কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৯৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کی مباح صورتیں
٤١٩٣٥۔۔۔ قیس بن سعد سے روایت ہے فرمایا : ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تو آپ نے غسل کیا پھر ہم آپ کے پاس ایک چادرلائے جس پرورش کا رنگ لگا ہوا تھا گویا میں اس کی سلوٹ میں ورش کا نشان دیکھ رہاہوں۔ ابویعلی ، ابن عساکر
41935- عن قيس بن سعد قال: أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعنا له ماء فاغتسل، ثم أتيناه بملحفة ورسية فكأني أنظر إلى أثر الورس على عكنة ."ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کی مباح صورتیں
٤١٩٣٦۔۔۔ (مسنداحمربن جزء السدوسی) میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف ایک کپڑے میں کمر اور گھٹنوں کو باندھ کر احتباء کرتے دیکھا اس پر اور کپڑانہ تھا۔ الباوردی دارقطنی فی الافراد وھو ضعیف
41936- مسند أحمر بن جزء السدوسي رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم محتبيا في ثوب واحد ليس عليه غيره."الباوردي، قط في الأفراد، وهو ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کی مباح صورتیں
٤١٩٣٧۔۔۔ حضرت علی بن ربیعہ سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) تہبند کے نیچے جانگھیا پہنتے تھے سفیان بن عیینہ فی حامعہ ومسدد، معلوم ہوایہ کوئی تکبر اور غیرمسلمانہ طریقہ نہیں بلکہ ہمارے بڑوں کا عمل ہے عورت کے اعضاء تو ظاہر ہونے ہی نہیں چاہیے مردکاباقی جسم تو پردہ نہیں لیکن شرمگاہ کی ہیت نمایاں نہ ہوجولوگ باریک لباس پہنتے یاہلکا پھلکا لباس پہننے کے عادی ہیں اگر وہ مسلمان ہیں تو انھیں اس مذکورہ طریقہ پر عمل کرنا چاہیے۔
41937- عن علي بن ربيعة قال: كان علي يلبس التبان تحت الإزار."سفيان بن عيينة في جامعه ومسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رہائش کے آداب ۔۔۔ گھر کی تعمیر
٤١٩٣٨۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی کے گھر میں زکوۃ یہ ہے کہ وہ اس میں ایک مہمان خانہ بنائے۔ بیہقی فی الشعب
41938- عن أنس قال: إن زكاة الرجل في داره أن يجعل فيها بيت الضيافة."هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے حقوق
٤١٩٣٩۔۔۔ حضرت علی (رض) نے کچھ لوگوں کو ڈانٹتے ہوئے کہا : تمہیں کیا ہوا کہ تم لوگ اپنے صحنوں کو صاف نہیں کرتے۔ ابوعبید فی الغریب وقال : ھذا الحدیث قدیروی مرفوعا ولیس بذلک المثبت من حدیث ابرھیم بن زید المکی
41939- عن علي أنه قال لقوم وهو يعاتبهم: مالكم لا تنظفون عذراتكم."أبو عبيد في الغريب وقال: هذا الحديث قد يروى مرفوعا وليس بذلك المثبت من حديث إبراهيم بن زيد المكي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے حقوق کے ذیل میں
٤١٩٤٠۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب سرما آتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعرات کی رات گھر میں داخل ہوتے اور جب گرما آتا تو جمعرات کی رات نکلتے اور جب نیا کپڑاپہنتے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے اور دوگا نہ ادا کرتے اور پراناکپڑا کسی کو پہنادیتے۔ رواہ ابن عساکر
41940- عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جاء الشتاء دخل البيت ليلة الجمعة ، وإذا جاء الصيف خرج ليلة الجمعة ، وإذا لبس ثوبا جديدا حمد الله وصلى ركعتين ، وكسا الخلق (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے حقوق کے ذیل میں
٤١٩٤١۔۔۔ جب آپ گرما میں داخل ہوتے توجمعہ کی شب داخل ہو ناپسند کرتے اور سرما میں جمعہ کی رات گھر میں داخل ہو ناپسند کرتے۔ بیہقی فی الشعب، کلام۔۔۔ ضعیف الجامع ٤٤٣٠۔
41941 كان إذا ظهر في الصيف استحب أن يظهر ليلة الجمعة ، وإذا دخل البيت في الشتاء استحب أن يدخل ليلة الجمعة (هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے حقوق کا ادب
٤١٩٤٢۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے گھر سے باہر نکلتے تو : بسم اللہ التکلان علی اللہ ولاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتے۔ ابن السنی والدیلمی
41942- عن أبي هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا خرج من منزله: "بسم الله، التكلان على الله، لا حول ولا قوة إلا بالله"."ابن السني والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کے حقوق کا ادب
٤١٩٤٣۔۔۔ (مسندابن عوف) عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے فرمایا : حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو اس کے کونوں میں آیت الکرسی پڑھتے۔ رواہ ابن عساکر
41943- مسند ابن عوف عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال: كان عبد الرحمن بن عوف إذا دخل بيته قرأ في زواياه آية الكرسي."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٤۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) کو پتہ چلا کہ ان کے کسی بیٹے نے اپنی دیواروں پر پردے لٹکار کھے ہیں تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم اگر یہی بات رہی تو میں اس کے گھر سے جدا ہوجاؤں گا۔ ابن ابی شیبۃ وھناد
41944- عن ابن عمر قال: بلغ عمر أن ابنا له قد ستر حيطانه فقال : والله لئن كان كذلك لافرقن بيته (ش وهناد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٥۔۔۔ سلمہ بن کلثوم سے روایت ہے کہ حضرت ابوالدرداء (رض) نے ومشق میں ایک بلند عمارت بنائی حضرت عمربن الخطاب (رض) کو علم ہوا تو آپ اس وقت مدینہ میں تھے آپ نے انھیں لکھا : ام عویمر کے بیٹے عویمر، کیا تمہارے لیے فارس وروم کی عمارتیں کافی نہ تھیں کہ تم نے تعمیریں شروع کردی ہیں اے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم لوگ تو صرف رہنماہو۔ رواہ ابن عساکر
41945 عن سلمة بن كلثوم أن أبا الدرداء ابتنى بدمشق قنطرة ، فبلغ ذلك عمر بن الخطاب وهو بالمدينة ، فكتب إليه : يا عويمر ابن أم عويمر ! إما كان لك في بنيان فارس والروم ما يكفيك حتى تبني البنيانات ! وإنما أنتم يا أصحاب محمد قدوة (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٦۔۔۔ راشد بن سعد سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوا کہ حضرت ابوالدرداء (رض) نے حمص میں ایک کمرہ تعمیر کیا تو حضرت عمر (رض) نے انھیں لکھا امابعد ! عویمر ! دنیا کی زیب وزینت کے لیے جو کچھ روم نے بنایا ہے کیا کم ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ویرانی کا حکم دیا ہے۔ ھناد، بیہقی فی الزھد، بن عساکر
41946 عن راشد بن سعد قال : بلغ عمر أن أبا الدرداء ابتنى كنيفا بحمص ، فكتب إليه : أما بعد ، يا عويمر ! أما كانت لك كفاية فيما بنت الروم عن تزين الدنيا وقد أمر الله بخرابها

(هناد ، ق في الزهد ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٧۔۔۔ عاصم سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) مجھے سے کہتے تھے ہر خیانت کرنے والے پر دوامانت دار ہیں پانی اور مٹی۔ الدینوری
41947 عن عاصم قال : كان عمر يقول لي : على كل خائن أمينان : الماء والطين (الدينورى).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٨۔۔۔ یزید بن ابی حبیب سے روایت ہے فرمایا : مصر میں سب سے پہلے جس نے کمرہ بنایا وہ خارجہ بن حذافۃ ہیں جب حضرت عمر (رض) کو پتہ چلاتو آپ نے حضرت عمروبن العاص کو لکھا : السلام علیکم امابعد ! مجھے علم ہوا ہے کہ خارجہ بن حذافہ نے ایک کمرہ بنایا ہے خارجہ نے اس کا ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی پوشیدہ چیزوں کو دیکھے جب مرایہ خط تمہارے پاس پہنچے توا سے انشاء اللہ گرا دینا والسلام۔ ابن عبدالحکم
41948 عن يزيد بن أبي حبيب قال : أول من بنى غرفة بمصر خارجة بن حذافة ، فبلغ ذلك عمر بن الخطاب ، فكتب إلى عمرو بن العاص : سلام ، أما بعد فانه بلغني أن خارجة بن حذافة بنى غرفة ، ولقد أراد خارجة أن يطلع على عورات جيرانه ، فإذا أتاك كتابي هذا فاهدمها إن شاء الله - والسلام (ابن عبد الحكم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٤٩۔۔۔ عبداللہ رومی سے روایت ہے فرمایا : میں ام طلق کے گھر میں گیا تو ان کے گھر کی چھت بہت چھوٹی تھی میں نے کہا : ام طلق آپ کے گھر کی چھت کس قدر چھوٹی ہے تو انھوں نے فرمایا : بیٹا ! حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا : اپنے گھروں کو زیادہ اونچانہ کرو کیونکہ تمہارے برے دن وہ ہوں گے جن میں تم اپنے گھروں کو اونچام کروگے۔ ابن سعد، بخاری فی الادب
41949 عن عبد الله الرومي قال : دخلت على أم طلق بيتها فإذا سقف بيتها قصير فقلت : ما أقصر سقف بيتك يا أم طلق ! قالت : يا بني ! إن عمر بن الخطاب كتب إلى عماله : أن لا تطيلوا بناءكم ، فان شر أيامكم يوم تطيلون بناءكم (ابن سعد ، خ في الادب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر کی ممنوع چیزیں
٤١٩٥٠۔۔۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا : میں نے اپنے والد کے زمانہ میں شادی کی دعوت کی تو میرے والد نے لوگوں کو بلایاجن میں حضرت ابوایوب بھی تھے میرے کمرہ کو سبزچادروں سے سجا رکھا تھا حضرت ابوایوب آئے تو انھوں نے اپنا سرجھکا لیا پھر دیکھاتو کمرہ پرچادریں تھیں فرمایا : عبداللہ ! کیا تم لوگ دیواروں پر پردے ڈالتے ہو۔ میرے والد نے کہا۔ آپ حیاکر رہے تھے۔ ابوایوب ہم پر عورتیں غالب آگئیں آپ نے فرمایا : اوروں پر تو عورتوں کے غالب ہونے کا خدشہ تھا لیکن تمہارے بارے ہیں مجھے یہ خوف نہ تھا کہ تم پر عورتیں غالب آجائیں گی نہ میں تمہارے گھرداخل ہوں گا اور نہ تمہارا کھانا کھاؤں گا۔ رواہ ابن عساکر
41950 عن سالم بن عبد الله قال : اعترست في عهد أبي فدعا أبي الناس فكان فيمن دعا أبو أيوب وقد ستروا بيتي ببجادي أخضر ، فجاء أبو أيوب فطأطأ رأسه فنظر فإذا البيت ستر فقال : يا عبد الله ! تسترون الجدر ! فقال أبي - واستحيى : غلبنا النساء يا أبا أيوب ! فقال : من خشيت أن تغلبه النساء فلم أخش أن يغلبنك ! لا أدخل لكم بيتا ولا أطعم لكم طعاما (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ! ہم میں سے کوئی جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں جب وضو کرلے اور ایک روایت میں ہے اپنا عضو دھولے اور نماز کی طرح وضو کرنے ۔ مسنداحمد، مسلم، ترمذی نسائی ابن حبان
41951- عن عمر أنه قال: يا رسول الله! أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: "نعم، إذا توضأ - وفي لفظ: يغسل ذكره ويتوضأ

وضوءه للصلاة"."حم، م، 1 ت، ن، حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کیا ہم میں سے کوئی جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : سو سکتا ہے اگر چاہے تو وضو کرلے۔ ابن خزیمۃ
41952- عن عمر أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: "ينام ويتوضأ إن شاء"."ابن خزيمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٣۔۔۔ اسلم سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) نے لکھا : کہ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے نہ سویا جائے جو سوگیا اس کی آنکھ نہ لگے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41953- عن أسلم قال: كتب عمر أن لا ينام قبل أن يصلي العشاء، فمن نام فلا نامت عينه."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٤۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمرو عثمان (رض) اس طرح کیا کرتے تھے : یعنی چت لیٹنا اور ایک پاؤں پر دوسراپاؤں رکھنا۔ مالک، بیہقی فی الشعب
41954- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان كانا يفعلان ذلك - يعني الاستلقاء ووضع إحدى الرجلين على الأخرى."مالك، هب".
tahqiq

তাহকীক: