কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৯০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٥۔۔۔ حارث بن میناء سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) اکثر مجھے بلاتے میں آپ کے پاس مشرکین کی ایک قباء لایا آپ نے فرمایا : اس سونے کو یہاں سے اتاردو۔ رواہ البیہقی
41895- عن الحارث بن ميناء قال: كان عمر لا يزال يدعوني، فأتى بالقباء من أقبية الشرك فقال: انزع هذا الذهب منها."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٦۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک نوجوان آیا آپ نے دیکھا کہ وہ اپنا تہبند گھسیٹ رہا ہے فرمایا : بھتیجے ! اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ تمہارے رب کی زیادہ پرہیزگاری اور تمہارے کپڑے کی زیادہ حفاظت کا ذریعہ ہے۔ ابن ابی شیبہ، بیہقی
41896- عن ابن مسعود قال: دخل شاب على عمر فرآه يجر إزاره فقال: يا ابن أخي! ارفع إزارك فإنه أبقى لربك وأتقى لثوبك."ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٧۔۔۔ خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) چھری منگوائی اور ایک شخص کا تہبند ٹخنوں سے اوپر اٹھایا پھر جو ٹخنوں سے نیچے تھا اسے کاٹ دیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41897- عن خرشة أن عمر دعا بشفرة فرفع إزار رجل عن كعبيه ثم قطع ما كان أسفل من ذلك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٨۔۔۔ ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے عتبہ بن فرقہ کو لمبی آستینوں والی قمیض پہنے دیکھا تو چھری منگوائی تاکہ ان کی انگلیوں سے فالتوکپڑاکاٹ دیں تو وہ کہنے لگے : امیرالمومنین ! میں خود کرلوں گا، میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کے سامنے اسے کاٹیں تو آپ نے چھوڑدیا۔ رواہ ابن ابی شیبہ
41898- عن أبي عثمان النهدي أن عمر بن الخطاب رأى على عتبة بن فرقد قميصا طويل الكم فدعا بشفرة ليقطعه من عند أطراف أصابعه، فقال: أنا أكفيكه يا أمير المؤمنين! إني أستحيي أن تقطعه عند الناس، فتركه."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٨٩٩۔۔۔ ابومجلز سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کا خط آیا : شلواریں پہننا چھوڑ دو اور تہبند باندھا کرو۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41899- عن أبي مجلز قال: جاء كتاب عمر أن: ألقوا السراويلات والبسوا الأزر."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں ن ے درندوں کی کھالیں بچھا نے اور پہننے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
41900- عن عمر أنه نهى تفترش جلود السباع أو تلبس."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠١۔۔۔ ابن سیرین سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو لومڑی کی کھال کی ٹوپی پہنے دیکھا حکم دیاتو اسے پھاڑدیا گیا۔ رواہ عبدالرزاق
41901- عن ابن سيرين قال: رأى عمر بن الخطاب على رجل قلنسوة من ثعالب فأمر بها ففتقت. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٢۔۔۔ ابن سرین سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کے سر پر بلیوں کی کھال سے بنی ٹوپی دیکھی تو اس کو پکڑکرپھاڑدیا اور فرمایا : میرے گمان میں یہ مردار ہے۔ رواہ عبدالرزاق
41902- عن ابن سيرين قال: رأى عمر بن الخطاب على رجل قلنسوة فيها من جلود الهرر فأخذها فخرقها وقال ما أحسبه إلا ميتة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کروجب کسی کو ایک ہی کپڑاملے تو اسے تہبندبنالے۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ
41903- عن عمر قال: لا تشبهوا باليهود، إذا لم يجد أحدكم إلا ثوبا واحدا فليتزره."عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٤۔۔۔ ابوامامہ سے روایت ہے فرمایا : ابن العاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے اپنا تہبند گھسٹیتے اور بال بڑھاتے گزرے تو آپ نے فرمایا : ابن العاص بہترین آدمی ہے اگر وہ اپنا ازار اوپر اٹھالے اور اپنے بال کم کردے فرماتے ہیں انھوں نے اپنا سر منڈا کر بال کم کردیئے اور گھٹنوں تک تہبند اوپر کرلیا۔
41904- عن أبي أمامة قال: مر ابن العاص على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مسبل إزاره مسبل جمته، فقال: "نعم الفتى ابن العاص لو شمر من مئزره وقصر من لمته"! قال: فحلق رأسه وقصر، ورفع إزاره إلى الركبة. ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٥۔۔۔ ابوالشیخ ھنائی سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت سے کہا : جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چیتوں کی زینوں پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ رواہ عبدالرزاق
41905- عن أبي شيخ الهنائي أن معاوية قال لنفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: تعلمون أن نبي الله صلى الله عليه وسلم نهى عن سروج النمور أن يركب عليها؟ قالوا: نعم."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٦۔۔۔ (مسندعبداللہ بن عمر) میں ایک رات باہرنکلا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حفصہ (رض) کے صحن میں تھے آپ کے پیچھے سے آرہا تھا آپ نے تہبند کی کھسیٹن سنی تو فرمایا : تہبند اوپر کرلو ! میں نے عرض کی یا نبی اللہ ! وہ تو بلند ہے فرمایا : اپنا ازاراٹھالو ! تین بار فرمایا : کیونکہ جو تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹتا ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ الخطیب فی المتفق والمفترق
41906- مسند عبد الله بن عمر: خرجت ليلة ورسول الله صلى الله عليه وسلم بفناء حفصة، فأقبلت من خلفه، فسمع قعقعة الإزار فقال: "ارفع الإزار"! قلت: يا نبي الله إنه مرتفع! قال: "ارفع إزارك - ثلاثا - فإنه من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة"."الخطيب في المتفق والمفترق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشم کی فاطمات میں تقسیم
٤١٩٠٧۔۔۔ (مسندابی عمیر) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درندوں کی کھالیں بچھانے سے منع فرمایا ہے۔ ابن ابی شیبۃ، مسنداحمد والدارمی، ابوداؤد ترمذی نسائی وابن الجارود، ابن عساکر، طبرانی فی الکبیر ورواہ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ عن ابی الملیح مرسلا، قال ترمذی : وھواصح
41907- مسند أبي عمير نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تفترش جلود السباع."ش، حم، والدارمي، د ت، ن، وابن الجارود، كر، طب؛ ورواه عب، ش عن أبي المليح مرسلا؛ قال ت: وهو أصح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩٠٨۔۔۔ سائب بن یزید سے روایت ہے فرمایا میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے عمامہ کے شملہ کو پیچھے لٹکایا تھا۔ رواہ البیہقی
41908- عن السائب بن يزيد قال: رأيت عمر بن الخطاب قد أرخى عمامته من خلفه."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩٠٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : غدیر خم کے روز مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عمامہ باندھا اور اسے میرے پیچھے لٹکایا اور یاک روایت میں ہے اور اس کے شملے میرے کندھوں پر لٹکاھوں پر لٹکادیئے پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بدروحنین کے دن جن فرشتوں کے ذریعہ میری مدد فرمائی انھوں نے اس طرح عمامہ باندھ رکھے تھے اور فرمایا : عمامہ کفرو ایمان کے درمیان رکاوٹ ہے اور ایک روایت ہے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان ۔ اور ایک شخص کو دیکھا کہ وہ فارسی کمان سے تیر پھینک رہا تھا فرمایا اس سے پھینکتے رہو پھر ایک عربی کمان دیکھی تو فرمایا : انھیں اختیار کرو اور نیزے والے تیرا ستعمال کرو کیونکہ اس کی ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے شہروں میں قوت دے گا اور تمہاری مدد کرے گا۔ ابن ابی شیبۃ ابوداؤد طیالسی وابن منیع، بیہقی فی السنن کلام ذخیرۃ الحفاظ ٣٥٥٨۔
41909- عن علي قال: عممني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم بعمامة فسدلها خلفي - وفي لفظ: فسدل طرفيها على منكبي - ثم قال: "إن الله أمدني يوم بدر وحنين بملائكة يعتمون هذه العمة؛ وقال: إن العمامة حاجزة بين الكفر والإيمان - وفي لفظ: بين المسلمين والمشركين". ورأى رجلا يرمي بقوس فارسية فقال: "ارم بها"! ثم نظر إلى قوس عربية فقال: "عليكم بهذه وأمثالها ورماح القنا، فإن بهذه يمكن الله لكم في البلاد ويؤيد لكم النصر"."ش، ط، وابن منيع، هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩١٠۔۔۔ واثلہ سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر سیاہ عمامہ دیکھا۔ ابن عسا کر وقال منکر، حاکم، کلامــ:۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٣٠٣١۔
41910- عن واثلة قال: رأيت على رسول الله صلى الله عليه وسلم عمامة سوداء."كر وقال: منكر؛ ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩١١۔۔۔ (از مسند عبداللہ بن الشخیر) عبدالرحمن ابن عدی الجرانی اپنے بھائی عبدالاعلی بن عدی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا پھرا نہیں عمامہ باندھا اور اس کا شملہ ان کے کندھے کے پیچھے لٹکادیا پھر فرمایا : اس طرح عمامہ باندھا کرو کیونکہ عمامہ اسلام کی نشانی ہے اور یہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان رکاوٹ ہے۔ رواہ ائدیلمی
41911- من مسند عبد الله بن الشخير عن عبد الرحمن ابن عدي البحراني عن أخيه عبد الأعلى بن عدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا علي بن أبي طالب فعممه وأرخى عذبة " العمامة من خلفه ثم قال: "هكذا فاعتموا! فإن العمامة سيما الإسلام، وهي حاجزة بين المسلمين و المشركين" ."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩١٢۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو سحاب عمامہ باندھا اور فرمایا : علی عمامے عربوں کے تاج ہیں اور پٹکے سے کمروگھٹنوں کو باندھ کر احتباء کرنا ان کی دیواریں ہیں مسجد میں مومن کا بیٹھنا سرحد کی حفاظت ہے۔ رواہ الدیلمی
41912- عن ابن عباس قال: لما عمم رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا بالسحاب قال له: "يا علي! العمائم تيجان العرب، والاحتباء حيطانها، وجلوس المؤمن في المسجد رباطه"."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩١٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں اپنے ہاتھ سے آگے عمامہ باندھا اور اس کا شملہ ان کے کندھوں پیچھے سے آگے لٹکادیا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اسے پیچھے کرلوتو انھوں نے پیچھے کرلیا پھر فرمایا : آگے کرلوتو انھوں نے آگے کرلیا پھر اپنے صحابہ (رض) کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا : فرشتوں کے تاج اس طرح ہوتے ہیں۔ ابن شاذان فی مشیختہ
41913- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم عممه بيده فذنب العمامة من ورائه ومن بين يديه، ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم، "أدبر"! فأدبر، ثم قال له: "أقبل"! فأقبل، وأقبل على أصحابه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "هكذا تكون تيجان الملائكة". "ابن شاذان في مشيخته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ وپگڑی کے آداب
٤١٩١٤۔۔۔ ابن ابی زرین سے روایت ہے فرمایا : میں عید کے روز حضرت علی (رض) کے پاس تھا کہ انھوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا اور اپنے عمامہ کو پیچھے سے لٹکا یا ہواتھالوگوں نے ابھی ایسا کررکھا تھا۔ بیہقی فی الشعب
41914- عن ابن أبي رزين قال شهدت علي بن أبي طالب يوم عيد معتما قد أرخى عمامته من خلفه والناس مثل ذلك."هب".
tahqiq

তাহকীক: