কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪৩৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44339 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تین اشخاص بدترین ہیں، ایک وہ شخص جو اپنے والدین پر تکبر کرتا ہو اور انھیں حقیر سمجھتا ہو ، دوسرا وہ شخص جو میاں بیوی کے درمیان فساد پھیلائے بیوی کے خلاف شوہر کی ناحق مدد کرتا ہو حتیٰ کہ ان کے درمیان فرقت ڈال دے تیسرا وہ شخص جو لوگوں کے درمیان فساد پھیلانے میں مصروف عمل ہوا اور جھوٹ سے کام لیتا ہو حتیٰ کہ لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں اور ایک دوسرے سے بغض بھی کرنے لگیں۔ رواہ ابن راھویہ
44339- عن ابن عباس قال قال عمر: شر الناس ثلاثة: متكبر على والديه يحقرهما، ورجل سعى في فساد بين رجل وامرأته ينصره عليها غير الحق حتى فرق بينهما ثم خلف بعده، ورجل سعى في فساد بين الناس بالكذب حتى يتعادوا ويتباغضوا. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44340 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : آدمی کو گمراہی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے ہم جلیس کو لا یعنی باتوں سے اذیت پہنچائے اور لوگوں کے سامنے ایسی بات کو ظاہر کرے جس کی حقیقت کو وہ اپنے دل میں چھپاتا ہو۔ رواہ الضیاء ورستہ فی الایمان والعسکری فی المواعظ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر
44340- عن عمر قال: بحسب المرء من الغي أن يؤذي جليسه فيما لا يعنيه، وأن يجد على الناس بما يأتي، وأن يظهر له من الناس ما يخفي من نفسه. "ض، ورسته في الإيمان، والعسكري في المواعظ، هب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44341 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں مجھے تمہارے اوپر سب سے زیادہ ان چیزوں کا خوف ہے : بخل، اتباع خواہشات اور آدمی کا اپنی رائے پر اترانا۔ یہ تیسری چیز سب سے زیادہ سخت ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
44341- عن عمر قال: إن أخوف ما أتخوف عليكم: شح مطاع، وهوى متبع، وإعجاب المرء برأيه - وهي أشدهن. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44342 ابن جریر، عمرو بن محمد عثمانی، اسماعیل بن ابی اویس، ابوبکر بن ابی اویس سلیمان بن بلال، عبداللہ بن یسار عرج، سالم بن عبداللہ عبداللہ بن عمر کے سلسلہ سند سے حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ والدین کا نافرمان دیوث اور عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والا۔ قال اسماعیل : یعنی الفلحۃ ھکذا اور دمن ھذا الطریق عن عمرو ھو فی مسند احمد بن حنبل والترمذی وابن عساکر من مسند عمر یدون قولہ عن عمر وتقدم فی القسم الاول
44342- قال ابن جرير حدثني عمرو بن محمد العثماني حدثني إسماعيل بن أبي أويس عن أخيه أبي بكر بن أبي أويس عن سليمان ابن بلال عن عبد الله بن يسار الأعرج أنه سمع سالم بن عبد الله يحدث عن أبيه عبد الله بن عمر عن عمر بن الخطاب أنه كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاثة لا يدخلون الجنة: العاق لوالديه، والديوث، ورجلة النساء. "قال إسماعيل: يعني الفحلة، هكذا أورد من هذا الطريق عن عمر، وهو في حم، ت، كر من مسند بن عمر يدون قوله عن عمر، وتقدم في القسم الأول".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44343 سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ۔ کلام نہیں کرے گا نہ ان کا تزکیہ کرے گا اور نہ ہی انھیں پاک کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ کون لوگ ہوں گے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنے والدین سے بیزاری کا اعلان کردے ایک وہ شخص جو اپنی اولاد سے بیزاری کا اعلان کرے اور ایک وہ شخص جس پر کسی قوم نے کوئی نعمت کی ہو اور وہ ان کی نعمت کی ناشکری کرتا ہو۔ رواہ ابن جریر والخرائطی فی مساوی الاخلاق۔ کلام : حدیث کے بعض صحیح طرق میں سوال جواب نہیں دیکھئے الضعیفۃ 1941
44343- عن سهل بن معاذ عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من العباد عباد لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولا يطهرهم ولا ينظر إليهم ولهم عذاب أليم، قالوا: من أولئك يا رسول الله؟ قال: المتبريء من والديه رغبة عنهما، والمتبرئ من ولده، ورجل أنعم عليه قوم فكفر نعمتهم. "ابن جرير، والخرائطي في مساوي الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44344 حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : دین پر بہت بری مدد ہے کمزور دل کی رغبت رکھنے والے پیٹ کی اور زیادہ سخت نصیحت کی۔ رواہ ابن عساکر
44344- عن أبي الدرداء قال: بئس العون على الدين قلب نخيب، وبطن رغيب، وتعظ شديد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44345 حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : علم کا وجود تعلم سے ہے بردباری کا وجود برداشت کرنے سے ہے، جس شخص نے بھلائی حاصل کرنے کی کوشش کی اسے بھلائی مل جاتی ہے جو شخص شر سے بچ گیا اسے بچا لیا جاتا ہے۔ تین اشخاص بلند درجات نہیں پاسکتے۔ جس نے کہانت کا پیشہ اختیار کیا یا تیروں سے اپنی قسمت معلوم کی یا بدفالی لے کر سفر سے واپس ہوا۔
44345- عن أبي الدرداء قال: إنما العلم بالتعلم، والحلم بالتحلم، ومن تخير الخير يعطه، ومن يتق الشر يوقه، وثلاثة لا ينالون الدرجات العلى: من تكهن أو استقسم أو رجع من سفر من طيرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثلاثی
44346 حضرت ابودرداء (رض) کی روایت ہے کہ تمہیں ظالم ہونے میں اتنی بات ہی کافی ہے کہ تم خصومت کو ترک نہ کرو، تمہیں گناہ گار ہونے میں اتنا ہی کافی ہے کہ تم مخالفت پر ڈٹے رہو تمہیں جھوٹا ہونے میں اتنا ہی کافی ہے کہ تم اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد کردو۔ رواہ ابن عساکر 44347 حضرت ابودردائ (رض) فرماتے ہیں ! جس کا ۔ کلام زیادہ ہوگا اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوگا جو کثرت سے حلف اٹھاتا ہوگا اس کا گناہ بھی کثرت سے ہوگا جس کی خصومت کثیر ہوگی اس کا دین سلامتی میں نہیں رہ سکتا۔ رواہ ابن عساکر
44346- عن أبي الدرداء قال: كفى بك ظالما أن لا تزال مخاصما، وكفى بك آثما أن لا تزال مخالفا، وكفى بك كاذبا أن لا تزال محدثا في غير ذات الله عز وجل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44347 ۔۔ حضرت ابولدرداء فرماتے ہیں کہ جس کا کلام زیادہ ہوگا اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوگا جو کثرت سے حلف اٹھاتا ہوگا اس کا گناہ بھی کثرت سے ہوگا جس کی خصومت کثیر ہوگی اس کا دین سلامتی میں نہیں رہ سکتا۔ رواہ ابن عساکر۔
44347- عن أبي الدرداء قال: من كثر كلامه كثر كذبه، ومن كثر حلفه كثر إثمه، ومن كثرت خصومته لم يسلم دينه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44348 قتادہ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عذاب قبر تین چیزوں سے ہوتا ہے غیبت چغلی اور پیشاب سے نہ بچنے سے تمہارے اوپر لازم ہے کہ ان چیزوں سے گریز کرو۔ رواہ البخاری ومسلم فی عذاب القبر
44348- عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن عذاب القبر من ثلاثة: من الغيبة والنميمة والبول؛ فإياكم وذلك. "ق في عذاب القبر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44349 حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میرے خلیل ابوالقاسم (رض) نے مجھے سونے سے پہلے نماز وتر پڑھ لینے کی وصیت کی ہے، اور یہ کہ میں چاشت کی دو رکعتیں پڑھوں اور ہر مہینے کے تین دن 15, 14, 13 تاریخوں کے روزے رکھوں اور یہی ایام بیض ہیں۔ رواہ ابن النجار
44349- عن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي وصفيي أبو القاسم صلى الله عليه وسلم بالوتر قبل أن أنام، وأصلي الضحى ركعتين، وأصوم ثلاثة أيام من كل شهر: ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة - وهن البيض. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44350 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کے دستے میں دو باتیں لکھی ہوئی پائیں یہ کہ سب سے زیادہ سرکش لوگ یہ ہیں۔ ایک وہ شخص جو ایسے آدمی کو مارے جس نے اسے نہیں مارا ایک وہ شخص جو ایسے آدمی کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہیں کیا، ایک وہ آدمی جو نااہل ہو اور اہل بن بیٹھے جس شخص نے بھی ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا اس سے نہ سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا۔ رواہ ابن جریر
44350- عن عائشة قالت: وجد في قائم سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابان، في أحدهما: إن أشد الناس عتوا رجل ضرب غير ضاربه، ورجل قتل غير قاتله، ورجل تولى غير أهل نعمته؛ ومن فعل ذلك فقد كفر بالله ورسوله، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44351 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں جن چمٹ جائے اسے شفا نہیں ملتی، دراں حالیکہ وہ کھڑا ہو کر پانی پیتا ہو، یا ایک جوتے میں چل رہا ہو یا ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالے ہوئے ہو۔ رواہ ابن جریر وقال سند ضعیف۔ کلام : حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند واہی تباہی ہے اس جیسی حدیث پر اعتماد کرنا جائز نہیں ہے۔
44351- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أصابه الجن في إحدى ثلاث لم يشف، وهو يشرب قائما أو يمشي في نعل واحدة، أو يشبك بين أصابعه. "ابن جرير وقال: سنده ضعيف واه، لا يعتمد على مثله".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44352 سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں : تین چیزیں بدعت کے طور پر گھڑ لی گئی ہیں، سجدے کا اختصار ہاتھوں کا اٹھانا اور دعا کے وقت آواز کا بلند کرنا۔ رواہ عبدالرزاق
44352- عن سعيد بن المسيب قال: ثلاث مما أحدث اختصار السجود، ورفع الأيدي، ورفع الصوت عند الدعاء. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44353 ابوجعفر کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کے تھیلے میں لکھا ہوا پایا گیا کہ اللہ تعالیٰ پر سب سے زیادہ سرکشی کرنے والے تین اشخاص ہیں ایک وہ جو غیر قاتل کو قتل کرے یا غیر ضارب کو مارے یا کسی بدعتی کو ٹھکانا دے اللہ تعالیٰ ان سے نہ سفارش قبول کرے گا اور نہ ہی کوئی بدلہ جس شخص نے غیر غلام کو غلام بنالیا اس نے اللہ کی طرف سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کردہ تعلیمات کا کفر کیا۔ رواہ ابن ابی شیبہ
44353- عن أبي جعفر قال: وجد في نعل سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أعتى الناس على الله ثلاثة: من قتل غير قاتله، أو ضرب غير ضاربه، أو آوى محدثا؛ فلا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا، ومن تولى غير مواليه فهو كافر بما أنزل الله على رسوله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44354 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : تین آدمیوں میں سے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا لعنت کرنے والا، احسان جتلانے والا اور دائمی شرابی، اور تین چیزیں کسی طرح بھی حلال نہیں ہیں، شراب کی قیمت سینگی لگانے کی کمائی اور زانیہ کی اجرت۔ رواہ الدورقی
44354- عن علي قال: ثلاثة لا يدخل أحد منهم الجنة: اللعان، والمنان، ومدمن خمر؛ وثلاث لا يحل منهن شيء: ثمن الخمر، وكسب الحجام، وأجر الزانية. "الدورقي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44355 ابوطفیل کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے پاس کوئی خط لکھا ہوا چھوڑا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جسے ہم نے چھپا رکھا ہو بجز ایک چیز کے جو میرے تلوار کے غلاف میں ہے ہم نے ایک چھوٹا سا صحیفہ پایا : اس میں لکھا ہے : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر غلام کو غلام بنالے اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اور اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو زمین کے مناروں کو آراستہ کرے۔ رواہ ابن بشران فی امالیہ
44355- عن أبي الطفيل قال: قيل لعلي: هل ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابا عندكم؟ قال: ما ترك كتابا نكتمه إلا شيئا في علاقة سيفين فوجدنا صحيفة صغيرة فيها: لعن الله من تولى غير مواليه! لعن الله من أهل لغير الله! لعن الله من زحزح منار الأرض. "ابن بشران في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ بولنے والے کا جھوٹ زیادہ ہوتا ہے
44356 قتادہ کی روایت ہے کہ عذاب قبر کے تین حصے ہیں، ایک تہائی عذاب غیبت کی وجہ سے ہوتا ہے، ایک تہائی چغلی کی وجہ سے اور ایک تہائی پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے۔ رواہ البخاری ومسلم فی عذاب القبر
44356- عن قتادة قال: عذاب القبر ثلاثة أثلاث: ثلث من الغيبة وثلث من النميمة، وثلث من البول. "ق في عذاب القبر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات رباعی
44357” مسند صدیق (رض) “ حضرت سلمان (رض) کی روایت ہے کہ میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا : مجھے آپ وصیت کریں آپ (رض) نے فرمایا : اے سلمان ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جان لو ! عنقریب فتوحات کا دروازہ کھلے گا میں نہیں جانتا کہ اس میں تمہارا کتنا حصہ ہوگا تم اپنے پیٹ میں کتنا ڈالوں گے اور اپنے اوپر بوجھ کتنا بناؤ گے۔ جان لو ! جس شخص نے پانچ نمازیں پڑھیں وہ صبح وشام اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری میں ہوجاتا ہے۔ اللہ والوں میں سے تم ہرگز کسی کو قتل نہ کرنا، تم صبح کرو یا شام کرو اہل اللہ میں سے کسی کو قتل نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو توڑڈالوگے۔ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ اوندھے منہ جہنم میں دھکیل دے گا۔ رواہ احمد بن حنبل فی الزھد وابن سعد وحشیش ابن اصرم فی الاستقامۃ
44357- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن سلمان قال: أتيت أبا بكر فقلت: اعهد إلي، فقال: يا سلمان! اتق الله، واعلم أن سيكون فتوح فلا أعرفن ما كان حظك منها: ما جعلته في بطنك، وألقيته على ظهرك، واعلم أنه من صلى الصلوات الخمس فإنه يصبح في ذمة الله ويمسي في ذمة الله، فلا تقتلن أحدا من أهل الله ويمسي في ذمة الله، فلا تقتلن أحدا من أهل الله فتحفر الله في ذمته، فيكبك الله في النار على وجهك. "حم في الزهد، وابن سعد وحشيش ابن أصرم في الاستقامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات رباعی
44358” مسند علی (رض) “ ابوطفیل کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا آپ (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے پوشیدہ رکھ کر مجھے الگ سے کوئی راز نہیں بتایا بجز چند کلمات کے جو آپ (رض) نے مجھے بتلائے تھے جو یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرتا ہے جو اپنے والدین پر لعنت کرتا ہو، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہو، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے اور اس شخص پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو زمین کی حدود کو متغیر کرتا ہو۔ رواہ البخاری ومسلم وابوعوانۃ وابن حبان والبیہقی
44358- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي الطفيل قال:كنت عند علي بن أبي طالب فأتاه رجل فقال: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يسر إلي شيئا يكتمه الناس غير أنه قد حدثني بكلمات أربع، قال: ما هن يا أمير المؤمنين؟ قال: لعن الله من لعن والديه، ولعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من آوى محدثا، ولعن الله من غير منار الأرض. وفي لفظ: من سرف منار الأرض. "م 1، ق، وأبو عوانة، حب، ق".
তাহকীক: