কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪১৯৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : جب ہم میں سے کوئی جنبی ہو تو کیا کرے اور غسل سے پہلے سونے کا ارادہ رکھتا ہو ؟ آپ نے فرمایا : جس طرح نماز کے لیے وضو ہوتا ہے اس طرح وضوکرکے سو جائے۔ مسنداحمد
41955- عن عمر قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف يصنع أحدنا إذا هو جنب ثم أراد أن ينام قبل أن يغتسل؟ قال: "ليتوضأ وضوءه للصلاة ثم لينم"."حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٦۔۔۔ جابربن عیداللہ سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ سو اور کھاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب نماز کے وضو کی طرح وضو کرلے اس وقت ۔ ابونعیم
41956- عن جابر بن عبد الله قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: عن الجنب: هل ينام أو يأكل وهو جنب؟ فقال: "إذا توضأ وضوءه للصلاة"."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٧۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو کربستر کے پاس آتا ہے تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کی طرف بڑھتے ہیں فرشتہ کہتا ہے بھلائی پر اختتام کر اور شیطان کہتا ہے برائی پر اختتام کر پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر وحمد کرلے تو فرشتہ شیطان کو بھگا دیتا ہے اور اس کی حفاظت کرنے لگتا ہے پھر جب بیدار ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے بھلائی سے آغاز کر اور شیطان کہتا ہے برائی سے آغاز کر پس اگر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرلے اور کہے تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے پس اگر وہ گر بھی جائیں تو اس کےعلاوہ کون انھیں تھامے گا بیشک وہ حلم والا بخشش کرنے والا ہے تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے ہاں اس کی اجازت سے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے پھر اگر وہ اپنے بستر سے گرکرمر گیا تو شہادت کی موت مرے گا اور اگر اٹھ کر نماز پڑھنے لگا تو فضائل کی گھڑیوں میں نماز پڑھی۔ رواہ ابن جریر
41957- عن جابر قال: إذا دخل الرجل بيته وآوى إلى فراشه ابتدره ملك وشيطان، فقال الملك: اختم بخير، وقال الشيطان اختم بشر، فإن ذكر الله وحمده طرده ثم بات يكلؤه، فإذا استيقظ قال الملك: افتح بخير، وقال الشيطان: افتح بشر، فإن ذكر الله وقال: الحمد لله الذي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ إِنَّهُ كَانَ حَلِيماً غَفُوراً، الحمد لله الذي َيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَحِيمٌ، فإن خر عن فراشه فمات مات شهيدا، وإن قام فصلى صلى في فضائل."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٨۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : جنبی جب سونا یا کھانا چاہے تو وضو کرلیا کرے۔ سعید بن منصور
41958- عن ابن عباس قال: الجنب إذا أراد أن ينام أو يطعم فليتوضأ."ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٥٩۔۔۔ ابوسلمہ سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کی اماں جی ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنابت کی حالت میں سوتے تھے ؟ فرمایا : ہاں آپ اپنی شرم گاہ دھوئے اور نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سوتے تھے۔ ضیاء
41959- عن أبي سلمة قال: قلت لعائشة: أي أمه! أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام وهو جنب؟ فقالت: نعم، لم يكن ينام حتى يغسل فرجه ويتوضأ وضوءه للصلاة."ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٠۔۔۔ جبارۃ ابن المغلس سے روایت ہے کہ ہم سے عبید بن الوسم الحمال نے وہ کہتے ہیں مجھ سے حسن بن حسین نے وہ اپنی والدہ فاطمۃ بنت حسین سے وہ اپنے والد حضرت حسین (رض) سے وہ اپنی والدہ فاطمۃ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسی حالت میں سوگیا جس کے ہاتھ پر کھانے کی کسی چیز کا اثریا خوشبولگی تھی پھرا سے کوئی چیز نقصان پہنچائے تو وہ اپنے سوا کسی پر ملامت نہ کرے۔ رواہ ابن النجار
41960- عن جبارة بن المغلس حدثنا عبيد بن الوسم الحمال حدثني حسن بن حسين عن أمه فاطمة بنت الحسين عن أبيها الحسين عن أمه فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يلوم امرؤ إلا نفسه بات وفي يده ريح غمر" 1ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦١۔۔۔ عبداللہ بن حارث سے روایت ہے جو آل سیرین سے تعلق رکھتے ہیں وہ ابوعمر سے روایت کرتے ہیں فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو کہے : اے اللہ ! تو نے میری جان پیدا کی تو ہی اسے موت دے گا تیرے لیے ہی اس کا جینا اور مرنا ہے اے اللہ ! اگر تو اسے ماردے تو اس کی بخشش کرنا اور اگر اسے زندہ رکھا تو اس کی حفاظت کرنا اے اللہ ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں کسی نے ان سے کہا : کیا حضرت عمر (رض) یوں کہا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے کہا : بلکہ اس نے کہا ہے جو حضرت عمر (رض) سے افضل ہیں یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ رواہ ابن جریر
41961- عن عبد الله بن الحارث من آل سيرين عن أبي عمر قال: إذا أوى أحدكم إلى فراشه فليقل: "اللهم! أنت خلقت نفسي وأنت توفاها، لك محياها ومماتها؛ اللهم! إن أمتها فاغفر لها، وإن أحييتها فاحفظها؛ اللهم! إني أسألك العافية"، فقيل له: أكان عمر يقول هكذا؟ فقال: من هو خير من عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٢۔۔۔ (مسندعبداللہ بن عمروبن العاص) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری صحابی سے فرمایا : سوتے وقت تم کیا کہتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : میں کہتاہوں : اے میرے رب ! میں تیرے نام سے اپنا پہلورکھتاہوں میری بخشش فرمادے۔ آپ نے فرمایا : تمہاری بخشش ہوگئی۔ ابن ابی شیبۃ، وفیہ الافریفیی ضعیف
41962- مسند عبد الله بن عمرو بن العاص إن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل من الأنصار: "كيف تقول حين تريد أن تنام"؟ قال: أقول باسمك ربي وضعت جنبي فاغفر لي، قال: "قد غفر لك"."ش، وفيه الإفريقي ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٣۔۔۔ (مسندابن مسعود) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سوتے تو فرماتے : اے اللہ ! جب آپ اپنے بندوں کو اٹھائیں گے تو مجھے اپنے عذاب سے بچانا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے تھے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41963- مسند ابن مسعود كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نام قال: "اللهم! قني عذابك يوم تبعث عبادك"؛ وكان يضع يمينه تحت خده."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٤۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے فرمایا : صحابہ (رض) اس بات کو اچھا سمجھتے تھے کہ جنبی جب کھانا یاسونا چاہے تو وضو کرلے۔ ضیاء
41964- عن إبراهيم قال: كانوا يحبون للجنب إذا أراد أن يطعم أو ينام أو يتوضأ."ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٥۔۔۔ (مسندعلی (رض)) عاصم بن ضمرۃ سے روایت ہے حضرت علی (رض) سوتے وقت کہا کرتے تھے (رح) : بسم اللہ وفی سبیل اللہ۔ رواہ ابن جریر
41965- مسند علي رضي الله عنه عن عاصم بن ضمرة أن عليا كان يقول عند المنام إذا نام: بسم الله وفي سبيل الله."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٦۔۔۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بسترپر آتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار تلے رکھتے پھر فرماتے : ای رب ! قنی عذابک یوم تبعث عبادک۔ رواہ ابن عساکر
41966- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه يضع يده اليمنى تحت خده الأيمن ثم قال: "أي رب! قني عذابك يوم تبعث عبادك"."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٧۔۔۔ ام سلمہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کا مر کی شکایت کرنے آ میں اور کہنے لگیں یارسول ! چکی پیستے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے ایک دفعہ پیستی ہوں پھر اسے گوندھتی ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز عنایت کی تو تمہارے پاس بھی پہنچ جائے گی عنقریب میں تمہیں اس سے بہترچیز بتاؤں گا جب تم سونے لگوتو تینتیس ٣٣ بار سبحان اللہ ، تینتیس ٣٣ بار اللہ اکبر اور چونتیس بار الحمد للہ کہہ لیاکرویہ مقدار میں سوبن گئے یہ تمہارے لیے خادم سے زیادہ بہتر ہیں۔ راہ ابن جریر
41967- عن أم سلمة قالت: جاءت فاطمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو الخدمة فقالت: يا رسول الله! لقد مجلت يدي من الرحى، أطحن مرة وأعجن أخرى، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن يرزقك الله شيئا يأتك وسأدلك على خير من ذلك! إذا أخذت مضجعك فسبحي ثلاثا وثلاثين، وكبري ثلاثا وثلاثين، واحمدي أربعا وثلاثين، فذلك مائة؛ وهو خير لك من خادم"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٨۔۔۔ عبداللہ بن عمرو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : دو خصلتیں یا عادتیں ایسی ہیں جن کی جو مسلمان حفاظت کے ساتھ مداومت کرے گا وہ جنت میں جائے گا وہ دونوں ہیں تو آسان لیکن انھیں کرنے والے بہت تھوڑے ہیں دس مرتبہ سبحانہ اللہ دس مرتبہ الحمد للہ اور دس مرتبہ اللہ اکبرہر نماز کے بعد کہا کرے جو شمار میں ڈیڑھ سو اور میزان عمل میں ڈیڑھ ہزار ہیں۔ اور جب بستر پر آئے تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس ٣٣ بار الحمد للہ اور چونتیس ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرتے تو زبانی شمار میں یہ سو ہے لیکن عملی میزان میں ہزار ہے اور ایک روایت میں ہے یہ اڑھائی سونکیاں ہیں اور جب دہرمی ہوگئیں تو ڈھائی ہزار ہوگئیں اور تم میں سے کون اپنے شب وروز میں ڈھائی ہزار کناہ کرتا ہے لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! کیسے یہ آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم میں کا کوئی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اسے کوئی کام یاددلا دیتا ہے پس وہ ان کلمات کو کہے بغیر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور جب کوئی سونے لگتا ہے شیطان آکر اسے ان کلمات کو کہنے سے پہلے سلا دیتا ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ پر انھیں شمار کرتے تھے۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ مسنداحمد ابوداؤد، ترمذی وقال : حسن صحیح، ابن ماجۃ وابن جریر، ابن حبان وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ وابن شاھین الترغیب، بیہقی فی الشعب
41968- عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "خصلتان - أو قال: خلتان - لا يحافظ عليهما رجل مسلم إلا دخل الجنة، وهما يسيران ومن فعل بهما قليل، يسبح الله عشرا، ويحمده عشرا، ويكبره عشرا في دبر كل صلاة، فذلك مائة وخمسون باللسان، وألف وخمسمائة في الميزان؛ ويسبح ثلاثا وثلاثين، ويحمد ثلاثا وثلاثين، ويكبر أربعا وثلاثين - إذا أخذ مضجعه، فذلك مائة باللسان، وألف في الميزان - وفي لفظ: فذلك خمسون ومائتا حسنة، فإذا أضعفت كانت ألفين وخمسمائة، فأيكم يعمل في يومه وليلته ألفين وخمسمائة سيئة"! قالوا: يا رسول الله! كيف هما يسير ومن يعمل بهما قليل؟ قال: "يأتي الشيطان أحدكم إذا فرغ من صلاته فيذكره حاجة كذا وكذا فيقوم ثم لا يقولها، فإذا اضطجع يأتيه الشيطان فينومه قبل أن يقولها". فقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدهن في يده."عب، ش، حم، د، ت وقال: حسن صحيح؛ هـ وابن جرير حب، وابن السني في عمل يوم وليلة وابن شاهين في الترغيب، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٦٩۔۔۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا : جو شخص سونے لگے اور کہے : لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر، سبحان اللہ وبحمدہ، اللہ اکبرلا حول ولاقوۃ الا باللہ، پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ سمندرجھاگ برابر ہوں۔ رواہ ابن جریر
41969- عن عبد الله بن عمرو قال، من قال حين يريد أن يرقد "لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، سبحان الله وبحمده، الله أكبر، لا حول ولا قوة إلا بالله" ثم استغفر الله إلا غفر الله له ولو كانت ذنوبه مثل زبد البحر."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٧٠۔۔۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سونے کے لیے لیٹتے تو فرماتے : اللھم ! باسمک ربی وضعت جنبی فاغفرلی ذنبی، ابن جریر وصححہ
41970- عن عبد الله بن عمرو عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا اضطجع للنوم يقول: "اللهم! باسمك ربي وضعت جنبي فاغفر لي ذنبي"."ابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کے آداب و اذکار
٤١٩٧١۔۔۔ (مسندعلی) ابومریم سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو فرماتے سنا کہ حضرت فاطمہ (رض) دوپتھروں میں میدہ کوٹ رہی تھیں یہاں تک کہ ان کے ہاتھ میں آبلے پڑگئے : جاؤرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خادم مانگو، چنانچہ ایک یادورات ایسا کیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ کو بتایا گیا کہ فاطمہ (رض) کسی کام سے آئیں مگر آپ کے تاخیر سے آنے کی وجہ سے اپنے گھرواپس چلی گئیں تو ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ہم لوگ سونے کے لیے اپنے بستروں میں داخل ہوچکے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت طلب کی تو ہم لوگوں نے اپنے کپڑے اوڑھنے کے لیے حرکت کی آپ کو جب یہ آواز آئی تو فرمایا : اپنے لحاف میں ہی رہو ! پھر ہمارے پاس آکر ہمارے سروں کے پاس بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں میرے اور ان کے درمیان بستر میں داخل کرلئے پھر فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ میری بیٹی کسی کام سے آئی تھی بیٹی ! کیا کام تھا یا فرمایا۔ بیٹی تمہاری کیا ضرورت ہے ؟ توفاطمہ (رض) نے اس حالت میں آپ سے گفتگو کرنے سے شرم محسوس کی تو حضرت علی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دویاتین بارپوچھنے کے بعدان کی طرف سے جواب دیاعرض کی یارسول اللہ ! وہ آپ کے پاس آئی تھیں کہ میدہ کوٹ کوٹ کر ان کے ہاتھ آبلہ زدہ ہوگئے ہیں وہ خادم طلب کرنے آئی تھیں آپ نے فرمایا : جب تم اپنے بستروں پر آؤ تو تینتیس ٣٣ بار سبحان اللہ، تینتیس ٣٣ بار اللہ اکبر اور چونتیس ٣٤ بار الحمد للہ کہا کرو یہ شمار سو ہے یہ تمہارے لیے اس سے بہتر جو تم نے مانگی ہے۔ رواہ ابن جریر
41971- مسند علي عن أبي مريم قال سمعت علي بن أبي طالب يقول: إن فاطمة كانت تدق الدرمك بين حجرين حتى مجلت يداها فقلت لها: ائتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فسليه خادما! ففعلت ذلك لليلة أو ليلتين، فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيته أخبر أن فاطمة أتته لحاجة فلما أبطأ عليها رجعت إلى بيتها، فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد دخلنا فراشنا، فلما استأذن علينا تحشحشنا لنلبس علينا ثيابنا، فلما سمع ذلك قال: "كما أنتما في لحافكما"! فدخل علينا حتى جلس عند رؤسنا وأدخل رجليه بيني وبينها فقال: "حدثت أن ابنتي أتتني لحاجة لها، ما كانت حاجتك يا بنية - أو: ما كانت حاجتك يا بنتي"؟ فاستحيت فاطمة أن تكلمه على تلك الحال، وأجاب علي عنها بعد ما سألها مرتين أو ثلاثا فقال: أتتك يا رسول الله إنها كانت مجلت يداها من دق الدرمك فأتتك تسأل خادما، فقال: "ما يدوم لكما أحب إليكما أو ما سألتما"؟ قالا: ما يدوم إلينا، قال: "فإذا أويتما إلى فراشكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، وكبرا ثلاثا وثلاثين، واحمدا أربعا وثلاثين، فذاكم مائة، فهو خير لكما مما سألتماني"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٢۔۔۔ (مسندعلی (رض)) عبید ۃ علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : فاطمہ (رض) نے چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پرچھالے پڑنے کی شکایت کی میں نے کہا : اگر اپنے والدمحترم کے پاس جاکر خادم مانگ لیتیں (تو یہ مشقت نہ رہتی) فرماتے ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں لیکن انھیں نہ پایا تو واپس لوٹ آئیں جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ کو اطلاع دی گئیں پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم بستروں میں لیٹ چکے تھے ہم پر ایک بڑی چادر تھی جب ہم اسے لمبائی میں اوڑھتے تو اس سے ہمارے پہلوباہرنکل آتے اور جب چوڑائی میں اوپر لیتے تو ہمارے سر اور پاؤں کھلے رہ جاتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ ! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم آئیں لیکن میں گھرپرنہ تھا کیا ضرورت تھی ؟ انھوں نے عرض کی : کچھ بھی نہیں میں نے کہا : انھوں نے مجھ سے چکی پیسنے سے ہاتھوں میں چالوں کی شکایت کی تھی میں نے کہا : اگر اباحضور کے پاس جائیں اور ان سے خادم مانگ لیتیں، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہو ؟ جب اپنے بستروں پر آؤ تو تم دونوں تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ ابن جریر و صحیحہ
41972- مسند علي رضي الله عنه عن عبيدة عن علي قال اشتكت فاطمة مجل يديها من الطحن، فقلت: لو أتيت أباك فسألته خادما! قال: فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فلم تصادفه، فرجعت، فلما جاء أخبر، فأتانا وقد أخذنا مضاجعنا وعلينا قطيفة إذا لبسناها طولا خرجت منها جنوبنا، وإذا لبسناها عرضا خرجت رؤسنا وأقدامنا، وقال: "يا فاطمة! أخبرت أنك جئت فهل كانت لك حاجة"؟ قالت: لا، قلت: بل شكت إلى مجل يديها من الطحن فقلت: لو أتيت أباك تسأليه خادما! قال: "أفلا أدلكما على ما هو خير لكما من الخادم؟ إذا أخذتما مضجعكما فقولا ثلاثا وثلاثين وثلاثا وثلاثين وأربعا وثلاثين من بين تسبيح وتحميد وتكبير"."ابن جرير، وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٣۔۔۔ (مسندعلی) ہیبرۃ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا : میں نے فاطمۃ سے کہا : اگر تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتیں تو ان سے ایک خادم مانگ لاتیں، کیونکہ چکی اور کام سے تمہیں کافی مشقت ہوتی ہے انھوں نے کہا : تم بھی میرے ساتھ چلو تو میں بھی ان کے کے ساتھ چل دیاپھرہم نے آپ سے خادم مانگا آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بہترچیز نہ بتاؤں ؟ جب اپنے بستروں پر آؤ تو تینتیس ٣٣ بار سبحان اللہ، تینتیس بار ٣٣ بار اللہ اکبر اور چونتیس بارلاالہ الا اللہ کہہ لیا کرو یہ میزان زبان میں سو ہوا اور (غملی) میزان ہزارہوا۔ رواہ ابن جریر
41973- مسند علي عن هبيرة عن علي قال: قلت لفاطمة: لو أتيت النبي صلى الله عليه وسلم تسأليه خادما! فإنه قد جهدك الطحن والعمل، قالت: انطلق معي، فانطلقت معها فسألناه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أدلكما على ماهو خير لكما من ذلك؟ إذا أويتما إلى فراشكما فسبحوه ثلاثا وثلاثين، وكبروه ثلاثا وثلاثين، وهللوه أربعا وثلاثين؛ فذلك مائة على اللسان، وألف في الميزان"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٤۔۔۔ (مسند علی) قاسم مولی معاویہ سے روایت ہے کہ انھوں نے علی بن ابی طالب سے سنا : انھوں نے ذکر کیا کہ انھوں نے فاطمہ (رض) کو کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خادم طلب کریں وہ کہنے لگیں یارسول اللہ ! چکی پیسنا میرے لیے گراں ہے اور انھیں اپنے ہاتھ میں چکی سے پڑے نشانات دکھانے لگیں پھرا نہوں نے آپ سے ایک خادم مانگا آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ سکھاؤں ؟ یا فرمایا : دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ؟ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر تینتیس بارالحمدللہ اور تینتیس بار سبحان اللہ کہہ لیا کرو یہ تمہارے لیے دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے۔ رواہ ابن جریر
41974- مسند علي عن القاسم مولى معاوية أنه سمع علي بن أبي طالب فذكر أنه أمر فاطمة تستخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله! إنه قد شق على الرحى - وأرته أثرا في يديها من أثر الرحى فسألته أن يخدمها خادما، فقال: "أولا أعلمك خيرا من ذلك - أو قال: خيرا من الدنيا وما فيها؟ إذا أويت إلى فراشك فكبري أربعا وثلاثين تكبيرة، وثلاثا وثلاثين تحميدة، وثلاثا وثلاثين تسبيحة؛ فذلك خير لك من الدنيا وما فيها"."ابن جرير".
তাহকীক: