কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪১৯২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تا پہننا
٤١٩١٥۔۔۔ احنف بن قیس سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو توں کو نیا کرلیا کرو کیونکہ یہ مردوں کی پاز یبیں ہیں۔ وکیع فی الغرر
41915- عن الأحنف بن قيس قال: قال عمر بن الخطاب: استجيدوا النعال فإنها خلاخيل الرجال."وكيع في الغرر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تا پہننا
٤١٩١٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے ہڈی سے استنجاء کرنے سے یا اس چیز سے جو جانوروں کے پیٹ سے نکلتی ہے یعنی گوبر سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن النجار
41916- عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يتنعل أحدنا وهو قائم، أو يستنجي بعظم أو بما يخرج من بطن."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تا پہننا
٤١٩١٧۔۔۔ یزید بن ابی زیاد مزبنہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے حضرت علی (رض) کو ایک جوتے میں چلتے اور کھڑے ہو کرپیتے دیکھا۔ رواہ ابن جریر، یعنی کبھی کبھار مستقل عادت نہ تھی کہ حدیث کی مخالفت لازم آئے۔
41917- عن يزيد بن أبي زياد عن رجل من مزبنة أنه رأى عليا يمشي في نعل واحدة ويشرب وهو قائم."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو تا پہننا
٤١٩١٨۔۔۔ (مسندعلی) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوتے کا تسمہ جب ٹوٹ جاتا تو اسے ہاتھ میں اٹھاکر ایک میں چل لیتے تھے اور جب اس کا تسمہ مل جاتا توا سے پہن لیتے۔ طبرانی فی الاوسط
41918- مسند علي كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا انقطع شسع نعله مشى في نعل واحدة والأخرى في يده حتى يجد شسعها فيلبسها."طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چال چلن
٤١٩١٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے نوجوان کو مٹکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : منک مٹک کر چلنا اللہ تعالیٰ کی راہ جہاد کے علاوہ مکروہ ہے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کی تعریف کی ہے فرمایا : رحمن کے بندے جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو۔ الامدی فی شرح دیوان الاعشی
41919- عن عمر أنه رأى غلاما يتبختر في مشيه فقال له: إن البخترية مشية تكره إلا في سبيل الله، وقد مدح الله أقواما فقال {وعباد الرحمن الذين يمشون في الأرض هونا} فاقصد في مشيك."الآمدي في شرح ديوان الأعشى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چال چلن
٤١٩٢٠۔۔۔ سلیم بن حنظلۃ سے روایت ہے فرمایا : کہ ہمارے پاس ابی بن کعب (رض) تشریف لائے تاکہ ہم ان سے باتیں کریں جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم اٹھ کر ان کے پیچھے چلنے لگے، اتنے میں حضرت عمر بھی ان سے آملے اور فرمایا : کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ متبوع جس کی پیروی کی جائے کا فتنہ تابع پیروی کرنے والے کے لیے ذلت کا باعث ہے۔ ابن ابی شیبۃ ، خطیب فی الجامع
41920- عن سليم بن حنظلة قال: أتينا أبي بن كعب لنتحدث عنده فلما قام قمنا نمشي معه فلحقه عمر فقال: أما ترى فتنة للمتبوع ذلة للتابع."ش، خط في الجامع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چال چلن
٤١٩٢١۔۔۔ ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع کی طرف نکلے تو آپ کے صحابہ (رض) آپ کے پیچھے ہولئے آپ چلتے چلتے ٹھہرگئے اور انھیں حکم دیا کہ وہ آپ سے آگے چلیں پھر آپ ان کے پیچھے چلے آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا : میں نے تمہارے جوتوں کی آواز سنی تو مجھے خوف محسوس ہوا کہ میرے دل میں کہیں تکبر پیدانہ ہوجائے۔ الدیلمی وسندہ ضعیف
41921- عن أبي أمامة أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج إلى البقيع فتبعه أصحابه فوقف وأمرهم أن يتقدموا ثم مشى خلفهم، فسئل عن ذلك، فقال: "إني سمعت خفق نعالكم فأشفقت أن يقع في نفسي شيء من الكبر"."الديلمي، وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑوں کی لمبائی کا ذکر کیا فرمایا : ایک بالشت لمباکر لیں انھوں نے کہا بالشت کم ہے اس سے بےپردگی ہوتی ہے آپ نے فرمایا : ایک ہاتھ وہ کہنے لگیں ان کے پاؤں ظاہر ہوجاتے ہیں آپ نے فرمایا : ایک ہاتھ کافی ہے اس سے زیادہ نہ کریں۔ نسائی والبزاروفیہ زید العمی ضعیف
41922- عن عمر قال: ذكر نساء النبي صلى الله عليه وسلم ما يدلين من الثياب، قال: يدلين شبرا، فقلن: شبر قليل تخرج منه العورة، قال: فذراعا، قلن: تبدو أقدامهن! قال: ذراعا، لا يزدن على ذلك."ن والبزار، وفيه زيد العمى ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٣۔۔۔ ابوقلابہ سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) اپنی خلافت میں کسی لونڈی کو دوپٹہ اوڑھنے نہیں دیتے تھے اور فرماتے : دوپٹے تو آزاد عورتوں کے لیے ہیں تاکہ انھیں تکلیف نہ دی جائے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41923- عن أبي قلابة قال: كان عمر بن الخطاب لا يدع في خلافته أمة تقنع، ويقول: إنما القناع للحرائر لكي لا يؤذين."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : بڑی چادریں آزاد مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41924- عن عمر قال: إنما الجلباب على الحرائر من نساء المؤمنين."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٥۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) نے ہماری ایک باندی کو دیکھا جس نے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا آپ نے اسے درہ مارا اور فرمایا : آزاد عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرودو پٹہ اتاردو۔ ابن ابی شیبۃ وعبدبن حمید
41925- عن أنس قال: رأى عمر أمة لنا متقنعة فضربها وقال: لا تشبهي بالحرائر، ألقي القناع."ش وعبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٦۔۔۔ صفیہ بنت ابی عبید سے روایت ہے فرمایا : ایک عورت دوپٹہ اوڑھے چادرلپیٹے باہر نکلی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ عورت کون ہے ؟ کسی نے کہا : یہ فلاں کی لونڈی ہے جوان کے گھر کا آدمی تھا تو حضرت عمر (رض) نے حضرت حفصہ (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ کس وجہ سے تم نے اس باندی کو دوپٹہ اوڑھا یا اور آزاد عورتوں کی طرح چادر پہنائی یہاں تک کہ میں اس کے بارے میں شک میں پڑگیا میں تو اسے آزاد عورت سمجھ رہا تھا لونڈیوں کو آزاد عورتوں کے مشابہ نہ بناؤ۔ رواہ البیہقی
41926- عن صفية بنت أبي عبيد قالت: خرجت امرأة متخمرة متجلببة فقال عمر: من هذه المرأة؟ فقيل له: هذه جارية لفلان - رجل من بيته، فأرسل إلى حفصة: ما حملك على أن تخمري هذه الأمة وتجلببيها بالمحصنات حتى هممت أن أقع بها، لا أحسبها إلا من المحصنات! لا تشبهوا الإماء بالمحصنات."ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٧۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) کو لونڈیاں ہماری خدمت سر کے بال کھول کر کرتیں اور ان کی چھاتیاں حرکت کرتیں۔ رواہ البیہقی
41927- عن أنس بن مالك قال: كنا إماء عمر يخدمننا كاشفات عن شعورهن يضرب ثديهن."ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٨۔۔۔ مسیب بن دارم سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں درہ تھا آپ نے ایک لونڈی کے سرپر ماراجس سے اس کا دوپٹہ گرگیا اور فرمایا : کس وجہ سے لونڈی آزاد عورت کی مشابہت اختیار کرتی ہے۔ رواہ ابن سعد
41928- عن المسيب بن دارم قال: رأيت عمر وفي يده درة فضرب رأس أمة حتى سقط القناع عن رأسها، قال: فيم الأمة تشبه بالحرة."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٢٩۔۔۔ امام مالک سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی ایک باندی تھی جسے حضرت عمربن الخطاب (رض) نے دیکھا کہ اس نے آزادعورتوں کی وضع قطع بنا رکھی ہے آپ اپنی بیٹی کے گھر گئے اور فرمایا : میں تمہارے بھائی کی باندی کو کیوں دیکھ رہاہوں کہ وہ آزادعورتوں کی شکل وشباہت اختیار کئے ہوئے ہے ؟ آپ کو یہ بات انوکھی لگی۔ مالک
41929- مالك أن بلغه أن أمة كانت لعبد الله بن عمر رآها عمر بن الخطاب وقد تهيأت بهيئة الحرائر فدخل على ابنته فقال: لم أرى جارية أخيك وقد تهيأت بهيئة الحرائر؟ وأنكر ذلك عمر بن الخطاب."مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٣٠۔۔۔ (ازمسند خلاو انصاری) حضرت وحیہ بن خلینہ کلبی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہرقل کی طرف بھین جب وہ واپس آئے تو انھیں ایک قبطی چادردی اور فرمایا : اس کے ایک ٹکڑے کی قمیض بنالو اور ایک ٹکڑ اپنی بیوی کودے دیناوہ اس سے دوپٹہ بنانے کی جب آپ وہاں سے واپس چلے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو آوازدی اور فرمایا : اپنی بیوی کو حکم دینا کہ وہ اس کے نیچے قمیض بنالے تاکہ اس کا جسم نمایاں نہ ہو۔ ابن مندۃ، ابن عساکر
41930- من مسند خلاد الأنصاري عن دحية بن خليفة الكلبي أنه بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى هرقل، فلما رجع أعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم قبطية، قال: "اجعلى صديعها " قميصا وأعط صاحبتك صديعا تختمر به"، فلما ولى دعاه، قال: "مرها تجعل تحته شيئا لئلا يصف"."ابن منده، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٣١۔۔۔ (ایضا) حضرت دحیۃ کلبی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبطی چادریں آئیں تو مجھے ان میں سے ایک کپڑا عنایت فرمایا اور مجھ سے کہا : کہ اس کے دوٹکڑے کرلینا ایک ٹکڑے کی تم قمیض بنالینا اور ایک ٹکڑے کی تمہاری بیوی اوڑھنی بنالے گی جب میں واپس پلٹا تو آپ نے فرمایا : ارے ہاں اس سے کہنا اس کے نیچے کوئی کپڑالگا لے تاکہ اس کا جسم نمایاں نہ ہو۔ رواہ ابن عساکر
41931- أيضا عن دحية أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى بقباطي فأعطاني منه ثوبا فقال: "اصدعه صدعين: صدعا تجعله قميصا، وصدعا تختمر به امرأتك"، فلما وليت قال: "قل لها: تجعل تحته شيئا لا يصفها"."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٣٢۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیٹیوں کو ریشم وابریشم کے دوپٹے اوڑھاتے تھے۔ رواہ ابن النجار
41932- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يكسو بناته خمر القز والإبريسم."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کالباس
٤١٩٣٣۔۔۔ اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موٹی قبطی چادرپہنائی جو دحیہ کلبی (رض) کو ہدیہ میں ملی تھی میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنادی بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ وہ چادر نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنادی فرمایا : اس سے کہنا کہ اس کے نیچے قمیض بنالے کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس کا جسم نمایاں ہو۔ ابن ابی شیبۃ وابن سعد، مسنداحمد والرویانی والباوردی، طبرانی فی الکبیر، بیہقی، سعید بن منصور
41933- عن أسامة بن زيد قال: كساني رسول الله صلى الله عليه وسلم قبطية كثيفة مما أهدى دحية الكلبي، فكسوتها امرأتي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما لك لا تلبس القبطية"؟ قلت: يا رسول الله! إني كسوتها امرأتي، قال: "فأمرها فلتجعل تحتها غلالة، فإني أخشى أن تصف عظامها"."ش وابن سعد، حم والروياني والباوردي، طب، ق، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کی مباح صورتیں
٤١٩٣٤۔۔۔ قتادۃ سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے چاہا کہ ان چادروں سے روکیں جو پیشاب سے رنگی جاتی ہیں تو ایک آدمی کہنے لگا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ اسے پہنتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں تو وہ شخص بولا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے تو آپ نے اس بات کو ترک کردیا۔ رواہ عبدالرزاق
41934- عن قتادة قال: هم عمر بن الخطاب أن ينهى عن الحبرة من أصباغ البول فقال رجل: أليس قد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها؟ قال: بلى، قال الرجل: ألم يقل الله تعالى {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} ! فتركها."عب".
তাহকীক: