কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪২৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44259 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : بلاشبہ آدمی جب تک دھوکا نہیں کرتا اور گھٹیا پن کو ملاوٹ نہیں کرتا جس کے آگے جھکا رہے جب وہ ید کی جائے کمینے لوگ اس کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں جیسا کہ جوا کھیلنے والا جو اپنے ترکش سے تیر کا منتظر ہوتا ہے یا اللہ کی طرف بلانے والا لیکن جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت بہتر ہے۔ رواہ ابوعبید
44259- عن علي قال: إنما المرء المسلم ما لم يغش دناءة يخشع لها إذا ذكرت، ويغرى به لئام الناس كالياسر الفالج ينتظر فوزه من قداحه، أو داعي الله، فما عند الله خير للأبرار. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44260” مسند ابوہریرہ “ بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے ساٹھ سال تک نماز میں عبادت کی اللہ تعالیٰ اسے ہر روز افطار کے وقت ایک روٹی عطا کرتے جس میں ہر چیز کا ذائقہ ہوتا۔
رواہ الضیاء المقدس
رواہ الضیاء المقدس
44260- "مسند أبي هريرة" إن رجلا من بني إسرائيل تعبد في غار ستين سنة، فأباح الله تعالى له عند كل فطر برغيف فيه طعم كل شيء. "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44261 ۔۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمات ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رب تعالیٰ سے پوچھا : اے میرے رب تیرا کون سا بندہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ حکم ہوا : جو لگوں کے لیے ایسا ہی فیصلہ کرے جیسا کہ اپنے لیے کرتا ہو۔ رواہ ابن جریر۔
44261- عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن موسى قال: يا رب! أي عبادك أحكم، قال: الذي يحكم للناس كما يحكم لنفسه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44262 محمودذ بن لبید انصاری بنت فہد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے بنت فہد حضرت حمزہ کے نکاح میں تھیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سخینہ (آٹے اور گھی سے تیار کیا ہوا کھانا) پکایا لوگوں نے کھانا کھایا، پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیزوں کے متعلق نہ بتاؤں جو خطاؤں کو مٹا دینے والی ہیں۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! ضرور بتائیے ارشاد فرمایا : ناگواریوں کے وقت پورا وضو کرنا نماز کے لیے چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ۔ رواہ سعید بن المنصور
44262- عن محمود بن لبيد الأنصاري عن بنت فهد قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على حمزة بن عبد المطلب وكانت تحته، فصنعت له سخينة، 1 فأكلوا منها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بمكفرات الخطايا! قلت: بلى يا رسول الله! قال: إسباغ الوضوء عند المكاره، والخطى إلى الصلاة، وإنتظار الصلاة بعد الصلاة. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44263 طلحہ بن زیدہ ، موسیٰ بن عبیدہ ، عبداللہ بن دینار کے سلسلہ سند سے حضرت ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے طویل مدت تک اپنے سامنے کھڑا رکھیں گے جس کی وجہ سے بندے کو شدید مصیبت لاحق ہوگی، عرض کرے گا : اے میرے رب ! آج کے دن مجھ پر رحم فرما، حکم ہوگا : کیا تو نے بھی میرے مخلوق میں سے کسی پر رحم کیا ہے جو میں تجھ پر رحم کروں، لاؤ گو ایک چڑیا کیوں نے ہو فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) اور اس امت کے اسلاف چڑیوں کی خریدو فروخت کرکے انھیں آزاد کردیتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر ابن حبان کہتے ہیں : طلحہ بن زید رقی وہوی ہے جسے شامی نے منکر حدیث کہا ہے اس کی مرویات سے احتجاج حلال نہیں، یہ ابو مسکین رقی ہے جس سے بقیہ روایت کرتا ہے امام احمد اور ابن المدینی کہتے ہیں کہ یہ راوی اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ لیتا تھا)
44263- عن طلحة بن زيد عن موسى بن عبيدة عن عبد الله ابن دينار عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن العبد ليقف بين يدي الله فيطول الله وقوفه حتى يصيبه من ذلك كرب شديد، فيقول: يا رب! ارحمني اليوم، فيقول: وهل رحمت شيئا من خلقي من أجلي فأرحمك، هات ولو عصفورا، قال: فكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن مضى من سلف هؤلاء الأمة يتبايعون العصافير فيعتقونها. "كر، وقال حب: طلحة بن زيد الرقي وهو الذي يقال الشامي منكر الحديث، لا يحل الاحتجاج بخبره، وهو أبو مسكين الرقي الذي يروى عنه بقية، فقال أحمد وابن المديني: كان يضع الحديث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44264 ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : نیکی آسان چیز ہے چہرے کی مسکان اور زبان کی نرمی۔
رواہ ابن عساکر
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان 90 ع والجدالحسث 80 ۔
رواہ ابن عساکر
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان 90 ع والجدالحسث 80 ۔
44264- عن ابن عمر قال: البر شيء هين: وجه طليق ولسان لين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال واولاد دنیا کی کھیتی ہیں
44265 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کاغذ پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہو اور وہ کاغذ زمین پر کسی جگہ پڑا ہو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو بھیج دیتے ہیں جو اس کاغذ کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اسے عزت و احترام کے ساتھ رکھتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی ولی کو ادھر بھیجتے ہیں جو اسے زمین سے اٹھالیتا ہے : جو شخص کسی کاغذ کو اٹھاتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہو اللہ تعالیٰ اسے علیین میں اٹھالیتے ہیں اور اس کے والدین سے عذاب کو ہلکا کردیتے ہیں گو وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ والدیلمی وابن الجوزی فی الواھیات
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی 2021 ۔
۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی 2021 ۔
44265- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من كتاب يلقى بمضيعة من الأرض فيه اسم من أسماء الله عز وجل إلا بعث الله عز وجل إليه سبعين ألف ملك يحفونه ويقدسونه حتى يبعث الله إليه وليا من أوليائه فيرفعه من الأرض، ومن رفع كتابا من الأرض فيه اسم من أسماء الله عز وجل رفعه الله في عليين، وخفف عن والديه العذاب وإن كانا مشركين. "ك في تاريخه، والديلمي، وابن الجوزي في الواهيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثنائی
44266 حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا آپ مرض وفات میں تھے۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی (رض) کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا میں نے چاہا کہ حضرت علی کو ہٹا کر ان کی جگہ میں بیٹھ جاؤں میں نے کہا اے ابوالحسن ! میں آپ کو اس جگہ رات سے ٹکا ہوا دیکھ رہا ہوں اگر آپ یہاں سے ہٹ جائیں اور میں آپ کی مدد کروں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑو وہ تمہاری بنسبت اپنی جگہ کے زیادہ حقدار ہے اے حذیفہ میرے قریب ہوجاؤ ! جس شخص نے گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اے حذیفہ ! جس شخص نے کسی مسکین کو اللہ کے لیے کھانا کھلایا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا رسول اللہ ! یہ بشارت میں چھپا لوں یا اسے بیان کروں ؟ ارشاد فرمایا : بلکہ اسے بیان کرو۔ رواہ ابن عساکر
44266- عن حذيفة بن اليمان قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه، فرأيته يتساند إلى علي فأردت أن أنحيه وأجلس مكانه، فقلت: يا أبا الحسن! ما أراك إلا تعبت في ليلتك هذه، فلو تنحيت فأعنتك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعه فهو أحق بمكانه منك؛ ادن مني يا حذيفة! من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله دخل الجنة، يا حذيفة! من أطعم مسكينا لله دخل الجنة، قلت: يا رسول الله! أكتم أم أتحدث به؟ قال: بل تحدث به. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثنائی
44267 عبدالرحمن بن ابی عمرہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے آل محمد ! تم نے صبح کس حال میں کی ہے۔ ارشاد فرمایا : ہم نے خیریت کے ساتھ صبح کی ہے تم نے کسی مریض کی عیادت نہیں کی اور نہ ہی روزے کی حالت میں صبح کی ہے۔ رواہ الدیلمی
44267- عن عبد الرحمن بن أبي عمرة قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: كيف أصبحتم يا آل محمد؟ قال: بخير من قوم لم تعد مريضا ولم تصبح صياما. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثنائی
44268 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! موٹی آنکھوں والی حوروں کا مہر ادا کرو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ان کا مہر کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا اور مسجد سے کوڑے کو نکال دینا اے علی ! حورعین کا یہی مہر ہے۔
رواہ ابن شاھین فی الترغیب وابن النجار والدیلمی
رواہ ابن شاھین فی الترغیب وابن النجار والدیلمی
44268- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! أعط الحور العين مهورهن وصداقهن، قلت: يا رسول الله! وما مهور الحور العين وصداقهن؟ قال: إماطة الأذى، وإخراج القمامة من المسجد، فذلك مهور الحور العين يا علي. "ابن شاهين في الترغيب، وابن النجار، والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44269” مسند صدیق (رض) “ اسماعیل بنی یحییٰ فطر بن خلیفہ، ابوطفیل کے سلسلہ سند سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ استغفار کے وقت تمہیں تمہارے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں جس شخص نے سچی نیت کے ساتھ استغفار کیا اس کی مغفرت ہوجاتی ہے جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کا میزان بھاری ہوجاتا ہے جس نے مجھ پر درود بھیجا قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔
رواہ ابوبکر محمد بن عبدالباقی الانصاری قاضی المارستان فی مشیختہ
رواہ ابوبکر محمد بن عبدالباقی الانصاری قاضی المارستان فی مشیختہ
44269- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن إسماعيل بن يحيى حدثنا فطر بن خليفة عن أبي الطفيل عن أبي بكر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع يقول: إن الله عز وجل وهب لكم ذنوبكم عند الاستغفار، فمن استغفر بنية صادقة غفر له، ومن قال: لا إله إلا الله، رجح ميزانه، ومن صلى علي كنت شفيعه يوم القيامة. "أبو بكر محمد بن عبد الباقي الأنصاري قاضي المارستان في مشيخته".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44270 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں تمہارے اوپر تین چیزیں سفر شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہیں حج عمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ اور یہ کہ آدمی کو چاہیے کہ اپنے فاضل مال سے دوسروں پر خرچ کرے اور صدقہ کرے۔ رواہ عبدالرزاق وابوعبید فی الغریب
44270- كذب 1 عليكم ثلاثة أسفار: كذب عليكم الحج والعمرة والجهاد في سبيل الله، وأن يبتغي الرجل بفضل ماله والمستنفق والمتصدق. "عب، وأبو عبيد في الغريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44271 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : تین چیزیں انبیاء کی سنت اور ان کا اخلاق ہیں افطار میں جلدی کرنا، تاخیر سے سحری کھانا اور نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھنا۔
رواہ ابن شاھین وابو محمد ابراھیم فی کتاب الصلاۃ
رواہ ابن شاھین وابو محمد ابراھیم فی کتاب الصلاۃ
44271- عن علي قال: ثلاثة من أخلاق الأنبياء: تعجيل الإفطار، وتأخير السحور، ووضع الأكف تحت السرة في الصلاة. "ابن شاهين وأبو محمد الإبراهيم في كتاب الصلاة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44272 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مسلمان آدمی کا دل تین چیزوں کے متعلق دھوکا نہیں کھاتا، اللہ کے لیے اخلاص عمل، والیوں اور امیروں کو وعظ و نصیحت اور جماعت مسلمین کے ساتھ چمٹے رہنا چونکہ مسلمانوں کی دعوت انھیں ہر طرف سے گھیرے میں لیے رکھتی ہے۔ رواہ ابن النجار
44272- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث لا يغل عليهن قلب امرئ مسلم: إخلاص العمل لله، ومناصحة ولاة الأمر، ولزوم جماعة المسلمين فإن دعوتهم تحيط من ورائهم. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44273 حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں سے خطاب فرماتے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت کی۔
اعملوا آل داؤد شکرا وقلیل من عبادی الشکور۔
اے آل داؤد (اللہ کا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں بہت تھوڑے شکر کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے تین چیزیں مل جائیں اسے داؤد (علیہ السلام) کی طرح عطا مل گیا ظاہر و باطن میں خشیت خدائے تعالیٰ ، غضب و رضا میں عدل اور فقروغناء میں میانہ روی۔ رواہ ابن النجار
اعملوا آل داؤد شکرا وقلیل من عبادی الشکور۔
اے آل داؤد (اللہ کا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں بہت تھوڑے شکر کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسے تین چیزیں مل جائیں اسے داؤد (علیہ السلام) کی طرح عطا مل گیا ظاہر و باطن میں خشیت خدائے تعالیٰ ، غضب و رضا میں عدل اور فقروغناء میں میانہ روی۔ رواہ ابن النجار
44273- عن أبي ذر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب، فقرأ هذه الآية {اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْراً وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ} ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أوتي ثلاثا فقد أوتي مثل ما أوتي داود: خشية الله في السر والعلانية، والعدل في الغضب والرضاء، والقصد في الفقر والغناء. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44274 حضرت ابوذر (رض) کے بھانجے اھبان (رح) روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے پوچھا : کونسا غلام سب سے افضل ہے ؟ کونسی رات سب سے افضل ہے ؟ کون سا مہینہ سب سے افضل ہے ؟ ابوذر (رض) نے فرمایا : میں نے بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے کیا ہے اور میں تمہیں بھی اسی طرح بتاؤں گا جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا ہے فرمایا کہ سب سے افضل غلام وہ ہے جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو نصف رات سب سے افضل ہے اور محرم کا مہینہ سب سے افضل ہے۔ رواہ ابن النجار
44274- عن أهبان ابن أخت أبي ذر قال: سألت أبا ذر: أي الرقاب أزكى؟ وأي الليل أفضل؟ وأي الشهور أفضل؟ قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم كما سألتني وأخبرك كما أخبرني، قال: أزكى الرقاب أعلاها ثمنا، وأفضل الليل جوف الليل، وأفضل الشهور المحرم. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44275 حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین چیزوں کے متعلق مسلمان کا سینہ دھوکا نہیں کھاتا اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص عمل، جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا اور حکمرانوں کو وعظ و نصیحت۔ رواہ ابن جریر
44275- عن أبي بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث لا يغل عليهن صدر مسلم: إخلاص العمل لله، ولزوم الجماعة، ومناصحة ولاة الأمر فإن دعاءهم يأتي من ورائه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44276 ابن ابی مریم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) حضرت معاذ بن جبل (رض) کے پاس سے گزرے اور فرمایا : اس امت کا مادہ درستگی کیا ہے ؟ حضرت معاذ (رض) نے جواب دیا : وہ تین چیزیں ہیں :
(1) اخلاص یہ فطرۃ اللہ ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (2) نماز اور یہی ملت ہے۔
(3) اور طاعت اور یہی مخلوق سے بیزاری ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا، چنانچہ حضرت عمر (رض) جب گزر گئے تو حضرت معاذ (رض) نے اپنے ہم جلیسوں سے کہا : آپ کا (حضرت عمر کا) انداز لوگوں کے انداز سے بدرجہا بہتر ہے اور آپ کے بعد اختلاف ہوگا اور مادہ درستگی کے حاملین بہت تھوڑے ہوں گے۔ رواہ ابن جریر
(1) اخلاص یہ فطرۃ اللہ ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (2) نماز اور یہی ملت ہے۔
(3) اور طاعت اور یہی مخلوق سے بیزاری ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا، چنانچہ حضرت عمر (رض) جب گزر گئے تو حضرت معاذ (رض) نے اپنے ہم جلیسوں سے کہا : آپ کا (حضرت عمر کا) انداز لوگوں کے انداز سے بدرجہا بہتر ہے اور آپ کے بعد اختلاف ہوگا اور مادہ درستگی کے حاملین بہت تھوڑے ہوں گے۔ رواہ ابن جریر
44276- عن ابن أبي مريم قال: مر عمر بن الخطاب بمعاذ بن جبل فقال: ما قوام هذه الأمة؟ قال معاذ: ثلاث وهن المنجيات: الإخلاص - وهي الفطرة فطرة الله التي فطر الناس عليها، والصلاة - وهي الملة، والطاعة - وهي المعصية؛ فقال عمر: صدقت، فلما جاوزه قال معاذ لجلسائه: أما إن سنيك خير من سنيهم، ويكون بعدك اختلاف، ولن يبقى إلا يسيرا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثلاثی
44277 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تجھے اولین اور آخرین کے عمدہ اخلاق کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ضروربتائیں۔ ارشاد فرمایا : جو تمہیں محروم رکھے اسے تم عطا کرو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو اور جو شخص تم سے قطع تعلقی کرے اس سے صلہ رحمی کرو ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان وابن النجار
44277- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أدلك على خير أخلاق الأولين والآخرين؟ قلت: بلى يا رسول الله، قال: تعطي من حرمك وتعفو عمن ظلمك، وتصل من قطعك. "هب، وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اولین آخرین کی عمدہ اخلاق
44278” مسند عمر بن بکالی “ ابن عساکر کہتے ہیں : راوی کا نسب نہیں بیان کیا گیا، بعض کہتے ہیں : ابن سیف عن عمر بن بکالی، فرمایا : اے لوگو نیک اعمال کرو اور بشارت قبول رکرو تین اعمال ایسے ہیں انھیں جو بھی کرتا ہے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کونسے اعمال ہیں فرمایا : ایک وہ آدمی جو فتنہ میں مبتلا ہو اور پھر فتنے کے آگے سینہ سپر ہوگیا حتیٰ کہ اس کا خون بہہ گیا اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا : ایسا کرنے پر میرے بندے کو کس چیز نے برانگیختہ کیا ہے ؟ فرشتے جواب دیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے اسے ایک چیز کی امید دلائی تھی وہ اس امید پر قائم رہا اور تو نے اسے ایک چیز سے خوفزدہ کیا جس سے وہ خوفزدہ رہا۔ حکم ہوگا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کی امید (جنت) کو واجب کردیا اور جس چیز (دوزخ) سے ڈرتا تھا اس سے اسے بےخوف کردیا۔ ایک وہ آدمی جو گر مگر م آگ اور بستر کو ٹھنڈی رات میں چھوڑ کر وضو کر لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں : اے میرے فرشتو ! اس آدمی کو اس پر کس چیز نے اکسایا ہے ؟ فرشتے جواب دیں گے : اے ہمارے رب تو نے اسے ایک چیز (جنت) کی امید دلائی تھی وہ اس امید پر قائم رہا اور ایک چیز۔ (دوزخ) سے خوفزدہ کیا تھا وہ اس سے خوفزدہ رہا ۔ حکم ہوگا : تم گواہ رہو میں نے اس امید کی چیز (جنت) عطا کیا اور خوف کی چیز (دوزخ) سے اسے مامون کردیا۔ تیسرے وہ لوگ جو ایک جگہ جمع ہوں اور انھیں کوئی آدمی قرآن پڑھ پڑھ کر سناتا ہو اور وہ سن کر روتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے ان لوگوں کو اس عمل پر کس چیز نے اکسایا ہے ؟ فرشتے جواب دیں گے : اے ہمارے رب تو نے انھیں ایک چیز کی امید دلائی تھی وہ اس امید پر قائم رہے اور انھیں ایک چیز سے خوفزدہ کیا تھا وہ اس سے خوفزدہ رہے حکم ہوگا : تم گواہ رہنا میں نے ان کی امید (جنت) کو واجب کردیا اور خوف دلانے والی چیز (دوزخ) سے مامون کردیا۔ رواہ مندہ والبغوی وابن عساکر
44278- "مسند عمر بن البكالي" قال كر: لم ينسب، وقيل: ابن سيف، عن عمر بن البكالي قال: يا أيها الناس! اعملوا وابشروا، فإن فيكم ثلاثة أعمال ليس منهن عمل إلا وهو يوجب لأهله الجنة، قالوا: وما هن؟ قال رجل: يلقى في الفتنة فينصب نحره حتى يهراق دمه، فيقول الله لملائكته: ما حمل عبد على ما صنع؟ يقولون: ربنا رجيته شيئا فرجاه، وخوفته شيئا فخافه، فيقول: فإني أشهد أني أوجبت له ما رجا، وآمنته مما يخاف؛ قال: ورجل يقوم في الليلة الباردة من دفئه وفراشه إلى الوضوء والصلاة فيقول الله لملائكته: ما حمله على ما صنع؟ يقولون: ربنا! أنت أعلم، يقول: أنا أعلم، ولكن أخبروني ما حمله على ما صنع، يقولون: ربنا! رجيته شيئا فرجاه، وخوفته شيئا فخافه، قال: أشهدكم أني قد أوجبت له ما رجا، وآمنته مما يخاف؛ قال: والقوم يكونون جميعا، فيقرأ الرجل عليهم القرآن فيبكون، فيقول الله لملائكته: ما حمل عبادي هؤلاء على ما صنعوا؟ يقولون: ربنا أنت رجيتهم شيئا فرجوه، وخوفتهم شيئا فخافوه، فيقول: إني أشهدكم أني قد أوجبت لهم ما رجوا. وآمنتهم مما خافوا. "ابن منده، والبغوي، كر".
তাহকীক: