কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৮৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٥۔۔۔ (مسندعلی) فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا پکڑا پھر دونوں ہاتھ بلند کرکے فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ مسنداحمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجۃ والطحاوی والشاسی، ابن حبان، بیہقی ضیاء
41875- مسند علي قال: أخذ النبي صلى الله عليه وسلم حريرا فجعله في يمينه، فأخذ ذهبا فجعله في شماله، ثم رفع بهما يديه وقال: "إن هذين حرام على ذكور أمتي حل لإناثهم"."حم، د، ن، هـ والطحاوي والشاشي، حب، ق، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منقش جوڑاپہنایاجس سے میں بہت خوش ہوا آپ نے جب اسے میرے بدن پر دیکھا تو فرمایا : میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہ دیا تھا تو میں گھر واپس آیا اور فاطمہ (رض) کو اس کا ایک گوشہ دے دیاگویا وہ میرے ساتھ ساتھ لپٹ رہی تھیں تو میں نے اس کے دوٹکڑے کردیئے انھوں نے کہا : تمہارے ہاتھ خاک آلودہوں یہ تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پہننے سے منع کیا ہے تم پہن لو اور اپنی رشتہ دار خواتین کو پہنادو۔ ابویعلی والطحاوی
41876- عن علي قال كساني رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء فرحت فيها، فلما رآها علي قال: "إني لم أكسكها لتلبسها"، فرجعت فأعطيت فاطمة ناحيتها كأنها تطويها معي، فشققتها باثنين فقالت: تربت يداك! ماذا صنعت؟ قلت: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبسها فالبسي واكسي نساءك."ع والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : علی ! جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہوں اور جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے ناپسند کرتا ہوں زردرنگ کا کپڑانہ پہننا نہ سونے کی انگوٹھی اور نہ منقش کپڑاپہننا اور نہ سرخ گدیلے پر سوار ہونا کیونکہ یہ شیطان ابلیس کے گدیلے ہیں۔ ابواسحاق ابرھیم بن عبدالصمد الھاشمی فی امالیۃ
41877- عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا علي! إني أحب لك ما أحب لنفسي وأكره لك ما أكره لنفسي، لا تلبس المعصفر، ولا تتختم بالذهب، ولا تلبس القسبي، ولا تركبن على مثيرة حمراء فإنها من مياثر إبليس لعنه الله"."أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الصمد الهاشمي في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دنیا میں ریشم پہننے والا آخرت میں ریشم سے محروم ہوگا
٤١٨٧٨۔۔۔ ابن عامر سے روایت ہے کہ میرے پاس آنے کی حضرت علی (رض) نے اجازت طلب کی اور میرے نیچے ریشم کے گدیلے تھے آپ نے فرمایا : ابن عامر ! تم اچھے آدمی ہو اگر تم ان لوگوں میں سے نہ ہوتے جن کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے اپنی پاک چیزیں اپنی دینوی زندگی میں ختم کردیں اللہ کی قسم ! اگر میں جھاؤ کے انگاروں پر لیٹوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں ان پر لیٹوں۔ سعید بن منصور، بیہقی
41878- عن ابن عامر قال: استأذن علي علي وتحتي مرافق من حرير، فقال: نعم الرجل أنت يا ابن عامر! إن لم تكن ممن قال الله عز وجل {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} والله! لأن أضطجع على جمر الغضا أحب إلي من أن أضطجع عليها."ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٧٩۔۔۔ ابوبردہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منقش لباس اور ریشمی گدیلے سے منع فرمایا ہے ابوبردہ نے حضرت علی (رض) سے کہا : منقش کپڑا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : مصریاشام کے وہ لکیر دار کپڑے جن میں لیموں کی صورتیں ریشم سے بنائی جاتی ہیں۔ گدیلاوہ چیز ہے جنہیں عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے چھوردارچادر کی بناتی ہیں جنہیں وہ سواریوں پر رکھتے ہیں۔ مسلم بخاری
41879- عن أبي بردة عن علي قال: نهاني النبي صلى الله عليه وسلم عن القسية والميثرة، قال أبو بردة: لعلي: ما القسية؟ قال: ثياب من الشام أو مصر مضلعة فيها حرير أمثال الأترج، والميثرة شيء كانت تصنعه النساء لبعولتهن أمثال القطائف يضعونها على الرحال."م، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٨٠۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیربن عوام اور عبدالرحمن بن عوف (رض) کو ان کے جسموں پرخارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی۔ ابن جریر فی تھذیبہ
41880- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم رخص للزبير بن العوام في الحرير ولعبد الرحمن بن عوف لحكة كانت بجلودهما."ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٨١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زردرنگ کپڑے ریشمی منقش کپڑے سونے کی انگوٹھی اور ریشم سے سلے کپڑے سے منع فرمایا پھر فرمایا : تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ بیہقی فی الشعب وابن النجار
41881- عن علي قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المعصفر، وعن القسي، وخاتم الذهب، وعن المكفف بالديباج، ثم قال: واعلم أني لك من الناصحين."هب وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٨٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ریشم کی کسی چیز سے فائدہ اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن عساکر
41882- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يستمتع من الحرير بشيء."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٨٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوریشمی چادریں اوڑھائیں تو میں انہی میں باہرنکلا تاکہ لوگ مجھے دیکھیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ لباس پہنایا ہے۔ آپ نے جب اسے میرے بدن پر دیکھا تو فرمایا انھیں اتاردو، پھر انھوں نے ایک حصہ فاطمہ (رض) کودے دیا اور آدھا حصہ دوسری خواتین کودے دیا۔ رواہ ابن عساکر
41883- عن علي قال: كساني النبي صلى الله عليه وسلم بردين من حرير، فخرجت فيهما إلى الناس لينظروا إلى كسوة النبي صلى الله عليه وسلم علي، فرآها علي فأمر بنزعهما، فأعطى أحدهما فاطمة وشق الآخر باثنين لبعض نسائه."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش لباس کی ممانعت
٤١٨٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک ٹٹولایا گیا جس پر ریشم کی گدی تھی جب آپ نے رکاب میں پاؤں رکھا اور زین کو پکڑاتو آپ کا ہاتھ پھسل گیا پھر فرمایا : یہ کیا ہے لوگوں نے کہا : ریشم ہے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم میں اس پر سوار نہیں ہوں کا۔ بیہقی فی الشعب
41884- عن علي أنه أتي ببرذون عليه صفة ديباج، فلما وضع رجليه في الركاب وأخذ بالسرج زلت يده عنه، فقال: ما هذا؟ قالوا: ديباج، قال: لا والله لا أركبه."هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٨٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نے ایک جوڑا بھیجا جس میں ریشم کی سلائی تھی اس کا تانا ریشم کا تھا یابانا تو آپ نے وہ میری طرف بھیج دیا میں آپ کے پاس آیا میں نے عرض کی : یارسول اللہ میں اسے کیا کروں کیا اسے پہن لوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں لیکن اسے فاطمات کے درمیان دوپٹے بناکر تقسیم کردو۔ ابن ماجۃ وہ تین فاطمۃ ہیں، فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ بنت اسد والدہ حضرت علی (رض) فاطمۃ بنت حمزۃ بن عبدالمطلب۔
41885- عن علي قال: أهدي للنبي صلى الله عليه وسلم حلة مكفوفة بحرير إما سداها وإما لحمتها، فأرسل بها إلي، فأتيته فقلت: يا رسول الله! ما أصنع بها؟ ألبسها؟ قال: "لا ولكن اجعلها خمرا بين الفواطم"."هـ" "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٨٦۔۔۔ (ازمسندحذیفہ بن یمان) عمروبن مرۃ سے روایت ہے فرمایا :: کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ایک شخص پر سبزلباس دیکھا جسے دبیزریشم کے بٹن لگے تھے تو آپ نے فرمایا : تم نے اپنی گردن میں شیطان کے بارڈال رکھے ہیں۔ رواہ ابن جریر
41886- من مسند حذيفة بن اليمان عن عمرو بن مرة قال: رأى حذيفة رجلا عليه طيلسان فيه أزرار من ديباج فقال: تتقلد قلائد الشيطان في عنقك."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٨٧۔۔۔ اسی طرح سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نے حضرت حسان (رض) پر ریشمی قمیض دیکھی تو حکم دیاتو اسے اتاردیا گیا اور لڑکیوں پر رہنے دی۔ رواہ ابن جریر
41887- أيضا عن سعيد بن جبير أن حذيفة رأى على حسان قميصا من حرير، فأمر فنزع عنه، وترك على الجواري."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٨٨۔۔۔ قیس بن النعمان السکونی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک لشکرنکلا جس کے متعلق اکید ردومۃ الجندل نے سناتو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کی یارسول اللہ ! آپ کا لشکر روانہ ہوچکا ہے مجھے اپنی زمین اور مال کا ڈر ہے تو آپ میرے لیے ایک خط لکھ دیں تاکہ وہ میری کسی چیز سے چھیڑچھاڑنہ کریں کیونکہ میں اپنے اوپرواجب حق کا اقرار کرتا ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے ایک خط لکھ دیا پھر اکیدر نے ایک ریشمی قبانکالی جو سلی ہوئی تھی جو اسے کسرینے پہنائی تھی وہ کہنے لگا یارسول اللہ یہ میری طرف سے قبول فرمایئے میں نے اسے آپ کے لیے ہدیہ کیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اپنی قباواپس لے جاؤ کیونکہ جو دنیا میں اسے پہنے گا وہ اس سے آخرت میں محروم ہوگا چنانچہ وہ اسے واپس لے گیا پھر وہ اپنے گھر میں آیا اور اس کے دل میں یہ بات تھی کہ اس کا ہدیہ واپس کردیا گیا تو اس نے کہا : یارسول اللہ ! ہم ایسے گھروالے ہیں جن پر ان کا ہدیہ واپس کرنا گراں گزرتا ہے لہٰذا مجھ سے میرا ہد یہ قبول فرمایئے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤیہ عمربن الخطاب کودے دو وہ بولا انھوں نے جو کچھ آپ نے کہا سن لیا ہے تو آپ روپڑے اور انھیں گمان ہوا کہ شاید انھیں کوئی چیز محسوس ہوئی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور عرض کی : یارسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم ہوا ہے آپ نے اس کے بارے ارشاد فرمایا اور پھرا سے میری طرف بھیج دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ نے اپنا دست مبارک یاکپڑا اپنے دہن پر رکھ لیا پھر فرمایا : میں نے پہننے کے لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا بلکہ اسے بیچ کر اس کی قیمت سے امداد حاصل کرو۔ رواہ ابن عساکر
41888- عن قيس بن النعمان السكوني قال: خرجت خيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع بها أكيدر دومة الجندل، فانطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إن خيلك انطلقت وإني خفت على أرضي ومالي، فاكتب لي كتابا لا يعرضوا من شيء لي بإني مقر بالذي علي من الحق؛ فكتب له رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم إن أكيدر أخرج قباء من ديباج منسوج مما كان كسرى يكسوهم فقال: يا رسول الله! اقبل مني هذا، فإني أهديته لك، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ارجع بقبائك، فإنه ليس يلبس هذا في الدنيا إلا حرمه" - يعني في الآخرة، فرجع به حتى أتى منزله وإنه وجد في نفسه أن يرد عليه هديته فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! إنا أهل بيت يشق علينا أن ترد علينا هديتنا فاقبل مني هديتي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "انطلق فادفعه إلى عمر بن الخطاب" - قال: وقد كان قد سمع ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبكى فدمعت عيناه، فظن أنه قد لحقه شيء، فانطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: يا رسول الله! أحدث في أمر قلت في هذا القباء ما قلت ثم بعثت به إلي! فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى وضع يده أو ثوبه على فيه ثم قال: "ما بعثت به إليك لتلبسه ولكن تبيعه وتستعين بثمنه"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٨٩۔۔۔ جبیر بن صخر خارص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ حضرت خالد بن سعید بن العاص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں یمن میں تھے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو وہ یمن میں تھے اور آپ کی وفات کے ایک ماہ بعد آئے ان پر ایک ریشم کی اچکن تھی وہ حضرت عمر (رض) سے ملے تو حضرت عمر (رض) نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو بآوازبلند کہا : اس کی اچکن پھاڑ دو وہ ریشم پہن کر ہمارے قافلہ میں سلامت رہے ؟ چنانچہ لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کی اچکن پھاڑدی ۔ سیف، ابن عساکر
41889- عن جبير بن صخر خارص عن أبيه قال: كان خالد بن سعيد بن العاص باليمن زمن النبي صلى الله عليه وسلم، وتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بها، وقدم بعد وفاته بشهر وعليه جبة ديباج فلقي عمر، فصاح عمر بمن يليه: مزقوا عليه جبته، أيلبس الحرير وهو في رحالنا في السلم! فهجموا فمزقوا عليه جبته."سيف، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٠۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس گزرا اور اس کی قمیض پر ریشم کی کلی تھی تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : اگر اس کی جگہ برص ہوئی تو بہترہوتی۔ ابن جریر فی تھذیہ
41890- عن عكرمة قال: مر رجل بأبي هريرة وعلى قميصه لبنة حرير فقال أبو هريرة: لو كانت برصا لكانت خيرا."ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩١۔۔۔ سہل بن الحنظلیہ عبشمی سے روایت ہے فرمایا : کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ خریم اسدی اچھا آدمی ہے اکر اس کے پئے زیادہ لمبے اور اس کے تہبند کی گھسیٹ نہ ہوئی، حضرت خریم (رض) کو جب اس بات کا پتہ چلاتو چھری لے کر آدھے کان پئے کاٹ دیئے اور نصف پنڈلی تک تہبند بلند کرلیا۔ مسنداحمد بخاری فی تاریخہ، ابن عساکر
41891- عن سهل بن الحنظلية العبشمى قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: نعم الرجل خريم الأسدي لولا طول جمته وإسبال إزاره! فبلغ ذلك خريما فأخذ شفرة فقطع جمته إلى أنصاف أذنيه، ورفع إزاره إلى أنصاف ساقيه."حم، خ في تاريخه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٢۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نئی قمیض پہنی پھر مجھے آوازدی کے چھری لاؤ کہنے لگے : بیٹا ! میری قمیض کی آستین کھینچو اور اپنا ہاتھ میری انگلیوں کے کنارے پر رکھو جو فالتوہوا سے کاٹ دوتو میں نے اس قمیض سے دونوں آستینوں سے کنارے کاٹ دیئے لیکن اس طرح آستین کا خلا آگے پیچھے ہوگیا میں نے کہا : اباجان ! اگر آپ انھیں قمیض کے ساتھ برابر کرلیتے تو بہتر تھا آپ نے فرمایا : بیٹا اسے رہنے دو ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ حلیۃ الاولیاء
41892- عن ابن عمر قال: لبس عمر قميصا جديدا ثم دعاني بشفرة ثم قال: مد يا بني كم قميصي فالزق يدك بأطراف أصابعي ثم اقطع ما فضل عنها، فقطعت منها الكمين من الجانبين جميعا، فصار فم الكم بعضه فوق بعض، فقلت: يا أبت! لو سويت بالقميص! فقال: دعه يا بني! هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل."حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٣۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : حضرت عثمان (رض) مکہ حج کرنے گئے تو محمد بن جعفر بن ابی طالب کی بیوی ان کے پاس گئی تو انھوں نے اس کے ساتھ شب باشی کی اور صبح کے وقت چل پڑے ان پر خوشبو کی مہک تھی اور ایک زردرنگ کالحاف تھا حضرت عثمان (رض) نے جب انھیں دیکھا تو انھیں ڈانٹا اور اف اف کرنے لگے اور فرمایا : کیا تم زردرنگ کا کپڑاپہنتے ہو جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے تو حضرت علی (رض) نے ان سے کہا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور تمہیں منع کیا ہے اسے منع کیا۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، وابن منیع، ابویعلی بیہقی وحسن وقال البیہقی اسنادہ غیر قوی
41893- عن أبي هريرة قال: راح عثمان إلى مكة حاجا، فدخلت على محمد بن جعفر بن أبي طالب امرأته فبات معها حتى أصبح ثم غدا وعليه ريح الطيب وملحفة معصفرة مقدمة، فلما رآه عثمان انتهره وأفف وقال: أتلبس المعصفر وقد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال له علي ابن أبي طالب: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ينهه وإياك وإنما نهاني."ش، حم وابن منيع، ع، ق - وحسن، وقال ق: إسناده غير قوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٤۔۔۔ خرشہ بن الحر سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عمربن الخطاب (رض) کو دیکھا کہ ان کے پاس سے ایک نوجوان گزراجس کا تہبند گھسٹ رہا تھا اور وہ اسے گھسیٹے جارہا تھا تو آپ نے اسے بلاکرکہا : کیا عورتوں کی مخصوص بیماری حیض سے ہو ؟ اس نے کہا : امیہ المومنین ! کیا مرد کو بھی حیض آتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تو کیا وجہ ہے کہ تم نے اپنا ازار اپنے پیروں پر ڈال رکھا ہے پھر چھری منگوانی اور اس کا ازارمٹھی میں پکڑکرٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا خرشہ فرماتے ہیں : گویا میں دھاگوں کو اس کی ایڑیوں پر دیکھ رہاہوں۔ سفیان بن عینیۃ فی جامعہ
41894- عن خرشة بن الحر قال: رأيت عمر بن الخطاب ومر به فتى قد أسبل إزاره وهو يجره، فدعاه فقال له: أحائض أنت؟ قال: يا أمير المؤمنين! وهل يحيض الرجل؟ قال: فما بالك قد أسبلت إزارك على قدميك، ثم دعا بشفرة ثم جمع طرف إزاره فقطع ما أسفل الكعبين؛ وقال خرشة: كأني أنظر إلى الخيوط على عقبيه."سفيان بن عيينة في جامعه".
tahqiq

তাহকীক: