কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪৪৩১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیقی (رض) کو نصیحت
44299 مکحول فرماتے ہیں : لوگوں سے اپنی حاجتیں پوری کرانے سے گریز کرو چونکہ یہ فقر ہے لوگوں سے ناامید رہو بلاشبہ یہی غنا ہے ایسا ۔ کلام چھوڑ دو جس پر تمہیں بعد میں معذرت کرنی پڑے، لہٰذا اس کے علاوہ ۔ کلام کرو اور جب نماز پڑھو تو الوداع کیے ہوئے آدمی جیسی نماز پڑھ۔

رواہ ابن عساکر
44299- عن مكحول قال: إياك وطلبات الحوائج من الناس! فإنه فقر حاضر، عليك بالإياس! فإنه الغنى، ودع من الكلام ما يعتذر منه وتكلم بما سواه، وإذا صليت فصل صلاة مودع. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیقی (رض) کو نصیحت
44300 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : تین اعمال بہت سخت ہیں اپنی طرف سے عطائے حق ، ہر حال میں ذکر اللہ اور مالی اعتبار سے بھائی کی غمخواری۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ
44300- عن علي قال: أشد الأعمال ثلاثة: إعطاء الحق من نفسك، وذكر الله على كل حال، ومواساة الأخ في المال. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیقی (رض) کو نصیحت
44301 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت کے عمدہ اخلاق کے متعلق آگاہ نہ کرو ؟ جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو جو تمہیں محروم رکھے اسے عطا کرو اور جو تم سے قطع تعلقی کرے اس سے صلہ رحمی کرو۔ رواہ البخاری ومسلم
44301- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أدلكم على أكرم أخلاق الدنيا والآخرة! تعفو عن من ظلمك، وتعطي من حرمك، وتصل من قطعك. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوبکر صدیقی (رض) کو نصیحت
44302 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جب وہ کسی معاملے کو دیکھے تو بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے، عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو بلاشبہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا سرا ہوتا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ ڈالوگے اگر اسے اپنے حال پر چھوڑ دو گے تو اس میں ٹیڑھا پن بدستور باقی رہے گا لہٰذا عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ رواہ البزار
44302- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فإذا شهد أمرا فليتكلم بخير أو ليسكت استوصوا بالنساء خيرا، فإن المراة خلقت من الضلع، وإن أعوج شيء من الضلع رأسه، إن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته تركته وفيه عوج؛ فاستوصوا بالنساء خيرا. "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44303 حضرت ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ ! مجھے ایک مختصر حدیث سنائیں تاکہ میں اسے یاد کرلوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رخصت کیے ہوئے آدمی کی سی نماز پڑھو گویا تم نے اس کے بعد نماز نہیں پڑھنی اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر فی الواقع تم اسے نہیں دیکھ سکتے وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس ہوجاؤ غنا میں زندگی بسر کرو گے ایسی بات سے گریز کرو جس سے تمہیں بعد میں معذرت کرنی پڑے۔ رواہ العسکری فی الامثال وابن النجار
44303- عن ابن عمر قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: يا رسول الله! حدثني حديثا واجعله موجزا لعلي أعيه، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: صل صلاة مودع كأنك لا تصلي بعد، وأعبد الله كأنك تراه، فإن كنت لا تراه فإنه يراك، وايأس مما في أيدي الناس تعش غنيا، وإياك وما يعتذر منه. "العسكري في الأمثال، وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44304 حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ کسی انسان کو بھی صحت عفت امانت اور فقہ سے بہتر کوئی چیز نہیں عطا کی گئی۔ رواہ ابن عساکر
44304- عن عبد الله بن عمرو قال: ما أعطى إنسان شيئا خيرا من صحة وعفة وأمانة وفقه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44305 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دو گھونٹوں کا پینا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے ایک غصے کا گھونٹ جسے بندہ بردباری اور درگزر کرتے ہوئے پی جاتا ہے دوسرا غم و مصیبت کا گھونٹ جسے بندہ صبر اور اچھے سلوک کے ساتھ پی جاتا ہے، کوئی بندہ بھی دو قدموں سے زیادہ محبوب قدموں میں نہیں چلتا سوائے اس قدم کے جو صلہ رحمی کے لیے اٹھیں اور دوسرے وہ قدم جو کسی فریضہ کی ادائیگی کے لیے اٹھیں۔ رواہ ابن لال فی مکارم الاخلاق
44305- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما جرع عبد جرعتين أحب إلى الله من جرعة غيظ يكظمها بحلم وحسن عفو، وجرعة مصيبة محزنة موجعة ردها بصير وحسن عزاء، وما خطا عبد خطوتين أحب إلى الله منه إلى رحم يصلها، أو إلى فريضة يؤديها. "ابن لال في مكارم الأخلاق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44306 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنت میں کچھ ایسے بالا خانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے دکھائی دیتا ہے، ایک اعرابی بولا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جو عمدہ اور پاکیزہ ۔ کلام کرے سلام پھیلائے کھانا کھلائے اور نماز پڑھے دراں حالیکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ رواہ البیہقی وقال غریب ابویعلی والبزار و عبداللہ بن احمد بن حنبل وابن خزیمہ وقال ان صح کان فی القلب من عبدالرحمن بن اسحاق ولیس ھو بعباد الذی روی عن الزھری ذاک صالح الحدیث والبیہقی فی شعب الایمان والخطیب فی الجامع۔
44306- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن في الجنة غرفا يرى ظهورها من بطونها، فقال أعرابي: لمن هي يا رسول الله؟ قال: لمن طيب الكلام - وفي لفظ: قال: لمن قال طيب الكلام، وأفشي السلام، وأطعم الطعام، وصلى والناس نيام. "ق وقال: غريب؛ ع، بز، عم، وابن خزيمة، وقال: إن صح كان في القلب من عبد الرحمن بن إسحاق، وليس هو بعباد الذي روى عن الزهري، ذاك صالح الحديث، هب، خط في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44307 اے ابوہریرہ (رض) پاکیزہ ۔ کلام کیا کرو کھانا کھلاؤ سلام پھیلاؤ رات کو تہجد پڑھو کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ، تم جنت میں سلامی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ رواہ بقی بن مخلد فی مسندہ و ابونعیم عن مولی الانصاری۔
44307- يا أبا هريرة! أطب الكلام، وأطعم الطعام، وأفش السلام، وتهجد بالليل والناس نيام، تدخل الجنة بسلام. "بقي بن مخلد في مسنده، وأبو نعيم عن مولى الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات رباعی
44308 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مجلس میں تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت علی بن ابی طالب ابوعبیدہ بن جراح عثمان بن عفان ابوبکر عبدالرحمن بن عوف (رض) نمودار ہوئے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان حضرات صحابہ کرام (رض) کو اپنے پاس کھڑے دیکھا تو مسکرا کر فرمایا تم مجھ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، اگر چاہو تو میں ہی تمہیں بتادوں اگر چاہو تو مجھ سے سوال کرلو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : بلکہ آپ ہی بتادیں۔ ارشاد فرمایا : تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو کہ حسن سلوک کا حقدار کون ہے، سو حسن سلوک کا حقدار شریف اور دیندار آدمی ہے تم مجھ سے ضعیفوں کے جہاد کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو ضعیفوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے تم مجھ سے عورت کے جہاد کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو عورت کا جہاد اپنے شوہر کے ساتھ حسن سلوک اور اس کی خدمت ہے تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو کہ رزق کہاں سے آتا ہے سو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کا اسے علم ہی نہیں ہوتا۔ رواہ الحاکم فی تاریخہ وقال غریب المتن والا سناد ورواہ ابن النجار۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی 722 ۔
44308- عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما جالسا بمجلسه فاطلع علي ابن أبي طالب وأبو عبيدة بن الجراح وعثمان وأبو بكر وعبد الرحمن بن عوف، فلما رآهم قد وقفوا عليه تبسم ضاحكا فقال: جئتموني تسألوني عن شيء إن شئتم أعلمكم وإن شئتم فاسألوني، قالوا: بل تخبرنا يا رسول الله! قال: جئتم تسألوني عن الصنائع لمن يحق، لا ينبغي صنيع إلا لذي حسب أو دين، وجئتم تسألوني عن جهاد الضعيفين: الحج والعمرة، وجئتم تسألوني عن جهاد المرأة، إن جهاد المرأة حسن التبعل لزوجها، وجئتم تسألوني عن الأرزاق من أين، أبى الله أن يرزق عبده إلا من حيث لا يعلم. "ك في تاريخه وقال: غريب المتن والإسناد، ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات خماسی
44309 حضرت علی (رض) نے فرمایا : تمہارے اوپر پانچ چیزیں لازم ہیں تو ان کے صول میں تم اپنی سواریوں کو لاغر ہی کیوں نہ کردو بندہ صرف اپنے رب تعالیٰ سے امید رکھے صرف اپنے گناہ سے خوفزدہ ہو جاہل کو حصول علم میں حیاء نہیں کرنی چاہیے عالم کو جو مسئلہ نہ آتا ہو اس کے جواب میں ” لااعلم میں نہیں جانتا “ کہنے میں باق نہیں محسوس کرنی چاہیے جان لو صبر کا مقام ایمان ہے جیسے کہ جسد میں سر کا مقام ہے جب سر نہیں رہتا تو دھڑ کی کوئی وقعت نہیں رہتی اسی طرح جب صبر جاتا رہتا ہے ایمان بھی ختم ہوجاتا ہے۔ رواہ وکیع فی العزر والدینوری و ابونعیم فی الحلیۃ ونصر فی الحجۃ وابن عبدالبر فی العلم والبیہقی فی شعب الایمان وابن عاسکر
44309- عن علي بن أبي طالب قال: عليكم بخمس، لو رحلتم فيهن المطي لأنضيتموهن قبل أن تدركوا مثلهن: لا يرجو عبد إلا ربه، ولا يخافن إلا ذنبه، ولا يستحيى من لا يعلم أن يتعلم، ولا يستحيى عالم إذا سئل عما لا يعلم أن يقول: الله أعلم، واعلموا أن منزلة الصبر من الإيمان كمنزلة الرأس من الجسد، فإذا ذهب الرأس ذهب الجسد، وإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان. "وكيع في الغرر، والدينوري، حل، ونصر في الحجة، وابن عبد البر في العلم، هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات خماسی
44310” مسند خباب بن ارت (رض) “ حضرت خباب بن ارت (رض) کہتے ہیں مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہم پر بھیجا میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے اتنے دور بھیج رہے ہیں اور مجھے آپ کا خوف ہے (کہیں آپ ہم سے جدا نہ ہوجائیں) ارشاد فرمایا : تمہارا خوف کس حد تک پہنچا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں صبح کرتا ہوں اور مجھے گمان نہیں ہوتا کہ آپ شام کرسکیں گے۔ ارشاد فرمایا : اے خباب ! پانچ کام کرلیا کرو تم مجھے دیکھ لو گے اگر نہ کئے تو مجھے نہیں دیکھ سکتے ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ وہ کیا ہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ گو تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے تقدیر پر ایمان رکھو۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! تقدیر پر ایمان رکھنے کا کیا مطلب ہے ارشاد فرمایا : تمہیں علم ہو کہ جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے وہ تم سے چوک نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت ٹل گئی وہ تمہیں نہیں پہنچ سکتی تھی، شراب مت پیو چونکہ شراب کی خطا شاخدار ہوتی ہے درخت کی شاخوں کی طرح اس کی بھی شاخیں نکلتی ہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو گو کہ وہ تمہیں دنیا کی ہر چیز سے نکل جانے کا حکم ہی کیوں نہ دیں جماعت کے ساتھ چمٹے رہو چونکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اے خباب ! اگر تم نے مجھے قیامت کے دن دیکھ لیا گویا تم مجھ سے جدا نہیں ہوئے۔ رواہ الطبرانی
44310- "مسند خباب بن الأرت" بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم مبعثا فقلت: يا رسول الله! إنك بعثتني بعيدا وأنا أشفق عليك، قال: وما بلغ من شفقتك؟ قلت: أصبح فلا أظنك تمسي، وأمسي فلا أظنك تصبح، قال: يا خباب! خمس إن فعلت بهن رأيتني، وإن لم تفعل بهن لم ترني، فقلت: يا رسول الله! وما هن؟ قال: تعبد الله ولا تشرك به شيئا وإن قطعت وحرقت، وتؤمن بالقدر، قلت يا رسول الله! وما الإيمان بالقدر؟ قال: تعلم ما أصابك لم يكن ليخطئك، وما أخطأك لم يكن ليصيبك، ولا تشرب الخمر، فإن خطيئتها تفرع الخطايا كما أن شجرتها تعلو الشجر، وبر والديك وإن أمراك أن تخرج من كل شيء من الدنيا، وتعتصم بحبل الجماعة فإن يد الله على الجماعة، يا خباب! إنك إن رأيتني يوم القيامة لم تفارقني. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات خماسی
44311 خباب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہیں جنت میں داخل کردے ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : جی ھاں ارشاد فرمایا تلوار کا وار مہمان کو کھانا کھلانا نمازوں کا وقت پر اہتمام ٹھنڈی رات میں پورا وضو کرنا اور اپنی ضرورت کے وقت دوسروں کو کھانا کھلانا۔ رواہ ابن عساکر۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 3153 ۔
44311- عن خباب عن أبي هريرة: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ألا أحدثكم بما يدخل الجنة؟ قالوا: بلى: قال: ضرب بالسيف، وطعام الضيف، واهتمام بمواقيت الصلاة، وإسباغ الطهور في الليلة القرة، وإطعام الطعام على حبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44312 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کلمات کو کون حاصل کرے گا پس جو ان پر عمل کرے یا کسی عمل کرنے والے کو سکھادے ؟ میں نے عرض کیا : اس کام کے لیے میں تیار ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ کا ہندسہ بنا کر فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہو لوگوں میں سب سے زیادہ غنی ہوجاؤ گے اپنے پڑوسیوں سے حسن سلو کرو بےخوف ہوجاؤ گے لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو مسلمان ہوجاؤ گے کثرت سے مت ہنسو چونکہ کثرت ہنسی دلوں کو مردہ کردیتی ہے۔ رواہ الدارقطنی فی الافراد
44312- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يأخذ هؤلاء الكلمات فيعمل بهن أو يعلمهن من يعمل بهن؟ قلت: أنا، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم فعقد فيها خمسا: اتق المحارم تكن أعبد الناس، وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس، واحسن إلى جارك تكن مؤمنا، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما، ولا تكثر الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب. "قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44313” مسند ابوہریرہ “ اے ابوہریرہ ! فرائض ادا کرتے رہو تب تم عابد بن جاؤ گے ، حرام کردہ اشیاء سے اجتناب کرو تب تم عالم ہوجاؤ گے، لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سلامی میں ہوجاؤ گے جو تمہاری ساتھ زیادتی کرے اس کے ساتھ حسن سلوک کرو مامون ہوجاؤ گے ہنسی کم کرو چونکہ کثرت سے ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے۔ رواہ الدارقطنی فی الافراد عن ابوہریرہ
44313- "مسند أبي هريرة" يا أبا هريرة! أد الفرائض فإذا أنت عابد، واجتنب المحارم فإذا أنت عالم، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما، وأحسن جوار من جاورك تكن مؤمنا، وأقل الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب. "قط في الأفراد - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44314 مسند ابوہریرہ (رض) اے ابوہریرہ ! اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہو بےنیاز ہوجاؤ گے تقویٰ اختیار کرو لوگوں میں عبادت گزار بن جاؤ گے، لوگوں کے لیے بھی وہی کچھ پسند کرو جو کچھ اپنے لیے پسند کرتے ہو مومن ہوجاؤ گے، اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو سلامتی میں رہو گے کثرت ہنسی سے گریز کرو چونکہ کثیر ہنسی دلوں کو مردہ کردیتی ہے قہقہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور تبسم خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط وابن صصری فی امالیہ عن ابوہریرہ
44314- "مسند أبي هريرة" يا أبا هريرة! ارض بقسم الله تكن أغنى الناس، وكن ورعا تكن أعبد الناس، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مؤمنا، وأحسن جوار من جاورك تكن مسلما، وإياك وكثرة الضحك! فإنها تميت القلب، والقهقهة من الشيطان والتبسم من الله. "طس، ابن صصرى في أماليه - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44315” مسند ابوہریرہ “ اے ابوہریرہ ! ورع اختیار کرو عبادت گزار بن جاؤ گے قناعت اختیار کرو شکر گزار بندے بن جاؤ گے لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو کچھ اپنے لیے پسند کرتے ہو مومن ہوجاؤ گے اپنے پڑوسی میں اپنے دلوں سے حسن سلوک کرو سلامتی میں ہوجاؤ گے کم ہنسو چونکہ زیادہ ہنسنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44315- "مسند أبي هريرة" يا أبا هريرة! كن ورعا تكن أعبد الناس، وكن قنعا تكن أشكر الناس، وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مؤمنا، وأحسن مجاورة من جاورك تكن مسلما، وأقل الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44316 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ! اے ابوہریرہ ! ورع اختیار کرو عبادت گزار بن جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہو بےنیاز ہوجاؤ گے مسلمانوں اور مومنوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی کچھ ناپسند کرو جو کچھ اپنے لیے ناپسند کرتے ہو بےخوف ہوجاؤ گے، اپنے پڑوس والوں سے حسن سلوک کرو سلامتی میں ہوجاؤ گے زیادہ ہنسنے سے گریز کرو چونکہ زیادہ ہنسی دل کا فساد ہے۔ رواہ ابن ماجہ
44316- عن أبي هريرة: يا أبا هريرة! كن ورعا تكن من أعبد الناس، وارض بما قسم الله لك تكن من أغنى الناس، وأحب للمسلمين والمؤمنين ما تحب لنفسك وأهل بيتك واكره لهم ما تكره لنفسك وأهل بيتك تكن مؤمنا، وجاور من جاورك بإحسان تكن مسلما، وإياك وكثرة الضحك! فإن كثرة الضحك فساد القلب. "هـ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ اعمال کا اہتمام
44317 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جسے پانچ چیزیں الہام کی گئیں وہ پانچ چیزوں سے محروم نہیں ہوتا : جسے توبہ الہام کی جائے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ الآیۃ اللہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا۔ جسے شکر کی توفیق مل جائے وہ عطائے فرید کے بغیر نہیں رہتا چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ لان شکرتم لازیدنکم اگر تم شکر ادا کرو تو میں تمہیں زیادہ دوں گا جسے استغفار کی توفیق مل جائے وہ استغفار سے محروم نہیں ہوتا چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ استغفرو ربکم انہ کان غفارا الایۃ۔ اپنے رب سے بخشش مانگو وہ بخشنے والا ہے۔ جسے خرچ کرنے کی توفیق مل جائے وہ اپنے بعد ذکر خیر سے محروم نہیں رہتا چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ، تم جو چیز بھی خرچ کرو گے وہ اپنا بدلہ ضروردے گی۔ رواہ ابن النجار الضیاء المقدسی
44317- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ألهم خمسة لم يحرم خمسة: من ألهم التوبة لم يحرم القبول، لأن الله عز وجل يقول: {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} ومن ألهم الشكر لم يحرم الزيادة لأن الله تعالى يقول: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} ومن ألهم الاستغفار لم يحرم الاستغفار، لأن الله تعالى يقول: {اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً} ومن ألهم النفقة لم يحرم الخلف، لأن الله تعالى يقول: {وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ} . "ابن النجار، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات سداسی
44318 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مجھ سے فرمایا : تمہارے اوپر ایمان کی خصلتیں لازم ہیں (جو یہ ہیں) شدید گرمی میں روزہ دشمنوں کو تلوار سے مارنا بارش کے دن نماز میں جلدی کرنا دوسرے دن پورا وضو کرنا مصیبتوں پر صبر اور روغۃ الخبال کا ترک کرنا میں نے پوچھا : ردغۃ الخبال کیا ہے ؟ فرمایا : شراب۔ رواہ ابن سعد والبیہقی فی شعب الایمان۔
44318- عن ابن عمر قال لي عمر: عليك بخصال الإيمان: الصوم في شدة الصيف، وضرب الأعداء بالسيف، وتعجيل الصلاة في يوم الغيم، وإبلاغ الوضوء في اليوم الثاني، والصبر على المصيبات، وترك ردغة الخبال، قلت: وما ردغة الخبال؟ قال الخمر. "ابن سعد، هب".
tahqiq

তাহকীক: