কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪২০০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤١٩٩٥۔۔۔ عطیہ ابوسعید یاجابربن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : جب بھی کوئی سوتا ہے تو اس کے کان پر ریشم کے ذریعہ گھر ہیں لگادی جاتی ہیں پس اگر وہ جاگ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وضو کرلے تو دوسری کھل جانی ہے اور اگر نماز بھی پڑھ لے تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر نہ وہ جاگا نہ وضو کیا اور نہ نماز پڑھی تو تمام گرہیں بدستور رہتی ہیں اور شیطان اس کے کان میں پیشاب کرتا ہے۔ رواہ ابن جریر
41995- عن عطية عن أبي سعيد أو جابر بن عبد الله قال: ليس أحد ينام إلا ضرب على صماخه بجرير عقد، فإن هو استيقظ فذكر الله حلت عقدة، فإن توضأ حلت أخرى، فإن صلى حلت عقده كلها؛ وإن لم يستيقظ ولم يتوضأ ولم يصل أصبحت العقد كلها كهيئتها، فبال الشيطان في أذنه."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤١٩٩٦۔۔۔ (مسندعلی) ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مضبوطی سے دروازہ بند کرنے برتن ڈھاپنے مشکیزہ پر بند لگانے اور چراغ گل کرنے کا حکم دیا۔ (طبرانی فی الاوسط
41996- مسند علي أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بإرتاج الباب، وأن نخمر الإناء ونوكي السقاء، وأن نطفئ السرج."طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤١٩٩٧۔۔۔ (مسندحفصہ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بستر پر آتے تو فرماتے : اللھم رب قنی عذابک یوم تبعث عبادک ، رواہ ابن ابی شیبۃ
41997- مسند حفصة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أخذ مضجعه قال: "رب قني عذابك يوم تبعث عبادك"."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤١٩٩٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بستر پر آتے تو دونوں مٹھیاں بند کرکے ان میں پھونکتے اور ان میں پڑھا کرتے، قل ھو اللہ احد، قل اعوذبربک الفلق، پھر جہاں تک ہاتھ پہنچتا اپنے جسم پر پھیر لیتے اپنے سر اور چہرہ سے شروع کرتے اور سامنے جسم پر اس طرح تین بار کرتے۔ رواہ النسائی
41998- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أوى إلى فراشه جمع كفيه ثم نفث فيهما وقرأ فيهما {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} ثم مسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات."ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤١٩٩٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے بسترپر آتے توقل ھواللہ احد اور معوذتین سب پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں میں پھونک مارتے پھر انھیں اپنے چہر کندھوں سینہ اور جہاں تک ان کے ہاتھ پہنچتے پھیرلیتے فرماتی ہیں جب آپ کی بیماری بڑھ گئی تو مجھے حکم دیتے تو میں ایسا کرتی۔ رواہ ابن النجار
41999- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أوى إلى فراشه نفث في كفيه بقل هو الله أحد والمعوذتين جميعا، ثم يمسح بهما وجهه وعضديه وصدره وما بلغت يداه من جسده، قالت عائشة: فلما اشتد مرضه كان يأمرني أن أفعل به."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے والے کے کان میں گرہیں لگنا
٤٢٠٠٠۔۔۔ فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اپنے بستر پر آؤ توکہاکرو : تمام تعریفیں اللہ کے لیے جو کافی ہے اللہ بلند شان پاک ہے میرے لیے اللہ ہی کافی ہے جو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے جس نے اللہ کو پکارا اللہ نے اس کی سن لی، اللہ سے کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ اللہ کےعلاوہ کو بچنے کی جگہ ہے میں نے اللہ اپنے رب اور تمہارے پر توکل کی ہر رینگنے والے جانور کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہے نہ اس کا کوئی شریک بادشاہت میں ہے اور نہ فرمان برداری میں سے اس کا نگہبان ہے اور اس کی بڑائی بیان کر حضرت فاطمۃ (رض) فرماتی ہیں : پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان بھی ان کلمات کو پڑھ کر شیاطین اور پھرنے والے جانوروں میں سو جائے توا سے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ رواہ الدیلمی کلام۔۔۔ التنزیہ ٢، ٣٢٦۔
42000- عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا فاطمة! إذا أخذت مضجعك فقولي "الحمد لله الكافي، سبحان الله الأعلى، حسبي الله وكفى، ما شاء الله قضى، سمع الله لمن دعا، ليس من الله ملجأ ولا من وراء الله ملتجأ، توكلت على الله ربي وربكم، ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها إن ربي على صراط مستقيم؛ الحمد لله الذي لم يتخذ ولدا ولم يكن له شريك في الملك ولم يكن له ولى من الذل وكبره تكبيرا". قالت فاطمة: ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما من مسلم يقولها عند منامه ثم ينام وسط الشياطين والهوام فيضره الله"."الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند وقیلولہ کے ذیل میں
٤٢٠٠١۔۔۔ سائب بن یزید سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمربن خطاب دوپہر اور اس سے تھوڑی دیر پہلے ہمارے سے گزرتے تو فرماتے اٹھوقیلولہ کرلوجورہ جائے گا وہ شیطان کے لیے ہوگا۔ بیہقی فی الشعب
42001- عن السائب بن يزيد قال: كان عمر بن الخطاب يمر علينا عند نصف النهار وقبيله فيقول: قوموا فقيلوا! فما بقي فهو للشيطان."هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند وقیلولہ کے ذیل میں
٤٢٠٠٢۔۔۔ سوید العدوی سے روایت ہے فرمایا : ہم حضرت عمربن خطاب (رض) کے ہمراہ ظہر کی نماز پڑھتے پھر اپنے گھروں میں لوٹ کر قیلو لہ کرتے۔ رواہ ابن سعد
42002- عن سويد العدوي قال: كنا نصلي مع عمر بن الخطاب الظهر ثم نروح إلى رحالنا فنقيل."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند وقیلولہ کے ذیل میں
٤٢٠٠٣۔۔۔ مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو پتہ چلا کہ ان کا ایک گورنر قیلو لہ نہیں کرتا تو آپ نے اس کی طرف لکھا : قیلولہ کیا کرو اس لیے کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42003- عن مجاهد قال: بلغ عمر أن عاملا له لا يقيل، فكتب إليه عمر: قل! فإني حدثت أن الشيطان لا يقيل."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواب
٤٢٠٠٤۔۔۔ (مسندالصدیق) حضرت ابوبکر الصدیق (رض) سے روایت ہے فرمایا؛ جو افضل چیز مجھے دکھائی جائے : ایک شخص پوراوضو کرتا ہے اچھا خواب مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ محبوب ہے۔ رواہ الحکیم
42004- مسند الصديق عن أبي بكر الصديق قال: أفضل ما يرى لي: رجل أسبغ وضوءه رؤيا صالحة أحب إلي من كذا وكذا."الحكيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواب
٤٢٠٠٥۔۔۔ ابوقتادۃ (رض) فرماتے ہیں : کہ میں ناپسندیدہ خواب دیکھ غمز دہ ہوجاتا یہاں تک کہ مجھے صاحب فراش بننا پڑتا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا : جب تم اسے دیکھوتو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنے دائیں طرف تین بارتھوک دوانشاء اللہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔ رواہ النسائی
42005- عن أبي قتادة قال: كنت أرى الرؤيا أكرهها تحزنني حتى تضجعني فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: "إذا رأيتها تعوذ بالله من الشيطان الرجيم، واتفل عن يسارك ثلاثا؛ فإنها لا تضرك إن شاء الله"."ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواب
٤٢٠٠٦۔۔۔ (مسند ابوہریرہ ) ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکرکہا : میں نے دیکھا کہ میرا سرکٹ گیا اور میں نے اسے ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان تم میں سے کسی کا قصد کرتا اور اسے ڈراتا ہے تو وہ لوگوں کو بتاتا پھرتا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42006- مسند أبي هريرة جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني رأيت في المنام كأن رأسي ضرب فرأيته بيدي هذه! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يعمد الشيطان إلى أحدكم فيتهول له ثم يغدو فيخبر الناس"."ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خواب
٤٢٠٠٧۔۔۔ (مسندانس) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں نے اپنی سواری پر ایک دنبہ اپنے پیچھے سوار کررکھا ہے اور میری تلوار کی نوک ٹوٹ گئی تو میں نے یہ تعبیر کی کہ میں قوم کے سردارکوقتل کروں گا اور اپنی تلوار کی نوک کی یہ تاویل کی کہ میرے خاندان کا ایک شخص قتل کیا جائے گا تو حمزہ (رض) شہید کئے گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلحہ کو قتل کیا جس کے ہاتھ میں جھنڈا تھا۔ مسنداحمد، طبرانی فی الکبیر، ابن عساکر
42007- مسند أنس رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يرى النائم كأني مردف كبشا وكأن ضبة سيفي انكسرت، فأولت أن أقتل كبش القوم، وأولت ضبة سيفي قتل رجل من عترتي؛ فقتل حمزة، وقتل النبي صلى الله عليه وسلم طلحة وكان صاحب اللواء."حم، طب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠٠٨۔۔۔ (مسندالصدیق) ابوقلابہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آکر کہنے لگا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خون کا پیشاب کررہا ہوں آپ نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ تم اپنی بیوی کے پاس حیض کی حالت میں آتے ہو اس نے کہا : ہاں جی فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈر پھر ایسانہ کرنا۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ والدارمی
42008- مسند الصديق عن أبي قلابة أن رجلا أتى أبا بكر فقال: إني رأيت في النوم كأني أبول دما! فقال: أراك تأتي امرأتك وهي حائض، قال: نعم، قال فاتق الله ولا تعد."عب، ش والدارمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠٠٩۔۔۔ شعبی سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آکر کہنے لگا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں لومڑی دوڑارہا ہوں، فرمایا : تو نے وہ چیز دوڑائی جو نہیں دوڑائی جاتی توجھوٹاشخص ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرایسا نہ کرنا، ابن ابی شیبۃ وابوبکرفی الغیلانیات
42009- عن الشعبي قال: أتى رجل أبا بكر فقال: إني رأيت في المنام كأني أجري ثعلبا، قال: أجريت ما لا يجري، أنت رجل كذوب، فاتق الله ولا تعد."ش وأبو بكر في الغيلانيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١٠۔۔۔ سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا : حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا میرے گھر میں تین چاند گرے ہیں ، میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے یہ خواب بیان کیا اور وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ تعبیر کرنے والے تھے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے گھر میں زمین کی بہترین شخصیت دفن ہوگی، پھر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ نے فرمایا : عائشہ ! یہ تمہارا بہترین چاند ہے۔ الحمیدی، ضیاء حاکم
42010- عن سعيد بن المسيب قال: رأيت عائشة كأنه وقع في بيتها ثلاثة أقمار فقصصتها على أبي بكر وكان من أعبر الناس فقال: إن صدقت رؤياك ليدفنن في بيتك خير أهل الأرض ثلاثا فلما قبض النبي صلى الله عليه وسلم قال يا عائشة! هذا خير أقمارك."الحميدي، ض، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١١۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ اس امت کے سب سے زیادہ تعبیر کرنے والے اس کے نبی کے بعد ابوبکر (رض) ہیں۔ ابن سعد ومسدد
42011- عن محمد بن سيرين قال: كان أعبر هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر."ابن سعد ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١٢۔۔۔ صالح بن کیسان سے روایت ہے فرمایا : کہ محرزبن نضلۃ نے کہا : میں نے دیکھا کہ آسمان دنیا میرے لیے کھل گیا اور میں اس میں داخل ہوگیا اور ساتویں آسمان تک پہنچ گیا پھر سدرۃ المنتہیٰ تک رسائی ہوگئی، مجھے کسی نے کہا : یہ تمہارا مقام ہے میں نے حضرت ابوبکرالصدیق (رض) سے اپناخواب بیان کیا اور وہ تمام لوگوں میں زیادہ درست تعبیر دینے والے تھے انھوں نے فرمایا : شہادت کی خوشخبری ہو چنانچہ وہ ایک دن کے بعد جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ غزوۃ الغابہ کی طرف سرح کے روز نکلے اور یہ غزوہ ذی قرد ہے جو چھے ہجری کو پیش آیا تو انھیں سعدۃ بن حکمۃ نے شہید کیا۔ رواہ ابن سعد۔
42012- عن صالح بن كيسان قال قال محرز بن نضلة: رأيت سماء الدنيا أفرجت لي حتى دخلتها حتى انتهيت إلى السماء السابعة، ثم انتهيت إلى سدرة المنتهى، فقيل لي: هذا منزلك؛ فعرضتها على أبي بكر الصديق وكان أعبر الناس، فقال: أبشر بالشهادة! فقتل بعد ذلك بيوم خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى غزوة الغابة يوم السرح وهي غزوة ذي قرد سنة ست، فقتله سعدة بن حكمة."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت سمرۃ بن جند ب (رض) نے حضرت ابوبکرالصدیق (رض) سے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کھجور کی چھال کی رسی بٹ کر اپنے ساتھ رکھ رہاہوں اور کچھ لوگ جو میرے پیچھے ہیں اسے کھا رہے ہیں تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تم ایسی عورت سے شادی کروگے جو بچوں والی ہوگی وہ تمہاری کمائی کھائیں گے۔ انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ ایک سوراخ سے ایک بیل نکلتا اور پھر واپس چلاجاتا ہے پھر وہ اس سے نہ نکل سکا آپ نے فرمایا : یہ ایک عظیم بات ہے جو ایک شخص کے منہ نکلے گی پھر واپس نہیں ہوگی پھر انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ دجال نکل آیا تو میں دیوار کھود کر کھولنے لگا پھر پیچھے دیکھا تو وہ میرے قریب ہی تھا تو میرے لیے زمین کھل گئی اور میں اس میں داخل ہوگیا، حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہیں اپنے دین میں مشقت پہنچے گی۔ ابوبکر فی الغلا نیات، سعید بن منصور
42013- عن الحسن أن سمرة بن جندب قال لأبي بكر الصديق: إني رأيت في المنام كأني أقتل شريطا ثم أضعه إلى جنبي ونفر خلفي يأكله، فقال أبو بكر: إن صدقت رؤياك تزوجت امرأة ذات ولد، يأكلون كسبك، قال: ورأيت كأن ثورا خرج من جحر ثم ذهب يعود فيه فلم يستطع، قال: تلك الكلمة العظيمة تخرج من الرجل ثم لا تعود فيه. قال: ورأيت كأنه قيل: خرج الدجال، فجعلت أفتح جدارا ثم التفت خلفي فإذا هو قريب مني، فانفرجت لي الأرض فدخلتها! قال أبو بكر: إن صدقت رؤياك أصبت قحما في دينك."أبو بكر في الغيلانيات، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١٤۔۔۔ عبیداللہ بن عبداللہ کلاعی سے روایت ہے کہ حضرت عمربن الخطاب (رض) فرمایا کرتے تھے قرآن کو عربی انداز میں پڑھا کرو کیونکہ وہ عربی ہے اور سنت کی سمجھ حاصل کرو اور اچھی تعبیر کیا کرو جب کوئی اپنے بھائی کے سامنے خواب بیان کرے تو وہ کہے : اگر بھلائی ہو تو ہمارے لیے اور اگر برائی ہو تو ہمارے دشمن پر پڑے۔ ضیاء بیہقی فی الشعب
42014- عن عبيد الله بن عبد الله الكلاعي قال: كان عمر بن الخطاب يقول: أعربوا القرآن فإنه عربي، وتفقهوا في السنة، وأحسنوا عبارة الرؤيا، فإذا قص أحدكم على أخيه فليقل: اللهم! إن كان خيرا فلنا، وإن كان شرا فعلى عدونا."ض، هب".
তাহকীক: