কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৮৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی سے لکیردار مصری کپڑا اور زردرنگ کا کپڑاپہننے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور مجھے ایک منقش کپڑاپہنایا میں اسی میں باہرنکلی گیا تو آپ نے مجھے آدازدی علی ! میں نے یہ جوڑا تمہیں پہننے کے لیے نہیں پہنایا تھا میں واپس فاطمہ (رض) کے پاس آیا تو میں نے اس کا ایک کنارہ انھیں دے دیاگویاوہ میرے ساتھ لپٹتی جاتی تھیں تو میں نے اس کپڑے کو کاٹ دیا۔ انھوں نے کہا ابوتراب ابن ابی طالب ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تم کیا لائے ؟ میں نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پہننے سے منع کیا ہے اسے پہن لو اور اپنی عورتوں کو پہنادو۔ رواہ ابن جریر
41855- عن علي قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب، ولبوس القسي والمعصفر، وقراءة القرآن وأنا راكع، وكساني حلة من سيراء فخرجت فيها فقال لي: "يا علي! لم أكسكها لتلبسها"، فرجعت إلى فاطمة فأعطيتها طرفها كأنها تطوي معي، فشققتها، فقالت: تربت يداك يا ابن أبي طالب! ماذا جئت به؟ قلت: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ألبسها، فالبسها واكسي نساءك."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٦۔۔۔ (مسندعمر) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اتنے ریشم کے سوا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی اٹھائی۔ ریشمی لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ مسنداحمد، مسلم نسائی وابوعوانۃ والطحاوی، ابویعلی، ابن حبان حلیۃ الاولیائ۔ بیہقی
41856- مسند عمر عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبوس الحرير إلا هكذا - ورفع لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إصبعيه السبابة والوسطى."حم، خ "، م، ن وأبو عوانة والطحاوي، ع،حب، حل، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے دویاتین یاچارانگلی کی مقدار کے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔ مسنداحمد، مسلم ابوداؤد ترمذی وابو عوانہ والطاوی ابن حبان حلیۃ الاولیائ، بیہقی
41857- عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الحرير إلا موضع إصبعين أو ثلاث أو أربع."حم " م، د، ت وأبو عوانة والطحاوي، حب، حل، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں دوتھیلیاں تھیں ایک سونے کی اور ایک ریشم کی پھر فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ طبرانی فی الاوسط
41858- عن عمر قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يده صرتان: أحدهما من ذهب، والآخر من حرير، فقال: "هذان حرام على الذكور من أمتي، حلال للإناث"."طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٩۔۔۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دویاتین انگلیوں کے سوار یشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔ ابن ابی شیبۃ والبزار، دارقطنی وحسن
41859- عن عثمان بن عفان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الحرير إلا قدر إصبعين أو ثلاثة."ش والبزار، قط وحسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٦٠۔۔۔ سعید بن سفیان قاری سے روایت ہے فرمایا : کہ میرے بھائی کا انتقال ہوا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سو دینار دینے کی وصیت کی تھی میں حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس گیا آپ کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا اور مجھ پر ایسی قبا تھی جس کی جیب اور پیچھے کے دامن کی پھٹن میں ریشم کی سلائی تھی اس شخص نے جب مجھے دیکھا تو وہ میری طرف لپکا اور مجھ سے میری قباچھیننے لگاتا کہ اسے پھاڑدے۔ حضرت عثمان (رض) نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا : اس شخص کو چھوڑدو تو اس نے مجھے چھوڑ دیا پھر فرمایا : تم لوگوں نے بڑی جلدی کی پھر میں نے حضرت عثمان (رض) سے پوچھا : میں نے کہا : امیرالمومنین ! میرا بھائی فوت ہوگیا ہے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سو دینار صدقہ کرنے کی وصیت کی ہے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھ سے پہلے کسی سے پوچھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا : اگر تم نے مجھ سے پہلے کسی سے پوچھا اور میں نے اس کے برخلاف فتوی دیاتو میں تمہاری گردن اڑادوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرتسلیم خم کرنے کا حکم دیا ہے سو ہم سب مان گئے اور ہم مسلمان ہیں۔ اور ہمیں ہجرت کا حکم دیاسوہم نے ہجرت کی توہم مہاجرین مدینہ والے ہیں۔ پھر ہمیں جہاد کا حکم دیا اور تم لوگوں نے جہاد کیا اور تم شام والے مجاہد ہو۔ ان پیسوں کو اپنے لیے اپنے گھروالوں کے لیے اور اپنے قریب کسی حاجت مند کی ضرورت میں صرف کردو کیونکہ اگر تم درہم لے کر گوشت خرید کر لاؤا سے تمہارے گھروالے کھائیں تو تمہارے لیے سات سودراہم کا ثواب لکھاجائے گا چنانچہ میں ان کے پاس سے باہرنکل گیا اور میں نے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مجھ سے چھین وجھپٹ کررہا تھا کہ کون ہے ؟ تو کسی نے کہا : یہ علی بن ابی طالب ہیں۔ میں ان کے گھرآیا اور ان سے پوچھا آپ نے میری کیا غلطی دیکھی ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : عنقریب میری امت عورتوں کی شرم گاہوں اور ریشم کو حلال سمجھنے لگے گی تو یہ پہلی بات جو میں نے ایک مسلمان پر دیکھی تو میں ان کے پاس چلا گیا اور اس قباکو بیچ ڈالا۔ رواہ ابن عساکر
41860- عن سعيد بن سفيان القاري قال: توفي أخي وأوصى بمائة دينار في سبيل الله، فدخلت على عثمان بن عفان وعنده رجل قاعد وعلى قباء جيبه وفروجه مكفوف بحرير، فلما رآني ذلك الرجل أقبل يجاذبني قبائي ليخرقه، فلما رأى ذلك عثمان قال: دع الرجل، فتركني، ثم قال: قد عجلتم، فسالت عثمان فقلت: يا أمير المؤمنين! توفي أخي وأوصى بمائة دينار في سبيل الله فما تأمرني؟ قال: هل سألت أحدا قبلي؟ قلت: لا، قال: لإن استفتيت أحدا قبلي فافتاك غير الذي أفتيتك به ضربت عنقه، إن الله أمرنا بالإسلام فأسلمنا كلنا فنحن المسلمون، وأمرنا بالهجرة فهاجرنا فنحن المهاجرون أهل المدينة، ثم أمرنا بالجهاد فجاهدتم فأنتم المجاهدون أهل الشام، أنفقها على نفسك وعلى أهلك وعلى ذي الحاجة ممن حولك، فإنه لو خرجت بدرهم ثم اشتريت به لحما فأكلته أنت وأهلك كتب لك بسبعمائة درهم؛ فخرجت من عنده فسألت عن الرجل الذي يجاذبني، فقيل: هو علي بن أبي طالب، فأتيته في منزله فقلت: ما رأيت مني؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "أوشك أن تستحل أمتي فروج النساء والحرير"، وهذا أول حرير رأيته على أحد من المسلمين؛ فخرجت من عنده فبعته."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦١۔۔۔ ابن سرین سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید حضرت عمر کے پاس آئے اور حضرت خالد نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی حضرت عمرنے ان سے کہا : خالد ! یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : اس سے کیا ہوتا ہے امیرالمومنین ! کیا ابن عوف نے نہیں پہن رکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم ابن عوف جیسے ہو اور تمہارے لیے بھی وہ ہے جو ابن عوف کے لیے ہے ! گھر میں جتنے لوگ ہیں میں سب سے کہتاہوں کہ اس کا ایک ایک ٹکڑا پکڑے یہاں تک کہ اس میں سے کچھ بھی نہ بچاسارا کپڑا انھوں نے پھاڑدیا۔ رواہ ابن عساکر
41861- عن ابن سيرين أن خالد بن الوليد دخل على عمر وعلى خالد قميص حرير، فقال له عمر: ما هذا يا خالد؟ قال: وما باله يا أمير المؤمنين؟ أليس قد لبسه ابن عوف؟ قال: فأنت مثل ابن عوف ولك مثل ما لابن عوف! عزمت على من في البيت إلا أخذ كل واحد منهم طائفة مما يليه! فمزقوه حتى لم يبق منه شيء."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٢۔۔۔ سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ حضرت عمربن خطاب (رض) کے ساتھ جابیہ میں ٹھہرے ہم سے شام کے کچھ لوگ ملے جنہوں نے ریشم پہن رکھا تھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس لباس کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا پھر انھیں کنکریاں ماریں تو وہ منتشر ہوگئے اس کے بعد وہ قبائیں پہن کر آئے تو آپ نے فرمایا : یہ تمہارا مشہور لباس ہے۔ رواہ ابن عساکر
41862- عن سويد بن غفلة قال: هبطنا مع عمر بن الخطاب الجابية فلقينا قوم من أهل الشام عليهم الحرير، فقال عمر: إن الله أهلك قوما بلباسكم هذا، ثم رماهم حتى تفرقوا، ثم أتوه في ثياب قطربة، فقال: هذا أعرف ثيابكم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے باڑار میں ایک ریشمی جوڑا بکتے دیکھا تو میں اسے خرید کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا میں نے عرض کی : میں اسے زیب وزینت کے لیے خرید لوں ؟ آپ نے فرمایا : یہ اس شخص کالباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ابن جریر فی تھذیہ
41863- عن عمر قال: وجدت حلة إستبرق تباع في السوق، فأتيت بها النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: أشتريها أتجمل بها؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "هذه لباس من لا خلاق له"."ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٤۔۔۔ عبیدہ بن ابی لبابۃ سے روایت ہے فرمایا : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) مسجد سے گزرے تو ایک شخص کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اس کا سبزلباس تھا جس پر ریشم کے بنن لگے تھے آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر کہنے لگے : جتنی چاہے لمبی نماز کرلوتمہارے نماز سے فارغ ہونے تک میں نہیں جانے کا اس شخص نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوا آپ نے فرمایا : اپنالباس مجھے دکھانا پھرا سے پکڑکرکاٹ دیا اور جو ریشم کے بنن لگے تھے انھیں پھاڑ دیا اور فرمایا : آئندہ یہ کپڑا استعمال نہ کرنا۔ رواہ ابن جریر
41864- عن عبيدة بن أبي لبابة قال: بلغني أن عمر بن الخطاب مر في المسجد ورجل قائم يصلي عليه طيلسان مزرر بالديباج، فقام إلى جنبه فقال: طول ما شئت فما أنا ببارح حتى تنصرف، فلما رأى ذلك الرجل انصرف إليه، قال: أرني ثوبك، فأخذه فقطع ما عليه من أزرار الديباج وقال: دونك ثوبك."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : صرف اتناریشم جائز ہے جس سے سلائی بابٹن کا کام لیا جاسکے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41865- عن عمر قال: لا يصلح من الحرير إلا ما كان في تكفيف أو تزرير."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٦۔۔۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ جوؤں کی شکایت کی اور کہا یارسول اللہ ! کیا آپ مجھے ریشمی قمیض پہننے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو آپ نے انھیں اجازت دے دی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) کی وفات ہوچکی اور حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو وہ اپنے بیٹے ابوسلمہ کو لائے جس نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ پھر حضرت عمر (رض) نے قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسے نیچے تک پھاڑدیا تو حضرت عبدالرحمن (رض) نے کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے میرے لیے حلال قراردیا ہے آپ نے فرمایا : تمہارے لیے اس وجہ سے حلال کیا تھا کہ تم نے جوؤں کی شکایت کی تھی لہٰذاتمہارے علاوہ کسی کو اجازت نہیں۔ ابن سعد وابن منیع
41866- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: شكا عبد الرحمن ابن عوف إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كثرة القمل فقال: يا رسول الله! تأذن لي أن ألبس قميصا من حرير! فأذن له، فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وقام عمر أقبل بابنه أبي سلمة وعليه قميص من حرير، فقال عمر: ما هذا؟ ثم أدخل عمر يده في جيب القميص فشقه إلى أسفله، فقال عبد الرحمن: أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أحله لي، فقال: إنما أحله لك لأنك شكوت إليه القمل، فأما لغيرك فلا."ابن سعد وابن منيع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی قمیض پھاڑدی
٤١٨٦٧۔۔۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اپنے بیٹے محمد کے ساتھ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے ان کے بیٹے نے ریشمی قمیض پہن رکھی تھی حضرت عمر (رض) اٹھے اور اس قمیض کو گربیان سے پکڑ کر پھاڑدیا۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ انھیں ریشم پہناتے ہو، آپ نے کہا : میں ریشم پہنتا ہوں، آپ نے فرمایا : کیا یہ تمہارے جیسے ہیں ؟ ابن عیینہ فی جامعہ ومسددوابن جریر
41867- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: دخل عبد الرحمن ابن عوف على عمر ومعه محمد ابنه وعليه قميص من حرير، فقام عمر فأخذ بجيبه فشقه، فقال عبد الرحمن: غفر الله لك! لقد أفزعت الصبي فأطرت قلبه، قال: تكسوهم الحرير! قال: فإني ألبس الحرير، قال: فإنهم مثلك."ابن عيينة في جامعه ومسدد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٦٨۔۔۔ عبداللہ بن عامر بن ربیعۃ سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابن عوف (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس ریشمی قمیض پہن کر آئے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھ سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا تو حضرت عبدالرحمن نے کہا : کہ مجھے امید ہے کہ میں اسے دنیا اور آخرت میں پہنوں۔ مسدد وابن جریر وسندہ صحیح
41868- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: دخل ابن عوف على عمر وعليه قميص حرير، فقال عمر: ذكر لي أنه من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة، قال عبد الرحمن: إني لأرجو أن ألبسه في الدنيا والآخرة."مسدد وابن جرير وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٦٩۔۔۔ سوید بن غفلۃ سے روایت ہے فرمایا : ہم لوگ شام سے واپس آئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی فتوحات سے نوازا، اور حضرت عمربن الخطاب (رض) مدینہ کے بلند مقام پر بیٹھے ہم سے ملاقات کررہے تھے اور ہم لوگوں نے دبیز اور باریک ریشم اور عجم کالباس پہن رکھا تھا جب حضرت عمر (رض) نے اسے دیکھا تو ہمیں کنکریاں مارنے لگے تو ہم لوگوں نے یمعنی قبائیں پہن لیں۔ جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا : مہاجرین کی اولاد کو خوش آمدید ! ریشم کو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لیے پسند نہیں کیا تو تمہارے لیے پسند کرلے گا۔ اتنے اتنے یعنی ایک دو تین یاچارانگشت کے سواریشم کا استعمال مردوں کے لیے جائز نہیں۔ سفیان بن عیینۃ فی جامعہ، بیہقی فی الشعب ، ابن عساکر
41869- عن سويد بن غفلة قال: أقبلنا من الشام وفتح الله لنا فتوحا وعمر ابن الخطاب قاعد بظهر المدينة يتلقانا، ولبسنا الحرير والديباج وثياب العجم، فلما رآه عمر جعل يرمينا، فلبسنا برودا يمانية، فلما انتهينا إليه قال: مرحبا بأولاد المهاجرين! إن الحرير لم يرضه الله لمن كان قبلكم فيرضاه لكم، إن الحرير لا يصلح منه إلا هكذا وهكذا - يعني إصبعا وإصبعين وثلاثا وأربعا."سفيان بن عيينة في جامعه، هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٠۔۔۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے فرمایا : ہمارے پاس حضرت عمربن خطاب (رض) کا خط آیا اس وقت ہم آزربیجان میں عتبہ بن فرقہ کے ساتھ تھے ، حمد وصلوۃ کے بعد ! ازارب اندھا کرو جوتے پہناکرو اور موڑے اتار پھینکو شلواروں سے گریز کرو اپنے باپ اسماعیل کالباس پہناکرو خبردار خوش عیشی اور عجم کی وضع قطع سے بچنا، دھوپ میں بیٹھا کرو کیونکہ یہ عربوں کا بھاپ والا غسلخانہ ہے۔ معدبن عدنان کی مشابہت اختیار کرو کھردارلباس پہنو جان کھپاؤ سواری پراچھل کر چڑھو، نشانہ بازی کرو ورزش کیا کرو۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوائے اتنے ریشم کے اور آپ نے اپنی درمیانی انگلی سے اشارہ کیا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ ابوذرالھروی فی الجامع، بیہقی
41870- عن أبي عثمان النهدي، قال: أتانا كتاب عمر بن الخطاب ونحن بآذربيجان مع عتبة بن أما بعد، فاتزروا وانتعلوا وارموا بالخفاف، وألقوا السراويلات، وعليكم بلباس أبيكم إسماعيل، وإياكم والتنعم وزي العجم! وعليكم بالشمس فإنها حمام العرب، وتمعددوا " واخشوشنوا " واخلولقوا " واقطعوا الركب، وارموا الأغراض، وانزوا "وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الحرير إلا هكذا - وأشار بأصبعه الوسطى."أبو ذر الهروي في الجامع، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لیے ریشم ناپسند کیا تو تمہارے لیے پسند کرے گا۔ ابن ابی شیبۃ بیہقی ابن عساکر
41871- عن عمر قال: إن الحرير لم يرضه الله لمن كان قبلكم فيرضاه لكم."ش، هب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا ہدیہ کیا گیا جس کا تانا اور باناریشم کا تھا تو وہ آپ نے میری طرف بھیج دیا میں نے آپ کے پاس آکرکہا : میں اسے کیا کروں گا ؟ کیا اسے پہنوں گا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں میں جو اپنے لیے ناپسند سمجھتاہوں اسے تمہارے لیے پسند نہیں کرتا بلکہ اسے پھاڑ کر دوپٹے اور بناؤ فلاں فلاں عورت کودے دو ۔ اور ان میں فاطمہ (رض) کا ذکر بھی کیا تو میں نے اس کے چار دوپٹے بنادیئے۔ ابن ابی شیبۃ والدورقی، بیہقی
41872- عن علي قال: أهدي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة مسيرة بحرير سداها حرير ولحمتها حرير، فأرسل بها إلي، فأتيته فقلت: ما أصنع بها؟ ألبسها؟ قال: "لا، إني لا أرضى لك ما أكره لنفسي ولكن شققها خمرا لفلانة وفلانة" - فذكر فيهن فاطمة، فشققتها أربعة أخمرة."ش والدورقي، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایک لکیر دارجوڑے کا ہدیہ آیا تو آپ نے میری طرف بھیجا جس سے میں بےحد مسرورہوالیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ پر غصہ کے آثار محسوس کئے اور فرمایا : میں نے اس لیے نہیں بھیجا کہ تم پہن لو تو میں نے اسے اپنی خواتین میں تقسیم کردیا۔ ابوداؤد طیالسی، مسنداحمد، بخاری مسلم، نسائی وابوعوانۃ والطحاوی، بیہقی
41873- عن علي قال: أهديت للنبي صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، فأرسل بها إلي فرحت فيها، فرأيت في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الغضب وقال: "إني لم أبعث بها إليك لتلبسها"؛ فقسمتها بين نسائي."ط، حم، خ، م ن وأبو عوانة والطحاوي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ اکید دومۃ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک جوڑا یا ریشم کا کپڑا ہدیہ میں بھیجا تو آپ نے وہ مجھے عطا کردیا اور فرمایا : اسے اپنی خواتین میں دوپٹے بناکربانٹ دینا۔ عبداللہ بن احمد فی زوائدہ، ابویعلی، حلیۃ الاولیاء
41874- عن علي: إن أكيدر دومة أهدى للنبي صلى الله عليه وسلم حلة أو ثوب حرير، فأعطانيه وقال: "شققه خمرا بين النسوة"."عم، ع، حل".
tahqiq

তাহকীক: