কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪১৯৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٥۔۔۔ طلب بن حوشب جو عوام بن حوشب کے بھائی ہیں جعفر بن محمد سے وہ اپنے والد علی بن الحسین وہ حضرت حسین بن علی سے وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت فاطمہ (رض) سے کہا : اپنے والد محترم کے پاس جاؤ اور ان سے غلام مانگو جو تمہیں چکی اور تنور کی گرمی سے بچائے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئیں اور غلام مانگا تو آپ نے فرمایا : جب قیدی آئیں تو میرے پاس آنا پھر بحرین کی جانب سے قیدی آئے تو لوگ آپ سے غلام مانگتے رہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت عطا کرنے والے تھے جو چیز بھی مانگی جاتی آپ دے دیتے اور جب کچھ بھی نہ بچاتو وہ آپ کے پاس غلام مانگنے آئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ہمارے پاس قیدی آئے اور وہ لوگوں نے مانگ لیے لیکن میں تمہیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہیں۔ جب اپنے بستر پر آؤ توکہاکرواللہ ! اے سات آسمانوں اور عرش عظیم کے رب ! اے ہمارے رب اور ہرچیز کے رب ! توراۃ انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے دانہ اور کٹھلی کو پھاڑنے والے میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں ہراس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں تو ہی سب سے آخر میں ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہمارا قرض اداکردے اور ہمیں فقروفاقہ سے بےنیاز کردے چنانچہ فاطمہ (رض) لونڈی کے بدلہ ان کلمات پر خوش ہو کرواپس ہوگئیں، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان کلمات کو جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سکھائے انھیں نہیں چھوڑا کسی نے کہا صفین کی رات بھی ؟ آپ نے فرمایا : صنین کی رات بھی نہیں۔ ابونعیم انتقاء الوحشۃ
41975- عن طلاب بن حوشب أخى العوام بن حوشب عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن الحسين بن علي عن علي بن أبي طالب أنه قال لفاطمة: اذهبي إلى أبيك فسليه يعطك خادما يقيك الرحى وحر التنور! فأتته فسألته، فقال: "إذا جاء سبي فأتينا"! فجاء سبي من ناحية البحرين، فلم يزل الناس يطلبون ويسألونه إياه، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم معطاء لا يسئل شيئا إلا أعطاه، حتى إذا لم يبق شيء أتته تطلب، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: "جاءنا سبي فطلبه الناس، ولكن أعلمك ما هو خير لك من خادم! إذا أويت إلى فراشك فقولي: "اللهم! رب السماوات السبع ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، وفالق الحب والنوى، إني أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته، أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، أقض عنا الدين وأعننا من الفقر"؛ فانصرفت فاطمة راضية بذلك من الجارية. قال علي: فما تركتها منذ علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قيل: ولا ليلة صفين؟ قال: ولا ليلة صفين."أبو نعيم في انتفاء الوحشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ (رض) نے کہا : چچاز اد ! میرے لیے گھر کا کام اور چکی پیسنا مشکل ہے تو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرو ! میں نے ان سے کہا : ٹھیک ہے اگلے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود ان کے پاس تشریف لے آئے اور وہ دونوں ایک لحاف میں سو رہے تھے دروازہ پر دستک دینے اور اجازت لے کر اندر آنے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا اٹھو نہیں آپ نے سردی کی وجہ سے اپنے پاؤں ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر بستر میں داخل کرلئے تو فاطمہ (رض) کہنے لگیں اللہ کے نبی ! مجھے گھر کے کام سے مشقت ہوتی ہے مال غنیمت جو اللہ تعالیٰ آپ کو عطا کرتا ہے اس میں سے کسی خادمہ کو حکم دیتے تو (میری کافی امداد ہوجاتی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ سکھاؤں ؟ تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس اللہ اکبرکہہ لیا کرو یہ زبانی حساب میں سو ہے اور عملی میزان میں ایک ہزار ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو ایک نیکی لے کر آیا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں، ایک لاکھ تک ۔ طبرانی فی الاوسط
41976- عن علي قالت فاطمة: يا ابن عم! شق علي العمل والرحى فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم! قلت لها: نعم، فأتاهما النبي صلى الله عليه وسلم من الغد وهما نائمان في لحاف واحد فأدخل رجله بينهما، فقالت فاطمة: يا نبي الله! شق علي العمل فإن أمرت لي بخادم مما أفاء الله عليك! قال: "أفلا أعلمك ما هو خير لك من ذلك؟ تسبحين الله ثلاثا وثلاثين، واحمدي ثلاثا وثلاثين، وكبري أربعا وثلاثين؛ فذلك مائة باللسان، وألف في الميزان، وذلك بأن الله تعالى يقول {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} إلى مائة ألف"."طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٧۔۔۔ اسی طرح شیث بن ربعی حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ قیدی آئے تو علی (رض) نے فاطمہ (رض) سے کہا : اپنے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر خادم مانگوتا کہ تم اس کے ذریعہ سے کام کی مشقت سے بچ سکو تو وہ شام کے وقت آئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : بیٹی کیا ضرورت ہے ؟ تو انھوں نے کہا : میں آپ کو سلام کرنے آئی تھی۔ اور شرم وحیا کی وجہ سے سوال نہیں کیا جب وہ واپس آئیں تو حضرت علی (رض) نے ان سے کہا : کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : میں نے حیا کی وجہ سے ان سے سوال نہیں کیا جب دوسرا دن ہوا تو پھر ان سے کہا : والد صاحب کے پاس جاؤ اور ان سے خادم مانگو تاکہ کام سے بچ سکوچنانچہ وہ پھر آپ کے پاس گئیں جب ان کے پاس پہنچیں تو آپ نے فرمایا : بیٹی ! کیا ضرورت ہے ؟ تو انھوں نے کہا : کوئی بات نہیں اباجان ! میں نے کہا دیکھوں آپ کیسے ہیں۔ اور حیا کی وجہ سے کچھ نہیں مانگا اور جب تیسرا دن ہوا تو انھوں نے ان سے کہا : چلو ! تو دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا بات ہے ؟ تو حضرت علی (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! ہم پر کام کی مشقت ہے ہم نے چاہا کہ آپ ہمیں کوئی خدمت گا رعطاکریں جس کی وجہ سے ہم کام سے بچ سکیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں سرخ اونٹنیوں سے بہتر چیز بتاؤں ؟ تو حضرت علی (رض) نے کہا : جی ہاں رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : جب تم سونے لگوتو اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمدللہ سوبارکہہ لیا کرویوں تم ایک ہزار نیکیوں میں رات گزاروگے اسی طرح صبح کے وقت جب اٹھوگے تو ایک ہزار نیکیوں میں بیدار ہوگے تو حضرت علی (رض) نے کہا کہ جب سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ الفاظ سنے مجھ سے نہیں رہے صرف صفین کی رات کہ میں انھیں بھول گیا پھر رات کے آخری حصہ میں میں مجھے یاد آئے۔ العدنی وابن جریر، حلیۃ الاولیاء
41977- أيضا عن شيث بن ربعي عن علي قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم سبي، فقال علي لفاطمة: ائتي رسول الله صلى الله عليه وسلم أباك فسليه خادما تنقى به العمل! فأتت حين أمست، فقال لها: "ما لك يا بنية؟ " قالت: جئت أسلم عليك - واستحيت أن تسأله شيئا، فلما رجعت قال لها علي: ما فعلت؟ قالت: لم أسأله واستحييت منه، فلما كان الثانية قال لها: ائتي أباك فسليه لنا خادما تتقي به العمل، فخرجت إليه، حتى إذا جاءته قال: "ما لك يا بنية"؟ قالت: لا شيء يا أبت! جئت أنظر كيف أمسيت - واستحيت أن تسأله شيئا، حتى إذا كان الثالثة قال لها: امشي! فخرجا جميعا حتى أتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "ما جاء بكما"؟ فقال له علي: يا رسول الله! شق علينا العمل فأردنا أن تعطينا خادما نتقي به العمل؛ فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل أدلكما على خير لكما من حمر النعم"؟ قال علي: نعم يا رسول الله! قال "تكبران وتسبحان وتحمدان مائة حين تريدان تنامان فتبيتان على ألف حسنة، ومثلها حين تصبحان فتقومان على ألف حسنة". قال علي: فما فاتتني حين سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا ليلة صفين فإني نسيتها حتى ذكرتها من آخر الليل."العدني وابن جرير، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ (رض) پیٹ سے تھیں جب وہ روٹی پکاتیں توتنور کی حرارت ان کے پیٹ پر لگتی تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خادم مانگنے آئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہیں خادم نہیں دے سکتا اور صفہ والوں کو چھوڑدوں جن کے پیٹ بھوک سے دہرے ہورہے ہیں کیا میں تمہیں اس سے بہترچیزنہ بتاؤں ؟ جب اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ اور الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبرکہاکرو۔ حلیۃ الاولیاء
41978- عن علي أن فاطمة كانت حاملا فكانت إذا خبزت أصاب حرق التنور بطنها، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم تسأله خادما، فقال: "لا أعطيك وأدع أهل الصفة تطوي بطونهم من الجوع! ألا أدلك على خير من ذلك؟ إذا أويت إلى فراشك تسبحين الله وتحمدينه ثلاثا وثلاثين، وتكبرينه أربعا وثلاثين"."حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٧٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے ہاتھوں پر آٹاگوندھنے اور چکی پیسنے سے ، آبلوں کی شکایت کی ، ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیدی آگئے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خادم مانگنے آئیں تو آپ کو گھرپرنہ پایاتو حضرت عائشہ (رض) کو گھرپرپاکرا نہیں بتایا پھر بعد میں جب ہم لوگ سوچکے تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہم آپ کا استقبال کرنے اٹھے تو آپ فرمایا : وہیں ٹھہروپھرآکر میرے اورفاطمہ (رض) کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی فرمایا : کیا میں تمہیں خادم سے بہترچیز نہ بتاؤں ؟ ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبرکہا کرو یہ عمل رات سوتے وقت بھی کرنا ہے یوں یہ شمار سوبن جائے گا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41979- عن علي أن فاطمة اشتكت إلى النبي صلى الله عليه وسلم يدها من العجن والرحى، فقدم على النبي صلى الله عليه وسلم سبي، فأتته تسأله خادما فلم تجده فوجدت عائشة فأخبرتها، فجاءنا بعد ما أخذنا مضاجعنا، فذهبنا نتقدم، فقال: "مكانكما"! فجاء فجلس بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه، فقال: "ألا أدلكما على ما هو خير لكما من خادم؟ تسبحان دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثا وثلاثين، وتكبرانه أربعا وثلاثين، وإذا أخذتما مضجعكما من الليل؛ فتلك مائة"."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٠۔۔۔ ابویعلی سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت علی (رض) نے بیان کیا کہ فاطمہ (رض) نے چکی سے ہاتھوں پر آبلے پڑنے کی شکایت کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیدی آئے تو وہ ان کے ہاں گئیں لیکن انھیں نہ پایا اور حضرت عائشہ (رض) کو بتایاجب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو حضرت عائشہ (رض) نے انھیں بتایا کہ فاطمہ (رض) آئی تھیں پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اس وقت ہم سوچکے تھے ہم اٹھنے کے لیے بڑھے تو آپ نے فرمایا : اپنی جگہ رہو میں تمہیں سوال سے بہترچیزبتاؤں ؟ جب سونے لگوتو چونتیس بار اللہ اکبر اور تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ اور الحمد للہ کہہ لیاکرویہ تمہارے لیے خادم سے بہت رہے۔ مسنداحمد، بخاری، مسلم وابن جریر، بیہقی وابوعوانۃ والطحاوی، ابن حبان، حلیۃ الاولیاء
41980- عن أبي ليلى ثنا علي أن فاطمة اشتكت ما تلقى من أثر الرحى في يدها، وأتى النبي صلى الله عليه وسلم سبي، فانطلقت فلم تجده وأخبرت عائشة، فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته عائشة بمجيء فاطمة إليها فجاء إلينا النبي صلى الله عليه وسلم وقد أخذنا مضاجعنا، فذهبنا لنقوم فقال النبي صلى الله عليه وسلم "على مكانكما خيرا مما سألتماه؟ إذا أخذتما مضاجعكما أن تكبرا الله أربعا وثلاثين، وتسبحاه ثلاثا وثلاثين، وتحمداه ثلاثا وثلاثين؛ فهو خير لكما من خادم"."حم، خ، م، وابن جرير، ق وأبو عوانة والطحاوي، حب، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے پھر آپ نے اپنے پاؤں میرے اور فاطمہ (رض) کے درمیان بستر میں رکھ کر ہمیں وہ دعاسکھائی جو ہم سونے کے وقت پڑھاکریں۔ فرمایا : فاطمہ اور علی ! جب تم اپنے اس گھر میں ہو تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبرکہہ لیاکروحضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے ابھی تک انھیں نہیں چھوڑا، ایک شخص جو آپ سے بدگمان تھا کہنے لگا : صفین کی رات بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں صفین کی رات بھی نہیں۔ ابن منیع وعبدبن حمید، نسائی، ابویعلی، حاکم، حلیۃ الاولیاء
41981- عن علي قال: أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضع رجله بيني وبين فاطمة فعلمنا ما نقول إذا أخذنا مضاجعنا، فقال: "يا فاطمة! يا علي! إذا كنتما بمنزلكما هذه فسبحا الله ثلاثا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وكبرا أربعا وثلاثين". قال علي: والله ما تركتهما بعد، فقال له رجل كان في نفسه عليه شيء: ولا ليلة صفين؟ قال: ولا ليلة صفين."ابن منيع وعبد بن حميد، ن، ع، ك، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٢۔۔۔ عطاء بن سائب اپنے والد سے وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب فاطمہ (رض) کی شادی ان سے کی تو ایک چادر، چمڑے کا ایک تکیہ جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھا دوچکیاں ایک مشکیزہ اور دوگھڑے ان کے ساتھ بھیجے تو حضرت علی (رض) نے ایک دن حضرت فاطمہ (رض) سے فرمایا : اللہ کی قسم ! پانی لاتے لاتے میں پریشان دل ہوگیا ہوں اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کے پاس قیدی بھیجے ہیں جاؤان سے ایک خادم مانگو تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! چکی پیستے میرے ہاتھ بھی آبلہ زدہ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا : بیٹی کیا بات ہے ؟ تو انھوں نے کہا : میں آپ کو سلام کرنے آئی تھیں اور شرم کی وجہ سے غلام نہ مانگا اور واپس آگئیں تو حضرت علی (رض) نے کہا : کیا ہوا ؟ انھوں نے کہا : میں نے شرم کی وجہ سے سوال نہیں کیا پھر وہ دونوں آئے حضرت علی (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پانی ڈھوتے ڈھوتے میں دل برداشتہ ہوگیاہوں اور حضرت فاطمہ (رض) کہنے لگیں : چکی پیستے پیستے میرے ہاتھ آبلہ زدہ ہوگئے ہیں آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے قیدی اور کشادگی پیدا فرمادی ہے ہمیں کوئی خادم دے دیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اہل صفہ کو چھوڑ کر تمہیں نہیں دے سکتا جن کے پیٹ بھوک سے دہرے ہورہے ہیں میرے پاس ان پر خرچ کے لیے کچھ نہیں لیکن میں انھیں بیچ کر ان پر ان کی قیمت خرچ کروں گا تو یہ دونوں واپس آگئے بعد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس آئے اس وقت یہ لوگ اپنی چادر میں لیٹ چکے تھے سرپر کرتے توپاؤں کھلے رہ جاتے اور پاؤں ڈھاپنتے تو سرننگا رہ جاتا تو وہ اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا : وہیں ر ہو پھر فرمایا : کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے سوال سے بہتر ہے ؟ ان دونوں نے عرض کی : کیوں نہیں آپ نے فرمایا : مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے کچھ کلمات سکھائے ہیں ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللہ دس بار الحمد للہ اور دس بار اللہ اکبرکہا کرو اور جب رات سونے کے لیے اپنے بستروں پر آؤ توتینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہا کرو۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کہ جب سے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کلمات سکھائے ہیں میں نے انھیں نہیں چھوڑاتوابن الکوانے ان سے کہا : نہ صفین کی رات ! آپ نے فرمایا : عراق والو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرے ہاں نہ صفین کی رات۔ الحمیدی، ابن ابی شیبۃ، مسند احمد عبدالرزاق، والعدنی والشاشی والعسکری فی المواعظ وابن جریر، حاکم، ضیاء وروی النسائی وابن ماجۃ بعضہ
41982- عن عطاء بن السائب عن أبيه عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما زوجه فاطمة بعث معها بخميلة ووسادة من أدم حشوها ليف ورحائين وسقاء وجرتين، فقال علي لفاطمة ذات يوم: والله! لقد سنوت حتى اشتكيت صدري، وقد جاء الله أباك بسبي فاذهبي فاستخدميه! فقالت: وأنا والله قد طحنت حتى مجلت يداي! فأتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "ما جاء بك أي بنية"؟ قالت: جئت لأسلم عليك - واستحيت أن تسأله ورجعت، فقال: ما فعلت! قالت: استحييت أن أسأله، فأتياه جميعا فقال علي: يا رسول الله! لقد سنوت حتى اشتكيت صدري، وقالت فاطمة: قد طحنت حتى مجلت يداي وقد جاءك الله بسبي وسعة فأخدمنا! فقال: "والله لا أعطيكما وأدع أهل الصفة تطوى بطونهم من الجوع لا أجد ما أنفق عليهم! ولكني أبيعهم وأنفق عليهم أثمانهم"، فرجعا، فأتاهما النبي صلى الله عليه وسلم وقد دخلا في قطيفتهما، إذا غطيا رؤسهما انكشفت أقدمهما، وإذا غطيا أقدامهما انكشفت رؤسهما، فثارا، فقال: "مكانكما"! ثم قال: "ألا أخبركم بخير مما سألتماني"؟ قالا: بلى، قال: "كلمات علمنيهن جبريل، تسبحان الله دبر كل صلاة عشرا، وتحمدان الله عشرا، وتكبران الله عشرا، وإذا أويتما إلى فراشكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وكبرا أربعا وثلاثين". قال: والله ما تركتهن مذ علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال له ابن الكوا: ولا ليلة صفين؟ قال: قاتلكم الله يا أهل العراق! نعم ولا ليلة صفين. "الحميدي، ش، حم، عب والعدني والشاشي والعسكري في المواعظ وابن جرير، ك، ض؛ وروى ن، هـ بعضه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک غلام ہدیہ میں آیا جو کسی عجمی بادشاہ نے آپ کو ہدیہ دیا تھا میں نے فاطمہ (رض) سے کہا : اباحضور کے پاس جاؤ اور ان سے خادم طلب کرو، فاطمہ (رض) آئیں مگر آپ کو گھرپر نہ پایا وہ دن حضرت عائشہ (رض) کا تھا پھر دوسری مرتبہ بھی جب آپ کونہ پایا تو واپس آگئیں پے ررپے چار مرتبہ گئیں لیکن آپ اس دن نہ آئے یہاں تک کہ عشاء کی نماز ہوگئی جب آپ واپس آئے حضرت عائشہ (رض) نے آپ کو بتایا کہ فاطمہ (رض) چار بار آئی تھیں آپ کو تلاش کررہی تھیں آپ فاطمہ (رض) کے پاس آئے اور فرمایا کس وجہ سے تم اپنے گھر سے نکلیں فرماتے ہیں ! میں نے انھیں اشارہ کیا کہ اباحضور سے خادم مانگو انھوں نے اپنا ہاتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کیا عرض کی : چکی کی وجہ سے میرے ہاتھ آبلہ زدہ ہوگئے ہیں پوری رات میں چکی پیستی رہی اور ابوالحسن حسن و حسین کو اٹھاتے ہیں آپ نے فرمایا : اے فاطمہ بنت محمد صبر سے کام لو کیونکہ بہترین عورت وہ ہے جوا پنے گھروالوں کے لیے فائدہ مندہو کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم چاہتے ہو ؟ جب اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس بار اللہ اکبر تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار سبحان اللہ کہہ لیا کرو اور لاالہ الا اللہ کے ساتھ سے ختم کرلیا کرو یہ تمہارے لیے تمہاری چاہت اور دنیا اور اس کی چیزوں سے بہت رہے۔ ابن جریروسمویہ
41983- عن علي قال: أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم رقيق أهداه له بعض ملوك الأعاجم، فقلت لفاطمة ائتي أباك فاستخدميه خادما! فأتت فاطمة فلم تجده وكان يوم عائشة، ثم رجعت مرة أخرى فلم تجده، واختلفت أربع مرات فلم يأت يومه ذلك حتى صلى العشاء، فلما أتى أخبرته عائشة أن فاطمة التمسته أربع مرات، فأتى فاطمة فقال: "ما أخرجك من بيتك؟ " قال: وطفقت أغمزها أقول: استخدمي أباك! فأدنت إليه يدها فقالت: قد مجلت يداي من الرحى، ليلتي جميعا أدير الرحى حتى أصبح، وأبو الحسن يحمل حسنا وحسينا! قال لها: "اصبري يا فاطمة بنت محمد! فإن خير النساء التي نفعت أهلها، أولا أدلكما على خير من الذي تريدان؟ إذا أخذتما مضجعكما فكبرا الله ثلاثا وثلاثين تكبيرة، واحمدا الله ثلاثا وثلاثين، وسبحا الله ثلاثا وثلاثين، ثم اختماها بلا إله إلا الله، فذلك خير لكما من الذي تريدان ومن الدنيا وما فيها"."ابن جرير وسمويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے فاطمہ (رض) سے کہا : اگر تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر ایک خادم مانگ لاتیں کیونکہ کام نے تمہیں تھکادیا ہے چنانچہ وہ گئیں لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کونہ پایا بعد میں جب آئے تو فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے ؟ جب اپنے بستروں پر آؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ تنیتس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبرکہاکرویہ تمہارے لیے زبان پر سو اور میزان میں ہزارشمار ہوگا۔ ابویعلی وابن جریر
41984- عن علي قال: قلت لفاطمة: لو أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسألته خادما! فإنه قد أجهدك العمل، فأتته فلم توافقه، فقال: "ألا أدلكما على خير مما سألتماني؟ إذا أويتما إلى فراشكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وكبرا أربعا وثلاثين؛ فذلك مائة على اللسان، وألف في الميزان."ع وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٥۔۔۔ (مسندعلی) علی بن اعبد سے روایت ہے فرمایا : مجھے علی (رض) نے کہا : کیا میں تمہیں اپنا اور فاطمۃ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا واقعہ نہ سناؤں وہ گھروالوں میں سے سب سے زیادہ محبوب تھیں میں نے کہا : کیوں نہیں آپ نے فرمایا : چکی چلاتے ان کے ہاتھ آبلہ زدہ ہوگئے اور مشکیزہ اٹھاتے اٹھاتے ان کے جسم پر نشان پڑگئے ہانڈی تلے آگ سلگاتے ان کے کپڑے سیاہ ہوگئے اور انھیں نقصان بھی پہنچا ادھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خادم آئے میں نے کہا : اگر اباحضور کے پاس جائیں تو ایک خادم مانگ لائیں چنانچہ وہ گئیں تو آپ کے پاس کچھ لوگ باتیں کررہے تھے تو وہ واپس آگئیں۔ پھر اگلے دن ان کے پاس گئیں تو آپ نے فرمایا : کیا ضرورت ہے تو وہ خاموش ہوگئیں میں نے کہا : یارسول اللہ ! میں آپ کو بتاتاہوں چکی چلاتے اور مشکیز ہ اٹھاتے ان کے ہاتھوں میں چھالے اور جسم پر نشان پڑگئے ہیں جب آپ کے پاس خادم آئے تو میں ان سے آپ کے پاس چلنے کو کہا کہ آپ سے خادم مانگ لیں جو انھیں اس مشقت سے بچائے جس میں وہ مبتلا ہیں آپ نے فرمایا : فاطمہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اپنے رب کا فرض اداکرو اور اپنے گھروالوں کا کام کروجب تم اپنے بسترپرآؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو یہ سو کلمات کی مقدار تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے تو انھوں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے راضی ہوں اور اپ نے انھیں خادم نہیں دیا۔ ابوداؤد عبداللہ بن امام احمد فی زوائدہ والعسکری فی المواعظ، حلیۃ الاولیائ، قال ابن المدینی، علی بن اعبدلیس بمعروف ولا اعرف لہ غیرھذا، وقال فی المغنی : علی بن اعبد عن لایعرف، کلام۔۔۔ ضعیف ابی داؤدا ٦٤، ٦٤٢۔
41985- مسند علي عن علي بن أعبد قال: قال لي علي: ألا أحدثك عني وعن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت من أحب أهله إليه؟ قلت: بلى، قال: إنها جرت بالرحى حتى أثر في يدها واستقت بالقربة حتى أثر في نحرها، وكنست البيت حتى اغبرت ثيابها، وأوقدت القدر حتى دكنت ثيابها وأصابها من ذلك ضر، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم خدم، فقلت: لو أتيت أباك فسألتيه خادما! فأتته فوجدت عنده حداثا فرجعت، فأتاها من الغد فقال: "ما كان حاجتك"؟ فسكتت، فقلت: أحدثك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! جرت بالرحى حتى أثر في يدها، وحملت بالقربة حتى أثرت في نحرها، فلما جاءك الخدم أمرتها أن تأتيك فتستخدمك خادما يقيها حر ما هي فيه! قال: "اتقي الله يا فاطمة! وأدي فريضة ربك، واعملي عمل أهلك، وإن أخذت مضجعك فسبحي ثلاثا وثلاثين، واحمدي ثلاثا وثلاثين، وكبري أربعا وثلاثين؛ فتلك مائة فهي خير لك من خادم". فقالت: رضيت عن الله وعن رسوله، ولم يخدمهما."د " عم والعسكري في المواعظ، حل؛ قال ابن المديني: علي بن أعبد ليس بمعروف ولا أعرف له غير هذا؛ وقال في المغني: علي بن أعبد عن علي لا يعرف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٦۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : فاطمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس خادم مانگنے آئیں آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں خادم سے بہترچیز نہ بتاؤں، تینتیس بار سبحان اللہ چونتیس بار اللہ اکبر اور تینتیس بار الحمد للہ کہا کرو اے اللہ ! سات آسمانوں اور عرش عظیم کے رب ہمارے رب اور ہرچیز کے رب توراۃ انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے میں ہر شر سے تیری پناہ چاہتی ہوں جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے اے اللہ ! تواول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں تو پوشیدہ ہے تو تیرے سامنے کوئی چیز نہیں میرا قرض اداکر اور مجھے محتاجی سے پناہ دے۔ رواہ ابن جریر
41986- عن أبي هريرة قال: جاءت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم تسأله خادما فقال: "ألا أدلك على ما هو خير لك من خادم! تسبحين الله ثلاثا وثلاثين تسبيحة، وتكبرين أربعا وثلاثين تكبيرة، وتحمدين ثلاثا وثلاثين تحميدة، وتقولين "اللهم! رب السماوات السبع، ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، منزل التوراة والإنجيل والقرآن! أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته، اللهم! أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقض عني الدين وأعذني من الفقر"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ (رض) اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں
٤١٩٨٧۔۔۔ مسندعلی ابواسحاق ہمدانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے میرے لیے ایک تحریر لکھی فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا حکم دیا ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو کہا کرو : میں تیری کریم ذات کے ذریعہ اور تیرے کامل کلمات کی وجہ سے ہراس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے اے اللہ ! تو ہی تاوان اور گناہ کو ختم کرتا ہے اے اللہ ! تیرا لشکر شکست نہیں کھانا اور نہ تیرے وعدہ میں عہد شکنی ہے اور نہ کسی بزرگی والے کی بزرگی تیرے سامنے کچھ کام آتی ہے تو پاک ہے تیری حمد ہے۔ ابن ابی الدنیا فی الدعاء
41987- مسند علي عن أبي إسحاق الهمداني عن أبيه قال: كتب لي علي بن أبي طالب كتابا قال: أمرني به رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أخذت مضجعك فقل "أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته، اللهم! أنت تكشف المغرم والمأثم، اللهم! لا يهزم جندك، ولا يخلف وعدك، ولا ينفع ذا الجد منك الجد، سبحانك وبحمدك"."ابن أبي الدنيا في الدعاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٨٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بستر کے پاس کہا کرتے تھے اے اللہ آپ کی کریم ذات اور آپ کے کلمات کے ذریعہ پر اس شر سے پناہ چاہتاہوں جس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اے اللہ ! تو ہی تاوان اور گناہ کو دور کرتا ہے اے اللہ ! تیرلشکر شکست نہیں کھاتا نہ تیرے وعدہ کے خلاف ہوتا ہے نہ کسی بزرگی والے کی بزرگی تیرے سامنے چلتی ہے تو پاک ہے تیری حمد کے ساتھ، ابوداؤد، نسائی وابن جریر
41988- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول عند مضجعه "اللهم! إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته، اللهم! إنك تكشف المغرم والمأثم، اللهم! لا يهزم جندك، ولا يخلف وعدك، ولا ينفع ذا الجد منك الجد، سبحانك وبحمدك"."د، " ن وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٨٩۔۔۔ (مسندالبراء بن عازب) براء (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بسترپر آتے تو فرماتے : اللھم الیک اسلمت نفسی ووجھت وجھی والیک فوضت امری والیک الجات ظھری رغبۃ ورھبۃ الیک لاملجاء ولامنجا الا الیک آمنت بکتابک الذی انزلت ونبیک الذی ارسلت ابن ابی شیبۃ وابن جریروصححہ
41989- مسند البراء بن عازب عن البراء قال: كان صلى الله عليه وسلم إذا أخذ مضجعه قال "اللهم! إليك أسلمت نفسي ووجهت وجهي، وإليك فوضت أمري، وإليك ألجأت ظهري، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت"."ش وابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٩٠۔۔۔ براء (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سونے لگتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناکر اپنے رخساررکھتے اور فرماتے ، اللھم ! قنی عذابک یوم تبعث وفی لفظ یوم تجمع عبادک،۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وصححہ
41990- عن البراء قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا نام توسد يمينه تحت خده ويقول "اللهم! قني عذابك يوم تبعث - وفي لفظ: يوم تجمع - عبادك"."ش وابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٩١۔۔۔ ابوذر (رض) سے روایت ہے فرمایا : رات جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بستر پر آتے تو فرماتے : اللھم باسمک نموت ونحی، اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے : الحمد للہ الذی احیانا بعد موتنا وفی لفظ، بعد مااماتنا والیہ النشور، ابن جریر وصححہ
41991- عن أبي ذر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أخذ مضجعه من الليل قال "اللهم! باسمك نموت ونحيى" وإذا استيقظ قال: "الحمد لله الذي أحيانا بعد موتنا - وفي لفظ: بعد ما أماتنا - وإليه النشور"."ابن جرير وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٩٢۔۔۔ ابوعبید اللہ جدی سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) جب اپنے بستر پر آتے تو فرماتے : میں اس ذات کی پنا چاہتاہوں جس نے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے مگر اس کی اجازت سے شیطان مردود کے شر سے سات مرتبہ فرماتے۔ الخرانطی فی مکارم الا خلاق
41992- عن أبي عبيد الله الجدلي قال: كان علي بن أبي طالب إذا أوى إلى فراشه قال "عذت بالذي يمسك السماء أن تقع على الأرض إلا بإذنه من الشيطان الرجيم" سبع مرات."الخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٩٣۔۔۔ ابوھمام عبداللہ بن یسار سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) جب رات کے وقت اٹھتے تو فرماتے : اللہ سب سے بڑا ہے وہ اس کا اہل ہے کہ اس کی بڑائی اس کا ذکر اور اس کا شکرادا کیا جائے جس کا نفع ہی نفع اور جس کا نقصان ہی نقصان وہ ہے۔ الخرا نطی
41993- عن أبي همام عبد الله بن يسار قال: كان علي بن أبي طالب إذا قام من الليل قال "الله أكبر، أهل أن يكبر، وأهل أن يذكر، وأهل أن يشكر، من نفعه نفع وضره ضر"."الخرائطي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بسترپر پڑھنے کے خاص الفاظ
٤١٩٩٤۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بستر کے پاس آتے تو فرماتے : الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وکفانا واوانافکم من لا کافی ولا مووی۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور کافی دیا اور ہمیں جگہ دی کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے لیے نہ کفایت ہے اور نہ جگہ۔ ابن جریر وصححہ و بیہقی
41994- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه قال "الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا، فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي"."ابن جرير وصححه، ق".
তাহকীক: