কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৪৩৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات رباعی
44359 سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں چار چیزوں کا شمار جفا میں سے ہوتا ہے، یہ کہ کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو اور مسجد کے پچھلے حصہ میں نماز پڑھے اور مقدم حصہ کو چھوڑ دے کوئی آدمی کسی نمازی کے آگے سے گزرے نماز مکمل کرنے سے قبل پیشانی کو صاف کرلینا آدمی کا غیر دین رکھنے والے کے ساتھ کھانا کھانا۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
44359- عن سعيد بن جبير قال: أربعة تعد من الجفاء: دخول الرجل المسجد يصلي في مؤخره ويدع أن يتقدم في مقدمه، ويمر الرجل بين يدي الرجل وهو يصلي، ومسح الرجل جبهته قبل أن يقضي صلاته، ومؤاكلة الرجل مع غير أهل دينه دينه. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات خماسی
44360 ابوریحانہ کہتے ہیں : ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے وصیت کریں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ گو تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا آگ میں جلا دیا جائے۔ اپنے والدین کی اطاعت کرو اگرچہ تمہیں اہل و عیال اور دنیا چھوڑ دینے کا حکم دیں جان بوجھ کر کوئی نماز نہ چھوڑو، چونکہ جو شخص نماز چھوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذمہ ختم ہوجاتا ہے شراب مت پیو چونکہ شراب ہر قسم کی خطا کی جڑ ہے، اپنی زمین کی حدود میں اضافہ کے خواہا مت رہو چونکہ قیامت کے دن اس زمین کے برابر سات زمین ساتھ لاؤ گے۔ رواہ ابن النجار
44360- عن أبي ريحانة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! أوصني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تشركن بالله شيئا وإن قطعت أو حرقت بالنار، واطع والديك وإن أمراك أن تتخلى من أهلك ودنياك، ولا تدعن صلاة متعمدا، فإنه من يتركها برئت منه ذمة الله وذمة رسوله، ولا تشربن خمرا، فإنها رأس كل خطيئة، ولا تزدادن في تخوم أرضك، فإنك تأتي بها يوم القيامة من مقدار سبع أرضين. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات خماسی
44361 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ اہل یمن کے ایک آدمی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کریں ۔ ارشاد فرمایا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ گو تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا آگ میں جلادیا جائے، اپنے والدین کی ہرگز نافرمانی مت کرو اگر وہ چاہیں کہ تم اپنی دنیا سے نکل جاؤ تو تم نکل جاؤ اور لوگوں کو گالی مت دو جب اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کرو تو اچھے انداز سے ملو اور اس کے لیے اپنا فالتو پانی بہادو۔ رواہ الدیلمی
44361- عن علي قال قال رجل من أهل اليمن: يا رسول! أوصني، فقال: أوصيك أن لا تشرك بالله شيئا وإن قطعت أو حرقت بالنار، ولا تعقن والديك وإن أرادك أن تخرج من دنياك فاخرج ولا تسب الناس، وإذا لقيت أخاك فالقه ببشر حسن، وصب له من فضل دلوك. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات سباعی
44362 عطاء خراسانی کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات اشخاص پر لعنت کی ہے ان میں سے ایک پر تین بار لعنت کی ہے، بقیہ سب پر ایک ایک بار لعنت بھیجی ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ملعون ہے ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے قوم لوط والافعل کیا ، ملعون ہے وہ شخص جس نے چوپائے کے ساتھ بدفعلی کی وہ شخص ملعون ہے جس نے اپنے والدین کو گالی دی ملعون ہے وہ شخص جس نے زمین کی سرحدوں کو تبدیل کیا، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے نکاح میں عورت اور اس کی بیٹی کو جمع کیا ملعون ہے وہ شخص جس نے کسی قوم کو اس کی اجازت کے بغیر ولایت دی، اور ملعون ہے وہ شخص جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا۔ رواہ عبدالرزاق
44362- عن عطاء الخراساني قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعة نفر فلعن واحدا منهم ثلاث لعنات ولعن سائرهن لعنة لعنة فقال، ملعون ملعون من عمل عمل قوم لوط، ملعون من أتى بهيمة، ملعون من سب شيئا من والديه، ملعون من غير شيئا من تخوم الأرض، ملعون من جمع بين امرأة وبنتها، ملعون من تولى قوما بغير إذنهم، ملعون من ذبح لغير الله. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات سباعی
44363” مسند علی (رض) “ حارث حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ ہی ان سے ۔ کلام کرے گا ۔ بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہوجاؤ۔ ہاں یہ کہ وہ توبہ کرلیں وہ توبہ کرلیں وہ توبہ کرلیں، فاعل، مفعول۔ (یعنی بدکاری کرنے والا اور کرانے والا) مشت زنی کرنے والا، پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا، جھوٹا کذاب، تنگی کے ایام میں مزید تنگی پیدا کرنے والا، والدین کو مارنے والا حتیٰ کہ وہ فریاد کرنے لگیں۔ رواہ ابن جریرابن جریہ کہتے ہیں اس روایت کا مخرج حضرت علی سے صرف اسی طریقہ سے مروی ہے البتہ حدیث کے معانی مخلف احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔
44363- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحارث عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سبعة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم، يقال لهم: ادخلوا النار مع الداخلين، إلا أن تتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا: الفاعل، والمفعول به، والناكح يده، والناكح حليلة جاره، والكذاب الأشر، ومعسر المعسر، والضارب والديه حتى يستغيثا. "ابن جرير وقال: لا يعرف عن رسول الله إلا رواية علي، ولا يعرف له مخرج عن علي إلا من هذا الوجه، غير أن معانيه معاني قد وردت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بها أخبار بألفاظ خلاف هذه الألفاظ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات سباعی
44364 ابوجعفر محمد بن علی کہتے ہیں : پیٹ اور شرم گاہ کی پاکدامنی سے بڑھ کر کوئی عبادت افضل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے مانگنے سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے تقدیر کو صرف دعا سے ٹالا جاسکتا ہے، ثواب میں جلدی کے اعتبار سے حسن سلوک سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہے، سزا میں جلدی کے اعتبار سے بغاوت سے بڑھ کر کوئی برائی نہیں ہے، آدمی کو عیب دار ہونے میں اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا عیب لوگوں کو نظر آئے لیکن خود اسے نہ نظر آئے۔ اور یہ کہ لوگوں کو جس چیز کا حکم دے خود اس سے نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور یہ کہ اپنے ہم جلیس کو لا یعنی باتوں سے اذیت پہنچائے۔ رواہ ابن عساکر
44364- عن أبي جعفر محمد بن علي قال: ما من عبادة أفضل من عفة بطن أو فرج، وما من شيء أحب إلى الله من أن يسأل، وما يدفع القضاء إلا الدعاء، وإن أسرع الخير ثوابا البر، وإن أسرع الشر عقوبة البغي، وكفى بالمرء عيبا أن يبصر من الناس ما يعمى عليه من نفسه، وأن يأمر الناس بما لا يستطيع التحول عنه، وأن يؤذي جليسه بما لا يعنيه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات سباعی
44365 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ سات چیزیں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں شدید غصہ ، شدید جمائیاں، قے، نکسیر کنگ گوشی ذکر کے وقت نیند۔ رواہ عبدالرزاق والبیہقی فی شب الایمان
44365- عن علي قال: سبع من الشيطان: شدة الغضب، وشدة العطاس، وشدة التثاؤب، والقيء، والرعاف، والنجوى، والنوم عند الذكر. "عب، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44366 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آٹھ آدمی ایسے ہیں اگر ان کی اہانت کی جائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کریں ایک وہ آدمی جو بن بلائے دستر خوان پر آن بیٹھے کمینوں سے تعرض کرنے والا۔ رواہ الخطیب فی کتاب الطفیلین۔
44366- عن عمر قال: ثمانية رهط إن أهينوا فلا يلومن إلا أنفسهم: الآتي مائدة لم يدع إليها، والتعرض لفضل اللئام.................... "خط في كتاب الطفيلين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44367 حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : کیا میں تمہیں بدترین انسان کے متعلق نہ بتاؤں ؟ عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں۔ ارشاد فرمایا : جو شخص تنہا کھانا کھائے اپنے عطیہ سے منع کرے تنہا سفر کرے اپنے غلام کو مارے پھر فرمایا : اے علی اس سے بھی زیادہ برے شخص سے میں تمہیں آگاہ نہ کروں عرض کیا : جی ہاں یارسول اللہ ! ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے بغض رکھتا ہو اور لوگ اس سے بغض رکھتے ہوں پھر فرمایا اے علی ! کیا اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ عرض کیا : جی ہاں یارسول اللہ ! فرمایا وہ شخص جس کے شر سے بچا جائے اور اس سے بھلائی کی کوئی امید نہ ہو فرمایا : اے علی اس سے بھی زیادہ برے شخص سے تمہیں آگاہ نہ کروں فرمایا : جو شخص اپنی آخرت کو دوسرے کی دنیا کے بدلے میں بیچ ڈالے پھر فرمایا : اے علی اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں عرض کیا : یارسول اللہ ! جی ہاں : فرمایا : جو شخص دین کے بدلہ میں دنیا کھائے۔ رواہ ابن عساکر وقال اسناد ھذا الحدیث منقطع مضطرب
44367- عن معاذ بن جبل أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي بن أبي طالب قال: ألا أنبئك بشر الناس؟ قال: بلى يا رسول الله! قال: من أكل وحده، ومنع رفده، وسافر وحده، وضرب عبده، ثم قال: يا علي! ألا أنبئك بشر من هذا؟ قال: بلى يا رسول الله! قال: من يبغض الناس ويبغضونه، ثم قال: يا علي! ألا أنبئك بشر من هذا؟ قال: بلى يا رسول الله! قال: من يخشى شره ولا يرجى خيره، قال: يا علي ألا أنبئك بشر من هذا؟ قال: بلى يا رسول الله! قال: من باع آخرته بدنيا غيره، ثم قال: يا علي ألا أنبئك بشر من هذا؟ قال: بلى يا رسول الله! قال من أكل الدنيا بالدين. "كر وقال: إسناد هذا الحديث منقطع مضطرب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44368 حضرت ابودرداء (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جارہا تھا راستے میں قصابوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا : مردار کو مذبوح کے ساتھ مت ملاؤ چونکہ لوگ جاہلیت کے زمانہ کے بعد قریب ہیں۔ سات چیزوں کو مجھ سے یاد رکھو ذخیرہ اندوزی مت کرو نجش مت کرو، آگے بڑھ کر تجارتی قاتلوں سے مت ملو شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے حتیٰ کہ وہ معاملہ چھوڑ دے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے کوئی عورت کسی دوسری عورت کی طلاق کا سوال نہ کرے تاکہ اس کی جگہ وہ لے لے اور خود نکاح کرے حالانکہ اس کے لیے وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو لکھ دیا ہے۔ رواہ ابن عساکر والراوی عن ابی الدرداء لم یسم وسائر رجالہ ثقات ترغیب وترھیب
44368- عن أبي الدرداء قال: أقبلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حتى وقف على أصحاب اللحم فقال: لا تخلطوا ميتا بمذبوح والناس قريب عهد بجاهلية؛ سبعا احفظوهن مني: لا تحتكروا، ولا تناجشوا، ولا تلقوا الركبان، ولا يبيع حاضر لباد، ولا يبيع رجل على بيع أخيه حتى يذر، ولا يخطب على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكفئ إناءها ولتنكح، فإن لها ما كتب الله لها. "كر، والراوي عن أبي الدرداء لم يسم، وسائر رجاله ثقات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44369 حضرت عثمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن چھ چیزوں کے بدلہ میں چھ لوگوں کو عذاب دے گا حکمرانوں کو ظلم کے بدلہ میں علماء کو حسد کے بدلہ میں عربوں کو مصیبت کے بدلہ میں سوداگروں کو تکبر کے بدلہ میں اھل دیہات کو جہالت کے بدلہ میں تاجروں کو خیانت کے بدلہ میں جبکہ چھ آدمی چھ چیزوں کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے حکمران عدل کی وجہ سے علماء کو خیر خواہی کی وجہ سے عربوں کو تواضع کی وجہ سے سوداگروں کو الفت کی وجہ سے تاجروں کو صدق کی وجہ سے اہل دیہات کو سلامتی کی وجہ سے۔ رواہ ابن الجوزی فی الواھیات۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے المتناھیۃ 1565 ۔
44369- عن عثمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يعذب الله يوم القيامة ستة نفر بستة أشياء: الأمراء بالجور، والعلماء بالحسد، والعرب بالعصبية، والدهاقين بالكبر، وأهل الرساتين بالجهل، والتجار بالخيانة؛ وستة يدخلون الجنة بستة: الأمراء بالعدل، والعلماء بالنصيحة والعرب بالتواضع، والدهاقين بالألفة، والتجار بالصدق، وأهل الرساتيق بالسلامة. "ابن الجوزي في الواهيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44370 حضرت ابودرداء (رض) فرماتے ہیں : علم اٹھنے سے پہلے پہلے حاصل کرو چنانچہ علماء کا خاتمہ علم کا خاتمہ ہے اگر تین خصلتیں نہ ہوتیں تو لوگوں کا معاملہ درست ہوتا۔ پیچھا کیا ہوا بخل اتباع خواہش اور آدمی کا اپنے اوپر اترانا جس شخص کو شکر والا دل ذکر کرنے والی زبان مومن بیوی عطا ہوجائے تو اسے بہت اچھی بھلائی نصیب ہوئی جو شخص کشائش میں کثرت سے دعا کرتا ہے اس کی دعا آزمائش میں قبول کی جاتی ہے اور وہ شخص بھلائی سے محروم نہیں رہتا۔ جو شخص کثرت سے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے بالآخر اس کے لیے دروازہ کھول ہی دیا جاتا ہے۔ رواہ ابن عساکر
44370- عن أبي الدرداء قال: تعلموا العلم قبل أن يرفع، فإن ذهاب العلم ذهاب العلماء، لولا ثلاث خصال لصلح أمر الناس: شح مطاع، وهوى متبع، وإعجاب المرء بنفسه؛ من رزق قلبا شاكرا ولسانا ذاكرا وزوجة مؤمنة فنعم الخير أتته، ولن يترك من الخير شيئا من يكثر الدعاء عند الرخاء فيستجاب له عند البلاء، ومن يكثر قرع الباب يفتح له. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترھیبات ثمانی
44371 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! اھل جنت کون لوگ ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جو اس وقت نہیں مرتا جب تک اس کے کان اس کے پسندیدہ چیزوں سے نہ برنہ جائیں۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا : اہل نار کون لوگ ہیں یارسول اللہ ! ارشاد فرمایا : وہ لوگ ہیں جنہیں اس وقت تک موت نہیں آتی جب تک ان کے کان ناپسندیدہ چیزوں سے بھر نہ جائیں۔ رواہ البخاری ومسلم فی الزھد
44371- عن أنس قيل: يا رسول الله! من أهل الجنة قال: من لا يموت حتى يملأ أذناه مما يحب، قالوا: من أهل النار يا رسول الله؟ قال: من لا يموت حتى يملأ أذناه مما يكره. "ق في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44272 سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عوام الناس کے لیے اٹھارہ (18) حکمت کے کلمات ارشاد فرمائے ہیں چنانچہ آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص تمہارے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہو وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بشرطیکہ اس کے معاملہ میں تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ حتیٰ کہ وہ تمہارے ساتھ اتنے اچھے رویہ سے پیش آئے کہ تم اس سے مغلوب ہو کر رہ جاؤ۔ جو بات کسی مسلمان کے منہ سے نکلے بظاہر وہ شر پر دلالت کرتی ہو جبکہ خیر و بھلائی میں اس کا محمل موجود ہو تو اسی پر اس بات کو محمول کرو۔ جس شخص نے اپنے آپ کو ہمت کے لیے تیار کرلیا ہو تو وہ اپنے بدخواہ کو ملامت نہ کرے۔ جس شخص نے اپنا راز مخفی رکھا بھلائی اس کے ہاتھوں پر ڈیرا بسا لیتی ہے۔ سچے لوگوں کے آشیانوں میں اپنا بسیرا رکھو چونکہ سچائی والے لوگ کشائش میں زینت اور آزمائش میں اچھا وعدہ ہیں۔ ہمیشہ سچ بولو گو سچ تمہیں قتل ہی کیوں نہ کردے۔ لایعنی امور میں مت پھنسو، جو چیز نہ ہوتی ہو اس کے متعلق سوال مت کرو جو شخص تمہاری کامیابی کا خواہاں نہ ہو اس سے اپنی حاجت مت طلب کرو۔ جھوٹی قسم کو حقیر مت سمجھو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کردے گا۔ گناہ گار لوگوں کی مصاحبت مت اختیار کرو ورنہ تم بھی گناہ میں پڑ جاؤ گے۔ اپنے دشمن سے کنارہ کش رہو اپنے دوست سے بھی گریزاں رہو الایہ کہ وہ امانتدار ہو، اور امانتدار وہی ہوسکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو ۔ قبروں کے پاس جاکر عاجزی کا مظاہر کرو، طاعت کے وقت ماننے کی جرات پیدا کرو، بیعت سے بچتے رہو، اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورے لو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے : انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اس کے بندے علماء ہی ہوسکتے ہیں۔ رواہ الخطیب فی المتفق والمفترق وابن عساکر وابن النجار
44372- عن سعيد بن المسيب قال: وضع عمر بن الخطاب للناس ثماني عشرة كلمة حكم كلها، قال: ما عاقبت من عصى الله فيك بمثل أن تطيع الله فيه، وضع أمر أخيك على أحسنه حتى يجيئك منه ما يغلبك، ولا تظنن بكلمة خرجت من مسلم شرا وأنت تجد لها في الخير محملا، ومن عرض نفسه للتهم فلا يلومن من أساء به الظن، ومن كتم سره كانت الخيرة في يده، وعليك باخوان الصدق تعش في أكنافهم، فإنهم زينة في الرخاء وعدة في البلاء، وعليك بالصدق وإن قتلك، ولا تعرض فيما لا يعنى، ولا تسأل عما لم يكن، فإن فيما كان شغلا عما لم يكن، ولا تطلبن حاجتك إلى من لا يحب نجاحها لك، ولا تهاون بالحلف الكاذب فيهلكك الله، ولا تصحب الفجار لتتعلم من فجورهم، واعتزل عدوك، واحذر صديقك إلا الأمين، ولا أمين إلا من خشى الله، وتخشع عند القبور، وذل عند الطاعة، واستعصم عند المعصية، واستشر في أمرك الذين يخشون الله، فإن الله تعالى يقول: {إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ} . "خط في المتفق والمفترق، كر، وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44373 حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مردوں اور عورتوں کی تین تین قسمیں ہیں۔ رہی بات عورتوں کی سو ایک عورت وہ ہے جو مسلمان ہو پاکدامن ہو نرم مزاج ہو محبت کرنے والی ہو بچے جننے والی ہو حوادث کے موقع پر گھر والے کی مدد کرتی ہو شوہر کے خلاف حوادث کی مدد نہ کرتی ہو اور تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہو دوسری عورت وہ ہے جو زیادہ دعائیں کرتی ہو اور زیادہ بچے جننے کی اس میں ہمت نہ ہو اور تیسری عورت وہ ہے جو گلے کا طوق اور جوں ہوا اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے گلے میں اسے ڈال دیتا ہے جب اس سے چھٹکارا دلوانا چاہے دلوا دیتا ہے مردوں کی تین قسمیں یہ ہیں ایک وہ مرد جو پاکدامن نرم مزاج ہو صاحب رائے اور صاحب مشورہ ہو جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے اپنی رائے سے کام لیتا ہو اور امور کو درست مقام پر طے کرتا ہوں دوسرا آدمی وہ ہے جو کسی طرح کی رائے نہ رکھتا ہو جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اہل رائے اور اہل مشورہ کے پاس آتا ہے تیسرا آدمی وہ ہے جو حیران و پریشان ہو دم کٹا ہو خود رشد و ہدایت پر نہ ہو اور نہ ہی کسی مرشد کی پاس جاتا ہو۔ رواہ ابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف والخرائطی فی مکارم الاخلاق والبیہقی فی شعب ایمان وابن عساکر
44373- عن سمرة بن جندب قال قال عمر: الرجال ثلاثة والنساء ثلاثة، فأما النساء فامرأة عفيفة مسلمة لينة ودودة ولود تعين أهلها على الدهر ولا تعين الدهر على أهلها وقليلا ما تجدها، وامرأة دعاء لا تزيد على أن تلد الأولاد، والثالثة غل 1 قمل 1 يجعلها الله في عنق من يشاء، فإذا شاء أن ينزعه نزعه؛ والرجال ثلاثة: رجل عفيف هين لين ذو رأي ومشورة، فإذا نزل به أمر ائتمر رأيه، وصدر الأمور مصادرها، ورجل لا رأى له، إذا أنزل به أمر أتى ذا الرأي والمشورة فنزل عند رأيه، ورجل حائر باتر، لا يتم رشدا ولا يطيع مرشدا. "ش، وابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف، والخرائطي في مكارم الأخلاق، هب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44374 حضرت عمربن خطاب (رض) فرماتے ہیں جو شخص کثرت سے ہنستا رہے اس کا رعب کم ہوجاتا ہے، جو شخص کثرت سے مزاح کرتا ہے اسے حقارت سے دیکھا جاتا ہے جس شخص سے جو کام کثرت سے سرزد ہو وہ اسی سے پہچانا جاتا ہے جو شخص کثرت سے بولتا ہے اس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کی حیاء کم ہوجاتی ہے جس میں حیاء کم ہوجائے اس کا تقویٰ کم ہوجاتا ہے جس کا تقویٰ کم ہوجائے اس کا دل مردہ ہوجاتا ہے۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی الصمت والعسکری فی الامثال وابوالقاسم الخرقی فی امالیہ وابن حبان فی روضۃ العقلاء والطبرانی فی الاوسط والبیہقی فی شعب الایمان والخطیب وابن عساکر فی الجامع
44374- عن عمر بن الخطاب قال: من كثر ضحكه قلت هيبته، ومن كثر مزاحه استخف به، ومن أكثر من شيء عرف به، ومن كثر كلامه كثر سقطه، ومن كثر سقطه قل حياؤه، ومن قل حياؤه قل ورعه، ومن قل ورعه مات قلبه. "ابن أبي الدنيا في الصمت والعسكري في الأمثال، وأبو القاسم الخرقي في أماليه، حب في روضة العقلاء، طس، هب، خط، كر في الجامع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44375 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ سے دور رہتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اپنی من مانی نہیں کرتا اگر روز قیامت نہ ہوتا تم اس کے علاوہ کچھ اور ہی دیکھتے۔ رواہ ابن ابی الدنیا والدینوری فی المجالستہ والحاکم فی الکنی وابو عبداللہ بن مندہ فی مسندا براھیم ادھم وابن المقری فی فوائدہ
44375- عن عمر قال: من خاف الله لم يشف غيظه، ومن يتق الله لم يصنع ما يريد، ولولا يوم القيامة لكان غير ما ترون. "ابن أبي الدنيا، والدينوري في المجالسة، والحاكم في الكنى، وأبو عبد الله ابن منده في مسند إبراهيم بن أدهم وابن المقرئ في فوائده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44376 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کو اپنے آپ سے انصاف دلاتا ہے اسے اپنے امور میں کامیابی ملتی ہے اپنے آپ کو طاعت میں لگا دینا نیکی کے زیادہ قریب ہوتا ہے بنسبت اس کے کہ وہ معصیت اختیار کرے۔ رواہ ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ والخرائطی فی مکارم الاخلاق
44376- عن عمر قال: من ينصف الناس من نفسه يعطى الظفر في أمره، والتذلل في الطاعة أقرب إلى البر من التعزز بالمعصية. "أبو القاسم بن بشران في أماليه، والخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44377 مالک (رح) کہتے ہیں ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : آدمی کی شرافت اس کے تقویٰ اور دینداری میں ہے اس کی مروت اس کے اخلاق میں ہے جبکہ جرات اور سستی مردوں کی عادات میں داخل ہیں، مردشجاع معروف اور غیر معروف سے قتال کرتا ہے جبکہ سست آدمی اپنے باپ اور ماں سے بھاگتا ہے مال جاہ وحسب ہے اور شرافت تقویٰ میں ہے، میں فارسی، عجمی اور نبطی سے افضل نہیں ہوں مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والعسکری فی الامثال وابن جریر والدارقطنی وابن عساکر
44377- "مالك" أنه بلغه أن عمر بن الخطاب قال: كرم المرء تقواه، ودينه وحسبه، ومروءته خلقه، والجرأة والجبن غرائز في الرجال، فيقاتل الرجل الشجاع عمن يعرف ومن لا يعرف، ويفر الجبان عن أبيه وأمه، والحسب المال، والكرم التقوى، لست بأخير من فارسي ولا عجمي ولا نبطى إلا بالتقوى. "ش، والعسكري في الأمثال، وابن جرير، ش، قط، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔حکمت کی باتیں
44378 خالد لجلاج کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں آدمی کی شرافت اس کے تقویٰ میں ہے اس کی مروت اس کی دینداری میں ہے اس کا دین اس کے حسن اخلاق میں ہے سستی اور یہادری مردوں کی عادات میں سے ہیں، جرات مند قتال کرتا ہے جس کا انجام اس کے اہل خانہ پر نہیں پڑتا، سست آدمی اپنے ماں باپ سے بھی دور بھاگتا ہے قتل طبعی موتوں میں سے ایک موت ہے شہید وہ ہے جو خود اپنا احتساب کرتا ہو فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اس کی مرافعت رسول اللہ کی طرف ہوگی۔ رواہ ابن المرزبان فی المرذۃ
44378- عن خالد اللجلاج أن عمر بن الخطاب قال: كرم المرء تقواه، ومروءته دينه، ودينه حسن خلقه، والجبن والجرأة غرائز، فالجريء يقاتل عما لا يؤب على أهله، والجبان يفر عن أبيه وأمه، والقتل حتف من الحتوف، والشهيد من احتسب نفسه. قال: ولا أعلم أنه يرفعه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن المرزبان في المروءة".
তাহকীক: