوں کے لیے بھلائی کو محبوب رکھو، چونکہ یہ عالیشان کاموں میں سے ہے، اپنے بیٹے ! یاد رکھو وفاداری بہترین شرافت ہے، حرام سے دور رہنا عزت ہے علاقوں کا کثیر ہونا بخل کی نشانی ہے جھگڑے کی صورت میں اپنے کسی بھائی سے رک جانا بایں حال کہ دل میں اس کی محبت ہو اس پر پل پڑنے سے بہتر ہے کہ اس میں ظلم ہے۔ صلہ رحمی عمدہ شرافت ہے جان بوجھ کر غلطی کرنا قطع تعلقی کی وجہ ہوتی ہے جب اپنے کسی بھائی سے قطع تعلق کی نوبت آئے تو اس وقت بردباری سے کام لو، جب دوری ہو قریبی سے اور جب سختی پر اترو تو نرمی سے جب غلطی کرو تو اسے معذرت سے مٹاڈالو۔ گویا کہ تمہارا بھائی تمہارا آقا ہے تم اس کے غلام ہو اور اس کے تمہارے اور بڑے احسانات ہیں، یہ معاملہ نااہل سے نہیں کر بیٹھنا خبردار دوست کے دشمن کو دوست مت بناؤ چونکہ وہ تمہارے دوست سے دشمنی کرے گا دھوکادہی سے کام مت لو چونکہ یہ کمینوں کی عادت ہے اپنے بھائی سے ہمدردی سے اور خلوص سے پیش آؤ اس سے خیر خواہی کا معاملہ کرو اگرچہ اچھائی ہو یا برائی، ہر حال میں اس کے احسان مند رہو جہاں بھی وہ جائے تم اس کے ساتھ رہو جہاں بھی وہ جائے تم اس کے ساتھ رہو، اس سے بدلہ کا مطالبہ مت کر چونکہ یہ گھٹیا کام ہے اپنے دشمن کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ چونکہ یہ کامیابی کے زیادہ لائق ہے شک کی بنیاد پر اپنے بھائی سے تعلق ختم مت کرو جو تمہارے اوپر سختی کرے اس کے لیے تم نرمی کرو کیا بعید وہ تمہارے لیے کبھی نرم ہوجائے، کتنی بری چیز ہے قطع تعلقی صلہ رحمی کے بعد جفالطف و کرم کے بعد دشمنی دوستی کے بعد اس شخص سے خیانت جو تمہارے اوپر اعتماد کرتا ہو، اس شخص سے بدگمانی جو تم سے اچھا گمان رکھتا ہو جو تمہارے اوپر اعتماد کرنا ہو اس کے ساتھ دھوکا اگر قطع تعلقی کرنے کا تمہارا ارادہ ہو تو پھر بھی تم پہل مت کرو جو تمہارے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو جو تمہارے اوپر اعتماد کرتا ہو اس کے ساتھ دھوکا اگر قطع تعلقی کرنے کا تمہارا ارادہ ہو تو پھر بھی تم پہل مت کرو جو تمہارے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو اس کے گمان کی تصدیق کرو اپنے بھائی کی نیکی کو ضائع مت کرو چونکہ وہ بھائی نہیں رہتا جس کے حقوق کو تم ضائع کردو گے تمہارے اہل خانہ بدبخت نہیں ہونا چاہیے جو شخص تم سے دوری کرے اس کو اپنے لیے راغب مت کرو جو تمہارے قریب ہوا ہے دور مت کرو جب کوئی ایسا مقام آجائے تو تم بھائی کی قطع تعلقی پر قوی مت ہوجاؤ تمہاری برائی تمہارے احسان سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، تمہارا بخل تمہارے خرچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے کوتاہیاں تمہارے فضل سے زیادہ نہ ہو کہیں ہمارے اوپر ظلم کی کثرت نہ کردے جس پر تم نے ظلم کیا ہے چونکہ وہ ضرررسانی میں کوشاں ہے جو تمہیں خوش کرے اس کا بدلہ ناراض کرنا نہیں ہوتا جان لو اے بیٹے ! رزق کی دو قسمیں ہیں ایک رزق وہ جسے تم تلاش کرتے ہو دوسرا رزق وہ جو تمہاری تلاش میں رہتا ہے اگر تم اس کے پاس نہ آئے وہی تمہارے پاس آجائے گا جان لو زمانہ کے حوادث بیشمار ہیں خبردار جو تمہیں گالی دے وہ زمانے کے لیے لعنت کا باعث ہوتا ہے لوگوں کے ہاں وہ قابل معذرت ہوتا ہے۔ بہت بڑا ہے حاجت کے وقت جھک جانا، مالدار ہوتے ہوئے جفاکشی دنیا میں تمہارے لیے وہی ہے جو تم اپنا ٹھکانا درست کرو گے۔ اپنی آسانی کے مطابق خرچ کرو، تم دوسروں کے خازن مت بنو جو چیز تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اس پر جزع فزع مت کرو۔ ناممکن سے ممکنات پر استدلال کرو بلاشبہ امور میں اشتباہ ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں نعمت والے کفران مت کرو بلاشبہ کفر نعمت قلت شکر اور مخلوق کی رسوائی سے ہے ان لوگوں میں سے مت ہوجاؤ جنہیں عظمت کوئی نفع نہیں پہنچاتی عقلمند قلیل سے بھی نصیحت حاصل کرلیتا ہے، چوپائے مارنے سے نفع پہنچاتے ہیں غیر سے نصیحت حاصل کرو تمہارا غیر تم سے نصیحت حاصل کرنے والا نہ ہو صالحین کی عادات کو اپناؤ ان کے آداب کو لو اور ان کے طریقہ کار پر چلو حق کو پہنچانو برائی کو اپنے سے پہلے دور کرلو غموں کے سلسلے کو دور رکھو اور صبر کرو اور حسن یقین پیداکرو جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ ظلم سے دور رہتا ہے قناعت آدمی کا بہترین حصہ ہے حسد آدمی کے دل کو برباد کردیتا ہے ناامیدی میں تفریط ہے حسد نقصان کو نہیں لاتا۔ ہر حال وہ تمہارے دل کو کمزور کرتا ہے اور جسم کو مریض بناتا ہے۔ حسد کو اپنے سے دور رکھو اور اسے غنیمت سمجھو اپنے سینے کو دھوکا دہی سے پاک رکھو سلامت رہو گے اس رب سے مانگو جس کے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان کے خزانے ہیں اس سے عمدہ کمائی طلب کرو اسے اپنے قریب تر پاؤ گے بخل ملامت کو لاتا ہے نیک دوست مناسب ہوتا ہے، دوست وہ ہے جس کا نہ ہونا بھی سچا ہو خواہش نفس اندھے پن کی شریک ہے وسعت رزق اللہ تعالیٰ کی توفیق میں سے ہوتی ہے یقین غموں کو دور کرتا ہے، صدق میں نجات ہے جھوٹ کا انجام بہت برا ہوتا ہے بہت سارے دور رہنے والے قریب ہوتے ہیں اور بہت سارے قریب ہونے والے بہت دور ہوتے ہیں غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو جو شخص حق سے تجاوز کرجائے اس کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے ، جو شخص اپنے مقدر پر اکتفا کرلیتا ہے وہ اس کے لیے باقی رہتا ہے اخلاق بہت اچھا ہوتا ہے۔۔۔ خالص تقویٰ پختہ چیز ہے کبھی کبھارناامیدی کا ادراک ہوتا ہے جبکہ طمع ہلاکت ہوتی ہے، کتنے ہی شک خوردہ ایسے ہیں جو بدبختی کی راہ پر چل پڑے ہیں، وہ شخص تم پر ظلم کرتا ہے جو تمہارے اوپر زیادتی کا مرتکب ہو ، ہر پوشیدہ بات ظاہر نہیں ہوتی، بسا اوقات صاحب بصیرت بھی اپنے راستے کو چھوڑ دیتا ہے، جبکہ اندھا اپنے راستے پر چل پڑتا ہے، ہر طالب اپنے مقصود کو پانے والا نہیں ہوتا ہر متوفی نجات پانے والا نہیں ہوتا شی کو موخر کرو چونکہ تم جب چاہو گے اسے جلدی کرسکتے ہو اچھائی کرو اگر تم چاہو کہ تمہارے ساتھ اچھائی کی جائے اپنے بھائی کی ہر بات کو برداشت کرو عتاب کی کثرت مت کرو چونکہ عتاب کینہ برپا کرتا ہے اور غضب کو لاتا ہے جبکہ اس کی کثرت سوء ادب ہے ، ایسا ساتھی رکھو جس سے بھلائی کی امید ہوجاہل کی قطع رحمی عاقل کی صلہ رحمی کے برابر ہوتی ہے، جو آزادی کو کاٹے وہ ہلاک ہوجاتا ہے، جو شخص اپنے زمانے کو نہیں پہچانتا ہو جنگ کرتا ہے، نعمت اہل بغاوت کے قریب تر ہوتی ہے، نااہل کو دوست نہ بنایا جائے، عالم کا پھسل جانا بہت بڑا پھسلنا ہے جھوٹے کی علت بہت بری ہوتی ہے فساد کثیر کو برباد کردیتا ہے میانہ روی قلیل کو بڑھاتی ہے قلت ذلت ہے والدین کے ساتھ احسان مندی اکرام طبائع ہے۔ جلدی بازی کرکے آدمی پھسل جاتا ہے اس لذت میں کوئی خیر نہیں جس کے بعد ندامت اٹھانی پڑے، عقلمند وہ ہے جو تجربہ سے نصیحت حاصل کرے، تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے تمہارا خط تمہاری حالت کا اچھا گویا ہے لہٰذا اپنے معاملہ کو اچھی طرح جان لو اپنے شر میں کمی کرو ہدایت اندھے پن کو دور کردیتی ہے اختلاف کے ہوتے ہوئے الفت ختم ہوجاتی ہے حسن عمل پڑوسی پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ ہرگز ہلاک نہیں ہوتا اور محتاج نہیں ہوتا رازدار آدمی کے بھید کو افشا کردیتا ہے بہت سارے لوگ اپنی موت کا خود سامان پیدا کرلیتے ہیں، ر دکھائی دینے والے بصیر نہیں ہوتا بہت سارے مذاق حقیقت بن جاتے ہیں جن پر زمانہ اعتماد کرتا ہو وہ خیانت کرجاتا ہے، بہت سارے تعظیم والے رسوا ہوجاتے ہیں، جو ٹھکانا پکڑ لیتا ہے وہ محفوظ ہوجاتا ہے، ہر ایک کا نشانہ درست نہیں ہوتا، جب سلطان بدل جاتا ہے زمانہ بھی بدل جاتا ہے، تمہارے اہل خانہ میں وہ بہتر ہے جو تمہاری کفایت کرتا ہو، مزاح عداوت اور کینہ لاتا ہے، صحت یقین دین داری کی جڑ ہے معاصی سے اجتناب تمام اخلاص ہے، سچ سب سے اچھا قول ہے سلامتی استقامت کے ساتھ ہے راستے میں پڑنے سے پہلے دوست کے متعلق سوال کرلو گھر خریدنے سے پہلے پڑوسی کے متعلق سوال کرلو دنیا اتنی ہی حاصل کرو جس سے تمہارا گزارا چل سکے جو تم سے معذرت کرے اس کا عذر قبول کرو، اپنے بھائی پر رحم کرو گو کہ وہ تم سے خیانت ہی کیوں نہ کرے، اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو گو کہ وہ تمہارے ساتھ جفاکش کیوں نہ کرے اپنے نفس کو سخاوت کا عادی بناؤ نفس کے لیے ہر بھلائی اختیار کرو جو کام تمہیں ہلاکت میں ڈالے اس کو مت کرو نہ ایسا ۔ کلام کرو جو تمہیں رسوا کردے اپنے نفس سے انصاف کرو۔ اے بیٹے ! عورتوں کے مشورہ سے گریز کرو وہاں جس عورت میں تم کمال سمجھو اس سے مشورہ لے لو چونکہ عورتوں کی رائے کم عقلی کی طرف لے جاتی ہے، عورتوں کو پردہ میں رہنے دو ، چونکہ عورتوں کے لیے کثرت حجاب بہت بہتر ہے عورتوں کو گھروں میں بیٹھے رہنا باہر نکلنے سے بہتر ہے اگر تم سے ہوسکے کہ انھیں تمہارے علاوہ کوئی نہ پہچانتا ہو تو ایسا لازمی کو، غصہ کرو گناہ کے علاوہ میں عتاب مت کرو عورت پھول کی مانند ہے عورت سختی نہیں برداشت کرسکتی اپنے غلاموں سے اچھا برتاؤ کرو اگر ان میں سے کوئی غلطی کر بیٹھے تو اسے معاف کردو چونکہ معاف کرنا اسے مارنے سے اچھا ہے، ان کے ذمہ وہی کام سپرد کرو جو تم آسانی کے ساتھ ان سے لے سکو اپنی معاشرت اچھی رکھو چونکہ معاشرت تمہارا ایک پر ہے جس سے تم اڑتے ہو تمہاری اصل اسی کی طرف لوٹتی ہے وہ سختی کے وقت تمہارا اعتماد ہیں۔ غلاموں میں جو کریم ہو اس کا اکرام کرو جو بیمار ہو اس کی عیادت کرو انھیں اپنے امور میں شریک کرو، تنگدست پر آسانی کرو اپنے امور پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو چونکہ اللہ تعالیٰ کریم ہے اور بہترین مددگار ہے میں تمہارے دین اور دنیا کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ والسلام۔ رواہ وکیع والعسکری فی المواعظ
44215- عن علي أنه كتب إلى ابنه الحسن كتابا: من الوالد الفان، المقر للزمان، المدبر للعمر، المستسلم فيه للدهر، الذام للدنيا، الساكن مساكن الموتى، الظاعن إليهم عنها غدا - إلى المولود المؤمل ما لا يدرك، السالك سبيل من قد هلك، عرض الأسقام، ورهينة الأيام، ورمية المصائب، وعبد الدنيا، وتاجر الغرور، وغريم المنايا، وأسير الموت، وحليف 1 الهموم، وقرين الأحزان، ونصب الآفات، وصريع الشهوات، وخليفة الأموات؛ أما بعد! فإن فيما قد تبينت من إدبار الدنيا عني وجنوح الدهر علي وإقبال الآخرة على ما يزعني 2 عن ذكر ما سواي، والاهتمام بما واري، غير أني حين تفرد بي دون هموم الناس هم نفسي فصدقني رأيي، وتصرف بي هواي، وصرح إلى محض أمري، فأفضي بي جد لا يرزق به لعب، وصدق لا يشوبه كذب، وجدتك أي بني من بعضي، بل وجدتك من كلي حتى كأن شيئا لو أصابك أصابني، وكأن الموت لو أتاك أتاني، فعناني من أمرك ما عناني من نفسي، فكتبت إليك كتابي هذا إن أنا بقيت أو فنيت، وإني أوصيك يا بني بتقوى الله ولزوم أمره، وعمارة قلبك بذكره، والاعتصام بحبه، فهو أوثق السبب بينك وبينه، يا بني! أحي قلبك بالموعظة، وموته بالزهد، وقوه باليقين، وذلله بذكر الموت، وأكثره بالفناء، وبصره فجائع الدنيا، وحذره صولة الدهر وفحش تقلب الأيام، وأعرض عليه أخبار الماضين وذكره ما أصاب من كان قبلك، وسر في ديارهم، واعتبر بآثارهم، وانظر ما فعلوا، وعمن انتقلوا، وأين حلوا، فإنك تجدهم انتقلوا عن الأحبة، وحلوا دار الغربة، وكأنك عن قليل قد صرت كأحدهم، فأصلح مثواك واحرز آخرتك، ودع القول فيما لا تعرف، والدخول فيما لا تكلف، وأمسك عن السير إذا خفت ضلالة، فإن الكف عند حيرة الضلالة خير من ركوب الأهوال، وأمر بالمعروف تكن من أهله، وأنكر المنكر بيدك ولسانك وباين من فعله بجهدك، وخض الغمرات إلى الحق، وتفقه في الدين، وعود نفسك الصبر على المكروه، وألجئ نفسك في الأمور كلها إلى الله، فإنك تلجئها إلى كهف حريز ومانع عزيز، وأخلص في المسألة لربك، فإن بيده العطاء والحرمان وأكثر الاستخارة، وتفهم وصيتي، لا تذهبن عنك صفحا، أي بني! إني لما رأيتني قد بلغت سنا ورأيتني ازددت وهنا بادرت بوصيتي إياك خصالا منهن أن تعجل لي أجل قبل أن أفضى إليك ما في نفسي وأنقص في رأيي كما نقصت في جسمي، أو يسبقني إليك بعض غلبة الهوى وفتن الدنيا فتكون كالصعب النفور، وإنما قلب الحدث كالأرض الخالية، ما ألقى فيها من شيء قبلته، فباكرتك بالأدب قبل أن يقسو قلبك ويشتغل لبك، لتستقبل بجد رأيك ما قد كفاك تجربته، فتكون قد كفيت مؤنة الطلب، وعوفيت من علاج التجربة، فأتاك من ذلك ما قد كنا نأتيه، واستبان لك ما ربما أظلم علينا فيه، أي بني! إني لم أكن عمرت عمر من كان قبلي، فقد نظرت في أعمارهم وفكرت في أخبارهم، وسرت في آثارهم، حتى عدت كأحدهم، بل كأنني لما قد انتهى إلي من أمورهم قد عمرت مع أولهم إلى آخرهم، فعرفت صفو ذلك من كدره ونفعه من ضره، فاستخلصت من كل شيء نحيلته، وتوخيت لك جميلته، وصرفت عنك مجهوله، ورأيت عنايتي بك واجبة علي، فجمعت لك ما إن فهمته أدبك، فاغتنم ذلك وأنت مقتبل بين النية واليقين، فعليك بتعليم كتاب الله وتأويله! وشرائع الإسلام وأحكامه، وحلاله وحرامه، لا تجاوز ذلك قبله إلى غيره، فإن أشفقت أن شبهة لمت اختلف فيه الناس من أهوائهم ورأيهم مثل الذي لبسهم، فتقصد في تعليم ذلك بلطف، يا بني! وقدم عنايتك في الأمر ليكون ذلك نظرا لديك، لا مماريا ولامفاخرا ولا طلبا لعرض عاجلتك، فإن الله يوفقك لرشدك، ويهديك لقصدك، فاقبل عهدي إليك، ووصيتي لك، واعلم يا بني! إن أحب ما أنت آخذ به من وصيتي تقوى الله، والاقتصار على ما افترض الله عليك، والأخذ بما الضى؟؟ عليك أولوك من آبائك والصالحون من أهل بيتك، فإنهم لم يدعوا أن ينظروا لأنفسهم كما أنت ناظر وفكروا كما أنت مفكر، ثم ردهم ذلك إلى الأخذ بما عرفوا والإمساك عما لم يكلفوا، فإن أبت نفسك أن تقبل ذلك دون أن تعلم ما علموا، فيكون طلبك ذلك بتعليم وتفهم وتدبر، لا بتوارد الشبهات وعلم الخصومات، وابدأ قبل نظرك في ذلك بالاستعانة بالهك عليك والرغبة إليه، واحذر كل شائبة أدخلت عليك شبهة، وأسلمتك إلى ضلالة، فإذا أيقنت أن قد صفا قلبك فخشع، وتم رأيك فاجتمع، كان همك في ذلك هما واحدا، فانظر فيما فسرت ذلك، وإن أنت لم يجتمع لك ما تحب من فراغ نظرك فاعلم أنك إنما تخبط خبط عشواء، وليس من طالب لدين من خبط ولا خلط، والإمساك عند ذلك أمثل، وإن أول ما أبدأك به في ذلك وآخره أني أحمد الله إلهي وإلهك إله الأولين والآخرين، رب من في السماوات ومن في الأرضين، بما هو أهله، وكما هو أهله، وكما يحب وينبغي له، وأسأله أن يصلي على نبينا محمد صلى الله عليه وسلم، وأن يتم علينا نعمه لما وفقنا من مسألته والإجابة لنا، فإن بنعمته تتم الصالحات، اعلم أي بني! إن أحدا لم ينبيء عن الله عز وجل كما نبأ به محمد صلى الله عليه وسلم، فارض به رائد 1، فإني لم آلك نصيحة ولم تبلغ في ذلك، وإني اجتهدت مبلغي في ذلك لعنايتي وطول تجربتي، وإن نظري لك كنظري لنفسي؛ اعلم أن الله واحد، أحد صمد، لا يضاده في ملكه أحد، ولا يزول ولم يزل، أول من قبل الأشياء بلا أولية، وآخر بلا نهاية، حكيم، عليم، قديم، لم يزل كذلك، فإذا عرفت ذلك فافعل كما ينبغي لمثلك في صغر خطره، وقلة مقدرته، وكثرة عجزه، وعظيم حاجتك إلى ربك، فاستعن بالهك في طلب حاجتك، وتقرب إليه بطاعته، وارغب إليه بقدرته، وارهب منه بروئيته، فإنه حكيم لم يأمرك إلا بحسن، ولم ينهك إلا عن قبيح، اجعل نفسك ميزانا بينك وبين غيرك؛ وأحبب لغيرك ما تحب لنفسك، واكره له ما تكره لها، ولا تظلم كما لا تحب أن تظلم، وأحسن كما تحب أن يحسن إليك، ولا تقل ما لا تعلم، بل أقل مما تعلم، ولا تقل ما لا تحب أن يقال لك؛ اعلم يا بني أن الإعجاب ضد الصواب، وآفة الألباب، فاسع في كدحك؛ ولا تكن خازنا لغيرك، فإذا هديت لقصدك فكن أخشع ما تكون لربك؛ واعلم أن أمامك طريقا ذا مشقة بعيدة. وأهوال شديدة، وأنك لا غنى بك عن حسن الارتياد، وقدر بلاغك من الزاد مع خفة الظهر، فلا تحملن على ظهرك فوق طاقتك، فيكون ثقله وبالا عليك، وإذا وجدت من أهل الحاجة من يحمل لك زادك ويوافيك به حيث تحتاج إليه فاغتنمه، واغتنم ما أقرضت من استقرضك في حال غناك، واعلم أن أمامك عقبة كؤوداء مهبطها على جنة أو على نار، فارتد لنفسك قبل نزولك، فليس بعد الموت مستعتب، ولا إلى الدنيا منصرف، واعلم أن الذي بيده خزائن السماوات والأرض قد أذن لك في الدعاء وضمن الإجابة، وأمرك أن تسأله فيعطيك، وتطلب إليه فيرضيك، وهو رحيم لم يجعل بينك وبينه حجابا، ولم يلجأك إلى من تشفع به إليه، ولم يمنعك إن أسأت التوبة، ولم يعاجلك بالنقمة، ولم يؤنسك من رحمته، ولم يسد عليك باب التوبة، وجعل توبتك النزوع عن الذنب، وجعل سيئتك واحدة وجعل حسنتك عشرا، إذا ناديته أجابك، وإذا ناجيته علم نجواك، فأفضيت إليه بحاجتك، وأنثته ذات نفسك، وشكوت إليه همومك، واستعنته على أمورك، وسألته من خزائن رحمته التي لا يقدر على إعطائها غيره من زيادة الأعمار وصحة الأبدان وسعة الرزق وتمام النعمة، فألحح في المسألة، فبالدعاء تفتح أبواب الرحمة، ولا يقنطك إبطاء إجابته، فإن العطية على قدر النية، فربما أخرت الإجابة لتطول مسألة السائل، فيعظم أجره، ويعطي سؤله، وربما ذخر ذلك له في الآخرة، فيعطى أجر تعبده، ولا يفعل بعبده إلا ماهو خير له في العاجلة والآجلة، ولكن لا يجد لطفه أحد، ولا يعرف دقائق تدبيره إلا المصطفون، ولتكن مسالتك لما يبقى ويدوم في صلاح دنياك وتسهيل أمرك وشمول عافيتك، فإنه قريب مجيب؛ اعلم أي بني انك خلقت للآخرة لا للدنيا، وللفناء لا للبقاء، وأنك في منزل قلعة ودار بلغة وطريق الآخرة، وأنك طريدة الموت الذي لا ينجو منه هاربه، ولا يفوته طالبه، فاحذر أن يدركك وأنت على حال سيئة، وأعمال مردية فتقع في ندامة الأبد وحسرة لا تنفد، فتفقد دينك لنفسك، فدينك لحمك ودمك، ولا ينقذك غيره، أي بني! أكثر ذكر الموت وذكر ما تهجم عليه، وتقضى بعد الموت إليه، واجعله نصب عينيك حتى يأتيك وقد أخذت له حذرك، ولا يأتيك بغتة فيبهرك، وأكثر ذكر الآخرة وكثرة نعيمها وحبورها وسرورها ودوامها وكثرة صنوف لذاتها وقلة آفاتها إذا سلمت، وفكر في ألوان عذابها وشدة غمومها وأصناف نكالها، إن أنت تيقنت فإن ذلك يزهدك في الدنيا ويرغبك في الآخرة، ويصغر عندك زينة الدنيا وغرورها وزهرتها فقد نبأك الله عنها وبين أمرها، وكشف عن مساويها، فإياك أن تغتر بما ترى من إخلاد أهلها إليها وتكالبهم عليها ككلاب عاوية، وسباع ضارية، يهر بعضهم إلى بعض؛ ويقهر عزيزها ذليلها، وكثيرها قليلها، قد أضلت أهلها عن قصد السبيل، وسلكت بهم طريق العمى، وأخذت بأبصارهم عن منهج الصواب، فتاهوا في حيرتها، وغرقوا في فتنتها، وتخذوها ريا فلعبت بهم ولعبوا بها، ونسوا ما وراءها؛ فإياك يا بني أن تكون مثل من قد شابته بكثرة عيوبها! أي بني! إنك إن تزهد فيما قد زهدتك فيه من أمر الدنيا وتعرض نفسك عنها فهي أهل ذلك، فإن كنت غير قابل نصحي إياك منها فاعلم يقينا أنك لن تبلغ أملك، ولن تعدو أجلك، فإنك في سبيل من قد كان قبلك، فأجمل في الطلب، واعرف سبيل المكتسب، فإنه رب طلب قد جر إلى حرب، وليس كل طالب يصيب، ولا كل غائب يؤوب، وأكرم نفسك عن كل دنية وإن ساقتك؛ إياك أن تعتاض بما تبذل من نفسك عوضا وقد جمعك الله به حرا! وما منفعة خير لا يدرك باليسير، ويسير لا ينال إلا بالعسير؛ وإياك أن توجف بك مطايا الطمع فتوردك مناهل الهلكة! وإن استطعت أن لا يكون بينك وبين الله ذو نعمة فافعل، فإنك مدرك قسمك، وآخذ سهمك، وإن اليسير من الله أعظم وأكرم وإن كان كل من الله - ولله المثل الأعلى! واعلم أن لك في يسير مما تطلب فتنال من الملوك افتخارا، وبيع عرضك ودينك عليك عار، فاقتصد في أمرك تحمد معقبة عقلك، إنك لست بائعا شيئا من عرضك ودينك إلا بثمن، والمغبون من حرم نصيبه من الله، فخذ من الدنيا ما أتاك، وتول عما تولى عنك، فإن أنت لم تفعل فأجمل في الطلب؛ وإياك ومقاربة من يشينك! وتباعد من السلطان، ولا تأمن خدع الشيطان، ومتى ما رأيت منكرا من أمرك فأصلحه بحسن نظرك، فإن لكل وصف صفة، ولكل قول حقيقة، ولكل أمر وجها ينال الأريب - أي العاقل - فيه رشده، ويهلك الأحمق بتعسفه فيه نفسه؛ يا بني! كم قد رأيت من قيل له: تحب أن تعطي الدنيا بما فيها مائة سنة بلا آفة ولا أدنى، لا ترى فيها سوءا ويكون آخر أمرك عذاب الأبد، فلا يتسع بها ولا يريدها، ورأيته قد أهلك دينه ونفسه باليسير من زينة الدنيا، وهذا من كيد الشيطان وحبائله، فاحذر مكيدته وغروره، يا بني! أملك عليك لسانك، ولا تنطق فيما تخاف الضرر فيه، فإن الصمت خير من الكلام في غير منفعة، وتلافيك ما فرط من همتك أيسر من إدراكك ما فات من منطقك، واحفظ ما في الوعاء بشد الوكاء، واعلم أن حفظ ما في يديك خير من طلب ما في يد غيرك، وحسن التدبير مع الكفاف أكفى لك من الكثير في الإسراف، وحسن اليأس خير لك من الطلب إلى الناس، يا بني! لا تحدث من غير ثقة فتكون كذابا، والكذب داء فجانبه وأهله، يا بني! العفة مع الشدة خير من الغنى مع الفجور، من فكر أبصر، ومن كثر خطاؤه هجر، ورب مضيع ما يسره، وساع فيما يضره، من خير حظ المرء قرين صالح، فقارن أهل الخير تكن منهم، وباين أهل الشر تبن منهم، ولا يغلبن عليك سوء الظن، فإنه لن يدع بينك وبين خليلك ملجأ، قد يقال: من الحزم سوء الظن، وبئس الطعام الحرام، وظلم الضعيف أفحش الظلم، الفاحشة تقصم القلب، إذا كان الرفق خرقا كان الخرق رفقا، وربما كان الداء دواء والدواء داء، وربما نصح غير الناصح وغش المنتصح، إياك والانكال على المنى! فإنها بضائع النوكى 1، ذك قلبك بالأدب كما تذكي النار الحطب، ولا تكن كخاطب الليل وغثاء السيل، كفر النعمة لؤم، وصحبة الجاهل شؤم، والعقل حفظ التجارب، وخير ما جربت ما وعظك، ومن الكرم لين الشيم، بادر الفرصة قبل أن تكون غصة، ومن الحزم العزم، ومن سبب الحرمان التواني، ومن الفساد إضاعة الزاد ومفسدة المعاد، لكل أمر عاقبة، فرب مشير بما يضر، لا خير في معين مهين، ولا في صديق ظنين، ولا تدع الطلب فيما يحل ويطيب فلا بد من بلغة، وسيأتيك ما قدر لك، التاجر مخاطر، من حلم ساد، ومن تفهم ازداد، ولقاء أهل الخير عمارة القلوب، ساهل ما ذل لك بقوة، وإياك أن تطمح بك مطية اللجاج! وإن قارفت سيئة فعجل محوها بالتوبة، ولا تخن من ائتمنك وإن خانك، ولا تذع سره وإن أذاع سرك، خذ بالفضل، وأحسن البذل، وأحبب للناس الخير، فإن هذه من الأخلاق الرفيعة، وإنك قل ما تسلم ممن تسرعت إليه، وكثيرا ما يحمد من تفضلت عليه؛ اعلم أي بني أن من الكرم الوفاء بالذمم. والدفع عن الحرم، والصدود آية المقت، وكثرة العلل آية البخل، وبعض الإمساك عن أخيك مع الإلف خير من البذل مع الحنف 1، ومن الكرم صلة الرحم، والتجرم وجه القطيعة، احمل نفسك من أخيك عند جموحه على البذل، وعند تباعده على الدنو، وعند شدته على اللين، وعند تجرمه على الاعتذار، حتى كأنك له عبد وكأنه ذو نعمة عليك، ولا تضع ذلك في غير موضعه، ولا تفعله بغير أهله، ولا تتخذ من عدو صديقك صديقا فتعادي صديقك، ولا تعمل بالخديعة فإنها أخلاق اللئام، وامحض أخاك النصيحة حسنة كانت أم قبيحة، وساعده على كل حال، وزل معه حيث زال، ولا تطلبن منه المجازاة، فإنها من شيم الدناءة، وخذ على عدوك بالفضل، فإنه أحرى للظفر، لا تصرم أخاك على ارتياب، ولا تقطعه دون استعتاب، ولن لمن غالظك فإنه يوشك أن يلين لك، ما أقبح القطيعة بعد الصلة، والجفاء بعد اللطف، والعداوة بعد المودة، والخيانة لمن ائتمنك، وخلف الظن لمن ارتجاك، والغرر بمن وثق بك! وإن أردت قطيعة أخيك فاستبق له من نفسك بقية، ومن ظن بك خيرا فصدق ظنه، ولا تضيعن بر أخيك اتكالا على ما بينك وبينه، فإنه ليس بأخ من أضعت حقه، لا يكون أهلك أشقى الناس بك، ولا ترغبن فيمن زهد فيك، ولا تزهدن فيمن رغب إليك، إذا كان للخلط موضعا، لا يكونن أخوك أقوى على قطيعتك منك على صلته لا يكونن على الإساءة أقوى منك على الإحسان إليه، ولا على البخل أقوى منك على البذل، ولا على التقصير أقوى منك على الفضل، لا يكثرن عليك ظلم من ظلمك، فإنه يسعى في مضرته ونفعك، وليس جزاء من سرك أن تسوءه؛ واعلم أي بني! أن الرزق رزقان: رزق تطلبه، ورزق يطلبك، فإن لم تأته أتاك، واعلم أن الدهر ذو صروف، فلا تكونن ممن يسبك لاعنة للدهر، ومحفلا عند الناس عذره، ما أقبح الخضوع عند الحاجة، والجفاء عند الغنى، إنما لك من دنياك ما أصلحت به مثواك، فأنفق يسرك، ولا تكن خازنا لغيرك، فإن كنت جازعا مما تفلت من يديك فاجزع على ما يصل إليك، استدل على ما لم يكن بما قد كان، فإن الأمور أشباه يشبه بعضها بعضا، ولا تكفرن ذا نعمة، فإن كفر النعم من قلة الشكر ولؤم الخلق، وأقل العذر، ولا تكونن ممن لا تنفعه العظة إلا إذا بلغت في الملامة، فإن العاقل يتعظ بالقليل، والبهائم لا تنفع إلا بالضرب، واتعظ بغيرك ولا يكونن غيرك متعظا بك، واحتد بحذاء الصالحين، واقتد بآدابهم وسر بسيرتهم، واعرف الحق لمن عرفه لك رفيعا كان أو وضيعا، واطرح عنك واردات الهموم بعزائم الصبر وحسن اليقين، من ترك القصد جار، نعم حظ المرء القناعة! شر ما أشعر قلب المرء الحسد، وفي القنوط التفريط، وفي الخوف من العواقب البغي، الحسد لا يجلب مضرة وغيظا يوهن قلبك ويمرض جسمك، فاصرف عنك الحسد تغنم، وأنق صدرك من الغل تسلم، وارج الذي بيده خزائن الأرض والأقوات والسماوات، وسله طيب المكاسب تجده منك قريبا ولك مجيبا، الشح يجلب الملامة، والصاحب الصالح مناسب، والصديق من صدق غيبه، والهوى شريك العمى، ومن التوفيق سعة الرزق، نعم طارد الهموم اليقين، وفي الصدق النجاة، عاقبة الكذب شر عاقبة، رب بعيد أقرب من قريب ورب قريب أبعد من بعيد، والغريب من لم يكن له حبيب، من تعدى الحق ضاق مذهبه، من اقتصر على قدره كان أبقى له، ونعم الخلق.... وأوثق العرى التقوى، من أعتبك قد هوى، وقد يكون اليأس إدراكا إذا كان الطمع هلاكا، كم من مريب قد شقى به غيره ونجا هو من البلاء، جانيك من يجني عليك، وقد تعدى الصحاح مبارك الجرب، وليس كل عورة تظهر، ربما أخطأ البصير قصده، وأصاب الأعمى رشده، ليس كل من طلب وجد ولا كل من توقى نجا، أخر الشيء فإنك إذا شئت عجلته، أحسن إن أحببت أن يحسن إليك، احتمل أخاك على كل ما فيه، ولا تكثر العتاب فإنه يورث الضغينة ويجر إلى المغضبة، وكثرته من سوء الأدب، استعتب من رجوت صلاحه، قطيعة الجاهل تعدل صلة العاقل، من كابد الحرية عطب، ومن لم يعرف زمانه حرب، ما أقرب النقمة من أهل البغي، وأخلق من عدر أن لا يولى له، زلة العالم أقبح زلة، وعلة الكذاب أقبح علة، الفساد يبيد الكثير، والاقتصاد يثمر القليل، والقلة ذلة، وبر الوالدين أكرم الطبائع والخوف شر لحاف، والزلة مع العجلة، لا خير في لذة تعقب ندامة، والعاقل من وعظته التجربة، ورسولك ترجمان عقلك، وكتابك أحسن ناطق عنك، فتدبر أمرك، وتقصر شرك، الهدى يجلو العمى، وليس مع اختلاف ائتلاف، ومن حسن العمل افتقاد حال الجار، لن يهلك من اقتصد ولن يفتقر، يبين عن سر المرء دخيله، ورب باحث عن حتفه، وليس كل من ينظر بصير، رب هزل صار جدا، من ائتمن الزمان خانه، ومن تعظم عليه أهانه، ومن لجأ إليه أسلمه أي أخذله، ليس كل من رمى أصاب، وإذا تغير السلطان تغير الزمان، وخير أهلك من كفاك، المزاح يورث العداوة والحقد، أعذر من اجتهد وربما أكدى الحق، رأس الدين صحة اليقين، وتمام الإخلاص تجنب المعاصي، وخير القول الصدق، والسلامة مع الاستقامة، سل عن الرفيق قبل الطريق؛ وعن الجار قبل الدار، كن من الدنيا على بلغة، احمل لمن دل عليك، واقبل عذر من اعتذر إليك، وارحم أخاك وإن عصاك، وصله وإن جفاك، وعود نفسك السماح، وتخير لها من كل أحسنه، لا تتكلم بما يرديك، ولا ما كثيره يزريك، أنصف من نفسك قبل أن ينتصف منك، أي بني! إياك ومشاورة النساء! إلا جربت بكمال، فإن رأيهن يجر إلى أفن 1 وعزمهن إلى وهن، اكفف عليهن من أبصارهن بحجابك إياهن، فإن شدة الحجاب خير لهن من الارتياب، وليس خروجهن بأشد عليك من دخول من لا تثق به عليهن، فإن استطعت أن لا يعرفهن غيرك فافعل، أقلل الغضب ولا تكثر العتاب في غير ذنب، فإن المرأة ريحانة، وليست بقهرمانة، وأحسن لمماليكك الأدب، وإن أجرم أحد منهم جرما فأحسن العفو فإن العفو مع العز أشد من الضرب لمن كان له قلب، وخف القصاص، واجعل لكل امرئ منهم عملا تأخذه به، فإنه أحرى أن لا يتوكلوا، وأكرم عشيرتك فإنهم جناحك الذي به تطير، وأصلك الذي إليه تصير، فإنك بهم تصول، وبهم تطول، وهم العمدة عند الشدة، وأكرم كريمهم، وعد سقيمهم، وأشركهم في أمورهم، ويسر عن معسرهم واستعن بالله على أمرك كله، فإنه أكرم معين، أستودع الله دينك ودنياك - والسلام. "وكيع، والعسكري في المواعظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبات ومواعظ حضرت علی کرام اللہ وجہہ
44216 یحییٰ بن عبداللہ حسن اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے چنانچہ ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! مجھے بتلائیے اہل جماعت کون ہیں ؟ اہل فرقہ کون ہیں ؟ اہل سنت کون ہیں ؟ اور اہل بدعت کون ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : تیر ناس ہو جب تو نے سوال کر ہی دیا ہے تو اب سمجھو اور میں تمہیں اس قدر سیرکردوں گا کہ تم میرے بعد بھلے کسی سے سوال مت کرو رہی بات اہل جماعت کی سو میں اور میرے متبعین گو کہ تعداد میں کم ہیں اہل جماعت ہیں۔ یہ بات حق ہے اور یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم سے ہے رہی بات اہل فرقہ کی یہ وہ لوگ ہیں جو میرے اور میرے متبعین کے مخالف ہیں گو کہ ان کی تعداد زیادہ ہے اہل سنت وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اس کی کتاب اور اس کے رسول کے مخالف ہوں اپنی رائے اور اپنی خواہش پر عمل کرتے ہوں گو کہ ان کی تعداد کیوں نہ زیادہ ہو ان کی پہلی جماعت گزر چکی اور جماعتیں ابھی باقی ہیں ان کا استقبال اللہ ہی کے سپرد ہے حضرت عمار (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے امیر المومنین ! لوگ مال غنیمت کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ جو شخص ہمارے ساتھ قتال کرے گا وہ خود اس کا مال اس کی اولاد ہمارے لیے مال غنیمت ہیں۔ اتنے میں بکر بن وائل کا ایک آدمی کھڑا ہوا جیسے عبادہ قیس کے نام سے پکارا جاتا تھا وہ سخت زبان تھا کہنے لگا اے امیر المومنین بخدا آپ نے برابری کی تقسیم نہیں کی ہے رعیت میں عدل بھی نہیں کیا، حضرت علی (رض) کہنے لگے : تیری ہلاکت کیوں نہیں ؟ کہنے لگا چونکہ آپ نے جو کچھ لشکر میں ہے وہ تقسیم کردیا اور آپ نے اموال عورتیں اور بچے چھوڑ دیئے ہیں حضرت علی (رض) فرمانے لگے : اے لوگو ! جس پر کوئی زخم لگا ہو وہ موٹاپے سے اس کا علاج کرے۔ عبادبولا : ہم اپنا مال غنیمت طلب کرنے آئے ہیں حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا : اگر تم جھوٹ بولو تو اس وقت تک اللہ تعالیٰ تمہیں موت نہ دے جب تک کہ تم قبیلہ ثقیف کے لڑکے کو نہ پالو قوم سے ایک آدمی بولا : اے امیر المومنین ! ثقیف کا لڑکا کون ہوگا ؟ فرمایا : ثقیف کا ایک آدمی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کو توڑے بغیر نہیں رہے گا عرض کیا وہ اپنی موت مرے گا یا قتل کیا جائے گا ؟ فرمایا کیوں نہیں جابروں کی ایک جماعت اس کا قلع قمع کرے گی بڑی گندی موت اسے قتل کیا جائے گا اس کے بطن کی کثرت جریان کی وجہ سے اس کا دور چل پرے گا اے بنو بکر کے بھائی ! تیری رائے کمزور ہے کیا تمہیں علم نہیں کہ ہم بڑے کے گناہ کے بدلہ میں چھوٹے کو نہیں پلاتے، اموال وقت سے بھی ان کے لیے تھے انھوں نے فطرت پر بچے جنم دیئے تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو کچھ لشکر نے جمع کیا ہے اور جو چھاں سے میں ہے وہ ان کی اولاد کے لیے میراث ہے ان میں سے جو بھی ہمارے اوپر حملہ آور ہوگا ہم اسے گناہ کے بدلہ میں پکڑیں گے اگر وہ تو اس کے ذمہ دو سے کا گناہ نہیں ڈالا جائے گا یہ قبیلہ بکر کے آدمی ! میں نے ان لوگوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ میں دو جوتوں کے برابر سرابر ہونے کی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نقش قدم پر چل رہا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ میدان جنگ نے وہاں موجود ہر چیز کو حلال کردیا ہے جبکہ دارھجرت نے سب کچھ حرام کردیا ہے ہاں البتہ جو کچھ حق سے لیا جائے پس رک جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمائے گو کہ تم میری تصدیق نہ کرو اور مجھ پر کثرت کرو (اس بات پر آپ نے اکثر مرتبہ ۔ کلام کیا) پس تم میں سے کون ہے جو اپنی ماں عائشہ کو اپنے حصہ میں لے گا۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ہم میں سے کون ہوسکتا ہے۔ آپ نے درست فرمایا ہم نے خطا کی آپ کو علم ہے اور ہم جاہل ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرتے ہیں، ہر طرف سے لوگوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں کہ اے امیر المومنین آپ نے بجا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ذات اقدس سے رشد و ہدایت پھیلائے حضرت عمار (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے لوگو ! بخدا تم اگر ان کی اتباع و اطاعت کروگے تو سرمو اپنے نبی کے راستے سے نہیں ہٹو گے یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہر طرح کی مصیبتوں سے محفوظ قرار دیا ہے اور فصل خطاب عطا فرمایا ہے اور انھیں ہارون بن عمران کے طریق پر قرار دیا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہارون تھے مگر اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ نے انھیں خصوصی فضل و کرم عطا فرمایا ہے اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ کچھ عطا کیا ہے جو کسی کو بھی نہیں دیا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمائے دیکھو تمہیں کیا حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، بلاشبہ عالم جانتا ہے کہ جاہل کن گھٹیا امور کا ارتکاب کرتا ہے، میں تمہیں ابھارتا ہوں، انشاء اللہ تعالیٰ اگر تم میری اطاعت کرتے رہے جنت کی راہ پر چلو گے گو کہ اس میں شدید مشقت ہے اور سخت کرواہٹ ہے حالانکہ دنیا میٹھی اور حلاوت والی ہے اور حلاوت دھوکا کھانے والے کے لیے ہے بدبختی اور ندامت قلیل ہے پھر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ بنی اسرائیل کے ایک نبی نے بنی اسرائیل کو پانی نہ پینے کا حکم دیا انھوں نے نبی کا حکم نہ مانا اور پانی پی لیا اور بہت تھوڑے لوگوں نے پانی نہ پیا اللہ تعالیٰ تمہارے اوپررحم فرمائے یہ ان لوگوں میں سے ہوئے جنہوں نے اپنے نبی کی اطاعت کی اور اپنے رب کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔ رہی بات حضرت عائشہ (رض) کی انھیں عورتوں کی رائے نے آڑے لے لیا اور علی ان کے دل میں ہنڈیا کی طرح کھٹک رہے تھے اگر انھیں دعوت دی جاتی تو لامحالہ وہ اچھائی کا کام کرتیں ان کے لیے پہلی جیسی حرمت ہے حساب تو اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے جسے چاہے معاف فرمادے اور جسے چاہے عذاب دے حضرت علی (رض) کے ساتھ ان کے اس فیصلہ سے راضی رہے، اس کے بعد لوگوں نے اعلان کیا : اے امیر المومنین ! آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے گو کہ ہم جاہل رہے ہم آئندہ اس بات کا ارتکاب نہیں کریں گے جس کو امیر المومنین ناپسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ ابن لیاف انصاری اپنے درج ذیل اشعار میں کہتا ہے۔ ان رایا رایتموہ سفاھا، لخطا الا یرادو الاصدار
تمہاری رائے بےوقوفی پر مبنی ہے اور اس رائے کا اظہار بھی سخت غلطی ہے۔ لیس زوج النبی تقسیم فیئا، ذلک زیغ القلوب والابصار، نبی کی بیویوں کو بطور غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا، یہ خیال دلوں اور بصریت کی لجی ہے۔
فاقبلو الیوم مایقول علی
لاتنا جوا بالا ثم فی الاسرار
علی جو بات تم سے کہتے ہیں اسے مان لو اور گناہ کی باتیں پوشیدگی میں مت کرو۔
لیس ماضمت الیوت بفی
انما الفی، ما تضم الاوار
گھروں میں جو کچھ ہو وہ غنیمت نہیں ہوتا غنیمت وہ ہے جو آگ کی تپش سے حاصل ہو۔
من کراع فی عسکر وسلاح
ومتاع یبیع ایدی النجار
لشکر میں حصہ لینے والے گھوڑے اسلحہ اور تاجروں کے ہاتھوں میں بکنے والا سامان مال غنیمت ہے۔
لیس فی الحق قسم ذات النطاق
لاولا اخذکم لذات خمار
پٹکا باندھنے والی عورت حقیقت میں مال غنیمت ہیں اور نہ ہی پردہ نشین عورتیں۔
ذاک ھو فیئکم خذوہ وقولوا
قدرضینا لا خیر فی الاکثار
اوپر جو بیان ہوا ہے وہ مال غنیمت ہے اسے حاصل کرو اور کہو کہ ہم راضی ہیں اور اس سے زیادہ میں کوئی خیر و بھلائی نہیں
انھا امکم وان عظم الخط
وجاءت بزلۃ وعثار
عائشہ (رض) تمہاری ماں ہیں گو کہ پریشانیاں اور مصیبتیں بڑھ جائیں وہ بھولے سے تمہارے پاس آئی ہیں
فلھا حرمۃ النبی وحقاق
علینا من سترھا و وقار
ان کے لیے نبی کا احترام ثابت ہے اور ان کا پردہ اور وقار ہمارا حق ہے۔
عبادہ بن قیس کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے امیر المومنین ! ہمیں ایمان کے متعلق خبر دی ، جیسے حضرت علی (رض) نے فرمایا : جی ھاں اللہ تعالیٰ نے امور کی ابتداء کی اپنے لیے جس چیز کو چاہا پسند فرمالیا اور جس چیز کو محبوب سمجھا اپنے لیے اختیار کیا وہ اسلام سے راضی ہوا ہے اور اسے اپنے نام سے مشتق کیا ہے اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوبین کو بطور تحفہ عطا کیا ہے۔ اسلام کے شرائع کو سہل بنایا ہے اسلام کے ارکان کو عزت بخشی ہے ، افسوس ہے اس شخص پر جو ظلم کرے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سیڑھی بنایا ہے اسلام میں داخل ہونے والے کے لیے اور نور بنایا ہے نور حاصل کرنیوالے کے لیے اور اس پر چلنے والے کے لیے برھان بنایا ہے اور دین بنایا ہے تحفہ لینے والے کے لیے جو اسے پہچانے اس کے لیے عزت وشرف بنایا ہے مخاصمت کرنے والے کے لیے حجت بنایا ہے۔ اور روایت کرنے والے کے لیے علم بنایا اس کو بولنے والے کے لیے حکمت بنایا اس کے ساتھ تعلق بنانے والے کے لیے وثیقہ بنایا اس پر جس نے ایمان لایا وہ نجات پا گیا پس ایمان اصل حق ہے حق ہدایت کا راستہ ہے اس کی تلوار آراستہ زیور ہے اور غنیمت اس کا زیور ہے یہ واضح راستہ ہے چمکتا ہوا چراغ ہے اس کی غایت بلند وبالا ہے اس کی دعوت افضل ترین ہے صادقین کی راہ پر چلنے والے کے لیے بشارت ہے واضح البیان ہے عظیم الشان ہے امن اس کا راستہ ہے نیکیاں اس کا منارہ ہیں فقہ اس کے جلتے چراغ ہیں نیکوکار اس کے شہسوار ہیں پس نیک بخت ایمان کی بدولت محفوظ ہوں گے جبکہ بدبخت نافرمانی کرکے ناامید ہوچکے جس پر بیان کی ہیئت متوجہ ہوئی جب حق کا نور اور ہدایت کا راستہ واضح ہوچکا پس ایمان کے ذریعے نیکیوں پر استدلال مطلوب ہے۔ نیکیوں سے ہی فقہ کی تعمیر ممکن ہے فقہ سے ہی موت مرہوب رہی ہے جبکہ موت سے دنیا کا خاتمہ ہوجاتا ہے، دنیا ہی سے آخرت کا خروج ہے جبکہ قیامت کے دن دوزخیوں کے لیے موت حسرت ہی ہوگی جبکہ دوزخیوں کے تذکرہ میں جنتیوں کے لیے تقویٰ ہے جبکہ تقویٰ ایک غایت ہے اور اس کا متبع کبھی ہلاک نہیں ہوتا اس پر عمل کرنے والا نادم نہیں ہوتا، چونکہ تقویٰ ہی کی بدولت کامیاب ہونے والے کامیاب ہوتے ہیں اور معصیت سے خسارہ پانے والے خسارہ پاتے ہیں، چاہیے کہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں اہل تقویٰ عبرت حاصل کریں، چونکہ مخلوق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے قبل ختم نہیں ہوگی گویا وہ بلندی کی غایت کی طرف بڑھیں گے پکارنے والے کی طرف گردنیں جھکائے چلے جارہے ہوں گے قبروں سے وہ نکل پڑیں گے ہر گھر کے لیے اس کے رہنے والے ہوتے ہیں بدبختوں کی وجہ سے اسباب ختم ہوچکے ہوں گے اور زبردست ذات کی طرف سدھاریں گے پھر ان کے لیے دنیا کی طرف واپس لوٹنا نہیں ہوگا جبکہ ان کے سرداران کی اطاعت سے بیزاری ظار کررہے ہوگے جبکہ خوش بخت لول ایمان کی ولایت سے کامیاب ہوجائیں گے اے ابن قیس ! ایمان کے چار ستون ہیں، صبر ، یقین، عدل اور جہاد صبر کے بھی چار ستون ہیں شوق، خوف، زہد اور قرب جو شخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے خواہشات سے یکسر علیحدگی اختیار کرتا ہے جسے دوزخ کی آگ کا ڈر ہو وہ محرمات سے پھرجاتا ہے، جو دنیا سے بےرغبتی اختیار کرتا ہے، دنیا کی مصیبتیں اس پر آسان ہوجاتی ہیں۔ جو موت کا منتظر ہوتا ہے وہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرتا ہے جو حکمت و دانائی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ عبرت کا راستہ پہچان لیتا ہے جو عبرت پہچان لیتا ہے اسے سنت کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے، جسے سنت کی معرفت حاصل ہوگئی وہ گویا کہ اولین میں سے ہوگیا اور مستقل سیدھے راستے پر گامزن ہوگیا عدل کے بھی چار ستون ہیں عمدہ فہم، گہرا علم حکمت اور بربادری جسے فہم حاصل ہو وہ ان سب کی تفسیر علم سے کرتا ہے، جسے علم حاصل ہو وہ حکمت کے شرائع پہچان گیا جس نے حکمت کے شرائع پہچان لیے وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا، جس میں وہ بردباری آجائے وہ افراط کا شکار نہیں ہوتا اور لوگوں میں محمود ہوگرزندہ رہتا ہے جہاد کے بھی اسی طرح چارستون ہیں امربالمعروف ونہی عن المنکر ، صدق اور فاسقین کی دھنائی ، جو شخ امر بالمعروف کرتا ہے وہ مومن کی کمر کو مضبوط تر بنادیتا ہے جونہی عن المنکر کرتا ہے منافق کی ناک کو خاک آلود کرتا ہے جو سچائی سے کام لیتا ہے اس کا وبال اتار دیا جاتا ہے، جو شخص منافقین کی دھنائی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے غصہ ہوتا ہے اللہ اس کے لیے غصہ میں آتا ہے۔
اتنے میں آپ (رض) کی طرف عمار (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : امیر المومنین جیسے آپ نے ہمیں ایمان کے متعلق خبر دی اسی طرح کفر کے متعلق بھی ہمیں خبر دیں فرمایا : اے ابویقظان جی ھاں ! کفر کی چار چیزوں پر بنیاد ہے جفا، اندھا پن، غفلت اور شک، جس نے جفاکشی کی اس نے حق کو حقیر وکمتر سمجھا اور باطل کا بول بالا کیا، علماء کی مخالفت کی اور باطل پر اصرار کیا، جس نے اندھا پن اختیار کرلیا وہ نصیحت کو بھول گیا اور بدگمانی کی اس نے اتباع کی بغیر توبہ کے مغفرت کو طلب کیا، جس نے غفلت اختیار کی وہ رشد و ہدایت سے دور رہا اور لمبی لمبی آرزؤ وں نے اسے دھوکے میں رکھا اس نے حسرت و ندامت اپنے دامن میں سمیٹ لی اس کے لیے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا اللہ نے احتساب نہیں لیا جو اللہ کے معاملہ میں سرکشی کرتا ہے وہ شک میں پڑجاتا ہے جس نے شک کیا ذلت اس کا مقدر بن گئی، اس نے اپنے معاملہ میں کوتاہی کردی اس نے اپنے رب تعالیٰ کے معاملہ میں دھوکا کیا جبکہ اللہ تعالیٰ کی معافی اور آسانی وسیع تر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طاعت میں عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو حاصل کرتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی معصیت میں عمل کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مزہ چکھ لیا اے ابویقظان ! اچھا انجام تمہیں مبارک ہو اس انجام کے بعد اور کوئی انجام نہیں اور جنت کے بعد اور کسی جنت کی تلاش نہیں۔ اس کے بعد ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں زندوں میں سے مردہ کے متعلق خبر دیجئے۔ فرمایا جی ہاں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبشرین اور منذرین بنا کر مبعوث کیا ہے صدیقین نے ان کی تصدیق کی جبکہ مکذبین نے ان کی تکذیب کی انبیاء نے مصدقین کو ساتھ رکھ کر مکذبین کے ساتھ قتال کیا، اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو غلبہ عطا کیا پھر رسولوں کو موت آئی اور ان کے بعد بہت سارے لوگ آئے ان میں سے بغض منکرین ہوئے ان کی زبان اور دل دونوں منکر تھے اس کا دل تارک تھا جبکہ یہ دو بھلائی کی خصلتیں ہیں انھیں تھامے رکھو ان میں سے بعض دل سے منکر ہوتے ہیں ہاتھ اور زبان سے تارک ہوتا ہے یہ عادت دو خصلتوں میں سے بڑھی ہوئی ہے ایک آدمی ان میں سے وہ ہے جو دل زبان اور ہاتھوں سے تارک ہوتا ہے یہ زندوں میں مردہ ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا اے امیر المومنین ہمیں بتائیے کہ آپ نے طلحہ اور زبیر کے ساتھ کیوں قتال کیا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا میں نے ان کے ساتھ قتال کیا چونکہ انھوں نے میری بیعت توڑ دی تھی اور انھوں نے میرے مومن ساتھیوں کو قتل کیا تھا حالانکہ یہ ان کے لیے حلال نہیں تھا بالفرض اگر وہ ابوبکر وعمر کے ساتھ ایسا کرتے وہ بھی ان کے ساتھ قتال کرتے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سارے صحابہ (رض) جانتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت سے انکار کیا وہ اس سے اس وقت تک راضی نہیں ہوئے جب تک کہ اس سے بیعت نہیں لے لی گو کہ وہ آپ (رض) کی بیعت کو ناگوارہی کیوں نہ سمجھتا ہو ، تو مجھے کیا ہوا حالانکہ انھوں نے (طلحہ (رض) و زبیر (رض)) میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور رضامندی سے بیعت کی تھی نہ کہ ناگواری سے۔ لیکن انھوں نے مجھ سے بصرہ اور یمن کی ولیات (گورنری) کا مطالبہ کیا تھا میں نے انھیں ولایت نہ سونپی چونکہ ان پر دنیا کی محبت کا غلبہ ہوگیا تھا اور ان میں حرص پیدا ہوگئی تھی مجھے خوف محسوس ہوا کہ یہ کہیں اللہ کے بندوں کو غلام نہ بنالیں اور مسلمانوں کے اموال کو اپنا نہ تصور کرلیں میں نے ان کی آزمائش کرنے کے بعد جب ان سے منہ موڑا۔
ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق خبر دیجئے کیا یہ واجب ہے ؟ حضرت علی (رض) نے جواب دیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تم سے پہلی امتیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے چھوڑنے پر ہلاک کردی گئیں چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون۔
وہ برائی سے نہیں باز آتے تھے چنانچہ وہ برائی کر بیٹھے تھے اور بہت برا کرتے تھے۔
امربالمعروف ونہی عن المنکر
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو انھیں اپنائے گا اللہ اس کی مدد کرے گا اور جو ترک کرے گا اللہ اسے رسوا کرے گا نیکی کے اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ امر بالمعروف اور انہی عن المنکر کے ہوتے ہوئے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اوڑھے ہوئے سمندر میں خشک جگہ پس تم بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اجل کو قریب نہیں کرتے اور رزق میں کمی نہیں کرتے جبکہ جابرحکمران کے سامنے کلمہ حق افضل جہاد ہے۔ امر آسمان سے ایسے ہی نازل ہوتا ہے جیسے کہ بادلوں سے بارش کے قطرے جو تقدیر میں کم یا زیادہ آچکا ہے چنانچہ تم میں سے جب کوئی شخص اس میں کمی دیکھے اور دوسرے کو خوشحالی پائے تو یہ چیز اس کے لیے باعث فتنہ نہیں وہ مرد مسلمان جو خیانت سے بری ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو اچھائیوں کا منتظر رہے یا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر میں واقع ہوگا یا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے رزق ملے گا آناً فاناً میں وہ مال واولاد والا ہوجاتا ہے جبکہ مال اور اولاد دنیوی زینت ہیں اور باقی اعمال دنیا کی کھیتی ہیں جبکہ عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (دنیاوآخرت) کو بہت ساری اقوام کے لیے جمع بھی کیا ہے۔
ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں نئی نئی باتیں ظاہر ہونے کے متعلق خبر دیں جیسے حضرت علی (رض) نے فرمایا : جی ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد نئی نئی باتیں ظاہر ہوں گی حتیٰ کہ ایک کہنے والا کہے گا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے، جبکہ یہ سب کچھ مجھ پر جھوٹ ہوگا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے برحق مبعوث کیا ہے میری امت اصل دین پر متفرق ہوجائے گی اور اس کی جماعت بہتر (72) فرقوں میں بٹ جائے گی ہر فرقہ ضال ومضل ہوگا اور دوزخ کی طرف دعوت دیتا ہوگا جب ایسی حالت پیش آجائے تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو بلاشبہ قرآن حکیم میں گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ حکم اس میں واضح ہے اور لوگوں میں سے جس نے بھی اس کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے اسے چکنا چور کردیا۔ قرآن کے علاوہ میں جس نے بھی طلب علم کیا اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کردیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور اس کا واضح نور ہے اس کی شفاء نفع بخش ہے اس کا تمسک کرنے والے کے لیے باعث عصمت ہے اتباع کرنے والوں کے لیے باعث نجات ہے اس میں موج نہیں جو کھڑی ہوجائے اس میں کجی نہیں جو ٹیڑھے پن کو فروغ دے اس کے عجائب نہ ختم ہونے والے ہیں کثرت تردید اس میں فرق نہیں ڈالتی اسی قرآن کو جنات نے سنا اور اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے واپس لوٹے اور کہنے لگے اے ہماری قوم چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
انا سمعنا قرآنا عجبا یھدی الی الرشد۔
بلاشبہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے۔
جس نے اس کا اقرار کیا اس نے سچ کہا جس نے اس پر عمل کیا اسے اجر وثواب ملا جس نے اس کا تمسک کیا اسے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی مل گئی۔
ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں فتنہ کے متعلق خبر دیجئے کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں جب یہ آیت نازل ہوئی۔
الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لا یفتنون۔
آلم کیا لوگوں کا گمان ہے کہ صرف اتنا کہہ لینے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کی آزمائش نہیں کی گئی۔
میں سمجھ گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمارے درمیان ہوتے ہوئے ہمارے اوپر فتنہ کا نزول نہیں ہوگا، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جس فتنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بر دی ہے اس سے مراد کونسا فتنہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد میری امت فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ نے مجھ سے غزوہ احد کے دن نہیں فرمایا تھا جس دن شہید ہونے والے شہید ہوئے آپ نے مجھے شہادت سے نہ ہمکنار ہونے کی خبر دی تھی یہ خبر مجھ پر کافی حد تک گراں گزری تھی آپ نے مجھ سے فرمایا تھا : اے علی خوش ہوجاؤ تمہیں شہادت بعد میں ملے گی مجھے فرمایا : بلاشبہ یہ ایسا ہی ہے، اس وقت تمہارے صبر کی کیا حالت ہوگی جب تمہاری ڈاڑھی خون آلود ہوگی میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان جائیں کیا یہ مقام صبر کے مواقع میں سے نہیں لیکن بشارت اور شکر کے مواقع میں سے ہے۔ فرمایا : جی ہاں ۔ پھر مجھ سے فرمایا : اے علی تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور میری امت کے ساتھ آزمائش کا شکار ہوگے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا کرو گے، لہٰذا جواب تیار رکھو میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان جائیں مجھے بتائیں یہ کیسا فتنہ ہے جس میں لوگ مبتلا ہوں گے جس پر میں آپ کے بعد ان سے جہاد کروں گا ارشاد فرمایا : یقیناً تم میرے بعد فتنہ پردازوں بےانصافوں اور ظالموں سے جہاد کرو گے۔۔۔ایک ایک آدمی کا نام لیا۔ پھر آپ (رض) نے مجھ سے فرمایا تم میری امت کے ہر اس فرد سے قتال کرو گے جو میری مخالفت کرے گا اور دین میں رائے پر عمل کرے گا، حالانکہ دین میں رائے کی گنجائش نہیں ہے۔ بلاشبہ دین اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کی نہی ہے۔ میں نے عرض کیا ! یارسول اللہ قیامت کے دن خصوصیت کے معاملہ میں رشد و ہدایت کی طرف میری راہنمائی فرمانا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں جب ایسا موقع ہو ہدایت کو ترجیح دو جب تمہاری قوم ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دے رہی ہوگی اور قرآن کے مقابلہ میں رائے کو لائے گی اس وقت قرآن مجید میں سے متشابہات کے ذریعے حجتوں کا تتبع کیا جاتا ہوگا دنیا کے حصول اور کثرت مال کے واسطے تم اس وقت قرآن کو رائے پر ترجیح دینا جب تمہاری قوم ۔ کلام کو اس کے مواضع سے تحریف کرے گی اندھا دھند بدعات کے وقت امر صالع فتنہ گناہ بےراہ قیادت ظالم فرقے اور ناانصاف فرقے کے وقت، اس وقت اچھی عاقبت کو بھول نہ جانا جبکہ عاقبت متقین کے لیے ہے اے علی ! ایسا نہ ہو کہ تمہارا خصم عدل و احسان اور تواضع والا ہو میری سنت پر چلنے والا ہو اور قرآن پر عمل کرتا ہو جبکہ تم ایسے نہ ہو وہ آدمی راہ حق سے نکل جاتا ہے جو اللہ کے فریضے کی مخالفت کرتا ہو یا نبی کی سنت سے منہ موڑتا ہو یا حق سے عدول کرتا ہو اور باطل پر عمل کرتا ہو اس وقت لوگ ظلم میں بڑھ جاتے ہیں اور انھیں خدا کی طرف سے مہلت دی گئی ہوتی ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
انما نملی لھم لیزدادو اثما۔
ہم نے انھیں اس لیے مہلت دی ہوئی ہے تاکہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں۔ اس وقت حق کے گواہ نہیں ہوں گے اور انصاف قائم کرنے والے نہیں ہوں گے اے علی ! قوم عنقریب فتنہ میں مبتلا ہوگی اور وہ حسب ونسب پر فخر کرتے ہوں گے خود اپنا تزکیہ کرتے ہوں گے اور اپنی دینداری کا رب تعالیٰ پر احسان جتلا رہے ہوں گے، اس کی رحمت کے متمنی ہوں گے اس کے عذاب سے بےخوف ہوں گے حرام کو حلال سمجھیں گے، شراب کو نبیذ سمجھ کر حلال کریں گے، حرام کو ھدیہ یہ سمجھ کر حلال سمجھیں گے اور سود کو بیع کے ذریعے حلال سمجھیں گے زکوۃ نہیں ادا کریں گے اور یوں نیکی کے دعویدار ہوں گے فسق وفجور کا ان میں دور دورہ ہوگا ان پر سفہاء حکمرانی کررہے ہوں گے ان کا ظلم اور خطائیں دو گنا ہوجائیں گی۔ ان کے ہاں حق باطل بن جائے گا اور باطل حق ہوجائے گا باطل پر ایک دوسرے کا تعاون کریں گے اور حق پر طرح طرح کے طعنے کرنے لگیں گے۔ علماء پر عیب لگائیں گے اور ان کا مذاق اڑائیں گے ، یارسول اللہ ! جب وہ ایسا کریں گے تو وہ کس مقام پر ہوں گے فتنہ کے مقام پر یاردت کے مقام پر ؟ ارشاد فرمایا : وہ تمام فتنہ پر ہوں گے اللہ تعالیٰ ہم اہل بیت کی وجہ سے انھیں پناہ دے گا جب ہم میں سے خوش بخت لوگوں کا ظہور ہوگا جو عقلمند ہوں گے الا یہ کہ جو نماز چھوڑتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں حرام کو حلال کرتا ہو جو بھی ایسا کرے گا وہ کافر ہوگا۔ اے علی ! اللہ تعالیٰ نے ہم سے اسلام کو فتح دی اور ہم ہی سے اس کا خاتمہ ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے بتوں کو ہلاک کیا اور ان کے پجاریوں کو بھی ہمارے ہی ذریعے ہر جابر و منافق کو ختم کریگا۔ حتیٰ کہ ہم حق پر قتل کردیئے جائیں گے جیسا کہ باطل پر بہت سارے قتل کئے جائیں گے ، علی اس امت کی مثال ایک باغیچے کی سی ہے، اس میں سے ایک جماعت عام کو کھلایا جاتا ہو پھر ایک عام جماعت کو شاید ان کے آخر میں ایک جماعت ہو جس کی اصل ثابت ہو اور ان کی فرع احسن ہے جن کا پھل میٹھا ہو جن کی اکثریت بھلائی پر ہو جس میں عدل و انصاف کی فراوانی ہو جن کی بادشاہت طویل تر ہو اے علی ! اللہ تعالیٰ اس امت کو کیسے ہلاک کرے گا جس کا پہلا فرد میں ہوں درمیانی فرد مہدی ہوں گے اور آخری فرد مسیح ابن مریم ہوں گے اے علی اس امت کی مثال بارش جیسی ہے نہیں معلوم اس کا پہلا حصہ بھلائی والا ہوگا یا آخری اس کے درمیان میں کجی اور ٹیڑھا پن ہے تو اس میں سے نہیں۔ اے علی ! اس امت میں دھوکا دہی تکبر خود نمائی اور طرح طرح کی برائیاں پیدا ہوں گی اس کے بعد یہ امت شروع کے اچھے افراد کی طرف لوٹے گی یہ اس وقت ہوگا جب مرد کی حاجت عورت کے عزل پر پوری ہوگی حتیٰ کہ اہل بیت بکری ذبح کریں گے اور اس کے سر پر قناعت کرلیں گے اور اس کے بقیہ حصہ کو آپس کی نرمی و مہربانی کی بنا پر آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ رواہ وکیع
تمہاری رائے بےوقوفی پر مبنی ہے اور اس رائے کا اظہار بھی سخت غلطی ہے۔ لیس زوج النبی تقسیم فیئا، ذلک زیغ القلوب والابصار، نبی کی بیویوں کو بطور غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا، یہ خیال دلوں اور بصریت کی لجی ہے۔
فاقبلو الیوم مایقول علی
لاتنا جوا بالا ثم فی الاسرار
علی جو بات تم سے کہتے ہیں اسے مان لو اور گناہ کی باتیں پوشیدگی میں مت کرو۔
لیس ماضمت الیوت بفی
انما الفی، ما تضم الاوار
گھروں میں جو کچھ ہو وہ غنیمت نہیں ہوتا غنیمت وہ ہے جو آگ کی تپش سے حاصل ہو۔
من کراع فی عسکر وسلاح
ومتاع یبیع ایدی النجار
لشکر میں حصہ لینے والے گھوڑے اسلحہ اور تاجروں کے ہاتھوں میں بکنے والا سامان مال غنیمت ہے۔
لیس فی الحق قسم ذات النطاق
لاولا اخذکم لذات خمار
پٹکا باندھنے والی عورت حقیقت میں مال غنیمت ہیں اور نہ ہی پردہ نشین عورتیں۔
ذاک ھو فیئکم خذوہ وقولوا
قدرضینا لا خیر فی الاکثار
اوپر جو بیان ہوا ہے وہ مال غنیمت ہے اسے حاصل کرو اور کہو کہ ہم راضی ہیں اور اس سے زیادہ میں کوئی خیر و بھلائی نہیں
انھا امکم وان عظم الخط
وجاءت بزلۃ وعثار
عائشہ (رض) تمہاری ماں ہیں گو کہ پریشانیاں اور مصیبتیں بڑھ جائیں وہ بھولے سے تمہارے پاس آئی ہیں
فلھا حرمۃ النبی وحقاق
علینا من سترھا و وقار
ان کے لیے نبی کا احترام ثابت ہے اور ان کا پردہ اور وقار ہمارا حق ہے۔
عبادہ بن قیس کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے امیر المومنین ! ہمیں ایمان کے متعلق خبر دی ، جیسے حضرت علی (رض) نے فرمایا : جی ھاں اللہ تعالیٰ نے امور کی ابتداء کی اپنے لیے جس چیز کو چاہا پسند فرمالیا اور جس چیز کو محبوب سمجھا اپنے لیے اختیار کیا وہ اسلام سے راضی ہوا ہے اور اسے اپنے نام سے مشتق کیا ہے اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوبین کو بطور تحفہ عطا کیا ہے۔ اسلام کے شرائع کو سہل بنایا ہے اسلام کے ارکان کو عزت بخشی ہے ، افسوس ہے اس شخص پر جو ظلم کرے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سیڑھی بنایا ہے اسلام میں داخل ہونے والے کے لیے اور نور بنایا ہے نور حاصل کرنیوالے کے لیے اور اس پر چلنے والے کے لیے برھان بنایا ہے اور دین بنایا ہے تحفہ لینے والے کے لیے جو اسے پہچانے اس کے لیے عزت وشرف بنایا ہے مخاصمت کرنے والے کے لیے حجت بنایا ہے۔ اور روایت کرنے والے کے لیے علم بنایا اس کو بولنے والے کے لیے حکمت بنایا اس کے ساتھ تعلق بنانے والے کے لیے وثیقہ بنایا اس پر جس نے ایمان لایا وہ نجات پا گیا پس ایمان اصل حق ہے حق ہدایت کا راستہ ہے اس کی تلوار آراستہ زیور ہے اور غنیمت اس کا زیور ہے یہ واضح راستہ ہے چمکتا ہوا چراغ ہے اس کی غایت بلند وبالا ہے اس کی دعوت افضل ترین ہے صادقین کی راہ پر چلنے والے کے لیے بشارت ہے واضح البیان ہے عظیم الشان ہے امن اس کا راستہ ہے نیکیاں اس کا منارہ ہیں فقہ اس کے جلتے چراغ ہیں نیکوکار اس کے شہسوار ہیں پس نیک بخت ایمان کی بدولت محفوظ ہوں گے جبکہ بدبخت نافرمانی کرکے ناامید ہوچکے جس پر بیان کی ہیئت متوجہ ہوئی جب حق کا نور اور ہدایت کا راستہ واضح ہوچکا پس ایمان کے ذریعے نیکیوں پر استدلال مطلوب ہے۔ نیکیوں سے ہی فقہ کی تعمیر ممکن ہے فقہ سے ہی موت مرہوب رہی ہے جبکہ موت سے دنیا کا خاتمہ ہوجاتا ہے، دنیا ہی سے آخرت کا خروج ہے جبکہ قیامت کے دن دوزخیوں کے لیے موت حسرت ہی ہوگی جبکہ دوزخیوں کے تذکرہ میں جنتیوں کے لیے تقویٰ ہے جبکہ تقویٰ ایک غایت ہے اور اس کا متبع کبھی ہلاک نہیں ہوتا اس پر عمل کرنے والا نادم نہیں ہوتا، چونکہ تقویٰ ہی کی بدولت کامیاب ہونے والے کامیاب ہوتے ہیں اور معصیت سے خسارہ پانے والے خسارہ پاتے ہیں، چاہیے کہ اہل عقل نصیحت حاصل کریں اہل تقویٰ عبرت حاصل کریں، چونکہ مخلوق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے قبل ختم نہیں ہوگی گویا وہ بلندی کی غایت کی طرف بڑھیں گے پکارنے والے کی طرف گردنیں جھکائے چلے جارہے ہوں گے قبروں سے وہ نکل پڑیں گے ہر گھر کے لیے اس کے رہنے والے ہوتے ہیں بدبختوں کی وجہ سے اسباب ختم ہوچکے ہوں گے اور زبردست ذات کی طرف سدھاریں گے پھر ان کے لیے دنیا کی طرف واپس لوٹنا نہیں ہوگا جبکہ ان کے سرداران کی اطاعت سے بیزاری ظار کررہے ہوگے جبکہ خوش بخت لول ایمان کی ولایت سے کامیاب ہوجائیں گے اے ابن قیس ! ایمان کے چار ستون ہیں، صبر ، یقین، عدل اور جہاد صبر کے بھی چار ستون ہیں شوق، خوف، زہد اور قرب جو شخص جنت کا مشتاق ہوتا ہے خواہشات سے یکسر علیحدگی اختیار کرتا ہے جسے دوزخ کی آگ کا ڈر ہو وہ محرمات سے پھرجاتا ہے، جو دنیا سے بےرغبتی اختیار کرتا ہے، دنیا کی مصیبتیں اس پر آسان ہوجاتی ہیں۔ جو موت کا منتظر ہوتا ہے وہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرتا ہے جو حکمت و دانائی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ عبرت کا راستہ پہچان لیتا ہے جو عبرت پہچان لیتا ہے اسے سنت کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے، جسے سنت کی معرفت حاصل ہوگئی وہ گویا کہ اولین میں سے ہوگیا اور مستقل سیدھے راستے پر گامزن ہوگیا عدل کے بھی چار ستون ہیں عمدہ فہم، گہرا علم حکمت اور بربادری جسے فہم حاصل ہو وہ ان سب کی تفسیر علم سے کرتا ہے، جسے علم حاصل ہو وہ حکمت کے شرائع پہچان گیا جس نے حکمت کے شرائع پہچان لیے وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا، جس میں وہ بردباری آجائے وہ افراط کا شکار نہیں ہوتا اور لوگوں میں محمود ہوگرزندہ رہتا ہے جہاد کے بھی اسی طرح چارستون ہیں امربالمعروف ونہی عن المنکر ، صدق اور فاسقین کی دھنائی ، جو شخ امر بالمعروف کرتا ہے وہ مومن کی کمر کو مضبوط تر بنادیتا ہے جونہی عن المنکر کرتا ہے منافق کی ناک کو خاک آلود کرتا ہے جو سچائی سے کام لیتا ہے اس کا وبال اتار دیا جاتا ہے، جو شخص منافقین کی دھنائی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے غصہ ہوتا ہے اللہ اس کے لیے غصہ میں آتا ہے۔
اتنے میں آپ (رض) کی طرف عمار (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : امیر المومنین جیسے آپ نے ہمیں ایمان کے متعلق خبر دی اسی طرح کفر کے متعلق بھی ہمیں خبر دیں فرمایا : اے ابویقظان جی ھاں ! کفر کی چار چیزوں پر بنیاد ہے جفا، اندھا پن، غفلت اور شک، جس نے جفاکشی کی اس نے حق کو حقیر وکمتر سمجھا اور باطل کا بول بالا کیا، علماء کی مخالفت کی اور باطل پر اصرار کیا، جس نے اندھا پن اختیار کرلیا وہ نصیحت کو بھول گیا اور بدگمانی کی اس نے اتباع کی بغیر توبہ کے مغفرت کو طلب کیا، جس نے غفلت اختیار کی وہ رشد و ہدایت سے دور رہا اور لمبی لمبی آرزؤ وں نے اسے دھوکے میں رکھا اس نے حسرت و ندامت اپنے دامن میں سمیٹ لی اس کے لیے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا اللہ نے احتساب نہیں لیا جو اللہ کے معاملہ میں سرکشی کرتا ہے وہ شک میں پڑجاتا ہے جس نے شک کیا ذلت اس کا مقدر بن گئی، اس نے اپنے معاملہ میں کوتاہی کردی اس نے اپنے رب تعالیٰ کے معاملہ میں دھوکا کیا جبکہ اللہ تعالیٰ کی معافی اور آسانی وسیع تر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طاعت میں عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ثواب کو حاصل کرتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی معصیت میں عمل کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مزہ چکھ لیا اے ابویقظان ! اچھا انجام تمہیں مبارک ہو اس انجام کے بعد اور کوئی انجام نہیں اور جنت کے بعد اور کسی جنت کی تلاش نہیں۔ اس کے بعد ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں زندوں میں سے مردہ کے متعلق خبر دیجئے۔ فرمایا جی ہاں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مبشرین اور منذرین بنا کر مبعوث کیا ہے صدیقین نے ان کی تصدیق کی جبکہ مکذبین نے ان کی تکذیب کی انبیاء نے مصدقین کو ساتھ رکھ کر مکذبین کے ساتھ قتال کیا، اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو غلبہ عطا کیا پھر رسولوں کو موت آئی اور ان کے بعد بہت سارے لوگ آئے ان میں سے بغض منکرین ہوئے ان کی زبان اور دل دونوں منکر تھے اس کا دل تارک تھا جبکہ یہ دو بھلائی کی خصلتیں ہیں انھیں تھامے رکھو ان میں سے بعض دل سے منکر ہوتے ہیں ہاتھ اور زبان سے تارک ہوتا ہے یہ عادت دو خصلتوں میں سے بڑھی ہوئی ہے ایک آدمی ان میں سے وہ ہے جو دل زبان اور ہاتھوں سے تارک ہوتا ہے یہ زندوں میں مردہ ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا اے امیر المومنین ہمیں بتائیے کہ آپ نے طلحہ اور زبیر کے ساتھ کیوں قتال کیا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا میں نے ان کے ساتھ قتال کیا چونکہ انھوں نے میری بیعت توڑ دی تھی اور انھوں نے میرے مومن ساتھیوں کو قتل کیا تھا حالانکہ یہ ان کے لیے حلال نہیں تھا بالفرض اگر وہ ابوبکر وعمر کے ساتھ ایسا کرتے وہ بھی ان کے ساتھ قتال کرتے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سارے صحابہ (رض) جانتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت سے انکار کیا وہ اس سے اس وقت تک راضی نہیں ہوئے جب تک کہ اس سے بیعت نہیں لے لی گو کہ وہ آپ (رض) کی بیعت کو ناگوارہی کیوں نہ سمجھتا ہو ، تو مجھے کیا ہوا حالانکہ انھوں نے (طلحہ (رض) و زبیر (رض)) میرے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور رضامندی سے بیعت کی تھی نہ کہ ناگواری سے۔ لیکن انھوں نے مجھ سے بصرہ اور یمن کی ولیات (گورنری) کا مطالبہ کیا تھا میں نے انھیں ولایت نہ سونپی چونکہ ان پر دنیا کی محبت کا غلبہ ہوگیا تھا اور ان میں حرص پیدا ہوگئی تھی مجھے خوف محسوس ہوا کہ یہ کہیں اللہ کے بندوں کو غلام نہ بنالیں اور مسلمانوں کے اموال کو اپنا نہ تصور کرلیں میں نے ان کی آزمائش کرنے کے بعد جب ان سے منہ موڑا۔
ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق خبر دیجئے کیا یہ واجب ہے ؟ حضرت علی (رض) نے جواب دیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تم سے پہلی امتیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے چھوڑنے پر ہلاک کردی گئیں چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون۔
وہ برائی سے نہیں باز آتے تھے چنانچہ وہ برائی کر بیٹھے تھے اور بہت برا کرتے تھے۔
امربالمعروف ونہی عن المنکر
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو انھیں اپنائے گا اللہ اس کی مدد کرے گا اور جو ترک کرے گا اللہ اسے رسوا کرے گا نیکی کے اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ امر بالمعروف اور انہی عن المنکر کے ہوتے ہوئے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اوڑھے ہوئے سمندر میں خشک جگہ پس تم بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اجل کو قریب نہیں کرتے اور رزق میں کمی نہیں کرتے جبکہ جابرحکمران کے سامنے کلمہ حق افضل جہاد ہے۔ امر آسمان سے ایسے ہی نازل ہوتا ہے جیسے کہ بادلوں سے بارش کے قطرے جو تقدیر میں کم یا زیادہ آچکا ہے چنانچہ تم میں سے جب کوئی شخص اس میں کمی دیکھے اور دوسرے کو خوشحالی پائے تو یہ چیز اس کے لیے باعث فتنہ نہیں وہ مرد مسلمان جو خیانت سے بری ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو اچھائیوں کا منتظر رہے یا تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر میں واقع ہوگا یا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے رزق ملے گا آناً فاناً میں وہ مال واولاد والا ہوجاتا ہے جبکہ مال اور اولاد دنیوی زینت ہیں اور باقی اعمال دنیا کی کھیتی ہیں جبکہ عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (دنیاوآخرت) کو بہت ساری اقوام کے لیے جمع بھی کیا ہے۔
ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں نئی نئی باتیں ظاہر ہونے کے متعلق خبر دیں جیسے حضرت علی (رض) نے فرمایا : جی ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد نئی نئی باتیں ظاہر ہوں گی حتیٰ کہ ایک کہنے والا کہے گا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے، جبکہ یہ سب کچھ مجھ پر جھوٹ ہوگا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے برحق مبعوث کیا ہے میری امت اصل دین پر متفرق ہوجائے گی اور اس کی جماعت بہتر (72) فرقوں میں بٹ جائے گی ہر فرقہ ضال ومضل ہوگا اور دوزخ کی طرف دعوت دیتا ہوگا جب ایسی حالت پیش آجائے تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو بلاشبہ قرآن حکیم میں گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ حکم اس میں واضح ہے اور لوگوں میں سے جس نے بھی اس کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے اسے چکنا چور کردیا۔ قرآن کے علاوہ میں جس نے بھی طلب علم کیا اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کردیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور اس کا واضح نور ہے اس کی شفاء نفع بخش ہے اس کا تمسک کرنے والے کے لیے باعث عصمت ہے اتباع کرنے والوں کے لیے باعث نجات ہے اس میں موج نہیں جو کھڑی ہوجائے اس میں کجی نہیں جو ٹیڑھے پن کو فروغ دے اس کے عجائب نہ ختم ہونے والے ہیں کثرت تردید اس میں فرق نہیں ڈالتی اسی قرآن کو جنات نے سنا اور اپنی قوم کو ڈر سناتے ہوئے واپس لوٹے اور کہنے لگے اے ہماری قوم چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
انا سمعنا قرآنا عجبا یھدی الی الرشد۔
بلاشبہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے۔
جس نے اس کا اقرار کیا اس نے سچ کہا جس نے اس پر عمل کیا اسے اجر وثواب ملا جس نے اس کا تمسک کیا اسے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی مل گئی۔
ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین ! ہمیں فتنہ کے متعلق خبر دیجئے کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں جب یہ آیت نازل ہوئی۔
الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وھم لا یفتنون۔
آلم کیا لوگوں کا گمان ہے کہ صرف اتنا کہہ لینے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کی آزمائش نہیں کی گئی۔
میں سمجھ گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمارے درمیان ہوتے ہوئے ہمارے اوپر فتنہ کا نزول نہیں ہوگا، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جس فتنہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو بر دی ہے اس سے مراد کونسا فتنہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد میری امت فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ میں نے عرض کیا : کیا آپ نے مجھ سے غزوہ احد کے دن نہیں فرمایا تھا جس دن شہید ہونے والے شہید ہوئے آپ نے مجھے شہادت سے نہ ہمکنار ہونے کی خبر دی تھی یہ خبر مجھ پر کافی حد تک گراں گزری تھی آپ نے مجھ سے فرمایا تھا : اے علی خوش ہوجاؤ تمہیں شہادت بعد میں ملے گی مجھے فرمایا : بلاشبہ یہ ایسا ہی ہے، اس وقت تمہارے صبر کی کیا حالت ہوگی جب تمہاری ڈاڑھی خون آلود ہوگی میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان جائیں کیا یہ مقام صبر کے مواقع میں سے نہیں لیکن بشارت اور شکر کے مواقع میں سے ہے۔ فرمایا : جی ہاں ۔ پھر مجھ سے فرمایا : اے علی تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور میری امت کے ساتھ آزمائش کا شکار ہوگے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا کرو گے، لہٰذا جواب تیار رکھو میں نے عرض کیا : آپ پر میرے ماں باپ قربان جائیں مجھے بتائیں یہ کیسا فتنہ ہے جس میں لوگ مبتلا ہوں گے جس پر میں آپ کے بعد ان سے جہاد کروں گا ارشاد فرمایا : یقیناً تم میرے بعد فتنہ پردازوں بےانصافوں اور ظالموں سے جہاد کرو گے۔۔۔ایک ایک آدمی کا نام لیا۔ پھر آپ (رض) نے مجھ سے فرمایا تم میری امت کے ہر اس فرد سے قتال کرو گے جو میری مخالفت کرے گا اور دین میں رائے پر عمل کرے گا، حالانکہ دین میں رائے کی گنجائش نہیں ہے۔ بلاشبہ دین اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کی نہی ہے۔ میں نے عرض کیا ! یارسول اللہ قیامت کے دن خصوصیت کے معاملہ میں رشد و ہدایت کی طرف میری راہنمائی فرمانا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں جب ایسا موقع ہو ہدایت کو ترجیح دو جب تمہاری قوم ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دے رہی ہوگی اور قرآن کے مقابلہ میں رائے کو لائے گی اس وقت قرآن مجید میں سے متشابہات کے ذریعے حجتوں کا تتبع کیا جاتا ہوگا دنیا کے حصول اور کثرت مال کے واسطے تم اس وقت قرآن کو رائے پر ترجیح دینا جب تمہاری قوم ۔ کلام کو اس کے مواضع سے تحریف کرے گی اندھا دھند بدعات کے وقت امر صالع فتنہ گناہ بےراہ قیادت ظالم فرقے اور ناانصاف فرقے کے وقت، اس وقت اچھی عاقبت کو بھول نہ جانا جبکہ عاقبت متقین کے لیے ہے اے علی ! ایسا نہ ہو کہ تمہارا خصم عدل و احسان اور تواضع والا ہو میری سنت پر چلنے والا ہو اور قرآن پر عمل کرتا ہو جبکہ تم ایسے نہ ہو وہ آدمی راہ حق سے نکل جاتا ہے جو اللہ کے فریضے کی مخالفت کرتا ہو یا نبی کی سنت سے منہ موڑتا ہو یا حق سے عدول کرتا ہو اور باطل پر عمل کرتا ہو اس وقت لوگ ظلم میں بڑھ جاتے ہیں اور انھیں خدا کی طرف سے مہلت دی گئی ہوتی ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
انما نملی لھم لیزدادو اثما۔
ہم نے انھیں اس لیے مہلت دی ہوئی ہے تاکہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں۔ اس وقت حق کے گواہ نہیں ہوں گے اور انصاف قائم کرنے والے نہیں ہوں گے اے علی ! قوم عنقریب فتنہ میں مبتلا ہوگی اور وہ حسب ونسب پر فخر کرتے ہوں گے خود اپنا تزکیہ کرتے ہوں گے اور اپنی دینداری کا رب تعالیٰ پر احسان جتلا رہے ہوں گے، اس کی رحمت کے متمنی ہوں گے اس کے عذاب سے بےخوف ہوں گے حرام کو حلال سمجھیں گے، شراب کو نبیذ سمجھ کر حلال کریں گے، حرام کو ھدیہ یہ سمجھ کر حلال سمجھیں گے اور سود کو بیع کے ذریعے حلال سمجھیں گے زکوۃ نہیں ادا کریں گے اور یوں نیکی کے دعویدار ہوں گے فسق وفجور کا ان میں دور دورہ ہوگا ان پر سفہاء حکمرانی کررہے ہوں گے ان کا ظلم اور خطائیں دو گنا ہوجائیں گی۔ ان کے ہاں حق باطل بن جائے گا اور باطل حق ہوجائے گا باطل پر ایک دوسرے کا تعاون کریں گے اور حق پر طرح طرح کے طعنے کرنے لگیں گے۔ علماء پر عیب لگائیں گے اور ان کا مذاق اڑائیں گے ، یارسول اللہ ! جب وہ ایسا کریں گے تو وہ کس مقام پر ہوں گے فتنہ کے مقام پر یاردت کے مقام پر ؟ ارشاد فرمایا : وہ تمام فتنہ پر ہوں گے اللہ تعالیٰ ہم اہل بیت کی وجہ سے انھیں پناہ دے گا جب ہم میں سے خوش بخت لوگوں کا ظہور ہوگا جو عقلمند ہوں گے الا یہ کہ جو نماز چھوڑتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں حرام کو حلال کرتا ہو جو بھی ایسا کرے گا وہ کافر ہوگا۔ اے علی ! اللہ تعالیٰ نے ہم سے اسلام کو فتح دی اور ہم ہی سے اس کا خاتمہ ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے بتوں کو ہلاک کیا اور ان کے پجاریوں کو بھی ہمارے ہی ذریعے ہر جابر و منافق کو ختم کریگا۔ حتیٰ کہ ہم حق پر قتل کردیئے جائیں گے جیسا کہ باطل پر بہت سارے قتل کئے جائیں گے ، علی اس امت کی مثال ایک باغیچے کی سی ہے، اس میں سے ایک جماعت عام کو کھلایا جاتا ہو پھر ایک عام جماعت کو شاید ان کے آخر میں ایک جماعت ہو جس کی اصل ثابت ہو اور ان کی فرع احسن ہے جن کا پھل میٹھا ہو جن کی اکثریت بھلائی پر ہو جس میں عدل و انصاف کی فراوانی ہو جن کی بادشاہت طویل تر ہو اے علی ! اللہ تعالیٰ اس امت کو کیسے ہلاک کرے گا جس کا پہلا فرد میں ہوں درمیانی فرد مہدی ہوں گے اور آخری فرد مسیح ابن مریم ہوں گے اے علی اس امت کی مثال بارش جیسی ہے نہیں معلوم اس کا پہلا حصہ بھلائی والا ہوگا یا آخری اس کے درمیان میں کجی اور ٹیڑھا پن ہے تو اس میں سے نہیں۔ اے علی ! اس امت میں دھوکا دہی تکبر خود نمائی اور طرح طرح کی برائیاں پیدا ہوں گی اس کے بعد یہ امت شروع کے اچھے افراد کی طرف لوٹے گی یہ اس وقت ہوگا جب مرد کی حاجت عورت کے عزل پر پوری ہوگی حتیٰ کہ اہل بیت بکری ذبح کریں گے اور اس کے سر پر قناعت کرلیں گے اور اس کے بقیہ حصہ کو آپس کی نرمی و مہربانی کی بنا پر آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ رواہ وکیع
44216- عن يحيى بن عبد الله بن الحسن عن أبيه قال: كان علي يخطب فقام إليه رجل فقال يا أمير المؤمنين! أخبرني من أهل الجماعة؟ ومن أهل الفرقة؟ ومن أهل السنة؟ ومن أهل البدعة؟ فقال: ويحك! أما إذ سألتني فافهم عني، ولا عليك أن لا تسأل عنها أحدا بعدي، فأما أهل الجماعة فأنا ومن اتبعني وإن قلوا، وذلك الحق عن أمر الله وأمر رسوله، فأما أهل الفرقة فالمخالفون لي ومن اتبعني وإن كثروا، وأما أهل السنة المتمسكون بما سنه الله لهم ورسوله وإن قلوا وإن قلوا، وأما أهل البدعة فالمخالفون لأمر الله ولكتابه ورسوله، العاملون برأيهم وأهوائهم وإن كثروا، وقد مضى منهم الفوج الأول وبقيت أفواج، وعلى الله قصمها واستئصالها عن جدبة الأرض، فقام إليه عمار فقال: يا أمير المؤمنين! إن الناس يذكرون الفيء ويزعمون أن من قاتلنا فهو وماله وأهله فيء لنا وولده، فقام رجل من بكر بن وائل يدعى عباد بن قيس وكان ذا عارضة ولسان شديد فقال: يا أمير المؤمنين! والله! ما قسمت بالسوية، ولا عدلت في الرعية، فقال علي: ولم - ويحك؟ قال: لأنك قسمت ما في العسكر، وتركت الأموال والنساء والذرية، فقال علي: يا أيها الناس! من كان به جراحة فليداوها بالسمن، فقال عباد: جئنا نطلب غنائمنا، فجاءنا بالترهات! فقال له علي: إن كنت كاذبا فلا أماتك الله حتى تدرك غلام ثقيف، فقال رجل من القوم: ومن غلام ثقيف يا أمير المؤمنين؟ فقال: رجل لا يدع لله حرمة إلا انتهكها، قال: فيموت أو يقتل؟ قال: بلى يقصمه قاصم الجبارين، قتله بموت فاحش يحترق منه دبره لكثرة ما يجري من بطنه، يا أخا بكر أنت امرؤ ضعيف الرأي، أما علمت أنا لا نأخذ الصغير بذنب الكبير! وأن الأموال كانت لهم قبل الفرقة وتزوجوا على رشدة وولدوا على الفطرة، وإنما لكم ما حوى عسكرهم، وما كان في دورهم فهو ميراث لذريتهم، فإن عدا علينا أحد منهم أخذناه بذنبه، وإن كف عنا لم تحمل عليه ذنب غيره. يا أخا بكر! لقد حكمت فيهم بحكم رسول الله صلى الله عليه وسلم في أهل مكة، قسم ما حوى العسكر ولم يعرض لما سوى ذلك، وإنما اتبعت أثره حذو النعل بالنعل. يا أخا بكر! أما علمت أن دار الحرب يحل ما فيها، وأن دار الهجرة يحرم ما فيها إلا بحق، فمهلا مهلا رحمكم الله! فإن أنتم لم تصدقوني وأكثرتم علي - وذلك أنه تكلم في هذا غير واحد - فأيكم يأخذ أمه عائشة بسهمه؟ قالوا أينا يا أمير المؤمنين! بل أصبت وأخطأنا، وعلمت وجهلنا، ونحن نستغفر الله! وتنادى الناس من كل جانب: أصبت يا أمير المؤمنين! أصاب الله بك الرشاد والسداد! فقام عمار فقال: يا أيها الناس! إنكم والله إن اتبعتموه وأطعتموه لم يضل بكم عن منهاج نبيكم قيس شعرة، وكيف يكون ذلك وقد استودعه رسول الله صلى الله عليه وسلم المنايا والوصايا وفصل الخطاب على منهاج هارون بن عمران إذ قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي، فضلا خصه الله به إكراما منه لنبيه صلى الله عليه وسلم حيث أعطاه الله ما لم يعطه أحدا من خلقه، ثم قال علي: انظروا رحمكم الله ما تؤمرون به فامضوا له، فإن العالم أعلم بما يأتي من الجاهل الخسيس الأخس، فإني حاملكم - إن شاء الله تعالى إن أطعتموني - على سبيل الجنة وإن كان ذا مشقة شديدة ومرارة عتيدة، وإن الدنيا حلوة، الحلاوة لمن اغتر بها.... من الشقوة والندامة عما قليل، ثم إني مخبركم أن خيلا من بني إسرائيل أمرهم نبيهم أن لا يشربوا من النهر، فلجوا في ترك أمره فشربوا منه إلا قليلا منهم فكونوا رحمكم الله من أولئك الذين أطاعوا نبيهم ولم يعصوا ربهم، وأما عائشة فأدركها رأي النساء وشيء كان في نفسها علي يغلي في جوفها كالمرجل، ولو دعيت لتنال من غير ما أتت إلي لم تفعل، ولها بعد ذلك حرمتها الأولى، والحساب على الله، يعفو عمن يشاء ويعذب عمن يشاء، فرضى بذلك أصحابه وسلموا لأمره بعد اختلاط شديد فقالوا: يا أمير المؤمنين! حكمت والله فينا بحكم الله،
أنا جهلنا ومع جهلنا لم نأت ما يكره أمير المؤمنين: وقال ابن يساف الأنصاري:
إن رأيا رأيتموه سفاها ... لخطأ الإيراد والإصدار
ليس زوج النبي تقسم فيئا ... ذلك زيغ القلوب والأبصار
فاقبلوا اليوم ما يقول علي ... لا تناجوا بالإثم في الإسرار
ليس ما ضمت البيوت بفيء ... إنما الفيء ما تضم الأوار 1
من كراع في عسكر وسلاح ... ومتاع يبيع أيدي التجار
ليس في الحق قسم ذات نطاق ... لا ولا أخذكم لذات خمار
ذاك هو فيئكم خذوه وقولوا ... قد رضينا لا خير في الأكثار
إنها أمكم وإن عظم الخطب ... وجاءت بزلة وعثار
فلها حرمة النبي وحقاق ... علينا من سترها ووقار
فقام عباد بن قيس وقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الإيمان، فقال: نعم، إن الله ابتدأ الأمور فاصطفى لنفسه ما شاء، واستخلص ما أحب فكان مما أحب أنه ارتضى الإسلام، واشتقه من اسمه، فنحله من أحب من خلقه، ثم شقه فسهل شرائعه لمن ورده وعزز أركانه على من حاربه، هيهات من أن يصطلمه مصطلم! جعله سلما لمن دخله، ونورا لمن استضاء به، وبرهانا لمن تمسك به، ودينا لمن انتحله، وشرفا لمن عرفه، وحجة لمن خاصم به وعلما لمن رواه، وحكمة لمن نطق به، وحبلا وثيقا لمن تعلق به، ونجاة لمن آمن به، فالإيمان أصل الحق، والحق سبيل الهدى، وسيفه جامع الحلية، قديم العدة الدنيا مضماره، والغنيمة حليته، فهو أبلج منهاج، وأنوار سراج، وأرفع غاية، وأفضل دعية، بشير لمن سلك قصد الصادقين، واضح البيان عظيم الشأن، الأمن منهاجه، والصالحات مناره، والفقه مصابيحه، والمحسنون فرسانه، فعصم السعداء بالإيمان، وخذل الأشقياء بالعصيان من بعد اتجاه الحجة عليهم بالبيان، إذ وضح لهم منار الحق وسبيل الهدى، فالإيمان يستدل به على الصالحات، وبالصالحات يعمر الفقه، وبالفقه يرهب الموت، وبالموت يختم الدنيا، وبالدنيا تخرج الآخرة وفي القيامة حسرة أهل النار، وفي ذكر أهل النار موعظة أهل التقوى والتقوى غاية لا يهلك من أتبعها، ولا يندم من عمل بها، لأن بالتقوى فاز الفائزون، وبالمعصية خسر الخاسرون، فليزدجر أهل النهى وليتذكر أهل التقوى، فإن الخلق لا مقصر لهم في القيامة دون الوقوف بين يدي الله، مرفلين في مضمارها نحو القصبة العليا إلى الغاية القصوى، مهطعين بأعناقهم نحو داعيها، قد شخصوا من مستقر الأجداث والمقابر إلى الضرورة أبدا، لكل دار أهلها، قد انقطعت بالأشقياء الأسباب وأفضوا إلى عدل الجبار، فلا كرة لهم إلى دار الدنيا، فتبرؤا من الذين آثروا طاعتهم على طاعة الله، وفاز السعداء بولاية الإيمان، فالإيمان يا ابن قيس على أربع دعائم: الصبر، واليقين، والعدل، والجهاد؛ فالصبر من ذلك على أربع دعائم: الشوق، والشفق، والزهد، والترقب؛ فمن اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات، ومن أشفق من النار رجع عن المحرمات، ومن زهد في الدنيا هانت عليه المصيبات، ومن ارتقب الموت سارع في الخيرات، واليقين من ذلك على أربع دعائم: تبصرة الفتنة تأول الحكمة، ومن تأول الحكمة عرف العبرة، ومن عرف العبرة عرف السنة، ومن عرف السنة فكأنما كان في الأولين، فاهتدى إلى التي هي أقوم، والعدل من ذلك على أربع دعائم: غائص الفهم، وغمرة العلم، وزهرة الحكم، وروضة الحلم، فمن فهم فسر جميع العلم، ومن علم عرف شرائع الحكم، ومن عرف شرائع الحكم لم يضل، ومن حلم لم يفرط أمره وعاش في الناس حميدا، والجهاد من ذلك على أربع دعائم: الأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر، والصدق في المواطن وشنآن الفاسقين؛ فمن أمر بالمعروف شد ظهر المؤمن، ومن نهى عن المنكر أرغم أنف المنافق، ومن صدق في المواطن قضى الذي عليه ومن شنأ المنافقين وغضب لله غضب الله له، فقام إليه عمار فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الكفر على ما بنيء كما أخبرتنا عن الإيمان، قال: نعم يا أبا اليقظان! بني الكفر على أربع دعائم: على الجفاء والعمى، والغفلة، والشك، فمن جفا فقد احتقر الحق، وجهر بالباطل ومقت العلماء وأصر على الحنث العظيم؛ ومن عمي نسي الذكر واتبع الظن، وطلب المغفرة بلا توبة ولا استكانة؛ ومن غفل حاد عن الرشد وغرته الأماني، وأخذته الحسرة والندامة، وبدا له من الله ما لم يكن يحتسب، ومن عتا في أمر الله شك، ومن شك تعالى عليه فأذله بسلطانه وصغره بجلاله كما فرط في أمره فاغتر بربه الكريم والله أوسع بما لديه من العفو والتيسير، فمن عمل بطاعة الله اجتلب بذلك ثواب الله، ومن تمادى في معصية الله ذاق وبال نقمة الله، فهنيئا لك يا أبا اليقظان عقبى لا عقبى غيرها وجنات لا جنات بعدها! فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! حدثنا عن ميت الأحياء، قال: نعم، إن الله بعث النبيين مبشرين ومنذرين فصدقهم مصدقون وكذبهم مكذبون، فيقاتلون من كذبهم بمن صدقهم، فيظهرهم الله ثم يموت الرسل، فتخلف خلوف، فمنهم منكر للمنكر بيده ولسانه وقلبه، فذلك استكمل خصال الخير، ومنهم منكر للمنكر بلسانه وقلبه تارك له بيده فذلك خصلتان من خصال الخير تمسك بهما وضيع خصلة واحدة وهي أشرفها، ومنهم منكر للمنكر بقلبه تارك له بيده ولسانه فذلك ضيع شرف الخصلتين من الثلاث وتمسك بواحدة ومنهم تارك له بلسانه وقلبه ويده فذلك ميت الأحياء، فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا على ما قاتلت طلحة والزبير؟ قال: قاتلتهم على نقضهم بيعتي، وقتلهم شيعتي من المؤمنين حكيم بن جبلة العبدي من عبد القيس والسائحة والاساورة بلا حق استوجبوه منهما ولا كان ذلك لهما دون الإمام، ولو أنهما فعلا ذلك بأبي بكر وعمر لقاتلاهما، ولقد علم من ههنا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أن أبا بكر لم يرضيا ممن امتنع من بيعة أبي بكر حتى بايع وهو كاره ولم يكونوا بايعوه بعد الأنصار، فما بالي وقد بايعاني طائعين غير مكرهين، ولكنهما طمعا مني في ولاية البصرة واليمن، فلما لم أولهما وجاءهما الذي غلب من حبهما للدنيا وحرصهما عليها خفت أن يتخذا عباد الله خولا، ومال المسلمين لأنفسهما، فلما زويت ذلك عنهما وذلك بعد أن جربتهما واحتججت عليهما. فقام إليه رجل فقال يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر أواجب هو؟ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما أهلك الله الأمم السالفة قبلكم بتركهم الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، يقول الله عز وجل: {كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ} وإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لخلقان من خلق الله عز وجل، فمن نصرهما نصره الله ومن خذلهما خذله الله، وما أعمال البر والجهاد في سبيله عند الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر إلا كبقعة في بحر لجي، فمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر، فإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لا يقربان من أجل ولا ينقصان من رزق، وأفضل الجهاد كلمة عدل عند إمام جائر، وإن الأمر لينزل من السماء إلى الأرض كما ينزل قطر المطر إلى كل نفس بما قدر الله لها من زيادة أو نقصان في نفس أو أهل أو مال، فإذا أصاب أحدكم نقصانا في شيء من ذلك ورأى الآخر ذا يسار لا يكونن له فتنة، فإن المرء المسلم البريء من الخيانة لينتظر من الله إحدى الحسنيين: إما من عند الله فهو خير واقع وإما رزق من الله ياتيه عاجل، فإذا هو ذو أهل ومال ومعه حسبه ودينه، المال والبنون زينة الحياة الدنيا، والباقيات الصالحات حرث الدنيا، والعمل الصالح حرث الآخرة، وقد يجمعهما الله لأقوام. فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن أحاديث البدع، قال: نعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن أحاديث ستظهر من بعدي حتى يقول قائلهم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، كل ذلك افتراء علي، والذي بعثني بالحق! لتفترقن أمتي على أصل دينها وجماعتها على ثنتين وسبعين فرقة، كلها ضالة مضلة تدعو إلى النار، فإذا كان ذلك فعليكم بكتاب الله عز وجل، فإن فيه نبأ ما كان قبلكم ونبأ ما يأتي بعدكم، والحكم فيه بين، من خالفه من الجبابرة قصمه الله، ومن ابتغى العلم في غيره أضله الله، فهو حبل الله المتين، ونوره المبين، وشفاؤه النافع، عصمة لمن تمسك به، ونجاة لمن تبعه، لا يموج فيقام، ولا يزيغ فيتشعب ولا تنقضي عجائبه، ولا يخلقه كثرة الرد، هو الذي سمعته الجن فلم تناه أو ولوا إلى قومهم منذرين قالوا: يا قومنا! {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ} من قال به صدق، ومن عمل به أجر، ومن تمسك به هدي إلى صراط مستقيم. فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الفتنة هل سألت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، إنه لما نزلت هذه الآية من قول الله عز وجل: {آلم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ} علمت أن الفتنة لا تنزل بنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي بين أظهرنا فقلت: يا رسول الله! ما هذه الفتنة التي أخبرك الله بها؟ فقال: يا علي! إن أمتي سيفتنون من بعدي، قلت: يا رسول الله! أو ليس قد قلت لي يوم أحد حيث استشهد من استشهد من المسلمين وحزنت على الشهادة فشق ذلك علي فقلت لي: أبشر يا صديق! فإن الشهادة من ورائك، فقال لي: فإن ذلك لكذلك، فكيف صبرك إذا خضبت هذه من هذا! وأهوى بيده إلى لحيتي ورأسي، فقلت: بأبي وأمي يا رسول الله! ليس ذلك من مواطن الصبر ولكن من مواطن البشرى والشكر! فقال لي: أجل، ثم قال لي: يا علي! إنك باق بعدي، ومبتلي بأمتي، ومخاصم يوم القيامة بين يدي الله تعالى فأعدد جوابا، فقلت: بأبي أنت وأمي! بين لي ما هذه الفتنة التي يبتلون بها وعلى ما أجاهدهم بعدك؟ فقال: إنك ستقاتل بعدي الناكثة والقاسطة والمارقة - وحلاهم وسماهم رجلا رجلا، ثم قال لي: وتجاهد أمتي على كل من خالف القرآن ممن يعمل في الدين بالرأي، ولا رأى في الدين، إنما هو أمر من الرب ونهيه، فقلت: يا رسول الله! فأرشدني إلى الفلج عند الخصومة يوم القيامة، فقال: نعم، إذا كان ذلك فاقتصر على الهدى، إذا قومك عطفوا الهدى على العمى، وعطفوا القرآن على الرأي فتأولوه برأيهم، تتبع الحجج من القرآن بمشتبهات الأشياء الكاذبة عند الطمأنينة إلى الدنيا والتهالك والتكاثر فاعطف أنت الرأى على القرآن إذا قومك حرفوا الكلم عن مواضعه عند الأهواء الساهية، والأمر الصالح، والهرج الآثم، والقادة الناكئة، والفرقة القاسطة، والأخرى المارقة أهل الإفك المردي والهوى المطغى، والشبهة الحالقة، فلا تتكلن عن فضل العاقبة فإن العاقبة للمتقين، وإياك يا علي أن يكون خصمك أولى بالعدل والإحسان والتواضع لله والافتداء بسنتي والعمل بالقرآن منك! فإن من فلج الرب على العبد يوم القيامة أن يخالف فرض الله أو سنة سنها نبي، أو يعدل عن الحق ويعمل بالباطل، فعند ذلك يملي لهم فيزدادوا إثما يقول الله: {إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْماً} فلا يكونن الشاهدون بالحق والقوامون بالقسط عندك كغيرهم، يا علي! إن القوم سيفتنون ويفتخرون بأحسابهم وأموالهم ويزكون أنفسهم ويمنون دينهم على ربهم، ويتمنون رحمته ويأمنون عقابه، ويستحلون حرامه بالمشتبهات الكابة، فيستحلون الخمر بالنبيذ والسحت بالهدية والربا بالبيع، ويمنعون الزكاة ويطلبون البر، ويتخذون فيما بين ذلك أشياء من الفسق لا توصف صفتها، ويلي أمرهم السفهاء، ويكثر تتبعهم
على الجور والخطاء، فيصير الحق عندهم باطلا والباطل حقا، ويتعاونون عليه ويرمونه بألسنتهم، ويعيبون العلماء ويتخذونهم سخريا. يا رسول الله! فبأية المنازل هم إذا فعلوا ذلك بمنزلة فتنة أو بمنزلة ردة؟ قال: بمنزلة فتنة، ينقذهم الله بنا أهل البيت عند ظهورنا السعداء من أولي الألباب إلا أن يدعوا الصلاة ويستحلوا الحرام في حرم الله، فمن فعل ذلك منهم فهو كافر؛ يا علي! بنا فتح الله الإسلام وبنا يختمه، بنا أهلك الأوثان ومن يعبدها؛ وبنا يقصم كل جبار وكل منافق، حتى إنا لنقتل في الحق مثل من قتل في الباطل، يا علي! إنما مثل هذه الأمة مثل حديقة أطعم منها فوجا عاما ثم فوجا عاما، فلعل آخرها فوجا أن يكون أثبتها أصلا وأحسنها فرعا، وأحلاها جنى وأكثرها خيرا، وأوسعها عدلا، وأطولها ملكا؛ يا علي! كيف يهلك الله أمة أنا أولها ومهدينا أوسطها، والمسيح ابن مريم آخرها؛ يا علي! إنما مثل هذه الأمة كمثل الغيث لا يدري أوله خير أم آخره، وبين ذلك نهج أعوج لست منه وليس مني؛ يا علي! وفي تلك الأمة يكون الغلول والخيلاء وأنواع المثلات، ثم تعود هذه الأمة إلى ما كان خيار أوائلها، فذلك من بعد حاجة الرجل إلى قوت امرأته - يعني غزلها، حتى أن أهل البيت ليذبحون الشاة فيقنعون منها برأسها ويولون ببقيتها من الرأفة والرحمة بينهم. "وكيع".
أنا جهلنا ومع جهلنا لم نأت ما يكره أمير المؤمنين: وقال ابن يساف الأنصاري:
إن رأيا رأيتموه سفاها ... لخطأ الإيراد والإصدار
ليس زوج النبي تقسم فيئا ... ذلك زيغ القلوب والأبصار
فاقبلوا اليوم ما يقول علي ... لا تناجوا بالإثم في الإسرار
ليس ما ضمت البيوت بفيء ... إنما الفيء ما تضم الأوار 1
من كراع في عسكر وسلاح ... ومتاع يبيع أيدي التجار
ليس في الحق قسم ذات نطاق ... لا ولا أخذكم لذات خمار
ذاك هو فيئكم خذوه وقولوا ... قد رضينا لا خير في الأكثار
إنها أمكم وإن عظم الخطب ... وجاءت بزلة وعثار
فلها حرمة النبي وحقاق ... علينا من سترها ووقار
فقام عباد بن قيس وقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الإيمان، فقال: نعم، إن الله ابتدأ الأمور فاصطفى لنفسه ما شاء، واستخلص ما أحب فكان مما أحب أنه ارتضى الإسلام، واشتقه من اسمه، فنحله من أحب من خلقه، ثم شقه فسهل شرائعه لمن ورده وعزز أركانه على من حاربه، هيهات من أن يصطلمه مصطلم! جعله سلما لمن دخله، ونورا لمن استضاء به، وبرهانا لمن تمسك به، ودينا لمن انتحله، وشرفا لمن عرفه، وحجة لمن خاصم به وعلما لمن رواه، وحكمة لمن نطق به، وحبلا وثيقا لمن تعلق به، ونجاة لمن آمن به، فالإيمان أصل الحق، والحق سبيل الهدى، وسيفه جامع الحلية، قديم العدة الدنيا مضماره، والغنيمة حليته، فهو أبلج منهاج، وأنوار سراج، وأرفع غاية، وأفضل دعية، بشير لمن سلك قصد الصادقين، واضح البيان عظيم الشأن، الأمن منهاجه، والصالحات مناره، والفقه مصابيحه، والمحسنون فرسانه، فعصم السعداء بالإيمان، وخذل الأشقياء بالعصيان من بعد اتجاه الحجة عليهم بالبيان، إذ وضح لهم منار الحق وسبيل الهدى، فالإيمان يستدل به على الصالحات، وبالصالحات يعمر الفقه، وبالفقه يرهب الموت، وبالموت يختم الدنيا، وبالدنيا تخرج الآخرة وفي القيامة حسرة أهل النار، وفي ذكر أهل النار موعظة أهل التقوى والتقوى غاية لا يهلك من أتبعها، ولا يندم من عمل بها، لأن بالتقوى فاز الفائزون، وبالمعصية خسر الخاسرون، فليزدجر أهل النهى وليتذكر أهل التقوى، فإن الخلق لا مقصر لهم في القيامة دون الوقوف بين يدي الله، مرفلين في مضمارها نحو القصبة العليا إلى الغاية القصوى، مهطعين بأعناقهم نحو داعيها، قد شخصوا من مستقر الأجداث والمقابر إلى الضرورة أبدا، لكل دار أهلها، قد انقطعت بالأشقياء الأسباب وأفضوا إلى عدل الجبار، فلا كرة لهم إلى دار الدنيا، فتبرؤا من الذين آثروا طاعتهم على طاعة الله، وفاز السعداء بولاية الإيمان، فالإيمان يا ابن قيس على أربع دعائم: الصبر، واليقين، والعدل، والجهاد؛ فالصبر من ذلك على أربع دعائم: الشوق، والشفق، والزهد، والترقب؛ فمن اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات، ومن أشفق من النار رجع عن المحرمات، ومن زهد في الدنيا هانت عليه المصيبات، ومن ارتقب الموت سارع في الخيرات، واليقين من ذلك على أربع دعائم: تبصرة الفتنة تأول الحكمة، ومن تأول الحكمة عرف العبرة، ومن عرف العبرة عرف السنة، ومن عرف السنة فكأنما كان في الأولين، فاهتدى إلى التي هي أقوم، والعدل من ذلك على أربع دعائم: غائص الفهم، وغمرة العلم، وزهرة الحكم، وروضة الحلم، فمن فهم فسر جميع العلم، ومن علم عرف شرائع الحكم، ومن عرف شرائع الحكم لم يضل، ومن حلم لم يفرط أمره وعاش في الناس حميدا، والجهاد من ذلك على أربع دعائم: الأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر، والصدق في المواطن وشنآن الفاسقين؛ فمن أمر بالمعروف شد ظهر المؤمن، ومن نهى عن المنكر أرغم أنف المنافق، ومن صدق في المواطن قضى الذي عليه ومن شنأ المنافقين وغضب لله غضب الله له، فقام إليه عمار فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الكفر على ما بنيء كما أخبرتنا عن الإيمان، قال: نعم يا أبا اليقظان! بني الكفر على أربع دعائم: على الجفاء والعمى، والغفلة، والشك، فمن جفا فقد احتقر الحق، وجهر بالباطل ومقت العلماء وأصر على الحنث العظيم؛ ومن عمي نسي الذكر واتبع الظن، وطلب المغفرة بلا توبة ولا استكانة؛ ومن غفل حاد عن الرشد وغرته الأماني، وأخذته الحسرة والندامة، وبدا له من الله ما لم يكن يحتسب، ومن عتا في أمر الله شك، ومن شك تعالى عليه فأذله بسلطانه وصغره بجلاله كما فرط في أمره فاغتر بربه الكريم والله أوسع بما لديه من العفو والتيسير، فمن عمل بطاعة الله اجتلب بذلك ثواب الله، ومن تمادى في معصية الله ذاق وبال نقمة الله، فهنيئا لك يا أبا اليقظان عقبى لا عقبى غيرها وجنات لا جنات بعدها! فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! حدثنا عن ميت الأحياء، قال: نعم، إن الله بعث النبيين مبشرين ومنذرين فصدقهم مصدقون وكذبهم مكذبون، فيقاتلون من كذبهم بمن صدقهم، فيظهرهم الله ثم يموت الرسل، فتخلف خلوف، فمنهم منكر للمنكر بيده ولسانه وقلبه، فذلك استكمل خصال الخير، ومنهم منكر للمنكر بلسانه وقلبه تارك له بيده فذلك خصلتان من خصال الخير تمسك بهما وضيع خصلة واحدة وهي أشرفها، ومنهم منكر للمنكر بقلبه تارك له بيده ولسانه فذلك ضيع شرف الخصلتين من الثلاث وتمسك بواحدة ومنهم تارك له بلسانه وقلبه ويده فذلك ميت الأحياء، فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا على ما قاتلت طلحة والزبير؟ قال: قاتلتهم على نقضهم بيعتي، وقتلهم شيعتي من المؤمنين حكيم بن جبلة العبدي من عبد القيس والسائحة والاساورة بلا حق استوجبوه منهما ولا كان ذلك لهما دون الإمام، ولو أنهما فعلا ذلك بأبي بكر وعمر لقاتلاهما، ولقد علم من ههنا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أن أبا بكر لم يرضيا ممن امتنع من بيعة أبي بكر حتى بايع وهو كاره ولم يكونوا بايعوه بعد الأنصار، فما بالي وقد بايعاني طائعين غير مكرهين، ولكنهما طمعا مني في ولاية البصرة واليمن، فلما لم أولهما وجاءهما الذي غلب من حبهما للدنيا وحرصهما عليها خفت أن يتخذا عباد الله خولا، ومال المسلمين لأنفسهما، فلما زويت ذلك عنهما وذلك بعد أن جربتهما واحتججت عليهما. فقام إليه رجل فقال يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر أواجب هو؟ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما أهلك الله الأمم السالفة قبلكم بتركهم الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، يقول الله عز وجل: {كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ} وإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لخلقان من خلق الله عز وجل، فمن نصرهما نصره الله ومن خذلهما خذله الله، وما أعمال البر والجهاد في سبيله عند الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر إلا كبقعة في بحر لجي، فمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر، فإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لا يقربان من أجل ولا ينقصان من رزق، وأفضل الجهاد كلمة عدل عند إمام جائر، وإن الأمر لينزل من السماء إلى الأرض كما ينزل قطر المطر إلى كل نفس بما قدر الله لها من زيادة أو نقصان في نفس أو أهل أو مال، فإذا أصاب أحدكم نقصانا في شيء من ذلك ورأى الآخر ذا يسار لا يكونن له فتنة، فإن المرء المسلم البريء من الخيانة لينتظر من الله إحدى الحسنيين: إما من عند الله فهو خير واقع وإما رزق من الله ياتيه عاجل، فإذا هو ذو أهل ومال ومعه حسبه ودينه، المال والبنون زينة الحياة الدنيا، والباقيات الصالحات حرث الدنيا، والعمل الصالح حرث الآخرة، وقد يجمعهما الله لأقوام. فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن أحاديث البدع، قال: نعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن أحاديث ستظهر من بعدي حتى يقول قائلهم: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، كل ذلك افتراء علي، والذي بعثني بالحق! لتفترقن أمتي على أصل دينها وجماعتها على ثنتين وسبعين فرقة، كلها ضالة مضلة تدعو إلى النار، فإذا كان ذلك فعليكم بكتاب الله عز وجل، فإن فيه نبأ ما كان قبلكم ونبأ ما يأتي بعدكم، والحكم فيه بين، من خالفه من الجبابرة قصمه الله، ومن ابتغى العلم في غيره أضله الله، فهو حبل الله المتين، ونوره المبين، وشفاؤه النافع، عصمة لمن تمسك به، ونجاة لمن تبعه، لا يموج فيقام، ولا يزيغ فيتشعب ولا تنقضي عجائبه، ولا يخلقه كثرة الرد، هو الذي سمعته الجن فلم تناه أو ولوا إلى قومهم منذرين قالوا: يا قومنا! {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ} من قال به صدق، ومن عمل به أجر، ومن تمسك به هدي إلى صراط مستقيم. فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! أخبرنا عن الفتنة هل سألت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، إنه لما نزلت هذه الآية من قول الله عز وجل: {آلم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ} علمت أن الفتنة لا تنزل بنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي بين أظهرنا فقلت: يا رسول الله! ما هذه الفتنة التي أخبرك الله بها؟ فقال: يا علي! إن أمتي سيفتنون من بعدي، قلت: يا رسول الله! أو ليس قد قلت لي يوم أحد حيث استشهد من استشهد من المسلمين وحزنت على الشهادة فشق ذلك علي فقلت لي: أبشر يا صديق! فإن الشهادة من ورائك، فقال لي: فإن ذلك لكذلك، فكيف صبرك إذا خضبت هذه من هذا! وأهوى بيده إلى لحيتي ورأسي، فقلت: بأبي وأمي يا رسول الله! ليس ذلك من مواطن الصبر ولكن من مواطن البشرى والشكر! فقال لي: أجل، ثم قال لي: يا علي! إنك باق بعدي، ومبتلي بأمتي، ومخاصم يوم القيامة بين يدي الله تعالى فأعدد جوابا، فقلت: بأبي أنت وأمي! بين لي ما هذه الفتنة التي يبتلون بها وعلى ما أجاهدهم بعدك؟ فقال: إنك ستقاتل بعدي الناكثة والقاسطة والمارقة - وحلاهم وسماهم رجلا رجلا، ثم قال لي: وتجاهد أمتي على كل من خالف القرآن ممن يعمل في الدين بالرأي، ولا رأى في الدين، إنما هو أمر من الرب ونهيه، فقلت: يا رسول الله! فأرشدني إلى الفلج عند الخصومة يوم القيامة، فقال: نعم، إذا كان ذلك فاقتصر على الهدى، إذا قومك عطفوا الهدى على العمى، وعطفوا القرآن على الرأي فتأولوه برأيهم، تتبع الحجج من القرآن بمشتبهات الأشياء الكاذبة عند الطمأنينة إلى الدنيا والتهالك والتكاثر فاعطف أنت الرأى على القرآن إذا قومك حرفوا الكلم عن مواضعه عند الأهواء الساهية، والأمر الصالح، والهرج الآثم، والقادة الناكئة، والفرقة القاسطة، والأخرى المارقة أهل الإفك المردي والهوى المطغى، والشبهة الحالقة، فلا تتكلن عن فضل العاقبة فإن العاقبة للمتقين، وإياك يا علي أن يكون خصمك أولى بالعدل والإحسان والتواضع لله والافتداء بسنتي والعمل بالقرآن منك! فإن من فلج الرب على العبد يوم القيامة أن يخالف فرض الله أو سنة سنها نبي، أو يعدل عن الحق ويعمل بالباطل، فعند ذلك يملي لهم فيزدادوا إثما يقول الله: {إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْماً} فلا يكونن الشاهدون بالحق والقوامون بالقسط عندك كغيرهم، يا علي! إن القوم سيفتنون ويفتخرون بأحسابهم وأموالهم ويزكون أنفسهم ويمنون دينهم على ربهم، ويتمنون رحمته ويأمنون عقابه، ويستحلون حرامه بالمشتبهات الكابة، فيستحلون الخمر بالنبيذ والسحت بالهدية والربا بالبيع، ويمنعون الزكاة ويطلبون البر، ويتخذون فيما بين ذلك أشياء من الفسق لا توصف صفتها، ويلي أمرهم السفهاء، ويكثر تتبعهم
على الجور والخطاء، فيصير الحق عندهم باطلا والباطل حقا، ويتعاونون عليه ويرمونه بألسنتهم، ويعيبون العلماء ويتخذونهم سخريا. يا رسول الله! فبأية المنازل هم إذا فعلوا ذلك بمنزلة فتنة أو بمنزلة ردة؟ قال: بمنزلة فتنة، ينقذهم الله بنا أهل البيت عند ظهورنا السعداء من أولي الألباب إلا أن يدعوا الصلاة ويستحلوا الحرام في حرم الله، فمن فعل ذلك منهم فهو كافر؛ يا علي! بنا فتح الله الإسلام وبنا يختمه، بنا أهلك الأوثان ومن يعبدها؛ وبنا يقصم كل جبار وكل منافق، حتى إنا لنقتل في الحق مثل من قتل في الباطل، يا علي! إنما مثل هذه الأمة مثل حديقة أطعم منها فوجا عاما ثم فوجا عاما، فلعل آخرها فوجا أن يكون أثبتها أصلا وأحسنها فرعا، وأحلاها جنى وأكثرها خيرا، وأوسعها عدلا، وأطولها ملكا؛ يا علي! كيف يهلك الله أمة أنا أولها ومهدينا أوسطها، والمسيح ابن مريم آخرها؛ يا علي! إنما مثل هذه الأمة كمثل الغيث لا يدري أوله خير أم آخره، وبين ذلك نهج أعوج لست منه وليس مني؛ يا علي! وفي تلك الأمة يكون الغلول والخيلاء وأنواع المثلات، ثم تعود هذه الأمة إلى ما كان خيار أوائلها، فذلك من بعد حاجة الرجل إلى قوت امرأته - يعني غزلها، حتى أن أهل البيت ليذبحون الشاة فيقنعون منها برأسها ويولون ببقيتها من الرأفة والرحمة بينهم. "وكيع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لمبی عمر والا آزمائش کا شکار ہوتا ہے
44217 ابو وائل کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے کوفہ میں لوگوں سے خطاب کیا میں نے اسے سنا چنانچہ آپ (رض) فرما رہے تھے ! اے لوگو ! جو شخص بتکلف فقر اپنائے وہ فقیر بن ہی جاتا ہے، جسے لمبی عمر دی گئی وہ ابتلاء کا شکار ہوا جو شخص آزمائش کے لیے تیار نہ ہوا تو وہ ابتلاء کے وقت صبر آزما نہیں ہوسکتا جو بادشاہ بنا وہ دولت جمع کرنے میں مشغول ہوا جو شخص مشورہ نہیں لیتا وہ نادم ہوجاتا ہے، اس کے بعد آپ (رض) فرمایا کرتے تھے، عنقریب اسلام کا صرف نام ہی باقی رہے گا اور قرآن کے صرف نقوش ہی باقی رہیں گے اس لیے فرمایا کرتے تھے خبردار ! کوئی شخص بھی علم حاصل کرنے میں حیاء محسوس نہ کرے جس سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس کا اسے علم نہیں وہ آگے سے ” لا اعلم “ میں نہیں جانتا ہوں کہہ دے گا اس وقت تمہاری مساجد کی عمارتیں عالی شان ہوں گی حالانکہ تمہارے دل اور تمہارے اجسام ہدایت سے ویران ہوں گے اس وقت تمہارے فقہاء آسمان تلے بدترین لوگ ہوں گے انہی سے فتنوں کا ظہور ہوگا اور انہی میں لوٹے گا اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور بولا : اے امیر المومنین ! ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا : جب تمہارے رذیل لوگوں میں فقہ (علم) آجائے گا تمہارے خیار میں فحاشی پھیل جائے گی اور کم ذات لوگوں میں بادشاہت آجائے گی پس اسی وقت قیامت قائم ہوجائے گی۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44217- عن أبي وائل قال: خطب على الناس بالكوفة فسمعته يقول في خطبته: أيها الناس! إنه من يتفقر افتقر، ومن يعمر يبتلى، ومن لا يستعد للبلاء إذا ابتلي لا يصبر، ومن ملك استأثر، ومن لا يستشير يندم! وكان يقول من وراء هذا الكلام: يوشك أن لا يبقى من الإسلام إلا اسمه ومن القرآن إلا رسمه، وكان يقول: ألا! لا يستحيى الرجل أن يتعلم، ومن يسال عما لا يعلم أن يقول: لا أعلم، مساجدكم يومئذ عامرة، وقلوبكم وأبدانكم خربة من الهدى، شر من تحت ظل السماء فقهاؤكم، منهم تبدو الفتنة وفيهم تعود؛ فقام رجل فقال: ففيم يا أمير المؤمنين! قال: إذا كان الفقه في رذالكم، والفاحشة في خياركم، والملك في صغاركم، فعند ذلك تقوم الساعة. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لمبی عمر والا آزمائش کا شکار ہوتا ہے
44218 حضرت علی (رض) کا قول ہے کہ بات کرنے والے کی طرف مت دیکھو بلکہ دیکھو کہ وہ کیا بات کررہا ہے۔ رواہ ابن السمعانی فی الدلائل
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاسرار المرفوعۃ 591 والدار المنتشرہ 460 ۔
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاسرار المرفوعۃ 591 والدار المنتشرہ 460 ۔
44218- عن علي قال: لا تنظر إلى من قال، وانظر إلى ما قال. "ابن السمعاني في الدلائل".
তাহকীক: