কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪৪২৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44239” مسند زید بن ثابت “ عبداللہ بن دینار بہرانی کی روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے حضرت ابی بن کعب (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون مندرجہ ذیل ہے۔ امابعد ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے زبان کو دل کا ترجمان بنایا ہے جبکہ دل کو برتن اور نگہبان بنایا ہے، زبان دل کے تابع ہے زبان کو جو حکم دل دیتا ہے وہی کچھ بولتی ہے لیکن جب دل زبان کا طوق بن جاتا ہے اور ۔ کلام آتا ہے تو بات میں اتفاق اور اعتدال ہوتا ہے۔ اور زبان کے لیے غلطی اور پھسلن نہیں ہوتی، اس شخص میں بردباری نہیں رہتی جس کا دل اس کی زبان کے سامنے نہیں ہوتا۔ چنانچہ جب آدمی ۔ کلام اپنی زبان سے چھوڑ دیتا ہے اور اس کا دل اس کی مخالفت بھی کرتا ہے اس کی ناک کاٹ دی جاتی ہے۔ آدمی جب اپنے ۔ کلام کا وزن اپنے فعل سے کرتا ہے تو اس امر کی تصدیق بات کے مختلف مواقع کردیتے ہیں۔ کیا تم نے کسی بخیل کو پایا ہے جو بات کا سخی ہو اور فعل کا احسان کرتا ہو ؟ یہ اس لیے کہ اس کی زبان اس کے دل کے سامنے ہوتی ہے کیا تم کسی ایک آدمی کے پاس شرافت اور مروت پاتے ہو جب وہ اپنے قول کو محفوظ نہ رکھتا ہو۔ پھر وہ اتباع کرتا ہے اور جو بات کہہ دی وہ کہتا رہتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ حق ہے اور اس پر واجب ہے جب اس نے اس کا۔ کلام کیا حالانکہ وہ لوگوں کے عیوب سے واقف نہیں ہوتا بلاشبہ جو شخص لوگوں کے عیوب پر نظر رکھتا ہے اور اپنے عیب کی طرف مطلق توجہ نہیں دیتا وہ ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی شخص ایسے کام میں مشغول ہو جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا والسلام۔ رواہ ابن عساکر
44239- "مسند زيد بن ثابت" عن عبد الله بن دينار البهراني قال: كتب زيد بن ثابت إلى أبي بن كعب: أما بعد! فإن الله قد جعل اللسان ترجمانا للقلب، وجعل القلب وعاء وراعيا، ينقاد له اللسان لما أهداه له القلب، فإذا كان القلب على طوق اللسان جاء الكلام وائتلف القول واعتدل، ولم تكن للسان عترة ولا زلة، ولا حلم لمن لم يكن قلبه من بين يدي لسانه. فإذا ترك الرجل كلامه بلسانه، وخالفه على ذلك قلبه جدع بذلك أنفه، وإذا وزن الرجل كلامه بفعله صدق ذلك مواقع حديثه، يذكر هل وجدت بخيلا إلا هو يجود بالقول ويمن بالفعل، وذلك لأن لسانه بين يدي قلبه، يذكر هل تجد عند أحد شرفا أو مروءة إذا لم يحفظ ما قال، ثم يتبعه ويقول ما قال وهو يعلم أنه حق عليه واجب حين يتكلم به لا يكون بصيرا بعيوب الناس، فإن الذي يبصر عيوب الناس ويهون عليه عيبه كمن يتكلف ما لا يؤمر به - والسلام. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مختلف شخصیات کے متفرق مواعظ کے بیان میں
44240 حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں جب تک تم اپنے بہترین لوگوں سے محبت کرتے رہو گے اس وقت تک تم بھلائی پر قائم رہو گے اور جو حق بات تم سے کہی جائے گی اسے پہچانتے رہو گے بلاشبہ حق کی معرفت رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسا کہ حق پر عمل کرنے والا۔

رواہ البیہقی فی شعب الایمان وابن العساکر
44240- عن أبي الدرداء قال: لن تزالوا بخير ما أحببتم خياركم وما قيل فيكم الحق فعرفتموه، فإن عارف الحق كعامله. "هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالدردائ (رض) کی نصیحتیں
44241 محمد بن واسع کی روایت ہے کہ حضرت ابودرداء (رض) نے حضرت سلمان (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے امابعد ! اے میرے بھائی اپنی صحبت اور فراغت کو بلاء اور آزمائش کے نازل ہونے سے پہلے غنیمت سمجھو جسے دفع کرنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ اے میرے بھائی ! مومن جو کسی آزمائش میں مبتلا ہو اس کی دعا کو غنیمت سمجھو اے بھائی ! مسجد تمہارا گھر ہونا چاہیے بلاشبہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ مسجد ہر پرہیزگار کا گھر ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو راحت و آرام اور پل صراط کو عبور کرنے کی ضمانت دی ہے جو لوگ مساجد کو اپنا گھر بنالیتے ہیں، اے بھائی ! یتیم کو اپنے قریب رکھو اس کے سر پر دست شفقت پھیرو اس پر مہربان رہو اور اسے اپنا کھانا کھلاؤ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے جبکہ آپ (رض) کے پاس ایک آدمی آیا تھا اس نے سنگدلی کی شکایت کی تھی آپ نے فرمایا : یتیم کو اپنے قریب کرو اس سے مہربانی سے پیش آؤ اس کے سر پر دست شفقت پھیرو اسے اپنا کھانا کھلاؤ یہ چیز تمہارے دل کو نرم کردے گی اور تمہاری حاجت براری کرے گی اے بھائی ایسی دنیا کو جمع کرنے سے گریز کرو جس کا تم شکرنہ ادا کرسکو چونکہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو مال دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے دراں حالیکہ اس کا مال اس کے سامنے ہو جب بھی وہ پل صراط کی طرف بڑھے گا اس سے کہا جاوے گا چلتے جاؤ تم نے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا ہے ایک ایسا مالدار بھی لایا جائے گا جس نے مال اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہوگا جب بھی وہ پل صراط کی طرف بڑھے گا اس سے کہا جاوے گا تمہاری ہلاکت تم نے اللہ تعالیٰ کا حق کیوں نہیں ادا کیا۔ اس کے لیے مسلسل ہلاکت و بربادی کی صدا بلند ہوتی رہے گی۔ اے بھائی ! مجھے بتایا گیا ہے کہ تم خادم سے کام لیتے ہو اور میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ غلام کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جب تک کہ اس سے خدمت نہ لی جائے جب وہ خدمت کرتا ہو اس پر حساب واقع ہوجاتا ہے۔ رواہ ابن عساکر
44241- عن محمد بن واسع قال: كتب أبو الدرداء إلى سلمان أما بعد! يا أخي! اغتنم صحتك وفراغك من قبل أن ينزل بك من البلاء ما لا يستطيع أحد من الناس رده، يا أخي! اغتنم دعوة المؤمن المبتلي، ويا أخي! ليكن المسجد بيتك، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المسجد بيت كل تقي، وقد ضمن الله عز وجل لمن كانت المساجد بيوتهم بالروح والراحة والجواز على الصراط إلى رضوان الرب، ويا أخي! أدن اليتيم منك، وامسح رأسه، والطف به، وأطعمه من طعامك، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وجاءه الرجل يشكو إليه قسوة القلب قال: أدن اليتيم منك، والطف، وامسح برأسه، وأطعمه من طعامك، فإن ذلك يلين قلبك، وتدرك حاجتك ويا أخي! إياك أن تجمع من الدنيا ما لا تؤدي شكره! فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يؤتى بصاحب المال الذي أطاع الله فيه وماله بين يديه، كلما تكفأ به الصراط قال له: امض قد أديت حق الله فيه؛ ويجاء بصاحب المال الذي لم يطع الله فيه وماله بين كتفيه، كلما تكفأ به الصراط قال له ماله: ويلك! ألا أديت حق الله في! فما يزال كذلك حتى يدعو بالويل والثبور؛ ويا أخي! إني أنبئت أنك ابتعت خادما، وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: العبد من الله وهو منه ما لم يخدم، فإذا خدم وقع عليه الحساب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالدردائ (رض) کی نصیحتیں
44242 حضرت ابودارداء (رض) فرماتے ہیں مجھے سب سے زیادہ یہ خوف دامن گی رہے کہ جب میں حساب کے لیے کھڑا ہوں گا اور مجھ سے کہا جائے گا : تمہارے پاس جتنا علم تھا اس پر کتنا عمل کیا۔

رواہ ابن عساکر
44242- عن أبي الدرداء قال: إن أخوف ما أخاف إذا وقفت على الحساب أن يقال لي: قد علمت فماذا عملت فيما علمت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالدردائ (رض) کی نصیحتیں
44243 حضرت ابودردائ (رض) فرماتے ہیں جو شخص علم نہ رکھتا ہو اس کے لیے ایک مرتبہ ہلاکت اور جو شخص اپنے علم پر عمل نہ کرتا ہو اس کے لیے سات مرتبہ ہلاکت ہو۔ رواہ ابن عساکر
44243- عن أبي الدرداء قال: ويل للذي لا يعلم مرة! وويل للذي يعلم ولا يعمل سبع مرات. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالدردائ (رض) کی نصیحتیں
44244 حبان بن ابی جبلہ اپنے والد ابی جبلہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوذر اور حضرت ابودردائ (رض) فرماتے ہیں : تم موت کے لیے بچے جنم دیتے رہو ویرانی کے لیے عمارتیں بناتے رہو فنا ہوجانے والی چیز پر حرص کرتے رہو اور باقی رہنے والی چیز کو چھوڑتے رہو خبردار ! تین ناگوار چیزیں بہت اچھی ہیں : موت، مرض، اور فقر۔ رواہ ابن عساکر
44244- عن حبان بن أبي جبلة أن أبي جبلة أن أبا ذر وأبا الدرداء قالا: تلدون للموت، وتعمرون للخراب، وتحرصون على ما يفنى، وتذرون ما يبقى، ألا حبذا المكروهات الثلاث: الموت والمرض والفقر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوالدردائ (رض) کی نصیحتیں
44245 حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : تمہارا دل کسی بھی چیز کی محبت کے لیے جوان تر رہتا ہے گو کہ اس پر بڑھاپا ہی کیوں نہ طاری ہوجائے بجز ان لوگوں کے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے مختص کردیا ہو اور انھیں آخرت کے لیے مقرر کرلیا ہو لیکن یہ بہت تھوڑے لوگ ہیں۔

رواہ ابن عساکر
44245- عن أبي الدرداء قال: لا تزال نفس أحدكم شابة في حب الشيء ولو التفت ترقوتاه من الكبر، إلا الذين امتحن الله قلوبهم للآخرة وقليل ما هم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44246 حضرت ابودارداء (رض) فرماتے ہیں بھلائی صرف دو آدمیوں کے حصے میں ہے ایک وہ جو خاموشی پسند ہو دوسرا وہ بات کرنے والا جو عالم ہو۔
44246- عن أبي الدرداء قال: لا خير في الحياة إلا لأحد رجلين: منصت واع، ومتكلم عالم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44247 عبداللہ بن بسر فرماتے ہیں : متقین سردار ہیں اور علماء قائد ہیں ان کی مجلس عبادت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تم دن رات کے گزرنے پر اپنی عمریں کم کیے جارہے ہو اپنے لیے توشہ تیار رکھو گویا کہ تم آخرت کا سفر باندھ چکے ہو۔ رواہ البیہقی وابن عساکر ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تکمیل النفع 11
44247- عن عبد الله بن بسر قال: المتقون سادة، والعلماء قادة، ومجالستهم عبادة، بل ذلك زيادة، وأنتم بمر الليل والنهار في آجال منقوصة، وأعمال محفوظة، وأعدوا الزاد فكأنكم بالمعاد. "ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44248” مسند ابن عمر (رض) “ ایک گھر والے ایک دوسرے کے پیچھے دوزخ میں جائیں گے حتیٰ کہ ان میں سے کوئی آزاد، غلام اور لونڈی باقی نہیں رہیں گے۔ رواہ الطبرانی عن ابی جحفہ
44248- "مسند ابن عمر" إن أهل البيت يتتابعون في النار حتى ما يبقى منهم حر ولا عبد ولا أمة. "طب - عن أبي جحيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44249 ایک آدمی نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے عرض کیا : اے ابومنذر مجھے وصیت کریں : آپ (رض) نے فرمایا : لا یعنی کاموں میں اپنے آپ کو مشغول کرو اپنے دشمن سے الگ رہو اپنے دوست سے احتراز کرو زندہ رہتے ہوئے صرف اسی چیز پر رشک کرو جس پر مرنے کے بعد کرو گے اس آدمی کی طلب مت کرو جسے تمہاری حاجت براری کی مطلق پروا نہیں۔ رواہ ابن عساکر
44249- عن أبي بن كعب أن رجلا قال له: أوصني يا أبا المنذر قال: لا تعرضن فيها لا يعنيك، واعتزل عدوك، واحترز من صديقك، ولا تغبطن حيا بشيء إلا ما تغبطه به ميتا، ولا تطلب حاجة إلى من لا يبالي أن لا يقضيها لك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44250 حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں : جو شخص روز بروز بھلائی میں ترقی نہیں کرتا بلاشبہ وہ بصیرت کے ساتھ دوزخ کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ رواہ الدینوری وابن عساکر
44250- عن عثمان بن عفان قال: من لم يزدد يوما بيوم خيرا فذلك رجل يتجهز إلى النار على بصيرة. "الدينوري، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھلائی دو آدمیوں میں ہے
44251 حسن کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے لوگوں سے خطاب کرتے حمدوثناء کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو بلاشبہ تقویٰ غنیمت ہے بلاشبہ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو ذلیل کیا اور ایسا عمل کیا جو موت کے بعد کام آنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کے نور سے قبر کی تاریکی کے لیے نور حاصل کرے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ ڈر سے کہیں اللہ تعالیٰ اسے اندھا نہ اٹھائے حالانکہ وہ بصیر تھا۔ دانا آدمی کے لیے جو جوامع الکلم ہی کافی نہیں جبکہ بہرتے کو دور سے پکارا جاتا ہے۔ جان لو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو وہ کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہوتا جس کا نگہبان اللہ ہو وہ اس کے بعد سکی کی امید رکھے گا۔ رواہ الدینوری وابن عساکر
44251- عن الحسن أن عثمان بن عفان خطب الناس، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أيها الناس! اتقوا الله، فإن تقوى غنم، وإن أكيس الكيس من دان نفسه، وعمل لما بعد الموت، واكتسب من نور الله نورا لظلمة القبر، وليخش عبد أن يحشره الله أعمى وقد كان بصيرا، وقد يكفي الحكيم جوامع الكلم والأصم ينادى من مكان بعيد، واعلموا أن من كان الله معه لم يخف شيئا، ومن كان الله عليه فمن يرجو بعده. "الدينوري، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44252” مسند صدیق “ ابوفضل احمد بن ابی فرات ، عبداللہ بن محمد بن یعقوب ، ابواسحاق ابراہیم بن فرات (مکہ میں) محمد بن صالح داری ، سلمہ بن شبیب، سہل بن عاصم، سعد بن یزید بناجی بکرین خنیس عبدالرحمن بن عبدالسمیع کے سلسلہ سند سے حضرت ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ کی طاعت میں لطف اندوز ہوتا ہوا اللہ تعالیٰ اسے طلب رزق سے بےنیاز کردیتے ہیں۔

۔ کلام : معنی میں ہے کہ بکر بن خنیس نے یہ حدیث تابعین سے روایت کی ہے کہ دارقطنی کہتے ہیں یہ حدیث متروک ہے۔
44252- "مسند الصديق" قال أبو الفضل أحمد بن أبي الفرات في جزئه أخبرنا عبد الله بن محمد بن يعقوب أنبأنا أبو إسحاق إبراهيم بن فرات بمكة حدثنا محمد بن صالح الداري حدثنا سلمة بن شبيب حدثنا سهل بن عاصم حدثنا سعد بن يزيد النباجي عن بكر بن خنيس قال: سمعت عبد الرحمن بن عبد السميع يقول: قال أبو بكر الصديق سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما من عبد يجد لذة طاعة الله عز وجل إلا شغله الله عن طلب الرزق" قال في المغني: روى بكر ابن خنيس عن التابعين، قال قط: متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44253 حضرت ابوامامہ (رض) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں سے محبت کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ رواہ ابن عساکر

۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الفعیفۃ 1218 ۔
44253- عن أبي أمامة قال: حببوا الله إلى الناس يحبكم الله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44254” مسند زید بن ابی اوفی “۔ رواہ ابن عساکر

ابوالحسن علی بن مسلم فقیہ، ابوالفتح نصر بن ابراہیم زاہد، ابوالحسن بن عوف ابو علی بن منبر، ابوبکر بن خریم ، ہشام بن عمار ھیثم بن عمران، اسماعیل بن عبیداللہ خولانی کہتے ہیں ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اور امت سودا جو اللہ کی طاعت میں عمل کرتی ہو برابر ہیں۔ اسماعیل نے راوی سے کہا تم جھوٹ بولتے ہو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو امت کے برابر نہیں رکھا۔
44254- "من مسند زيد بن أبي أوفى" "ابن عساكر" أنبأنا أبو الحسن علي بن مسلم الفقيه أنبأنا أبو الفتح نصر بن إبراهيم الزاهد أنبأنا أبو الحسن بن عوف أنبأنا أبو علي بن منير أنبأنا أبو بكر ابن خريم حدثنا هشام بن عمار حدثنا الهيثم بن عمران سمعت إسماعيل ابن عبيد الله الخولاني يقول: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما أنا وأمة سوداء سفعاء الخدين عملت بطاعة الله إلا سواء. فقال له إسماعيل كذبت، لم يجعل الله تعالى لنبيه عدلا من أمة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44255” مسند ابی امامہ “ تم وہی ہو جو بلال (رض) کو ماں کا عیب دیتے ہو قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کتاب نازل کی ہے کسی ایک کو کسی دوسرے پر فضیلت نہیں مگر عمل کے اعتبار سے تم سب تو صاع کے کنارے کی مانند ہو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44255- "مسند أبي أمامة" أنت الذي تعير بلالا بأمه، والذي أنزل الكتاب على محمد! ما لأحد على أحد فضل إلا بعمل، إن أنتم إلا كطف الصاع. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44256 حضرت ابودرداء (رض) نے مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا : امابعد بندہ جب اللہ تعالیٰ کی طاعت میں عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے ، بندہ جب اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کی نظر میں محبوب بنالیتے ہیں۔ جب نافرمانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کی نظر میں مبغوض بنادیتے ہیں۔ رواہ ابن عساکر
44256- عن أبي الدرداء أنه كتب إلى مسلمة بن مخلد: أما بعد! فإن العبد إذا عمل بطاعة الله أحبه الله، فإذا أحبه الله حببه إلى خلقه، وإذا عمل بمعصية الله أبغضه الله، وإذا أبغضه الله بغضه إلى خلقه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔مخصوص مواعظ کے بیان میں جو ترغیبات اور احادی کی شکل میں ہیں
44257” مسند اسد بن کرز “ خالد بن عبداللہ قسری اپنے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے اسد ! کیا تم جنت کو پسند کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : مسلمانوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ رواہ ابن عساکر

یہ حدیث ابن اثیر نے اسدالغابہ میں ذکر کی ہے۔
44257- "مسند أسد بن كرز" عن خالد بن عبد الله القسري حدثني أبي عن جدي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أسد! أتحب الجنة؟ قلت: نعم، قال: فأحب لأحد المسلمين ما تحب لنفسك. "...."
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44258 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہیں عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے یہ دونوں اللہ تعالیٰ نے بہت ساری اقوام کے لیے جمع کیے ہیں۔ رواہ ابن ابی حاتم
44258- عن علي قال: المال والبنون حرث الدنيا، والعمل الصالح حرث الآخرة، وقد يجمعهما الله لأقوام. "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক: