কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪২৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لمبی عمر والا آزمائش کا شکار ہوتا ہے
44219 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ہر بھائی چارہ منقطع ہونے والا ہے بجز اس بھائی چا رہے کے کہ جس کی بنیاد طمع پر نہ ہو۔ رواہ ابن السمعانی
44219- عن علي: لكل إخاء منقطع إلا إخاء كان على غير الطمع. "ابن السمعاني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لمبی عمر والا آزمائش کا شکار ہوتا ہے
44220 حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا ذمہ امین ہے اور میں اس کا جوابدہ ہوں خصوصاً اس کے لیے کہ جس کے لیے میں نے عبرت کی وضاحت کرنی ہے۔ یہ کہ کسی قوم کی کھیتی کی برانگیختی تقویٰ پر نہ ہو ہدی پر اصل کی پیاس نہ ہو خبردار مخلوق میں بدترین آدمی وہ ہے جو فتنوں کی تاریکیوں میں علم کو چھپائے اور صلح کے موقع پر علم کا کتمان کرے حالانکہ اس کے امثال اسے عالم کا نام دیتے ہوں وہ اپنے سے سلامتی کا ایک دن بھی نہیں لاسکتا، صبح ہوتے ہی تکبر کرتا ہے، جو چیز اس سے کم سرزد ہو وہ اس کے لیے بہتر ہے اس کے زیادہ سے جب کثیر پانی کی فراوانی ہونے لگے گی، لوگوں کے لیے اس کا بیٹھنا عموماً فضول اور بےفائدہ ہوتا ہے، اگر اس پر کسی مبہم بات کا نزول ہو اپنی رائے سے ڈرتے ہوئے وہ مشتبھات میں قطع کے اعتبار سے تارعنکبوت کی مانند ہے، اس کی حالت یہ ہوگی کہ جب خطا کرے گا اسے اپنی خطا کا علم ہی نہیں ہوگا چونکہ وہ جہالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوگا جس چیز کا اسے علم نہیں اس سے معذرت بھی نہیں کرے گا کہ سلامت رہے اس میں علی گہرائی مقصود ہوگی تیز آندھی کی طرح اس کا علم غبار کی مانند ہوگا اس کی وجہ سے آنکھیں آنسو بہارہی ہوں گی، مواریث کا اس کی وجہ سے خون ہوگا، اس کے فیصلہ سے حرام کو حلال سمجھا جائے گا اس کے پاس آنے والا مطمئن نہیں ہوگا، اور نہ ہی وہ کسی قسم کے اہلیت رکھتا ہوگا۔ رواہ المعافی بن زکریا و وکیع وابن عساکر
44220- عن علي قال: ذمتي رهينة وأنا به زعيم، لمن صرحت له العبر، أن لا يهيج على التقوى زرع قوم، ولا يظعأ على الهدى سنخُ 1 أصلٍ، ألا وإن أبغض خلق الله إلى الله رجل قمش علما غارا في أغباش 2 الفتنة عميا بما في غيب الهدنة 3، سماه أشباهه من الناس عالما، ولم يغن في العلم يوما سالما، بكر فاستكبر فما قل منه فهو خير مما كثر حتى إذا ما ارتوى من "ماء آجن" وأكثر من غير طائل قعد للناس مفتيا لتخليص ما التبس على غيره، إن نزلت به إحدى المبهمات هيأ حشوا من رأيه، فهو من قطع المشتبهات في مثل غزل العنكبوت، لا يعلم إذا أخطأ لأنه لا يعلم أخطأ أم أصاب خباط عشوات ركاب جهالات، لا يعتذر مما لا يعلم فيسلم، لا يعض في العلم بضرس قاطع، ذراء الرواية ذرو الريح الهشيم، تبكي منه الدماء، وتضرخ منه المواريث، ويستحل بقضائه الحرام، لا ملئ والله بإصدار ما ورد عليه، ولا أهل لما فرط به. "المعافى بن زكريا، ووكيع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لمبی عمر والا آزمائش کا شکار ہوتا ہے
44221 ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے پاس ان کے ایک ساتھی کے مرجانے کی خبر آئی بعد میں پتہ چلا کہ وہ مرا نہیں آپ (رض) نے اس کی طرف خط لکھاجس کا مضمون یہ ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ امابعد ہمارے پاس ایک خبر آئی جس نے تمہارے ساتھیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا پھر پہلی خبر کی تکذیب بھی آگئی اس کی خوشی ہمارے اوپر کسی انعام سے کم نہیں تھی، یہ الگ بات ہے کہ سرور منقطع ہوجاتا ہے چونکہ پہلی خبر کی تصدیق کے لیے کم وقت رہ گیا ہے کیا تم اس شخص جیسے ہوسکتے ہو جس نے موت دیکھ لی ہو اس نے مابعد کا معاینہ کرلیا ہو وہ رجعت کی طلب اور دن پے درپے آتے رہیں گے عمریں ختم کرتے رہیں گے اموال لٹاتے رہیں گے اور اجلیں پوری کرتے رہیں گے افسوس ! افسوس ! عاد ، ثمود اور بہت ساری امتیں گزر چکی ہیں وہ اپنے رب کے پاس جاپہنچے ہیں، وہ اپنے اعمال کی جزا بھگتے جاچکے ہیں جبکہ دن اور رات ویسے کے ویسے ہی ہیں حوادث دن رات کو بوسیدہ نہیں کرتے، بقیہ کام سرانجام دینے کے لیے پھر بھی تازہ دم ہیں، جان لو ! بلاشبہ تم بھی اپنے بھائیوں کی مانند ہو ۔ تمہاری مثال اس جسد جیسی ہے جس کی قوت ختم ہوچکی ہو صرف اس کا سانس لینا ہی باقی رہ گیا ہو وہ دائمی کا منتظر ہو وعظ و نصیحت کے قبول کرنے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔
رواہ العسکری فی المواعظ
رواہ العسکری فی المواعظ
44221- عن علي أنه بلغه موت رجل من أصحابه ثم جاءه الخبر أنه لم يمت، فكتب إليه: بسم الله الرحمن الرحيم، أما بعد! إنه قد كان أتانا خبر ارتاع له أصحابك، ثم جاء تكذيب الخبر الأول، فأنعم ذلك أن سرنا، وإن السرور بسبيل الانقطاع يستتبعه عما قليل تصديق الخبر الأول، فهل أنت كائن كرجل قد رأى الموت وعاين ما بعده فسأل الرجعة، فأسعف بطلبته فهو متأهب آثب، ينقل ما يسره من ماله إلى دار قراره، ولا يرى أن له مالا غيره، واعلم أن الليل والنهار لم يزالا دائبين في تقض الأعمار وإنفاد الأموال وطي الآجال، هيهات هيهات! قد صحبا عادا وثمود وقرونا بين ذلك كثيرا، فأصبحوا قد وردوا على ربهم، وقدموا على أعمالهم والليل والنهار غضان جديدان، لم يبلهما ما مر به، مستعدين لما بقي بمثل ما أصابا به من مضي، اعلم أنك إنما أنت نظير أخوانك وأشباهك، مثلك كمثل الجسد قد فرغت قوته، فلم يبق إلا حشاشة نفسه، ينتظر الداعي، فتعوذ بالله مما تعظ به ثم تقصر عنه. "العسكري في المواعظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کرام (رض) کے حالات
44222 ابوالدرداء کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کے ساتھ نماز فجر پڑھی جب آپ دائیں جانب مڑے تھوڑی دیر رک گئے گویا کہ آپ پر کچھ مشقت طلب بوجھ ہے پھر اپنے ہاتھ کو پلٹ کر فرمایا : بخدا ! میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کو دیکھا ہے میں آج کسی کو بھی ان کے مشابہ نہیں دیکھتا ہوں، وہ صبح غبار آلود حالت میں کرتے تھے انھوں نے رات گویا بھیڑ بکریوں کے ساتھ گزاری ہو چنانچہ وہ سجدہ اور قیام میں رات گزارتے تھے کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہتے جب صبح کرتے تو اللہ کا ذکر کرتے اور ایسے جھک جاتے تھے جیسا کہ تیز آندھی میں درخت جھک جاتے ہیں ان کی آنکھیں غمناک رہتی تھیں حتیٰ کہ ان کے کپڑے بھی بھیگ جاتے تھے جب وہ صبح کو اٹھتے بخدا لوگ غفلت میں رات گزار چکے ہوتے تھے اس کے بعد آپ (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر ہنستے ہوئے نہیں دیکھے گئے حتیٰ کہ ابن ملجم نے آپ (رض) کو شہید کردیا۔ رواہ الدینوری والعسکری فی المواعظ وابن عساکر و ابونعیم فی الحلیۃ
44222- عن أبي أراكة قال: صليت مع علي بن أبي طالب الفجر، فلما انقلب عن يمينه مكث كأن عليه كآبة، ثم قلب يده، وقال: والله لقد رأيت أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فما أرى اليوم شيئا يشبههم! لقد كانوا يصبحون شعثا غبرا، بين أعينهم كأمثال ركب المعز، قد باتوا لله سجدا وقياما، يتلون كتاب الله يراوحون بين جباههم وأقدامهم، فإذا أصبحوا فذكروا الله مادوا كما يميد الشجر في يوم الريح، وهملت أعينهم حتى تبل ثيابهم، فإذا أصبحوا والله لكان القوم باتوا غافلين. ثم نهض، فما رئي مفترا ضاحكا حتى ضربه ابن ملجم. "الدينوري، والعسكري في المواعظ، كر، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کرام (رض) کے حالات
44223 یحییٰ بن عقیل حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : اے امیر المومنین ! اگر یہ بات آپ کو مسرور کرتی ہو کہ آپ اپنے دونوں ساتھیوں سے جاملیں تو آرزوؤں میں کمی کرو بھوک ابھی باقی ہو کھانا چھوڑیں ازار چھوٹا بنائیں قمیص میں پیوند لگالیں اور جوتے خود گانٹھ لیں۔ آپ ان دونوں کے ساتھ مل جائیں گے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44223- عن يحيى بن عقيل عن علي بن أبي طالب أنه قال لعمر: يا أمير المؤمنين! إن سرك تلحق بصاحبيك فاقصر الأمل، وكل دون الشبع، واقصر الإزار، وارقع القميص، واخصف النعل؛ تلحق بهما. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحابہ کرام (رض) کے حالات
44224 عبداللہ بن صالح عجلی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے خطاب کیا اور حمدوصلوٰۃ کے بعد فرمایا : اے اللہ کے بندو ! تمہیں دیناوی زندگی دھوکا میں نہ ڈالے چونکہ دنیا آزمائشوں میں جکڑی ہوئی ہے فناء میں مشہور ہے تقدیر میں موصوف ہے دنیا ہر چیز میں زوال ہے، یہ اہل دنیا میں لٹکا ہوا ڈول ہے اس ڈول کا چھوڑ دینے والا دنیا کے شر سے محفوظ رہتا ہے، دنیا والوں میں نرمی اور سرور دائر رہتا ہے یکایک وہ آزمائش اور دھوکے میں جا پہنچے ہیں۔ دنیا میں زندگی مذموم ہے آسائش دائمی نہیں دنیاوی اغراض و مقاصد نہ پائے جانے والے ہدف ہیں، انھیں کوئی تیر نشان زدہ نہیں کرتا، اس کا شکار انھیں ختم کردیتا ہے، اے اللہ کے بندو ! تم اس دنیا میں زوال کے مقام پر ہو تم سے پہلے لمبی لمبی عمروں والے گزر چکے جن کی قوت اور طاقت بےتحاشا تھی ان کے گھر فن تعمیر میں بےمثال نمونہ رکھتے تھے ان کے آثار بہت دیر تک باقی رہنے والے ہیں بالاخر ان کی آوازیں دھیمی پڑگئیں ان کے اجساد بوسیدہ ہوگئے ان کے گھر ویران ہوگئے، ان کے نشانات مٹ گئے مضبوط محلات اور بچھی ہوئی قالینوں کی بجائے انھیں قبروں کی مٹی بھی نہ دستیاب ہوسکی وہ بدکار ملحد قومیں تھیں جو فنا ہوچکیں ان کا ٹھکانا مشقت طلب ہے اس کا ساکن ورہائش اجنبیت کا شکار ہے وہ اب وحشت زدہ ہیں اب انھیں عمارتیں سکون نہیں دیتیں وہ اب آپس میں پڑوسیوں جیسا تعلق قائم نہیں رکھ سکتے۔ حالانکہ وہ آپس میں قریب قریب ہیں اور پڑوس میں ہیں، حالانکہ ان کا آپس میں تعلق کیوں کر ہوسکتا ہے چونکہ انھیں بوسیدگیوں نے پیس ڈالا ہے اور انھیں پتھروں اور غمناک مٹی نے کھالیا ہے وہ بھی زندگی کے بعد موت کا شکار بن گئے ان کی زندگی ختم ہوچکی دوستوں کو ان کا درد بےحال کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ مٹی میں سکونت پذیر ہوچکے، وہ اس جہان کو خیر باد کہہ چکے اب ان کے لیے واپسی نہیں ہوگی، افسوس صد افسوس ” ہرگز نہیں ! یہ ایک کلمہ ہے جس کا وہ قائل ہے حالانکہ ان کے پیچھے عالم برزخ ہے جو اٹھائے جانے والے دن تک برقرار رہے گا “ گویا جہاں تم نے جانا تھا وہاں جاچکے تنہائی وار بوسیدگی کی طرف تم کوچ کرچکے اس ٹھکانے کے تم رہن بن چکے ہو اس امانت کی جگہ نے تمہیں لے لیا ہے۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب امور کی انتہا ہوجائے گی قبریں اکھاڑ دی جائیں گی جو کچھ دلوں میں ہے وہ حاصل ہوجائے گا جلیل القدر بادشاہ کے سامنے تمہیں کھڑا کیا جائے گا گناہوں کی وجہ سے دلوں کی دھڑکن ختم ہوچکی ہوگی سارے پردے ختم ہوچکے ہوں گے تمہارے عیوب اور پوشیدہ باتیں ظاہر ہوجائیں گی، یہاں ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ مل جائے گا۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
لیجزی الذین اساء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنیٰ
تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ ملے اور اچھائی کرنے والوں کو اچھائی کا بدلہ ملے۔
ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یاویلتنا مال ھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا ووجدوا ما عملوا حاضر اولا یظلم ربک احدا۔
(اعمال کا) دفتر سامنے رکھ دیا جائے گا تم (اس وقت) مجرمین کو سہمے ہوئے دیکھو گے اس دفتر میں لکھے ہوئی کی وجہ سے لوگ کہیں گے ہائے افسوس کیا وجہ ہے اس دفتر نے نہ چھوٹا گناہ چھوڑا ہے نہ بڑا مگر اس نے سب کو شمار کردیا ہے۔
اپنے کیے ہوئے اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے، تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی کتاب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنے اولیاء کا متبع بنائے یہاں تک کہ اپنے دارالاقامہ میں ہمیں جاگزیں کردے بلاشبہ رب تعالیٰ حمدوستائش والا ہے۔
رواہ الدینوری وابن عساکر
لیجزی الذین اساء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنیٰ
تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ ملے اور اچھائی کرنے والوں کو اچھائی کا بدلہ ملے۔
ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یاویلتنا مال ھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصاھا ووجدوا ما عملوا حاضر اولا یظلم ربک احدا۔
(اعمال کا) دفتر سامنے رکھ دیا جائے گا تم (اس وقت) مجرمین کو سہمے ہوئے دیکھو گے اس دفتر میں لکھے ہوئی کی وجہ سے لوگ کہیں گے ہائے افسوس کیا وجہ ہے اس دفتر نے نہ چھوٹا گناہ چھوڑا ہے نہ بڑا مگر اس نے سب کو شمار کردیا ہے۔
اپنے کیے ہوئے اعمال کو اپنے سامنے حاضر پائیں گے، تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی کتاب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنے اولیاء کا متبع بنائے یہاں تک کہ اپنے دارالاقامہ میں ہمیں جاگزیں کردے بلاشبہ رب تعالیٰ حمدوستائش والا ہے۔
رواہ الدینوری وابن عساکر
44224- عن عبد الله بن صالح العجلي عن أبيه قال: خطب علي بن أبي طالب يوما فحمد الله وأثنى عليه وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا عباد الله! لا تغرنكم الحياة الدنيا فإنها دار البلاء محفوفة، وبالفناء معروفة، وبالقدر موصوفة، وكل ما فيها إلى زوال، وهي ما بين أهلها دول وسجال، لن يسلم من شرها نزالها، بينا أهلها في رخاء وسرور، إذا هم منها في بلاء وغرور، العيش فيها مذموم، والرخاء فيها لا يدوم، وإنما أهلها فيها أغراض مستهدفة، ترميهم بسهامها، وتقصمهم بحمامها، عباد الله! إنكم وما أنتم من هذه الدنيا عن سبيل من قد مضى ممن كان أطول منكم أعمارا، وأشد منكم بطشا، وأعمر ديارا، وأبعد آثارا، فأصبحت أصواتهم هامدة خامدة من بعد طول تقلبها، وأجسادهم بالية، وديارهم خالية، وآثارهم عافية، واستبدلوا بالقصور المشيدة والسرر والنمارق الممهدة الصخور، والأحجار المسندة في القبور، الملاطية الملحدة التي قد بين الخراب فناؤها، وشيد بالتراب بناؤها، فمحلها مقترب، وساكنها مغترب، بين أهل عمارة موحشين، وأهل محلة متشاغلين، لا يستأنسون بالعمران، ولا يتواصلون تواصل الجيران، على ما بينهم من قرب الجوار ودنو الدار، وكيف يكون بينهم تواصل وقد طحنهم بكلكلة البلى وأكلتهم الجنادل والثرى، فأصبحوا بعد الحياة أمواتا، وبعد غضارة العيش رفاتا، فجع بهم الأحباب، وسكنوا التراب، فطعنوا فليس لهم إياب، هيهات هيهات! {كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} فكأن قد صرتم إلى ما صاروا إليه من الوحدة والبلى في دار الموتى، وارتهنتم في ذلك المضجع، وضمكم ذلك المستودع، فكيف بكم لو قد تناهت الأمور، وبعثرت القبور، وحصل ما في الصدور، وأوقفتم للتحصيل بين يدي ملك جليل، فطارت القلوب لإشفاقها من سالف الذنوب، وهتكت عنكم الحجب والأستار، فظهرت منكم العيوب والأسرار، هنالك تجزي كل نفس بما كسبت {لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى} {وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِراً وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً} جعلنا الله وإياكم عاملين بكتابه، متبعين لأوليائه، حتى يحلنا وإياكم دار المقامة من فضله، إنه حميد مجيد. "الدينوري، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت ایک سچا وعدہ ہے
44225 حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا حمدوثناء کے بعد فرمایا : امابعد ! دنیا پیٹھ پھیر چکی ہے اور الواداع کے قریب ہوچکی ہے آخرت آنا چاہتی ہے اور نمودار ہونا چاہتی ہے، آج گھوڑوں کے چاق وچوبند کرنے کا دن ہے اور کل دوڑ کا دن ہوگا خبردار تم آرزوؤں کے دنوں میں ہو اس کے پیچھے اجل ہے جس نے امید کے دنوں میں کوتاہی کی اجل کے حاضر ہونے سے قبل وہ عمل میں رسوا ہوا ایام رغبت میں بھی اللہ ہی کے لیے عمل کرو جیسا کہ خوف کے ایام میں اللہ کے لیے عمل کرتے ہو بلاشبہ میں نے کوئی نہیں دیکھا جو جنت کے طلبگار کی طرح سوتا ہو اور میں نے دوزخ سے بھاگنے والے کی طرح بھی کوئی نہیں سونے والا دیکھا۔ خبردار جسے حق نفع نہیں پہنچاتا اسے باطل ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ جیسے ہدایت سیدھی راہ پر نہ لاسکی اسے گمراہی دبوچ لیتی ہے خبردار ! تمہیں کوچ کرنے کا حکم مل چکا ہے اور راہ پر تمہیں راہنمائی مل چکی ہے ، خبردار ! اے لوگو ! دنیا حاضر ہے اس سے نیک دبدسب کھائے جارہے ہیں۔ جبکہ آخرت ایک سچا وعدہ ہے اس میں قادر بادشاہ کا فیصلہ ہوگا ، خبردار ! فرمان باری تعالیٰ ہے۔
الشیطان یعدکم الفقر ویا مرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا واللہ واسع علیم۔
شیطان تمہیں فقر وفاقہ سے ڈراتا ہے تمہیں فحاشی سے ڈراتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تم سے مغفرت کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ وسعت اور علم والا ہے۔
اے لوگو ! اپنی عمر میں اچھائی کرو تمہاری عاقبت سنور جائے گی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کا وعدہ اطاعت کرنے والوں سے کیا ہے جبکہ نافرمانی کرنے والوں سے دوزخ کا وعدہ کیا ہے ، وہ ایسی آگ ہے جس کی بھڑک ماند نہیں پڑتی ، اس کا قیدی آزاد نہیں ہوتا اس کی تپش شدید تر ہوگی اس کا پانی پیپ ہوگا، مجھے تمہارے اوپر اتباع ھویٰ کا سب سے زیادہ خوف ہے اور طول امل بھی خوفناک چیز ہے۔ رواہ الدینوری وابن عساکر
الشیطان یعدکم الفقر ویا مرکم بالفحشاء واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا واللہ واسع علیم۔
شیطان تمہیں فقر وفاقہ سے ڈراتا ہے تمہیں فحاشی سے ڈراتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تم سے مغفرت کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ وسعت اور علم والا ہے۔
اے لوگو ! اپنی عمر میں اچھائی کرو تمہاری عاقبت سنور جائے گی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کا وعدہ اطاعت کرنے والوں سے کیا ہے جبکہ نافرمانی کرنے والوں سے دوزخ کا وعدہ کیا ہے ، وہ ایسی آگ ہے جس کی بھڑک ماند نہیں پڑتی ، اس کا قیدی آزاد نہیں ہوتا اس کی تپش شدید تر ہوگی اس کا پانی پیپ ہوگا، مجھے تمہارے اوپر اتباع ھویٰ کا سب سے زیادہ خوف ہے اور طول امل بھی خوفناک چیز ہے۔ رواہ الدینوری وابن عساکر
44225- عن علي أنه خطب الناس، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما بعد! فإن الدنيا قد أدبرت وآذنت بوداع وإن الآخرة قد أقبلت وأشرفت باطلاع، وإن المضمار 1 اليوم وغدا السباق، ألا! وإنكم في أيام أمل، من ورائه أجل، فمن قصر في أيام أمله قبل حضور أجله فقد خيب عمله، ألا! فاعملوا لله في الرغبة كما تعملون له في الرهبة، ألا! وإني لم أر كالجنة نائم طالبها، ولم أر كالنار نائم هاربها، ألا! وإنه من لم ينفعه الحق ضره الباطل، ومن لم يستقم به الهدي جار به الضلال، ألا! وإنكم قد أمرتم بالظعن، ودللتم على الزاد، ألا أيها الناس! إنما الدنيا عرض حاضر، يأكل منها البر والفاجر، وإن الآخرة وعد صادق يحكم فيها ملك قادر، ألا! إن {الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلاً وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ} أيها الناس! أحسنوا في عمركم تحفظوا في عقبكم، فإن الله تبارك وتعالى وعد جنته من أطاعه، ووعد ناره من عصاه، إنها نار لا يهدأ زفيرها، ولا يفك أسيرها، ولا يجبر كسيرها، حرها شديد، وقعرها بعيد، وماؤها صديد، وإن أخوف ما أخاف عليكم اتباع الهوى وطول الأمل. "الدينوري، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44226 حضرت علی (رض) نے فرمایا : اچھا پڑوس اذیت سے رک جانے کی دلیل نہیں لیکن اذیت پر صبر کرنا بڑی چیز سے فرمایا کہ بہترین مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو ہر چیز کی آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت نسیان ہے، عبادت کی آفت ریاکاری ہے، عقلمندی کی آفت عجب ہے خاندانی شرافت کی آفت کب رہے ظرافت کی آفت بیہودہ گوئی سے سخاوت کی آفت فضول خرچی سے حیاء کی آفت ضعف سے بردباری کی آفت ذلت ہے اور جلد کی آفت فحاشی ہے۔ رواہ وکیع فی الفرر
44226- عن علي قال: ليس حسن الجوار كف الأذى ولكن الصبر على الأذى، وقال خير المال وما وقى العرض وقال: لكل شيء آفة وآفة العلم النسيان، وآفة العبادة الرياء، وآفة اللب العجب، وآفة النجابة الكبر، وآفة الظرف الصلف، وآفة الجود السرف، وآفة الحياء الضعف، وآفة الحلم الذل، وآفة الجلد الفحش. "وكيع في الغرر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44227 یحییٰ بن جزار کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے فرمایا : اگر آپ کو یہ بات خوش کرتی ہو کہ آپ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جاملیں تو آرزوؤں کو کم کردکھانا کھاؤ، اپنا ازار چھوٹا بناؤ قمیص میں پیوند لگا لو اور جوتے خود گانٹھ لیں ان دونوں کے ساتھ لاحق ہوجاؤ گے۔ رواہ بن عساکر وقال محفوظ ان علیا قال لعمر یعنی بصاحبیہ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و ابوبکر
44227- عن يحيى بن الجزار عن علي قال لعثمان: إن سرك أن تلحق بصاحبيك فاقصر الأمل، وكل دون الشبع، وانكمش الإزار، وارقع القميص، واخصف النعل، تلحق بهما. "كر وقال: محفوظ، إن عليا قال لعمر - يعني بصاحبيه النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44228 ابوبکر بن عیاش کی روایت ہے کہ جب حضرت علی ابن ابی طالب سر زمین صفین کی طرف نکلے اور مدائن کے ویرانے کے پاس سے گزرے ایک آدمی نے مثال دیتے ہوئے یہ اشعار پڑھے۔
جرت الریاح علی محل دیارھم
فکا لما کانوا علی میعاد
ہوائیں ان کے ٹھکانوں پر چلیں گویا ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
واری النعیم وکل ما یلھی بہ
یوما یصیر الی بلی ونفاد
میں ہر قسم کی عیش و عشرت کے سامان اور غافل کردینے والی چیزوں کو فناء اور برباد دیکھ رہا ہوں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس طرح مت کہو بلکہ یوں کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
کم ترکوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمۃ کانوا فیھا فاکھین کذالک و اور ثناھا قوما آخرین،
کتنے ہی باغات چشمے کھیتیاں اور عمدہ عمدہ جگہیں وہ چھوڑ گئے بہت ساری نعمتیں جن میں وہ عیش کررہے تھے اسی طرح ہم نے اس سامان تعیش کا دوسروں کو وارث بنادیا۔
یہ لوگ وارث تھے جبکہ انھوں نے دوسروں کو وارث بنادیا ان لوگوں نے حرام کو حلال بنادیا تھا، ان پر بھی تباہی آن پڑی لہٰذا تم حرام کو حلال مت بناؤ ورنہ تمہارے اوپر بھی تباہی آن پڑے گی۔
رواہ ابن ابی الدنیا والخطیب
جرت الریاح علی محل دیارھم
فکا لما کانوا علی میعاد
ہوائیں ان کے ٹھکانوں پر چلیں گویا ان کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
واری النعیم وکل ما یلھی بہ
یوما یصیر الی بلی ونفاد
میں ہر قسم کی عیش و عشرت کے سامان اور غافل کردینے والی چیزوں کو فناء اور برباد دیکھ رہا ہوں۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس طرح مت کہو بلکہ یوں کہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
کم ترکوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمۃ کانوا فیھا فاکھین کذالک و اور ثناھا قوما آخرین،
کتنے ہی باغات چشمے کھیتیاں اور عمدہ عمدہ جگہیں وہ چھوڑ گئے بہت ساری نعمتیں جن میں وہ عیش کررہے تھے اسی طرح ہم نے اس سامان تعیش کا دوسروں کو وارث بنادیا۔
یہ لوگ وارث تھے جبکہ انھوں نے دوسروں کو وارث بنادیا ان لوگوں نے حرام کو حلال بنادیا تھا، ان پر بھی تباہی آن پڑی لہٰذا تم حرام کو حلال مت بناؤ ورنہ تمہارے اوپر بھی تباہی آن پڑے گی۔
رواہ ابن ابی الدنیا والخطیب
44228- عن أبي بكر بن عياش قال: لما خرج علي بن أبي طالب إلى أرض صفين مر بخراب المدائن فتمثل رجل من أصحابه فقال:
جرت الرياح على محل ديارهم ... فكأنما كانوا على ميعاد
وأرى النعيم وكل ما يلهى به ... يوما يصير إلى بلى ونفاد
فقال علي: لا تقل هكذا، ولكن قل كما قال الله تعالى: {كَمْ تَرَكُوا
مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِينَ} إن هؤلاء القوم كانوا وارثين فأصبحوا مورثين وإن هؤلاء القوم استحلوا الحرم فحلت فيها النقم، فلا تستحلوا الحرم فتحل بكم النقم. "ابن أبي الدنيا، خط".
جرت الرياح على محل ديارهم ... فكأنما كانوا على ميعاد
وأرى النعيم وكل ما يلهى به ... يوما يصير إلى بلى ونفاد
فقال علي: لا تقل هكذا، ولكن قل كما قال الله تعالى: {كَمْ تَرَكُوا
مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْماً آخَرِينَ} إن هؤلاء القوم كانوا وارثين فأصبحوا مورثين وإن هؤلاء القوم استحلوا الحرم فحلت فيها النقم، فلا تستحلوا الحرم فتحل بكم النقم. "ابن أبي الدنيا، خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44229” مسند علی “ عبدالملک بن قریب، علاء بن زیاد اعرابی ، اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی (رض) فتنہ کے بعد کوفہ میں منبر پر تشریف لائے آپ نہروان کی جنگ سے فارغ ہوچکے تھے حمدوصلوٰۃ کرتے وقت آپ (رض) نے رونا شروع کردیا حتیٰ کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی پھر آپ نے اپنی داڑھی جھاڑی آنسوؤں کے چھینٹے کچھ لوگوں پر پڑے ہم کہا کرتے جسے آپ کے آنسو پڑے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر دوزخ کی آگ حرام کردی ہے پھر فرماتے اے لوگو ! ان لوگوں میں سے مت ہوجاؤ جو بغیر عمل کے آخرت کی امید لگائے بیٹھے ہیں اور طول امل کی وجہ سے توبہ کو موخر کیے ہوئے ہیں۔ دنیا میں زاہدین جیسی باتیں کرتا ہے حالانکہ اس کا عمل دنیا کی رغبت کرتے والوں جیسا ہے اگر اسے دنیا مل بھی جائے رجتا نہیں، اگر روک دیا جائے قناعت نہیں کرتا، جو کچھ ملا ہے اس کے شکر سے عاجز سے مابقی میں زیادتی اور اضافے کا منتمنی ہے دوسروں کو حکم کرتا ہے لیکن خود عمل نہیں کرتا دوسروں کو برائی سے روکتا ہے اور خود نہیں رکتا صالحین سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال نہیں کرتا ظالموں سے بغض رکھتا ہے حالانکہ وہ خود ان میں سے ہے، اس کا نفس ظن پر غالب اور یقین سے دور رہتا ہے اگر کسی چیز سے بےنیاز کردیا جائے تو فتنہ میں پڑجاتا ہے اگر مریض ہوجائے تو غمزدہ ہوجاتا ہے ، اگر محتاج ہوجائے تو مایوس ہوجاتا ہے وہ گنہگاری اور نعمت کے درمیان رہنا چاہتا ہے۔ اسے معاف کردیا جاتا ہے لیکن اس پر شکر نہیں کرتا۔ اسے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن صبر نہیں کرتا گویا کہ موت کا ڈر اس کے لیے برابر ہے، گویا کہ وعدہ وعید اور زجر اوروں کے لیے ہے۔ اے موت کی اغراض ! اے موت کے مقبوض ! اے بیماریوں کے برتن ! اے ایام کے تحفے ! اے زمانے کے بوجھ ! اے زمانے کے پھل ! اے حادثات کے نور ! اے حجتوں کے وقت کے اوندھے پن ! اے وہ آدمی جسے فتنوں نے گھیر لیا ہو ! میں کہتا ہوں کہ نجات معرفت نفس سے ملتی ہے۔ جو بھی ہلاک ہوا وہ اپنے ہاتھوں ہلاک ہوا چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔
یا ایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا،
اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعظ و نصیحت قبول کرنے والوں میں سے بنائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
رواہ ابن النجار
یا ایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا،
اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعظ و نصیحت قبول کرنے والوں میں سے بنائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
رواہ ابن النجار
44229- "مسند علي" عن عبد الملك بن قريب قال سمعت العلاء بن زياد الأعرابي يقول سمعت أبي يقول: صعد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب منبر الكوفة بعد الفتنة وفراغه من النهروان، فحمد الله وخنقته العبرة، فبكى حتى اخضلت لحيته بدموعه وجرت، ثم نفض لحيته فوقع رشاشها على ناس من أناس؛ فكنا نقول: إن من أصابه من دموعه فقد حرمه الله على النار، ثم قال: يا أيها الناس! لا تكونوا ممن يرجو الآخرة بغير عمل، ويؤخر التوبة بطول الأمل، يقول في الدنيا قول الزاهدين، ويعمل فيها عمل الراغبين، إن أعطي منها لم يشبع، وإن منع منها لم يقنع، يعجز عن شكر ما أوتي، ويبتغي الزيادة فيما بقي، ويأمر ولا يأتي، وينهى ولا ينتهي، يحب الصالحين ولا يعمل بأعمالهم، ويبغض الظالمين وهو منهم، تغلبه نفسه على ما يظن، ولا يغلبها على ما يستيقن، إن استغنى فتن، وإن مرض حزن، وإن افتقر قنط ووهن، فهو بين الذنب والنعمة يرتع، يعافى فلا يشكر، ويبتلى فلا يصبر، كأن المحذر من الموت سواه، وكأن من وعد وزجر غيره، يا أغراض المنايا! يا رهائن الموت! يا وعاء الأسقام! يا نهبة الأيام! ويا ثقل الدهر! ويا فاكهة الزمان! ويا نور الحدثان، ويا خرس عند الحجج ويا من غمرته الفتن وحيل بينه وبين معرفة العبر بحق! أقول ما نجا من نجا إلا بمعرفة نفسه، وما هلك من هلك إلا من تحت يده، قال الله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً} جعلنا الله وإياكم ممن سمع الوعظ فقبل، ودعي إلى العمل فعمل. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44230 حضرت علی (رض) کا قول ہے : علم کے سرچشمے بنورات کے چراغ بنو، پرانے کپڑوں والے اور جدید وتازہ دلوں والے اس طرح آسمانوں میں تمہاری پہچان ہوگی اور زمین پر تمہارے تذکرے ہوں گے۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ وابن النجار
44230- عن قال قال: كونوا ينابيع العلم، مصابيح الليل، خلق الثياب، جدد القلوب، تعرفوا به في السماء وتذكروا به في الأرض. "حل، وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہتر مال وہ ہے جو عزت کو بچاتا ہو
44231 یحییٰ بن عمر کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور حمدوثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! تم سے پہلی امتیں ارتکاب معاصی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ان کے علماء اور مشائخ نے انھیں معاصی سے نہیں روکا اللہ تعالیٰ نے ان پر طرح طرح کے عذاب نازل کیے، خبردار ! تم لوگ عذاب کے نازل ہونے سے قبل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، جان لو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے رزق میں کمی واقع نہیں ہوتی، امر آسمان سے بارش کے قطروں کی طرح ہر نفس کی طرف نازل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کمی زیادتی، اہل ومال یا نفس میں جس قدر بھی مقدر کررکھا ہو جب تم میں سے کسی کو نقصان پہنچے اہل میں پامال میں یا نفس میں اور وہ غیر کے لیے اس کے علاوہ کی رائے رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے باعث فتنہ نہیں ہوتا، بلاشبہ مرد مسلمان جب تک ڈھٹائی کا مظاہرہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کے آگے جھکا رہتا ہے، حتیٰ کہ کمینے لوگوں کو اس پر حسد آنے لگتا ہے۔ جیسا کہ جوا کھیلنے والا اور اس پر غالب آنے والا جو کہ اول میں اپنی کامیابی کا منتظر ہوتا ہے جو اسے اپنے تیر سے میسر ہوتی ہے جو اس کے لیے نفع لاتی ہے اور تاوان کو دور رکھتی ہے اسی طرح مرد مسلمان جو خیانت سے بری الذمہ ہو وہ دو اچھائیوں کا منتظر رہتا ہے جب وہ اللہ کو پکار بھی رہا ہو، جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کے لیے بہتر ہے یا تو اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرماتا ہے وہ مال اھل والا ہوجاتا ہے کھیتی کی دو قسمیں ہیں مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہے جبکہ عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کھیتوں کو کئی ساری اقوام کے لیے جمع بھی کیا ہے۔ سفیان بن عینیہ کہتے ہیں : اتنا عمدہ ۔ کلام صرف حضرت علی (رض) سے ہی صادر ہوسکتا ہے۔
رواہ ابن ابی الدنیا وابن عساکر
رواہ ابن ابی الدنیا وابن عساکر
44231- "مسند علي" عن يحيى بن يعمر أن علي بن أبي طالب خطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس! إنما هلك من كان قبلكم بركوبهم المعاصي، ولم ينههم الربانيون والأحبار أنزل الله بهم العقوبات، ألا! فمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن ينزل بكم الذي نزل بهم، واعلموا أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لا يقطع رزقا، ولا يقرب أجلا، إن الأمر ينزل من السماء إلى الأرض كقطر المطر إلى كل نفس بما قدر الله لها من زيادة أو نقصان في أهل أو مال أو نفس فإذا أصاب أحدكم النقصان في أهل أو مال أو نفس ورأى لغيره وغيره فلا يكونن ذلك له فتنة فإن المرء المسلم ما لم يغش دناءة يظهر تخشعا لها إذا ذكرت، وتغري به لئام الناس كالياسر الفالج 1 الذي ينتظر أول فوزه من قداحه توجب له المغنم وتدفع عنه المغرم، فكذلك المرء المسلم البريء من الخيانة إنما ينتظر أحدى الحسنيين إذا ما دعا الله، فما عند الله هو خير له، وإما أن يرزقه الله مالا فإذا هو ذو أهل ومال؛ الحرث حرثان: المال والبنون حرث الدنيا، والعمل الصالح حرث الآخرة وقد يجمعهما الله لأقوام. قال سفيان بن عيينة: ومن يحسن يتكلم بهذا الكلام إلا علي بن أبي طالب. "ابن أبي الدنيا، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی نصیحتیں
44232” مسند علی “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اے ابوالحسن ! مجھے نصیحت کرو فرمایا اپنے یقین کو شک میں مت بدلو اپنے علم کو جہالت مت بناؤ اپنے گمان کو حق مت سمجھو جان لو دنیا میں سے تمہارا حصہ اتنا ہی جو تمہیں مل گیا یا تم نے پہن کر بوسیدہ کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابوالحسن ! تم نے سچ کہا۔ رواہ ابن العساکر
44232- "مسند علي" عن ابن عباس قال قال عمر لعلي: عظني يا أبا الحسن! قال: لا تجعل يقينك شكا، ولا علمك جهلا ولا ظنك حقا، وأعلم أنه ليس لك من الدنيا إلا ما أعطيت فأمضيت وقسمت فسويت، ولبست فأبليت؛ قال: صدقت يا أبا الحسن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی نصیحتیں
44233 حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ کوئی بھلائی نہیں کہ تمہارا مال یا تمہاری اولاد کثیر ہوجائے۔ لیکن بھلائی یہ ہے کہ تمہارے علم میں اضافہ ہو اگر تم نے اچھائی کی تم نے اللہ کی حمد کی اور اگر برائی کرو تو اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو دنیا میں بھلائی صرف دو آدمیوں کے لیے ہے ایک وہ آدمی جس سے کوئی گناہ سرزد ہو اور وہ اسے توبہ سے مٹالے ایک وہ آدمی جو آخرت کی طرف دوڑ لگارہا ہو۔ رواہ ابونعیم فی الحلیۃ وابن عساکر فی امالیہ
44233- عن علي قال: ليس الخير أن يكثر مالك وولدك، ولكن الخير أن يكثر علمك، ويعظم حلمك، وتناهى في عبادة ربك، إن أحسنت حمدت الله، وإن أسأت استغفرت الله. لا خير في الدنيا إلا لرجلين: رجل أذنب ذنبا فهو يتدارك ذلك بتوبة، أو رجل سارع في دار الآخرة. "حل، كر في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی نصیحتیں
44234 ابوالفتوح یوسف بن مبارک بن کامل خفاف ، شیخ ابوالفتح عبدالوھاب بن محمد بن حسین صابونی (تاریخ سماعت جہادی الاخرہ 535 ھ ) ابوالمعالی ثابت بن یندار بن ابراہیم بقال ابو محمد حسن بن محمد خلال ابوالحسن احمد بن محمد بن عمران بن موسیٰ بن عروہ بن جراح (22 ذی الحجہ 388 ھ) ابوعوسجہ سجلہ بن عرفجہ (یمن میں) ابوھراش جری بن کلیب ہشام بن محمد، محمد بن سائب کلبی، ابوصالح کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحابہ (رض) کی ایک جماعت بیٹھی آپس میں مذاکرہ کررہی تھی اور زیر بحث یہ مسئلہ تھا کہ کونسا حرف ۔ کلام میں زیادہ استعمال ہوتا ہے سب نے اتفاق کیا کہ ” الف “ زیادہ استعمال ہوتا ہے، چنانچہ حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور فی البدیہ لوگوں کے سامنے تقریر کی جس میں الف کو بالکلیہ ساقط کردیا (تقریر طویل ہے اس کا عربی متن صرف نظر کرکے ترجمہ قارئین کے استفادہ کے لیے پیش خدمت ہے) آپ (رض) نے فرمایا۔
میں اس ذات کی حمدوتعظیم بیان کرتا ہوں جس کے احسانات عظیم تر ہیں، جس کی نعمتیں بھر پور ہیں، جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے، جس کا کلمہ تمام ہوچکا ، جس کی مشیت نافذ ہوتی ہے، جس کا فیصلہ چلتا ہے میں نے اس کی حمد کی اس بندہ کے حمد کرنے کی طرح جو اس کی ربوبیت کا اقرار کرتا ہو، اس کی بندگی کے لیے اپنے آپ کو جھکائے ہوئے ہو اپنی خطاؤں کی معافی مانگنے والا ہے اس کی توحید کا معترف ہے اپنے رب سے ایسی مغفرت کا آرزو مند ہے جو قیامت کے دن نجات بخش ثابت ہو جس دن بندہ اپنے بیٹوں اور بیوی سے دور ہوجائے گا ، اسی سے مدد طلب کرتا ہے اور اسی سے ہدایت طلب کرتا ہے، اسی پر ایمان رکھتا ہے، اسی پر توکل کرتا ہے، میں اس کے لیے سچی گواہی دیتا ہوں، اس کی عزت کا یقین رکھتا ہے میں اس بندہ مومن کی حیثیت سے تنہا مانتا ہوں، میں نے اس کی توحید کا یقین بندہ مومن کی طرح کیا اس کی بادشایت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی کاریگری میں اس کا کوئی مددگار نہیں وہ مشیر ووزیر سے بالاتر ہے وہ مدد، تعاون، مددگار اور نظیر و مثال سے بالاتر ہے۔ جو علم والا ہے خبروآگہی والا ہے، جو بادشاہ ہے زبردست ہے بندہ نافرمانی کرتا ہے وہ نجش دیتا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کرتا ہے، جو لم یزل اور لن یزول ہے اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر چیز سے پہلے ہے اور ہر چیز کے بعد رہے گا وہ رب ہے جو منفرد ہے اپنی قوت پر متمکن ہے اپنی علوشان میں بزرگ و برتر ہے، اپنی عالیشان کے اعتبار سے بڑھائی والا ہے کوئی آکھ اسے پا نہیں سکتی کوئی نظر اس کا احاطہ نہیں کرسکتا جو قوی ہے مددگار ہے اور دفاع والا ہے علیم ہے سمیع ہے بصیر ہے روف ورحیم ہے مربان ہے اس کا وصف کوئی بھی بیان نہیں کرسکتا۔ اس کی معرفت رکھنے والا اس کی نعمت سے بچل جاتا ہے وہ قریب بھی ہے اور بعید بھی ہے اور قریب بھی ہے جو اسے پکارتا ہے اس کی پکار سنتا ہے وہی رزاق ہے لطف و کرم کا مالک ہے قوی پکڑ والا ہے، وسیع رحمت والا ہے درد ناک عقوبت والا ہے، اس کی رحمت وسیع تر جنت ہے، اس کا عذاب پھیلے ہوئے دوزخ کی شکل میں ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی گواہی دیتا ہوں جو اللہ کا بندہ اس کا رسول، اس کا صفی اس کا نبی اس کا حبیب اور اس کا حیل ہے ان پر عالیشان قریب کرنے والا درود ہو اللہ نے اسے بہترین زمانے میں مبعوث کیا ہے فترت اور کفر کے زمانے میں مبعوث کیا، اللہ کی رحمت اور احسان مزید ہو ان پر۔ انہی پر نبوت کا خاتمہ ہوا اپنی محبت کو تمام کیا وعظ و نصیحت کی، تبلیغ کی اور برے کاموں سے دوروں کو روکا ہر مومن کے لیے رؤف ورحیم ہے، سخی ہے رضا والا ہے، ولی ہے زکی ہے اس پر رحمت وسلام و برکات نازل ہوں، رب غفورورحیم کی طرف سے جو رب قریب ہے اور دعواؤں کا سننے والا ہے، میں نے تمہیں رب تعالیٰ کی فرمودہ وصیت کی ہے، تمہیں تمہارے نبی کی سنت یاد کرائی ہے، تمہارے اوپر ایسا خوف لازم ہے جو دلوں کو تسکین پہنچائے اور تمہارے آنسو بہائے، تمہیں ایسا تقویٰ لازم ہے قیامت کے دن جو تمہیں غافل وناسمجھ بنادے کا سے قبل جو تقویٰ تمہیں نجات بخشے گا جس دن بھاری اوزان والے اعمال حسنہ کا مالک کامیاب ہوجائے گا جس کی برائیوں کا وزن ہلکا ہوگا تمہارا سوال خشوع و خضوع ہونا چاہیے۔ شکرو توبہ ہونی چاہیے، برائی سے ندامت اور رجوع ہونا چاہیے تم میں سے ہر ایک کو بیماری سے پہلے صحت غنیمت سمجھنی چاہیے، جوانی بڑھاپے سے قبل غنیمت سمجھنی چاہیے، کشائش فقر سے پہلے فراغت مشغولیت سے پہلے حضرسفر سے پہلے ایسے بڑھاپے سے پہلے جو سٹھیا دینے والا ہے، کمزور کرنے والا ہے بیمار کرنے والا ہے جس میں طبیب بھی اکتا جاتا ہے، دوست منہ پھیر دیتے ہیں عمر منقطع ہوجاتی ہے بڑھاپے میں بوڑھے کی عقل متغیر ہوجاتی ہے اس کا بدن بخار زدہ ہوتا ہے اس کا جسم لاغر ہوچکا ہوتا ہے پھر اس پر شدید نزع کا عالم طاری ہوجاتا ہے، اچانک اس کے پاس دور و قریب کے دوست اور احباب حاضر ہوجاتے ہیں اس کی نظر بچلنے لگتی ہے وہ اپنی نظر سو پیوست کرنا چاہتا ہے، اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرتا ہے اس کا آہ وبکا کرنا رک جاتا ہے، اسی عالم میں اس کا سانس کھینچ لیا جاتا ہے اس کی جو رو رونے لگتی ہے اس کی قبر کھودی جاتی ہے اس کی اولاد تمام ہوچکی ہوئی ہے اس کے دوست اور دشمن بکھر جاتے ہیں اس کا جمع کیا ہوا مال تقسیم کردیا جاتا ہے اس کی بصارت اور قوت سماعت ختم ہوجاتی ہے اسے کفن میں لپیٹ دیا جاتا ہے، پھر سیدھے پاؤں لپٹا دیا جاتا ہے اس کے تن کے کپڑے الگ کردیئے جاتے ہیں اس کی ٹھوڑی باندھ دی جاتی ہے اس کی قمیص اور عمامہ اتار لیا جاتا ہے پھر اسے الوداع کردیا جاتا ہے، چارپائی کے اوپر اٹھا لیاجاتا ہے، پھر تکبیر کہہ کر اس پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، آراستہ و پیراستہ گھر سے اسے منتقل کردیا جاتا ہے مضبوط محلوں سے نکال دیا جاتا ہے، اعلیٰ قسم کے بالا خانوں سے دور کردیا جاتا ہے ، گہری کھودی ہوئی قبر میں ڈال دیا جاتا ہے ، تنگ و تاریک کال کوٹھری میں بند کردیا جاتا ہے، دھلی ہوئی اینٹوں کے ساتھ ڈھانپ دیا جاتا ہے، پتھروں کی اس پر چھت بنادی جاتی ہے۔ قبر پر مٹی ڈال دی جاتی ہے ڈھیلے رکھ دی جاتے ہیں اس کا انجام اب پوری طرح متحقق ہوجاتا ہے اس کی خبر ہی بھلادی جاتی ہے، اس کا ولی واپس لوٹ جاتا ہے اس کا ہمنشین اور ہم نسب جدا ہوجاتا ہے، اس کا ہم راز اور دوست تبدیل ہوجاتا ہے وہ اب قبر کا کپڑا ہوتا ہے بیابان کا قیدی ہوتا ہے اس کی قبر کے کپڑے اس کے بدن پر اوڑ آتے ہیں اس کے سینے پر اس کا گوشت پوشت پیپ بن کر بہنے لگتا ہے، اس کا گوشت جھڑنے لگتا ہے اس کا خون خشک ہوجاتا ہے تاقیامت اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں، پھر وہ (قیامت کے دن) قبر سے اٹھایا جاتا ہے صور میں پھونکا جاتا ہے حشر نشر کے لیے بلایا جاتا ہے، اس وقت قبریں اکھاڑ دی جاتی ہیں، دلوں کے پوشیدہ راز حاصل کردیئے جاتے ہیں ہر نبی ہر صدیق اور ہر شہید کو لایا جاتا ہے اس وقت خیر وبصیر ذات اپنے بندے کے فیصلے کے لیے متوجہ ہوتی ہے اس وقت کتنی بےسود چیخیں بلند ہوتی ہیں چونکہ وہ بڑا خوفناک منظر ہوگا، سامنے عزت و جلال والا بادشاہ ہوگا اس کے دربار میں ہر ایک کی پیشی ہورہی ہوگی ، ہر صغیرہ کبیرہ گناہ سے وہ بخوبی واقف ہے۔ اس وقت بندہ پسینے سے شرابور ہوگا اس کا قلق بڑھ جائے گا اس کے آنسو قابل رحم نہیں ہوں گے، اس کی آہ وبکا نہیں سنی جائے گی اس کی صحبت نامقبول ہوگی، اس کا صحیفہ (نامہ اعمال) سامنے کھلا ہوگا۔ اس کی جرات کا بھانڈا پھوٹ جائے گا جب وہ اپنے بداعمال کی طرف نظر کرے گا خود اس کی آنکھ دیکھنے کی شہادت دے گی، اس کا ہاتھ چھونے کی گواہی دے گا ٹانگ چلنے کی شرمگاہ چھونے کی، جلد مس کرنے کی منکر نکیر اسے دھمکیاں دے رہے ہوں گے جہاں بھی جائے گا سب کچھ واضح پائے گا، اس کی گردن زنجیروں میں جکڑ دی جائے گی اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگادی جائے گی اسے کھینچ کھینچ کرلے جایا جائے گا، شدت کرب کے عالم میں جہنم میں وارد ہوگا اسے آتش دوزخ میں سخت عذاب دیا جائے گا کھولتے ہوئے پانی سے اسے پلایا جائے گا اس کا چہرہ بری طرح جھلس جائے گا اس کی کھال ادھیڑ دی جائے گی لوہے کے بنے ہوئے آنگڑوں سے فرشتہ اس کی پٹائی کرے گا اس پر کھال از سر نو لوٹ آئے گی ، وہ فریاد کرے گا لیکن داروغہ جہنم اس سے منہ پھیر لے گا وہ چیخ و پکار کرے گا لیکن اس کی ایک نہ سنی جائے گی، وہ سراپا ندامت ہوگا لیکن اس کی ندامت بےفائدہ ہوگی ایک حقب دوزخ میں ٹھہرے گا رب تعالیٰ کی پناہ ہر شر سے ہم اس سے معافی طلب کرتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں وہی میرے سوال کا حامی ہے میرا مطلوب عطا کرنے والا ہے سو جس شخص کو رب تعالیٰ کے عذاب سے دور رکھا گیا اسے جنت میں حق تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور مضبوط تر محلات میں دائمی رہے گا موٹی آنکھوں والی حوروں کا مالک بنے گا اس پر بھرے ہوئے جام گھمائے جائیں گے وہ جنت الفردوس میں سکونت پذیر ہوگا اس کی زندگی نعمتوں میں بدل جائے گی تسنیم سے اسے پلایا جائے گا سبیل چشمے سے پئے گا جس میں جنتی سونٹھ کی آمیزش ہوگی اس پر مسک کی مہر لگی ہوگی دائمی خوشبو غیر کی بھی مہر ہوگی ، اسے حق تعالیٰ کی نعمتوں کا بھر پور شعور ہوگا جنتی شراب نوش کرے گا، ایسے باغ میں جس میں لطف ومزے کی مثال نہیں ملے گی، یہ مقام ہے اس شخص کا جو رب تعالیٰ سے ڈرتا ہو اوپر جو بیان ہوا ہے یہ نافرمان کی سزا ہے یہ اس کی نافرمانی کے عین مطابق ہوگی، چونکہ اس کے متعلق حق تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ فیصلہ عدل پر مبنی ہوگا اس کا یہ فیصلہ قرآن میں آچکا ہے جو بہترین بیان ہے نص پر مبنی وعط ہے ، جو کہ حکمت وحمد والے کی طرف سے نازل کردہ ہے رب کریم کی طرف سے روح القدس لے کر نازل ہوا ہے اور رشد و ہدایت والے نبی کے قلب اطہر پر نازل کیا، جسے شرب و کرم لکھنے والوں نے لکھا میں رب کریم علیم حکیم قدیر ورحیم کی پناہ مانگتا ہوں ہر دشمن اور مردود کے شر سے تمہارے سامنے تضرع کرنے والے نے تضرع کردیا، ہائے فریاد کرنے والے نے ہائے فریاد کردی، م رب تعالیٰ کی بخشش کے طلب گار ہیں پھر حضرت علی (رض) نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد یہ آیت تلاوت کی۔
تلک الدار الاخرۃ تجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا والعاقبۃ لنمتقین۔
یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے مقرر کررکھا ہے جو زمین میں بڑھائی کے طلبگار نہیں ہوتے فساد کے درپے نہیں ہوتے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
اس کے بعد حضرت علی (رض) منبر سے نیچے اتر آئے۔
۔ کلام : اس حدیث کی سند واہی تباہی ہے۔
میں اس ذات کی حمدوتعظیم بیان کرتا ہوں جس کے احسانات عظیم تر ہیں، جس کی نعمتیں بھر پور ہیں، جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے، جس کا کلمہ تمام ہوچکا ، جس کی مشیت نافذ ہوتی ہے، جس کا فیصلہ چلتا ہے میں نے اس کی حمد کی اس بندہ کے حمد کرنے کی طرح جو اس کی ربوبیت کا اقرار کرتا ہو، اس کی بندگی کے لیے اپنے آپ کو جھکائے ہوئے ہو اپنی خطاؤں کی معافی مانگنے والا ہے اس کی توحید کا معترف ہے اپنے رب سے ایسی مغفرت کا آرزو مند ہے جو قیامت کے دن نجات بخش ثابت ہو جس دن بندہ اپنے بیٹوں اور بیوی سے دور ہوجائے گا ، اسی سے مدد طلب کرتا ہے اور اسی سے ہدایت طلب کرتا ہے، اسی پر ایمان رکھتا ہے، اسی پر توکل کرتا ہے، میں اس کے لیے سچی گواہی دیتا ہوں، اس کی عزت کا یقین رکھتا ہے میں اس بندہ مومن کی حیثیت سے تنہا مانتا ہوں، میں نے اس کی توحید کا یقین بندہ مومن کی طرح کیا اس کی بادشایت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی کاریگری میں اس کا کوئی مددگار نہیں وہ مشیر ووزیر سے بالاتر ہے وہ مدد، تعاون، مددگار اور نظیر و مثال سے بالاتر ہے۔ جو علم والا ہے خبروآگہی والا ہے، جو بادشاہ ہے زبردست ہے بندہ نافرمانی کرتا ہے وہ نجش دیتا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کرتا ہے، جو لم یزل اور لن یزول ہے اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر چیز سے پہلے ہے اور ہر چیز کے بعد رہے گا وہ رب ہے جو منفرد ہے اپنی قوت پر متمکن ہے اپنی علوشان میں بزرگ و برتر ہے، اپنی عالیشان کے اعتبار سے بڑھائی والا ہے کوئی آکھ اسے پا نہیں سکتی کوئی نظر اس کا احاطہ نہیں کرسکتا جو قوی ہے مددگار ہے اور دفاع والا ہے علیم ہے سمیع ہے بصیر ہے روف ورحیم ہے مربان ہے اس کا وصف کوئی بھی بیان نہیں کرسکتا۔ اس کی معرفت رکھنے والا اس کی نعمت سے بچل جاتا ہے وہ قریب بھی ہے اور بعید بھی ہے اور قریب بھی ہے جو اسے پکارتا ہے اس کی پکار سنتا ہے وہی رزاق ہے لطف و کرم کا مالک ہے قوی پکڑ والا ہے، وسیع رحمت والا ہے درد ناک عقوبت والا ہے، اس کی رحمت وسیع تر جنت ہے، اس کا عذاب پھیلے ہوئے دوزخ کی شکل میں ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی گواہی دیتا ہوں جو اللہ کا بندہ اس کا رسول، اس کا صفی اس کا نبی اس کا حبیب اور اس کا حیل ہے ان پر عالیشان قریب کرنے والا درود ہو اللہ نے اسے بہترین زمانے میں مبعوث کیا ہے فترت اور کفر کے زمانے میں مبعوث کیا، اللہ کی رحمت اور احسان مزید ہو ان پر۔ انہی پر نبوت کا خاتمہ ہوا اپنی محبت کو تمام کیا وعظ و نصیحت کی، تبلیغ کی اور برے کاموں سے دوروں کو روکا ہر مومن کے لیے رؤف ورحیم ہے، سخی ہے رضا والا ہے، ولی ہے زکی ہے اس پر رحمت وسلام و برکات نازل ہوں، رب غفورورحیم کی طرف سے جو رب قریب ہے اور دعواؤں کا سننے والا ہے، میں نے تمہیں رب تعالیٰ کی فرمودہ وصیت کی ہے، تمہیں تمہارے نبی کی سنت یاد کرائی ہے، تمہارے اوپر ایسا خوف لازم ہے جو دلوں کو تسکین پہنچائے اور تمہارے آنسو بہائے، تمہیں ایسا تقویٰ لازم ہے قیامت کے دن جو تمہیں غافل وناسمجھ بنادے کا سے قبل جو تقویٰ تمہیں نجات بخشے گا جس دن بھاری اوزان والے اعمال حسنہ کا مالک کامیاب ہوجائے گا جس کی برائیوں کا وزن ہلکا ہوگا تمہارا سوال خشوع و خضوع ہونا چاہیے۔ شکرو توبہ ہونی چاہیے، برائی سے ندامت اور رجوع ہونا چاہیے تم میں سے ہر ایک کو بیماری سے پہلے صحت غنیمت سمجھنی چاہیے، جوانی بڑھاپے سے قبل غنیمت سمجھنی چاہیے، کشائش فقر سے پہلے فراغت مشغولیت سے پہلے حضرسفر سے پہلے ایسے بڑھاپے سے پہلے جو سٹھیا دینے والا ہے، کمزور کرنے والا ہے بیمار کرنے والا ہے جس میں طبیب بھی اکتا جاتا ہے، دوست منہ پھیر دیتے ہیں عمر منقطع ہوجاتی ہے بڑھاپے میں بوڑھے کی عقل متغیر ہوجاتی ہے اس کا بدن بخار زدہ ہوتا ہے اس کا جسم لاغر ہوچکا ہوتا ہے پھر اس پر شدید نزع کا عالم طاری ہوجاتا ہے، اچانک اس کے پاس دور و قریب کے دوست اور احباب حاضر ہوجاتے ہیں اس کی نظر بچلنے لگتی ہے وہ اپنی نظر سو پیوست کرنا چاہتا ہے، اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرتا ہے اس کا آہ وبکا کرنا رک جاتا ہے، اسی عالم میں اس کا سانس کھینچ لیا جاتا ہے اس کی جو رو رونے لگتی ہے اس کی قبر کھودی جاتی ہے اس کی اولاد تمام ہوچکی ہوئی ہے اس کے دوست اور دشمن بکھر جاتے ہیں اس کا جمع کیا ہوا مال تقسیم کردیا جاتا ہے اس کی بصارت اور قوت سماعت ختم ہوجاتی ہے اسے کفن میں لپیٹ دیا جاتا ہے، پھر سیدھے پاؤں لپٹا دیا جاتا ہے اس کے تن کے کپڑے الگ کردیئے جاتے ہیں اس کی ٹھوڑی باندھ دی جاتی ہے اس کی قمیص اور عمامہ اتار لیا جاتا ہے پھر اسے الوداع کردیا جاتا ہے، چارپائی کے اوپر اٹھا لیاجاتا ہے، پھر تکبیر کہہ کر اس پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، آراستہ و پیراستہ گھر سے اسے منتقل کردیا جاتا ہے مضبوط محلوں سے نکال دیا جاتا ہے، اعلیٰ قسم کے بالا خانوں سے دور کردیا جاتا ہے ، گہری کھودی ہوئی قبر میں ڈال دیا جاتا ہے ، تنگ و تاریک کال کوٹھری میں بند کردیا جاتا ہے، دھلی ہوئی اینٹوں کے ساتھ ڈھانپ دیا جاتا ہے، پتھروں کی اس پر چھت بنادی جاتی ہے۔ قبر پر مٹی ڈال دی جاتی ہے ڈھیلے رکھ دی جاتے ہیں اس کا انجام اب پوری طرح متحقق ہوجاتا ہے اس کی خبر ہی بھلادی جاتی ہے، اس کا ولی واپس لوٹ جاتا ہے اس کا ہمنشین اور ہم نسب جدا ہوجاتا ہے، اس کا ہم راز اور دوست تبدیل ہوجاتا ہے وہ اب قبر کا کپڑا ہوتا ہے بیابان کا قیدی ہوتا ہے اس کی قبر کے کپڑے اس کے بدن پر اوڑ آتے ہیں اس کے سینے پر اس کا گوشت پوشت پیپ بن کر بہنے لگتا ہے، اس کا گوشت جھڑنے لگتا ہے اس کا خون خشک ہوجاتا ہے تاقیامت اس کی ہڈیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں، پھر وہ (قیامت کے دن) قبر سے اٹھایا جاتا ہے صور میں پھونکا جاتا ہے حشر نشر کے لیے بلایا جاتا ہے، اس وقت قبریں اکھاڑ دی جاتی ہیں، دلوں کے پوشیدہ راز حاصل کردیئے جاتے ہیں ہر نبی ہر صدیق اور ہر شہید کو لایا جاتا ہے اس وقت خیر وبصیر ذات اپنے بندے کے فیصلے کے لیے متوجہ ہوتی ہے اس وقت کتنی بےسود چیخیں بلند ہوتی ہیں چونکہ وہ بڑا خوفناک منظر ہوگا، سامنے عزت و جلال والا بادشاہ ہوگا اس کے دربار میں ہر ایک کی پیشی ہورہی ہوگی ، ہر صغیرہ کبیرہ گناہ سے وہ بخوبی واقف ہے۔ اس وقت بندہ پسینے سے شرابور ہوگا اس کا قلق بڑھ جائے گا اس کے آنسو قابل رحم نہیں ہوں گے، اس کی آہ وبکا نہیں سنی جائے گی اس کی صحبت نامقبول ہوگی، اس کا صحیفہ (نامہ اعمال) سامنے کھلا ہوگا۔ اس کی جرات کا بھانڈا پھوٹ جائے گا جب وہ اپنے بداعمال کی طرف نظر کرے گا خود اس کی آنکھ دیکھنے کی شہادت دے گی، اس کا ہاتھ چھونے کی گواہی دے گا ٹانگ چلنے کی شرمگاہ چھونے کی، جلد مس کرنے کی منکر نکیر اسے دھمکیاں دے رہے ہوں گے جہاں بھی جائے گا سب کچھ واضح پائے گا، اس کی گردن زنجیروں میں جکڑ دی جائے گی اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگادی جائے گی اسے کھینچ کھینچ کرلے جایا جائے گا، شدت کرب کے عالم میں جہنم میں وارد ہوگا اسے آتش دوزخ میں سخت عذاب دیا جائے گا کھولتے ہوئے پانی سے اسے پلایا جائے گا اس کا چہرہ بری طرح جھلس جائے گا اس کی کھال ادھیڑ دی جائے گی لوہے کے بنے ہوئے آنگڑوں سے فرشتہ اس کی پٹائی کرے گا اس پر کھال از سر نو لوٹ آئے گی ، وہ فریاد کرے گا لیکن داروغہ جہنم اس سے منہ پھیر لے گا وہ چیخ و پکار کرے گا لیکن اس کی ایک نہ سنی جائے گی، وہ سراپا ندامت ہوگا لیکن اس کی ندامت بےفائدہ ہوگی ایک حقب دوزخ میں ٹھہرے گا رب تعالیٰ کی پناہ ہر شر سے ہم اس سے معافی طلب کرتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں وہی میرے سوال کا حامی ہے میرا مطلوب عطا کرنے والا ہے سو جس شخص کو رب تعالیٰ کے عذاب سے دور رکھا گیا اسے جنت میں حق تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور مضبوط تر محلات میں دائمی رہے گا موٹی آنکھوں والی حوروں کا مالک بنے گا اس پر بھرے ہوئے جام گھمائے جائیں گے وہ جنت الفردوس میں سکونت پذیر ہوگا اس کی زندگی نعمتوں میں بدل جائے گی تسنیم سے اسے پلایا جائے گا سبیل چشمے سے پئے گا جس میں جنتی سونٹھ کی آمیزش ہوگی اس پر مسک کی مہر لگی ہوگی دائمی خوشبو غیر کی بھی مہر ہوگی ، اسے حق تعالیٰ کی نعمتوں کا بھر پور شعور ہوگا جنتی شراب نوش کرے گا، ایسے باغ میں جس میں لطف ومزے کی مثال نہیں ملے گی، یہ مقام ہے اس شخص کا جو رب تعالیٰ سے ڈرتا ہو اوپر جو بیان ہوا ہے یہ نافرمان کی سزا ہے یہ اس کی نافرمانی کے عین مطابق ہوگی، چونکہ اس کے متعلق حق تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ فیصلہ عدل پر مبنی ہوگا اس کا یہ فیصلہ قرآن میں آچکا ہے جو بہترین بیان ہے نص پر مبنی وعط ہے ، جو کہ حکمت وحمد والے کی طرف سے نازل کردہ ہے رب کریم کی طرف سے روح القدس لے کر نازل ہوا ہے اور رشد و ہدایت والے نبی کے قلب اطہر پر نازل کیا، جسے شرب و کرم لکھنے والوں نے لکھا میں رب کریم علیم حکیم قدیر ورحیم کی پناہ مانگتا ہوں ہر دشمن اور مردود کے شر سے تمہارے سامنے تضرع کرنے والے نے تضرع کردیا، ہائے فریاد کرنے والے نے ہائے فریاد کردی، م رب تعالیٰ کی بخشش کے طلب گار ہیں پھر حضرت علی (رض) نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد یہ آیت تلاوت کی۔
تلک الدار الاخرۃ تجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا والعاقبۃ لنمتقین۔
یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے مقرر کررکھا ہے جو زمین میں بڑھائی کے طلبگار نہیں ہوتے فساد کے درپے نہیں ہوتے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
اس کے بعد حضرت علی (رض) منبر سے نیچے اتر آئے۔
۔ کلام : اس حدیث کی سند واہی تباہی ہے۔
44234- قال أبو الفتوح يوسف بن المبارك بن كامل الخفاف في مشيخته: أنبأنا الشيخ أبو الفتح عبد الوهاب بن محمد بن الحسين الصابوني قراءة عليه وأنا أسمع في جمادى الآخرة من سنة خمس وثلاثين وخمسمائة أنا أبو المعالي ثابت بن بندار بن إبراهيم البقال قراءة عليه أنا أبو محمد الحسن بن محمد الخلال قال قرأت على أبي الحسن أحمد بن محمد ابن عمران بن موسى بن عروة بن الجراح في يوم الخميس لثمان بقين من ذي الحجة سنة ثمان وثمانين وثلاثمائة قلت له حدثكم أبو علي الغماري قال حدثني أبو عوسجة سجلة بن عرفجة من اليمن قال حدثني أبي عرفجة بن عرفطة قال حدثني أبو الهراش جرى بن كليب قال حدثني هشام بن محمد عن أبيه محمد بن السائب الكلبي عن أبي صالح قال: جلس جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتذاكرون فتذاكروا: أي الحروف أدخل في الكلام، فأجمعوا على أن الألف أكثر دخولا في الكلام من سائرها فقام أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه فخطب هذه الخطبة على البديهة وأسقط منها الألف، المؤنقة، وقال: حمدت وعظمت من عظمت مننه، وسبغت نعمته وسبقت رحمته غضبه، وتمت كلمته، ونفذت مشيئته، وبلغت قضيته حمدته حمد عبد مقر بربوبيته، متخضع لعبوديته، متنصل لخطيئته معترف بتوحيده، مؤمل من ربه مغفرة تنجيه يوم يشغل عن فصيلته وبنيه، ويستعينه ويسترشده ويستهديه ويؤمن به ويتوكل عليه وشهدت له تشهد مخلص موقن وبعزته مؤمن، وفردته تفريد مؤمن متقن، ووجدت له توحيد عبد مذعن، ليس له شريك في ملكه، ولم يكن له ولي في صنعه، جل عن مشير ووزير، وعن عون معين ونظير، علم فستر، وبطن فخبر وملك فقهر، وعصى فغفر، وحكم فعدل، لم يزل ولن يزول، ليس كمثله شيء، وهو قبل كل شيء وبعد كل شيء، رب منفرد بعزته، متمكن بقوته، متقدس بعلوه، متكبر بسموه، ليس يدركه بصر، وليس يحيط به نظر، قوي معين منيع، عليم، سميع، بصير، رؤوف، رحيم عطوف، عجز عن وصفه من يصفه، وضل عن نعته من يعرفه، قرب فبعد، وبعد فقرب، يجيب دعوة من يدعوه، ويرزقه ويحبوه، ذو لطف خفي، وبطش قوي، ورحمة موسعة، وعقوبة موجعة، رحمته جنة عريضة مؤنقة، وعقوبته جحيم ممدودة موبقة، وشهدت ببعث محمد عبده ورسوله وصفيه ونبيه وحبيبه وخليله صلى عليه صلاة تحظيه، وتزلفه وتعليه، وتقربه وتدنيه، بعثه في خير عصر، وحين فترة وكفر، رحمة منه لعبيده، ومنة لمزيده، ختم به نبوته، ووضح به حجته، فوعظ ونصح، وبلغ وكدح، رؤوف بكل مؤمن رحيم، سخي رضي ولي زكي عليه رحمة وتسليم، وبركة وتكريم، من رب غفور رحيم، قريب مجيب؛ وصيتكم معشر من حضرني بوصية ربكم، وذكرتكم سنة نبيكم، فعليكم برهبة تسكن قلوبكم، وخشية تذري دموعكم، وتقية تنجيكم قبل يوم يذهلكم ويبلدكم، يوم يفوز فيه من ثقل وزن حسنته، وخف وزن سيئته، ولتكن مسألتكم وتملقكم مسألة ذل وخضوع، وشكر وخضوع، وتوبة ونزوع، وندم ورجوع، وليغتنم كل مغتنم منكم صحته قبل سقمه، وشيبته قبل هرمه وكبره، وسعته قبل فقره، وفرغته قبل شغله، وحضره قبل سفره، قبل أن يكبر فيهرم ويمرض ويسقم، ويمله طبيبه، ويعرض عنه حبيبه، وينقطع عمره، ويتغير عقله، ثم قيل هو موعوك، وجسمه منهوك، ثم أخذ في نزع شديد وحضره كل حبيب قريب وبعيد، فشخص ببصره، وطمح بنظرة ورشح جبينه، وخطف عرنيته، وسكن حنينه، وجذبت نفسه وبكته عرسه، وحفر رمسه، ويتم منه ولده، وتفرق عنه صديقه وعدوه، وقسم جمعه، وذهب بصره وسمعه، وكفن ومدد، ووجه وجرد، وغسل وعري، ونشف وسجي، وبسط وهيء، ونشر عليه كفنه، وشد منه ذقنه، وقمص منه وعمم، وودع وعليه سلم وحمل فوق سريره وصلي عليه بتكبيرة، ونقل من دور مزخرفة، وقصور مشيدة، وحجر منجدة، فجعل في ضريح ملحود، ضيق موصود، بلبن منضود، مسقف بجلمود، وهيل عليه عفره، وحثي عليه مدره، فتحقق حذره، ونسي خبره، ورجع عنه وليه ونديمه ونسيبه، وتبدل به قرينه وحبيبه، فهو حشو قبر، ورهين قفر، يسعى في جسمه دود قبره، ويسيل صديده على صدره ونحره ويسحق تربته لحمه، وتنشف دمه، ويرم عظمه حتى يوم حشره، فينشر من قبره وينفخ في صوره، ويدعى لحشره ونشوره، فثم بعثرت قبور، وحصلت سريرة صدور، وجيء بكل نبي وصديق وشهيد، وقصد للفصل بعبده خبير بصير، فكم زفرة تغنيه وحسرة تفضيه! في موقف مهيل، ومشهد جليل، بين يدي ملك عظيم، بكل صغيرة وكبيرة عليم؛ حينئذ يلجمه عرقه ويحفزه قلقه؛ عبرته غير مرحومة، وضرعته غير مسموعة، وحجته غير مقبولة؛ تنشر صحيفته، وتبين جريرته؛ حين نظر في سوء عمله، وشهدت عينه بنظره، ويده ببطشه، ورجله بخطوه، وفرجه بلمسه، وجلده بمسه؛ ويهدده منكر ونكير، فكشف له عن حيث يصير؛ فسلسل جيده، وغلغل يده؛ وسيق يسحب وحده، فورد جهنم بكرب وشدة؛ فظل يعذب في جحيم. ويسقى شربة من حميم؛ يشوى وجهه، ويسلخ جلده، يضربه ملك بمقمع من حديد، يعود جلده بعد نضجه كجلد جديد؛ فيستغيث فيعرض عنه خزنة جهنم، ويستصرخ فلم يجب، ندم حيث لم ينفعه ندمه، فيلبث حقبة؛ نعوذ برب قدير، من شر كل مصير، ونسأله عفو من رضى عنه، ومغفرة من قبل منه؛ فهو ولى مسألتي، ومنجح طلبتي، فمن زحزح عن تعذيب ربه، جعل في جنته بقربه، وخلد في قصور مشيدة، وملك حور عين وحفدة، وطيف عليه بكوؤس، وسكن حظيرة قدس في فردوس؛ وتقلب في نعيم، وسقى من تسنيم؛ وشرب من عين سلسبيل، قد مزج بزنجبيل؛ ختم بمسك، وعنبر مستديم للملك، مستشعر للشعور، يشرب من خمور، في روض مغدق ليس ينزف في شربه؛ هذه منزلة من خشى ربه، وحذر نفسه؛ وتلك عقوبة من عصى منشئه، وسولت له نفسه معصيته؛ لهو قول فصل، وحكم عدل، خير قصص قص، ووعظ نص؛ تنزيل من حكيم حميد، نزل به روح قدس مبين من عند رب كريم على قلب نبي مهتد رشيد؛ صلت عليه سفرة، مكرمون بررة؛ وعذت برب عليم حكيم قدير رحيم، من شر عدو لعين رجيم؛ يتضرع متضرعكم ويبتهل مبتهلكم، ونستغفر رب كل مربوب لي ولكم؛ ثم قرأ بسم الله الرحمن الرحيم {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوّاً فِي الْأَرْضِ وَلا فَسَاداً وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ} . ثم نزل رضي الله عنه. "اسناده واه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44235 حضرت جندب بجلی (رض) فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو قرآن پڑھو ، چونکہ قرآن تاریک رات کا نور ہے اور دن کی رونق ہے پڑھنے والا خواہ فقروفاقہ کی حالت میں کیوں نہ ہو جب کوئی آزمائش نازل ہو تو اپنے اموال کے دروازوں کو اپنی جانوں کے لیے کھول دو ، جب کوئی بلانازل ہو تو اپنی جانوں کو دین پر قربان کردو، جان لو رسوا وہ شخص ہے جس کا دین رسوا ہو ہلاکت والا وہ ہے جس کا دین ہلاک ہوجائے۔ خبردار ! جنت کے بعد کوئی فقر نہیں ، دوزخ کے بعد کوئی بےنیازی نہیں چونکہ دوزخ اپنے اسیر کو کبھی نہیں چھوڑے گی، اس کی بھڑک ان مٹ ہے اس کی آگ کبھی بجھنے نہیں پائے گی، وہ مسلمان اور جنت کے درمیان حائل ہے جس مسلمان کا ہاتھ اپنے کسی مسلمان بھائی کے ہہاتھ سے رنگ جائے جب بھی وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے دروازہ پر پہنچے گا وہاں سے واپس لوٹا دیا جائے گا جان لو آدمی جب مرجاتا ہے اور دفن کردیا جاتا ہے سب سے پہلے اس کا پیٹ بدبودار ہوجاتا ہے، لہٰذا بدبو کے ساتھ ساتھ گندگی کو جمع کرنے کی کوشش مت کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔
رواہ البیہقی فی شعب الایمان
رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44235- عن جندب البجلي قال: اتقوا الله، واقرؤا القرآن، فإنه نور الليل المظلم، وبهاء النهار على ما كان من جهد وفاقة، فإذا نزل البلاء فاجعلوا أموالكم دون أنفسكم، فإذا أنزل البلاء فاجعلوا أنفسكم دون دينكم، واعلموا أن الخائب من خاب دينه، والهالك من هلك دينه، ألا! لا فقر بعد الجنة، ولا غنى بعد النار، لأن النار لا يفك أسيرها، ولا يبرأ حديرها، ولا يطفأ حريقها، وإنه ليحال بين الجنة وبين المسلم، بملء كف دم أصابه من أخيه المسلم، كلما ذهب ليدخل من باب من أبوابها وجدها ترد عنها؛ واعلموا أن الآدمي إذا مات ودفن لأنتن أول من بطنه، فلا تجعلوا مع النتن خبثا، واتقوا الله في أموالكم، والدماء فاجتنبوها. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44236 حضرت حسن بن علی (رض) فرماتے ہیں : دنیا کا طلبگار دنیا ہی کو لے کر بیٹھ جاتا ہے ، جو شخص دنیا سے منہ موڑ لیتا ہے اسے کھانے کی کچھ پروا نہیں رہتی دنیا میں رغبت رکھنے والا غلام ہے اسے جو چاہتا ہے اپنی ملک بنالیتا ہے، دنیا کی حقیر چیز کفایت کردیتی ہے جب کہ ساری دنیا بےنیاز نہیں کرتی، جس کا دن معتدل ہو وہ مغرور ہے جس کا دن قبیح کی بنسبت بہتر ہو وہ دھوکا کھا جاتا ہے، جو اپنے نقصان کو نقصان نہیں سمجھتا وہ حقیقت میں نقصان میں رتا ہے جو شخص نقصان میں ہو اس کے لیے موت ہی بھلی ہے۔ رواہ ابن النجار
44236- عن الحسن بن علي قال: من طلب الدنيا قعدت به، ومن زهد فيها لم يبال من أكلها، الراغب فيها عبد لمن يملكها، أدنى ما فيها يكفي، وكلها لا تغني، من اعتدل يومه فيها فهو مغرور، ومن كان يومه خيرا من غده فهو مغبون، ومن لم يتفقد النقصان عن نفسه فإنه في نقصان، ومن كان في نقصان فالموت خير له. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44237 حارث اعور کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے اپنے بیٹے حضرت حسن (رض) سے مروت کی متعلق چند چیزوں کے بارے میں پوچھا چنانچہ آپ (رض) نے پوچھا : اے بیٹے : راست بازی کیا ہے حضرت حسن نے جواب دیا : اے ابا جان اچھائی سے برائی کو ختم کرنا راست بازی ہے فرمایا : شرف کیا ہے ؟ معاشرے پر احسان کرنا اور گناہ سے رک جانا فرمایا : مروت کیا ہے ؟ عرض کیا : آدمی اپنے معاملات کی اصلاح کرے اور پاکدامنی اختیار کرے ۔ فرمایا : عرض کیا : تھوڑے پر نظر رکھنا اور حضیر سے رک جانا فرمایا : ملامت کیا ہے عرض کیا : آدمی کا اپنے آپ کو محفوظ رکھنا فرمایا : سخاوت کیا ہے ؟ عرض کیا : تنگی اور کشائش میں خرچ کرنا فرمایا : بخل کیا ہے ؟ عرض کیا : یہ کہ تمہارے ہاتھ میں جو چیز ہوا سے بشرف نگاہ دیکھو اور جسے خرچ کردو اسے ضائع سمجھو فرمایا : بھائی بندی کیا ہے ؟ عرض کیا : تنگی اور کشادگی میں وفاداری فرمایا : حبن (سستی) کیا ہے عرض کیا : دوست پر جرات کرنا اور دشمن سے بھاگ جانا فرمایا غنیمت کیا ہے ؟ عرض کیا : تقویٰ میں رغبت کرنا اور دنیا سے بےرغبتی اختیار کرنا ٹھنڈی غنیمت ہے فرمایا : بردباری کیا ہے عرض کیا : غصہ کو پی جانا اور نفس پر قابو پانا۔ فرمایا : غنی کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا خواہ قسمت میں کم ہو یا زیادہ۔ اصل غنی تو غنائے نفس ہے فرمایا : فقر کیا ہے ؟ عرض کیا ! ہر چیز میں شدت کا حرص فرمایا : زور آوری کیا ہے ؟ عرض کیا : شدت کی جنگ اور سخت لوگوں کا مقابلہ : فرمایا : ذلت کیا ہے ؟ عرض کیا : صدمہ کے وقت آہ وبکا فرمایا : جرات کیا ہے ؟ فرمایا : ہم عمروں پر برس جانا۔ فرمایا : کلفت کیا ہے ؟ عرض یا : لا یعنی ۔ کلام کرنا فرمایا بزرگی کیا ہے ؟ عرض کیا یہ کہ زیادتی کے وقت تم عطا کرو اور جرم کو معاف کرو فرمایا ! عقل کیا ہے عرض کیا : دل کا ہر چیز کو محفوظ رکھنا۔ فرمایا : خرق کیا ہے ؟ عرض کیا : امام سے تمہاری دشمنی اور اس کے سامنے آواز بلند کرنا، فرمایا : سنار کیا ہے ؟ عرض کیا : اچھے کا مکرنا اور برے کام چھوڑ دینا۔ فرمایا : حزم کیا ہے ؟ عرض کیا : طویل بردباری والیوں کے ساتھ نرمی اور لوگوں کو سوء ظن سے بچانا حزم ہے۔ فرمایا : شرف کیا ہے عرض کیا : بھائیوں کی موفقت اور پڑوسیوں کی حفاظت فرمایا : سفہ (بےوقوفی ) کیا ہے عرض کیا : گھٹیاں امور کی اتباع اور گمراہوں کی مصاحبت ۔ فرمایا : غفلت کیا ہے ؟ عرض کیا : مسجد کو چھوڑ دینا اور فسادی کی اطاعت کرنا فرمایا : فرمان کیا ہے ؟ عرض کیا : تمہارا حصہ جو تمہیں پیش کردیا جائے اس سے تمہارا محروم ہوجانا ۔ فرمایا : سید کیا ہے (سردار) عرض کیا : بیوقوف سردار وہ ہے جو اپنی عزت کے معاملہ میں لاپرواہ ہو جسے گالی دی جائے اور وہ جواب نہ دے امور معاشرت میں پریشان حال ہو وہ بیوقوف سردار ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے بیٹے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جہالت سے بڑا فقر کوئی نہیں عقلمندی سے بڑا مال کوئی نہیں عجب سے زیادہ وحشت زدہ کوئی تنہائی نہیں مشاورت سے مضبوط کوئی پشت پناہی نہیں حسن تدبیر کی طرح کوئی عقلمندی نہیں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی خاندانی شرافت نہیں گناہوں سے بچے رہنے کی طرح کوئی تقویٰ نہیں فکر مندی کی طرح کوئی عبادت نہیں صبروحیاء کی طرح کوئی ایمان نہیں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے جھوٹ باتوں کی آفت ہے علم کی آفت نسیان ہے بےوقوفی حکم کی آفت ہے فترت عبادت کی آفت سے بیہودہ کوئی طبع ظرفی کی آفت ہے سرکشی شجاعت کی آفت سے احسان جتلانا سخاوت کی آفت ہے تکبر و غرور خوبصورتی کی آفت ہے فخر حسب ونسب کی آفت ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ عقلمند کو چاہیے کہ وہ اپنے دن کے چار حصے کرلے ایک حصہ اپنے رب تعالیٰ سے مناجات کے لیے مقرر کردے ایک حصہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے، ایک حصہ میں اہل علم کے پاس آئے جو اسے دینی بصیرت عطا کریں اور نصیحت کریں ایک حصہ دنیا کی حلال لذات سے لطف اندوز ہونے کے لیے مقرر کردے۔ عقلمند کو چاہے کہ وہ تین چیزوں کے لیے باہر نکلے تلاش معاش کے لیے خلوت معاد کے لیے ایسی لذت کے لیے جو حرام نہ ہو عقلمند کو چاہیے کہ وہ اپنی شان کو سمجھے اپنی شرمگاہ اور زبان کی حفاظت کرے اہل زمانہ کو پہچانتا ہو علم آدمی کا خلیل ہے عقل آدمی کی دلیل ہے علم اس کا وزیر ہے عمل آدمی کا ہمنوا ہے صبر آدمی کے لشکر کا امیر ہے نرمی آدمی کا والد ہے آسانی آدمی کا بھائی ہے۔
باپ ، بھائی، بیٹا
اے بیٹے : جس آدمی کو تم روز دیکھتے ہو اسے حقیر مت سمجھو اگر وہ تم سے بڑا ہو تو اسے اپنا باپ سمجھو اگر وہ تمہارا ہمعصر ہوا سے اپنا بھائی سمجھو اگر وہ عمر میں تم سے چھوٹا ہوا سے اپنا بیٹا سمجھو۔
رواہ الصابونی فی للئتین الطبرانی وابن عساکر
باپ ، بھائی، بیٹا
اے بیٹے : جس آدمی کو تم روز دیکھتے ہو اسے حقیر مت سمجھو اگر وہ تم سے بڑا ہو تو اسے اپنا باپ سمجھو اگر وہ تمہارا ہمعصر ہوا سے اپنا بھائی سمجھو اگر وہ عمر میں تم سے چھوٹا ہوا سے اپنا بیٹا سمجھو۔
رواہ الصابونی فی للئتین الطبرانی وابن عساکر
44237- "أيضا" عن الحارث الأعور أن عليا سأل ابنه الحسن عن أشياء من المروءة، قال: يا بني! ما السداد؟ قال: يا أبت! دفع المنكر بالمعروف، قال: فما الشرف؟ قال: اصطناع العشيرة وحمل الجريرة، قال: فما المروءة؟ قال: العفاف وإصلاح المرء ماله، قال: فما الدقة؟ قال: النظر في اليسير ومنع الحقير، قال: فما اللؤم؟ قال: إحراز المرء نفسه وبذله عرسه، قال: فما السماحة؟ قال: البذل في العسر واليسر، قال: فما الشح؟ قال: أن ترى في يديك شرفا، وما أنفقته تلفا، قال: فما الإخاء؟ قال: الوفاء في الشدة والرخاء، قال: فما الجبن؟ قال: الجرأة على الصديق، والنكول على العدو، وقال: فما الغنيمة؟ قال: الرغبة في التقوى، والزهادة في الدنيا هي الغنيمة الباردة، قال: فما الحلم؟ قال: كظم الغيظ وملك النفس، قال: فما الغنى؟ قال: رضى النفس بما قسم الله لها وإن قل، فإنما الغنى غنى النفس، قال: فما الفقر؟ قال: شره النفس في كل شيء، قال: فما المنعة؟ قال: شدة البأس ومقارعة أشد الناس، قال: فما الذل، قال: الفزع عند المصدومة، قال: فما الجرأة؟ قال: مواقعة الأقران، قال: فما الكلفة؟ قال: كلامك فيما لا يعنيك، قال: فما المجد؟ قال: أن تعطي في الغرم، وأن تعفو عن الجرم، قال: فما العقل؟ قال: حفظ القلب كل ما استوعيته، قال: فما الخرق؟ قال: معاداتك لإمامك ورفعك عليه كلامك، قال: فما السناء؟ قال: إتيان الجميل، وترك القبيح، قال: فما الحزم؟ قال: طول الأناة والرفق بالولاة والاحتراس من الناس بسوء الظن هو الحزم، قال: فما الشرف؟ قال: موافقة الإخوان وحفظ الجيران، قال: فما السفه؟ قال: اتباع الدناءة ومصاحبة الغواة، قال: فما الغفلة؟ قال: تركك المسجد وطاعتك المفسد، قال: فما الحرمان؟ قال: تركك حظك وقد عرض عليك، قال: فما السيد؟ قال: السيد الأحمق في المال المتهاون في عرضه يشتم فلا يجيب المتحزن بأمور عشيرته هو السيد. قال: ثم قال علي: يا بني! سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا فقر أشد من الجهل، ولا مال أعود من العقل، ولا وحدة أوحش من العجب، ولا مظاهرة أوثق من المشاورة، ولا عقل كالتدبير، ولا حسب كحسن الخلق، ولا ورع كالكف، ولا عبادة كالتفكر، ولا إيمان كالحياء والصبر، وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: آفة الحديث الكذب، آفة العلم النسيان، وآفة الحلم السفه، وآفة العبادة الفترة، وآفة الظرف الصلف، وآفة الشجاعة البغي، وآفة السماحة المن، وآفة الجمال الخيلاء، وآفة الحسب الفخر. وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ينبغي للعاقل إذا كان عاقلا أن يكون له من النهار أربع ساعات: ساعة يناجي فيها ربه جل جلاله، وساعة يحاسب فيها نفسه، وساعة يأتي فيها أهل العلم الذين يبصرونه أمر دينه وينصحونه، وساعة يخلي فيها بين نفسه ولذتها من أمر الدنيا فيما يحل ويجمل، وينبغي أن لا يكون شاخصا إلا في ثلاث: مرمة لمعاش، أو خلوة لمعاد. أو لذة في غير محرم، وينبغي للعاقل أن يكون في شأنه، فيحفظ فرجه ولسانه ويعرف أهل زمانه، والعلم خليل الرجل. والعقل دليله، والحلم وزيره، والعمل قرينه، والصبر أمير جنوده، والرفق والده، واليسر أخوه، يا بني! لا تستخفن برجل تراه أبدا، إن كان أكبر منك فعد أنه أبوك وإن كان منك فهو أخوك، وإن كان أصغر منك فاحسب أنه ابنك. "الصابوني في المائتين، طب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44238 سلیمان بن حبیب کہتے ہیں ایک جماعت کے ساتھ حضرت ابوامامہ (رض) کے پاس داخل ہوا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بوڑھے ہوچکے ہیں کمر جھک چکی ہے۔ بایں ہمہ ان کی عقل ان کی بول چال ان کی جسمانی حالت سے کہیں افضل واعلیٰ پائی گئی انھوں نے پہلی بات جو ہم سے کی وہ یہ تھی کہ تمہاری یہ مجلس تم تک اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی ہے بلاشبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہوئی تعلیمات کی تبلیغ کردی ہے ان کے صحابہ (رض) بھی جو کچھ سنا ہے وہ پہنچادیا ہے لہٰذا جو کچھ تم سنواسے دوسروں تک پہنچاؤ تین آدمی اللہ تعالیٰ کی ضمانت پر رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل کردیتا ہے یا اجر وثواب اور غنیمت سے واپس لوٹاتا ہے ایک وہ شخص جو فی سبیل اللہ فیصلے کرتا ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت پر ہوتا ہے یا تو اللہ اسے جنت میں داخل کرلیتا ہے یا اجر وثواب عطا کرکے اسے واپس کرلیتا ہے دوسرا وہ شخص جو وضو کرتا ہے اور مسجد کی طرف چل پڑتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ضمانت پر ہوتا ہے حتیٰ کہ اللہ اسے جنت میں داخل کردے یا اپنا اجر وثواب لے کر واپس لوٹ آئے تیسرا وہ شخص جو سلام کر کے اپنے گھر میں داخل ہوتا ہو پھر حضرت امام (رض) نے فرمایا : بلاشبہ جہنم میں ایک پل ہے پھر اس کے سات حصے ہیں۔ درمیانی حصہ پر قاضی ہوں گے کے ایک آدمی لایا جائے گا جب وہ درمیانی حصے پر پہنچے گا اس سے کہا جائے گا تمہارے اوپر کیا قرض ہے اس سے حساب لیا جائے گا : پھر آپ (رض) یہ آیت تلاوت کی۔ ولا تکتمون اللہ حدیثاً ۔ کوئی بات اللہ تعالیٰ سے مت چھپاؤ وہ بندہ کہے گا : اے میرے رب مجھ پر فلاں فلاں کا قرض ہے حکم ہوگا اپنا قرض ادا کرو بندہ کہے گا : میرے پاس کچھ نہیں اور نہ ہی مجھے معلوم ہے ہک میں کیسے ادا کروں حکم ہوگا اس کی نیکیوں میں سے لے لو پھر مسلسل اس کی نیکیاں لی جائیں گی حتیٰ کہ اس کے پاس ایک نیکی بھی باقی نہیں بچے گی جس اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور پھر قرض کے مطالبہ کرنے والوں سے کہا جائے گا کہ تم اپنی برائیاں اس پر لادو۔ چنانچہ قرض دیندگان کی برائیاں اس پر لادی جائیں گی۔ ابو امامہ (رض) نے فرمایا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ لوگ پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے لیکن قرض خواہان برابر مطالبہ کرکے ان کی نیکیاں لوٹ لیں گے ان کے پاس ایک بھی باقی نہیں رہئے گی پھر مقروضین پر قرض خواہوں کی برائیاں لادی جائیں گی حتیٰ کہ ان کے پاس پہاڑوں کے برابر برائیاں ہوں گی۔ آپ (رض) نے پھر فرمایا : جھوٹ سے بچو چونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور دوزخ کی طرف لے جاتا ہے سچ کو اپنے اوپر لازمی کرلو چونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تم اہل جاہلیت سے زیادہ گمراہ ہو اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ مقام دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دینار خرچ کرو گے وہ سات سو دیناروں کے برابر ہوگا۔ اور درہم سات سو درہموں کے برابر ہے پھر تم درہم دینار کو جمع کرتے ہو اور روکتے رہتے ہو۔ بخدا ! تلواروں سے تمہیں فتوحات نصیب ہوئی ہیں ان تلواروں کا زیور سونا چاندی نہیں ہوتا تھا بلکہ لٹکانے والی لکڑی تانبا اور لوہا ہوتا تھا۔ رواہ ابن عساکر
44238- عن سليمان بن حبيب قال: دخلت في نفر على أبي أمامة فإذا شيخ قد رق وكبر، وإذا عقله ومنطقه أفضل مما يرى من منظره، فقال في أول ما حدثنا إن مجلسكم هذا من بلاغ الله إياكم، وحجته عليكم، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بلغ ما أرسل به، وأن أصحابه قد بلغوا ما سمعوا، فبلغوا ما تسمعون، ثلاثة كلهم ضامن على الله حتى يدخل الجنة أو يرجعه بما نال من أجر وغنيمة: فاصل فصل في سبيل الله فهو ضامن على الله حتى يدخله الجنة أو يرجعه بما نال من أجر وغنيمة، ورجل توضأ ثم غدا إلى المسجد فهو ضامن على الله حتى يدخله الجنة أو يرجعه بما نال من أجر وغنيمة، ورجل دخل بيته بسلام، ثم قال: إن في جهنم جسرا له سبع قناطر، على أوسطهن القضاء فيجاء بالعبد حتى إذا انتهى إلى القنطرة الوسطى قيل: ماذا عليك من الدين؟ فيحسبه ثم تلا هذه الآية: {وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً} فيقول: يا رب! على كذا وكذا، فيقول: اقض دينك، فيقول: ما لي شيء، ما أدري ما أقضي به! فيقال: خذوا من حسناته، فما زال يؤخذ من حسناته حتى ما يبقى له من حسنة، فإذا فنيت حسناته فيقال: خذوا من سيئات من يطلبه، فركبوا عليه، قال: فلقد بلغني أن رجالا يجيئون بأمثال الجبال من الحسنات، فلا يزال يؤخذ لمن يطلبهم حتى ما يبقى لهم حسنة، ثم يركب عليهم سيئات من يطلبهم حتى يرد عليهم أمثال الجبال، ثم قال: إياكم والكذب! فإن الكذب يهدي إلى الفجور والفجور يهدي إلى النار، وعليكم بالصدق! فإن الصدق يهدي إلى البر والبر يهدي إلى الجنة، ثم قال: أيها الناس! لأنتم أضل من أهل الجاهلية، إن الله تعالى قد جعل لأحدكم الدينار ينفقه في سبيل الله بسبعمائة دينار، والدرهم بسبعمائة درهم، ثم إنكم صارون 1 تمسكون، أما والله! لقد فتحت الفتوح بسيوف، ما حليتها الذهب والفضة ولكن حليتها العلابي 2 والآنك 3 والحديد. "كر".
তাহকীক: