কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪৪৩৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات سباعی
44319 حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں (دنیا کے معاملہ میں) اپنے نیچے والوں کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والوں کو نہ دیکھوں، یہ کہ مساکین سے محبت کروں اور انھیں اپنے قریب کروں یہ کہ صلہ رحمی کروں گو کہ رشتہ دار مجھ سے قطع تعلقی کریں میں حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو، یہ کہ اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈروں کسی سے نہ مانگوں یہ کہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد زیادہ سے زیادہ کروں چونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ رواہ الرویانی و ابونعیم
44319- عن أبي ذر قال: أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم أن أنظر إلى من هو أسفل مني ولا أنظر إلى من هو فوقي، وأن أحب المساكين وأن أدنو منهم، وأن أصل رحمي وإن قطعوني وجفوني، وأن أقول الحق وإن كان مرا، وأن لا أخاف في الله لومة لائم، وأن لا أسأل أحدا شيئا، وأن أستكثر من لا حول ولا قوة إلا بالله، فإنها من كنز الجنة. "الروياني، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات سباعی
44320” ایضاً “ میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سات چیزوں کی وصیت کی ہے مسکینوں سے محبت کرنے کی یہ کہ میں ان کے قریب رہوں یہ کہ میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر والوں کو نہ دیکھوں یہ کہ میں صلہ رحمی کروں گو کہ میرے رشتہ دار مجھ سے جفا ہی کیوں نہ کریں یہ کہ میں زیادہ سیزیادہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد کروں، میں حق بات کہو اگرچہ کڑوا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی رورعایت نہ رکھوں اور یہ کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ رواہ الطبرانی عن ابی ذر
44320- "أيضا" أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بسبع: بحب المساكين وأن أدنو منهم، وأن أنظر إلى من هو أسفل مني ولا أنظر إلى من هو فوقي، وأن أصل رحمي وإن جفاني، وأن أكثر من لا حول ولا قوة إلا بالله، وأن أتكلم بمر الحق ولا يأخذني في الله لومة لائم، وأن لا أسأل الناس شيئا. "طب - عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات سباعی
44321” مسند انس “ قتادہ حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم صبح صبح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (رض) نے ہمیں خبر دی کہ گزشتہ رات میرے رب کا انتہائی اچھی صورت میں خواب میں دیدار ہوا رب تعالیٰ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ مبارک رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر مجھے ہر چیز کا علم عطا کیا، حکم ہوا، اے محمد ! میں نے عرض کیا : لبیک ! حکم ہوا ! کیا تم جانتے ہو کہ ملا اعلیٰ کس معاملہ پر جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : اے میرے رب جی ہاں کفارات اور درجات پر جھگڑا رہے ہیں۔ حکم ہوا کفارات کیا ہیں میں نے جواب دیا : سلام پھیلانا، کھانا کھلانا، صلہ رحمی کرنا، لوگوں کے سوتے ہوئے نماز پڑھنا حکم ہوا درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا ناگواریوں کے عالم میں پورا وضو کرنا جماعت میں حاضر ہونے کے لیے پیادہ یا چلنا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا حکم ہوا کہ تم نے سچ کہا۔ رواہ ابن عساکر واخرجہ الترمذی فی کتاب التفسیر رقم 3287 ۔
44321- "مسند أنس" عن قتادة عن أنس قال: أصبحنا يوما فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرنا، قال: أتاني ربي البارحة في منامي في أحسن صورة حتى وضع يده بين كتفي فوجدت بردها بين ثديي فعلمني كل شيء، فقال: يا محمد! قلت: لبيك وسعديك! قال:هل تدري فيما اختصم الملا الاعلى قلت : نعم يا رب في الكفارات والدرجات ، قال : فما الكفارات ؟ قلت : إنشاء السلام ، وإطعام الطعام ، وصلة الارحام ، والصلاة والناس نيام ، قال : فما الدرجات ؟ قلت : إسباغ الطهور في المكروهات ومشي على الاقدام إلى الجماعات ،وانتظار الصلاة بعد الصلاة ، قال : صدقت (كر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات سباعی
44322 ۔۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس رات مجھے آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا تو میں اپنے رب کی طرف صرف دو کمان یا اس سے بھی قریب تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے احمد، فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں میں نے کہا درجات اور کفارات کے بارے میں، (اور آگے طویل حدیث ہے) رواہ ابن النجار۔
(44322 -) عن ابن عمر قال قال رسول الله ص : ليلة عرج بي كنت من ربي كقاب قوسين أو أدني فقال : يا أحمد ! فيما يختصم الملا الاعلى ؟ فقلت : في الدرجات والكفارات ، قال - وذكر الحديث بطوله (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترغیبات ثمانی
44323 عبدالرحمن بن عائش حضرمی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی کسی کہنے والے نے کہا : آج صبح میں آپ کتنا بارونق چہرہ دیکھ رہا ہوں فرمایا : مجھے کیا ہے میں نے توراۃ کو اپنے رب تعالیٰ کو زیادہ اچھی صورت میں دیکھا ہے۔ مجھ سے فرمایا اے محمد ! ملا اعلی (آسمانوں کی مخلوق) کس معاملہ میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ہوں رب تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے کاندھوں کے درمیان رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں پائی مجھے زمین و آسمان کا عمل مل گیا پھر یہ آیت تلاوت کی : وکذالک تری ابراھیم ملکوت السموات والارض ولیکون من الموقنین، اسی طرح تو ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھاتا ہے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔ پھر حکم ہوا : اے محمد ! ملا اعلی کسی معاملہ میں جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا : کفارات میں، حکم ہوا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : پیادہ پاجماعت کے لیے حاضر ہونا نمازوں کے بعدمساجد میں بیٹھے رہنا ناگواری کے وقت پوری طرح وضو کرنا جو شخص بھی ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنی خطاؤں سے ایسا پاک ہوگا جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا درجات یہ ہیں : کھانا کھلانا سلام پھیلانا رات کو لوگوں کو سوئے ہوئے چھوڑ کر نماز پڑھنا، اے محمد ! سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا میں نے عرض کیا : میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور بری باتوں کو چھوڑنے کا سوال کرتا ہوں اور مسکینوں کی محبت کا سوال کرتا ہوں یہ کہ تو میری مغفرت کرے اور میری توبہ قبول فرمائے اگر کسی قوم کو مبتلائے فتنہ کرنے کا تیرا ارادہ ہو تو مجھے وفات دے دینا دراں حالیکہ میں فتنہ میں نہ پڑوں، پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ چیز ں سیکھ لو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ چیزیں حق ہیں۔ رواہ ابن مندہ والبغوی والبیہقی وابن عساکر
44323- عن عبد الرحمن بن عائش الحضرمي قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة فقال قائل: ما رأيت أسفر وجها منك الغداة! فقال: ما لي وقد رأيت ربي الليلة في أحسن صورة، فقال لي يا محمد! فيما يختصم الملأ الأعلى؟ قلت: لا أعلم، فوضع كفه بين كتفي، فوجدت بردها بين ثديي، فعلمت ما في السماوات وما في الأرض، ثم تلا: {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ والارض وليكون من الموقنين) ثم قال : فيما يختصم الملا الاعلى يا محمد ؟ قلت : في الكفارات يا رب ! قال : وما هن ؟ قلت : المشي على الاقدام إلى الجماعات ، والجلوس في المساجد خلف الصلوات ، وإبلاغ الوضوء أماكنه في المكاره ، من يفعل ذلك يعش بخير ويمت بخير ، ويكن من خطيئته كيوم ولدته أمه ، ومن الدرجات إطعام الطعام ، وبذل السلام ، وأن تقوم بالليل والناس نيام ، ثم قال : قل يا محمد واشفع تشفع ، وسل تعطه ، قلت : إني أسألك الطيبات ، وترك المنكرات وحب المساكين ، وأن تغفر لي وتتوب علي ، وإن أردت بقوم فتنة فتوفني وأنا غير مفتون. ثم قال رسول الله ص تعلموهن ، فو الذي نفسي بيده ! إنهن لحق (ابن منده ، والبغوي ، ق ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44324 ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خشک ٹہنی ہلائی اور اس سے ورق گرنے لگے : پھر آپ (رض) نے فرمایا : لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر، والحمدللہ سبحان اللہ گناہوں کو اس طرح ختم کرتے ہیں جس طرح اس ٹہنی سے ورق گرے ہیں اے ابودرداء ان کلمات کو مضبوطی سے پکڑ لو قبل اس کے کہ تمہارے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل ہوجائے۔ بلاشبہ یہ باقیات صالحات میں سے ہیں، اور یہ جنت کا خزانہ ہیں، ابوسلمہ کہتے ہیں : حضرت ابودرداء (رض) جب بھی حدیث بیان کرتے تو فرماتے بخدا ! میں اللہ کی تہلیل کرتا رہوں گا اللہ کی تکبیر بیان کرتا رہوں گا اس کی تسبیح کرتا رہوں گا حتیٰ کہ جب کوئی جاہل مجھے دیکھے تو وہ سمجھے کہ میں کوئی مجنون ہوں۔ رواہ ابن عساکر
44324- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فأخذ عودا يابسا فخط ورقة ثم قال: إن قول: لا إله إلا الله، والله أكبر، والحمد لله، وسبحان الله، يحط الخطايا كما تحط ورق هذه الشجرة، خذهن يا أبا الدرداء قبل أن يحال بينك وبينهن، فإنهن الباقيات الصالحات، وهن من كنوز الجنة. قال أبو سلمة : فكان أبو الدرداء إذا ذكر هذا الحديث قال : لاهللن الله ولاكبرن الله ، ولاسبحن الله ، حتى إذا رآني جاهل حسب أني مجنون (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44325” مسند ابوہریرہ “ اے ابوہریرہ ! کہو ، سبحان اللہ والحمدللہ، ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر یہ باقیات صالحات ہیں عرض کیا : یارسول اللہ، یہ سب اللہ کے لیے ہے اس میں سے میرے لیے کچھ بھی نہیں فرمایا کہو : اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارشدنی وارزقنی (اے اللہ میری مغفرت کر، مجھ پر رحم فرما، مجھے رشد و ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا کر) پانچ چیزیں تمہارے لیے ہیں جبکہ چار چیزیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ رواہ ابن عساکر
(44325 -) (مسند أبي هريرة) يا أبا هريرة ! قل : سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، فانهن الباقيات الصالحات ، قال : يا رسول الله ! هذا كله له ، ليس لي منه شئ ، قال قل : اللهم اغفر لي ، وارحمني ، واهدني ، وأرشدني ، وارزقني ، خمسة لك وأربعة لله عزوجل (ابن عساكر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44326 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنی جنت کو لے لو ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! حاضر دشمن سے ! فرمایا نہیں بلکہ اپنی جنت کو دوزخ سے جدا کرلو اور کہو۔ سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر بلاشبہ یہ کلمات قیامت کے دن مقدمات معقبات اور نجات دہندہ بن کر آئیں گے اور یہی باقیامت صالحات ہیں۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان وابن النجار
(44326 -) عن أبي هريرة قال قال رسول الله ص : خذوا جنتكم ، قلنا : يا رسول الله ! من عدو حضر ! قال : لا ، جنتكم من النار ، قولوا سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، فانهن يأتين يوم القيامة مقدمات ومعقبات ومجنبات وهي

الباقيات الصالحات (طس ، ك ، هب ، وابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44327” مسند علی (رض) “ ربیع بن انس ایک آدمی سے حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مالدار لوگ سب کا سب اجر وثواب لوٹ لے گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا صدقہ نہ بتاؤں جو روئے زمین پر ہر صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے افضل ہو، اس جیسا ثواب وہی پاسکتا ہے جو اس جیسا عمل کرے گا، وہ یہ کہ تم صبح کی نماز کے بعد دس مرتبہ یہ کلمات کہو لا الہ الا اللہ وحد ، لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شیء قدیر، عصر کی نماز کے بعد بھی یہی کلمات کہو اور ہر نماز کے بعد پچیس (25) مرتبہ یہ کلمات کہو، سبحان اللہ ولحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ملء السموات والارض وما فیھن، یوں اس طرح یہ ہر روز پانچ سو تسبیحات ہوجائیں، میزان میں یہ پانچ ہزار کے برابر ہوں گی یہ باقیات صالحات ہیں، اور یہ ایسے کلمات ہیں کہ ان کے برابر کوئی کلمہ نہیں ہے چنانچہ الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے، سبحان اللہ نصف میزان بھر دیتا ہے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر آسمانوں اور ان کے بیچ کے مقام کو بھر دیتا ہے۔ رواہ ابن مردویہ
(44327 -) (مسند علي) عن الربيع بن أنس عن رجل عن علي أن قال : يا رسول الله ! ذهب أرباب الدثور بالاجور ! قال : يا علي ! أفلا أدلك على صدقة هي أفضل من صدقة كل مصدق في سائر الارض ، لا يدرك ذلك إلا من عمل مثلها ، أن نقول بعد صلاة الغداة عشر مرات : لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو كل شئ قدير ، وبعد صلاة العصر مثل ذلك ، وتقول في دبر كل صلاة مكتوبة خمسا وعشرين مرة : سبحان الله والحمد الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ملء السماوات والارض وما فيهن ، فذك خمسمائة تسبيحة تسبحهن كل يوم ، وهي في الميزان خمسة آلاف ، وهي الباقيات الصالحات ، وهي التي ليس لهن من المقول عدل ، الحمد لله ملء الميزان ، وسبحان الله نصف الميزان ولا إله إلا الله والله أكبر ملء السماوات وما فيهن (ابن مردويه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44328” ایضاً “ بشیر بن نمیر، حسن بن ضمیرہ اپنے والد اور دادا کی سند سے حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ کلمات باقیات صالحات ہیں، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و سبحان اللہ والحمد للہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ، جو شخص ان کلمات کو پانچ مرتبہ کہے گا اللہ تعالیٰ اسے پانچ مسلسلات عطا فرماتے ہیں جو یہ ہیں۔ اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی وارشدنی وارزقنی، اے اللہ میری مغفرت فرما۔ جھ پر رحم کر مجھے رشد و ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما۔ رواہ ابن مردویہ قال فی المغنی بشیر ابن نمیر متروک و حسین بن عبداللہ ضمیرۃ واہ جدا۔ کلام : حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں بشیر بن نمیر متروک راوی ہے اور حسین بن عبداللہ بن ضمیری بہت ضعیف راوی ہے۔
(44328 -) (أيضا) عن بشر بن نمير عن حسن بن عبد الله ابن ضميرة عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب أن رسول الله ص قال : الباقيات الصالحات من قال : لا إله إلا الله ، والله أكبر وسبحان الله ، والحمد لله ، ولا حول ولا قوة إلا بالله ، من قالهن خمس مرات أعطاه الله خمس مسلسلات : اللهم اغفر لي ، وارحمني ، واهدني ، وأرشدني ، وارزقني (ابن مردويه ، قال في المغني : بشير ابن نمير مترك ، حسين بن عبد الله بن ضميرة واه جدا).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باقیات صالحات
44329” مسندانس “ کثیر بن سلیم حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہم جلیسوں سے فرمایا : اپنی جنت کو لے لو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا دشمن حاضر ہوچکا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اپنی جنت کو دوزخ سے الگ کرلو اور کہو : سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ کلمات مقدمات اور نجات دہندہ ہیں اور یہی باقیات صالحات ہیں۔ رواہ ابن النجار۔ فائدہ : باقیات صالحات سے مراد ایسے اعمال جو آدمی کے مرجانے کے بعد پیچھے رہ جائیں اور اسے ثواب پہنچائیں۔
(44329 -) (مسند أنس) عن كثير بن مسلم قال سمعت أنس ابن مالك يقول : قال نبي الله ص لجلسائه ذات يوم : خذوا جنتكم قالوا : نبي الله ! أحضر عدو ؟ قال : خذوا جنتكم من النار يقول : سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ولا حول ولا قوة إلا بالله ، فانها المقدمات المنجيات ، وهي المعقبات ، وهي الباقيات الصالحات (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44330 عمرو بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت حسین بن علی بن ابی طالب (رض) نے ذریح بن سنہ ابوقیس سے فرمایا کیا تمہارے لیے حلال ہے کہ تم قیس اور لبنی کے درمیان فرقت ڈالو ؟ خبردار ! میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ مجھے کیا لگا کہ میں کسی مرد اور اس کی بیوی کے درمیان فرقت ڈالوں یا میں تلوار لے کر ان کی طرف چلوں۔ رواہ ابوالفرج الاصبھانی ووکیع فی الغرر
44330- عن عمرو بن دينار قال قال الحسين بن علي بن أبي طالب لذريح بن سنة أبي قيس: أحل لك أن فرقت بين قيس ولبنى؟ أما! إني سمعت عمر ابن الخطاب يقول: ما أبالي أفرقت بين الرجل وامرأته أم مشيت إليهما بالسيف. "أبو الفرج الأصبهاني، ووكيع في الغرر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44331 نعمان بن بشیر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے، اچانک ایک آدمی نے اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوئے قدموں کی چاپ سنائی ایک دوسرے آدمی نے اپنے ترکش سے تیر نکالا پہلا آدمی گھبرا کر متنبہ ہوگیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔
44331- عن النعمان بن بشير قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسير له إذ خفق رجل على راحلته، فأخذ رجل من كنانته سهما، فانتبه الرجل مذعورا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمسلم أن يروع مسلما. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44332 مجاہد کی روایت ہے کہ میں نے مہینہ بھر حضرت ابن عباس (رض) کے پاس ایک آدمی کھڑا ہوا دیکھا جو ان سے یہ مسئلہ پوچھتا : اس آدمی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو دن کو روزے رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو لیکن جمعہ اور جماعت میں حاضر نہ ہوتا ہو اس کا ٹھکانا کہاں ہوگا ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ! وہ دوزخ میں ہے۔ رواہ عبدالرزاق
44332- عن مجاهد قال: شهدت رجلا أقام عند ابن عباس شهرا يسأله عن هذه المسألة كل يوم: ما تقول في رجل يصوم النهار ويقوم الليل، لا يشهد جمعة ولا جماعة، أين هو؟ قال في النار. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44333 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوپایوں کو ایک دوسرے پر برانگیختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن النجار۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد و ضعیف الترمذی 287 ۔
44333- عن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهائم. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44334 ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جہاں تک ہوسکے شر سے دور بھاگو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44334- عن ابن عمر قال: فروا من الشر ما استطعتم. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ترھیبات کے بیان میں ترھبیات احادیث
44335 حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میں اپنی کنکھیوں سے ایک آدمی کو فارغ دیکھ رہا ہوں نہ وہ دنیا کے امور میں حصہ لیتا ہے اور نہ ہی آخرت کے امور سے اسے کوئی دلچسپی ہے۔ رواہ عبدالرزاق
44335- عن ابن مسعود قال: إني لأمقت الرجل أراه فارغا لا في أمر دنيا ولا في أمر آخرة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثنائی
44336 معمر، قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص نے کوئی بدعت جاری کی یا کسی بدعتی کو ٹھکانا دیا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں کی طرف سے لعنت ہو۔ معمر کہتے ہیں : جعفر بن محمد نقل کرتے ہیں کہ کہا گیا : یارسول اللہ ! بدعت کیا ہے ارشاد فرمایا : جسے بغیر حد کے کوڑے لگائے جائیں یا بغیر حق کے قتل کردیا جائے۔ رواہ عبدالرزاق
44336- عن معمر عن قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. قال معمر: وقال جعفر بن محمد: قيل: يا رسول الله! ما الحدث؟ قال: من جلد بغير حد أو قتل بغير حق. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44337 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین آدمیوں پر لعنت بھیجی ہے، ایک وہ شخص جو سکی قوم کی امامت کراتا ہے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسری وہ عورت جو رات گزارے جبکہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور تیسرا وہ شخص جو حی علی الصلوٰۃ سنے اور اس کا جواب نہ دے۔ رواہ ابن النجار۔ کلام : حدیث موضوع ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 40 و ترتیب الموضوعات 473 ۔
44337- عن أنس قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة: رجل أم قوما وهم له كارهون، وامرأة بات زوجها عليها ساخطا، ورجل سمع حي على الصلاة ولم يجب. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44338 زیاد بن حدیر کہتے ہیں : مجھے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز منھدم کردیتی ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : عالم کا پھسل جانا منافق کا کتاب کے ساتھ جھگڑا اور گمراہ حکمرانوں کا فیصلہ اسلام کو منہدم کردیتا ہے۔ رواہ الدارمی
44338- عن زياد بن حدير قال قال لي عمر بن الخطاب: هل تعرف ما يهدم الإسلام؟ قلت: لا، قال: يهدمه زلة العالم وجدال المنافق بالكتاب، وحكم الأئمة المضلين. "الدارمي".
tahqiq

তাহকীক: