কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪২০২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تعبیر
٤٢٠١٥۔۔۔ (مسندجابربن عبداللہ ) فرمایا : ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی : میں نے دیکھا کہ میری گردن کٹ گئی آپ نے فرمایا : اپنے ساتھ شیطان کے کھیل کو کوئی کیوں بیان کرتا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ
42015- من مسند جابر بن عبد الله قال قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم إني رأيت كأن عنقي ضربت! قال "لم يخبر أحدكم بلعب الشيطان به"."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠١٦۔۔۔ (اسی طرح) ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا عرض کی یارسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سرکٹ گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : جب خواب میں کسی کے ساتھ شیطان کھیلے تو وہ لوگوں سے بیان نہ کرے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42016- أيضا جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! رأيت في المنام كأن رأسي قطع، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم وقال: "إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس"."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠١٧۔۔۔ خزیمہ بن ثابت (رض) نے دیکھا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی کے کنارہ پر سجدہ کررہے ہیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک روح روح سے مل جاتی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سرجھکایا اور انھوں نے پیچھے سے آپ کی پیشانی پر سجدہ کیا۔ ابن ابی شیبۃ، و ابونعیم
42017- عن خزيمة بن ثابت أنه رأى في المنام كأنه يسجد على جبين النبي صلى الله عليه وسلم، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الروح ليلقى الروح"، فأقنع رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه ثم أمره، فسجد من خلفه على جبين رسول الله صلى الله عليه وسلم."ش وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠١٨۔۔۔ بیہقی نے کہا ہمیں ابونصربن قتادۃ نے ان سے ابو عمروبن مطر نے ان سے جعفر بن محمد المستفاض فریابی نے کہا مجھ سے ابو وھب الولید بن عبدالملک بن عبداللہ الجہنی نے وہ اپنے چچا ابومشجعۃ سے وہ ربع سے وہ ابن زمل جہنی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھ لیتے تو پاؤں موڑے ہوئے ہی فرماتے، سبحان اللہ و بحمد ہ واستغفر اللہ ان اللہ کان توابا، ستر بارفرماتے پھر فرماتے سترسات سو کے بدلہ اس شخص میں کوئی چیز نہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے زیادہ ہوں پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے آپ کو خواب پسند تھے کیا کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ تو ابن زمل نے کہا : اللہ کے نبی ! میں نے آپ نے فرمایا : بھلائی تمہیں ملے اور برائی سے تم محفوظ رہو بھلائی ہمارے لیے اور برائی ہمارے دشمنوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے بتاؤتو میں نے کہا : میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک لمبے کشادہ راستہ پر ہیں۔ لوگ شاہر اہ پر جارہے ہیں۔ چلتے چلتے یہ راستہ ایک چراگاہ تک پہنچ گیا میری آنکھوں نے اس جیسی سرسبز و شاداب چراگاہ نہیں دیکھی اس کا پانی گررہا ہے اس میں ہر قسم کی گھاس گویا میں پہلے نولہ میں تھا جو چراگاہ کی طرف لپکے انھوں نے اللہ اکبر کہا اور اپنے گھوڑے راستہ میں ڈال دیئے اور اس چراگاہ کے دائیں بائیں میں سے کچھ نقصان نہیں کیا گویا میں اب بھی انھیں چلتا دیکھ رہاہوں۔ پھر دوسرا گروہ آیا جو ان سے زیادہ تھے جب وہ چراگاہ کے کنارے پہنچے تو اللہ اکبر کہا اپنی سواریاں راستہ میں ڈال دیں تو کچھ کھانے لگے اور کچھ نے مٹھی بھرگی اس لے لی اور اسی رخ چلتے بنے پھر سب سے زیادہ لوگ آئے جب چراگاہ تک پہنچی تو نعرہ تکبیر بلند کرکے کہنے لگے : یہ پڑاؤ کی بہترین جگہ ہے میں دیکھ رہاہوں کہ وہ دائیں بائیں پھیل گئے میں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو میں راہ پر چل پڑایہاں تک کہ چراگاہ کی انہتاتک پہنچ گیا وہاں میں نے یارسول اللہ ! آپ کو پایا آپ ایک منبر پر ہیں جس کی سات سیڑھیاں ہیں آپ سب سے اونچی سیڑھی پر تھے اور آپ کے دائیں جانب مونچھوں والا ایک شخص ہے جس کے نتھنے تنگ اور ناک اٹھی ہوئی ہے وہ جب بات کرتا ہے تو چھا جاتا ہے لمبائی میں مردوں سے بلند ہے اور آپ کے بائیں جانب میانہ قدبھرے بند والا سرخ رنگ اور زیادہ تلوں والا ایک شخص ہے گویا اس نے گرم پانی سے اپنے بال دھوئے ہیں جب وہ بولتا ہے تو آپ سب لوگ اس کی عزت و اکرام کی خاطر اس پر کان لگاتے ہو اور آپ کے سامنے ایک بوڑھاشخص ہے جو شکل وشباہت میں آپ کے مشابہ تھا آپ سب لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک عمررسیدہ کمزور اونٹنی ہے آپ گویا اس کی پیروی کررہے ہیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تم نے کشادہ وسیع اور نہ ختم ہونے والا راستہ دیکھا ہے تو یہ وہ ہدایت ہے جس پر میں نے تمہیں برانگیختہ کیا اور تم اس پر ہو اور جو چراگاہ تم نے دیکھی تو وہ دنیا اور اس کی خوش عیشی ہے میں اور میرے صحابہ (رض) اس کے پاس گزرے اور وہ ہمارے ساتھ نہ چمٹی نہ ہم نے اس کا ارارہ کیا اور نہ اس نے ہمارا قصد کیا پھر دوسرا گروہ آیا جو ہمارے بعد تھا وہ مقدار میں ہم سے کئی گنازیادہ تھا ان میں سے کچھ اس چراگاہ سے کھانے لگے کچھ مٹھی بھرگھاس لے لی اور اس طرح اس سے گزرگئے پھر لوگوں کا بڑا ٹولہ آیا اور وہ چراگاہ کے دائیں بائیں پھیل گئے۔ ، فاناللہ وانا الیہ راجعون، تم تو صحیح راستہ پرچلتے رہوگے اور آخرکار مجھ سے آملو گے اور وہ جو سات سیڑھیوں والا تم نے دیکھا میں سب سے اوپر والے درجہ میں ہوں تو دنیا کے سات ہزارسال ہیں اور میں سب سے آخری ہزارویں سال میں ہوں اور جو شخص تم گندمی رنگ مونچھوں والا دیکھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے وہ اللہ تعالیٰ سے کلام کی وجہ سے جب لوگوں سے گفتگو کرتے تو ان پر غالب آجاتے اور جو میانہ قد بھرے بند چہرے پر زیادہ تلوں والا شخص تم نے میرے بائیں جانب دیکھا وہ عیسیٰ بن مریم علیہماالسلام تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا اکرام کیا اس لیے ہم ان کی عزت و اکرام کررہے تھے۔ اور جو بوڑھے شخص تم نے شکل وشباہت میرے مشابہ دیکھے وہ ہمارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) تھے ہم سب ان کی پیروی اوراقتداء کرتے ہیں۔ اور جو اونٹنی تم نے دیکھی کہ میں اس کا پیچھا کررہاہوں تو وہ قیامت ہے جو ہم پر قائم ہوگی میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے۔
42018- قال البيهقي أخبرنا أبو نصر بن قتادة أخبرنا أبو عمرو ابن مطر أخبرنا جعفر بن محمد المستقاض الفريابي حدثني أبو وهب الوليد بن عبد الملك بن عبد الله الجهني عن عمه أبي مشجعة عن ربع عن ابن زمل الجهني قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح قال وهو ثان رجله "سبحان الله وبحمده، وأستغفر الله، إن الله كان توابا" سبعين مرة، ثم يقول: "سبعين بسبعمائة، لا خير فيمن كانت ذنوبه في يوم واحد أكثر من سبعمائة"، ثم يستقبل الناس بوجهه وكانت تعجبه الرؤيا ثم يقول: "هل رأى أحد منكم شيئا"؟ قال ابن زمل: فقلت: أنا يا نبي الله! قال: "خيرا تلقاه، وشرا توقاه، وخير لنا وشر على أعدائنا، والحمد لله رب العالمين، اقصص"! فقلت: رأيت جميع الناس على طريق رحب سهل لاحب " والناس على الجادة منطلقين، فبينما هم كذلك أفضى " ذلك الطريق على مرج " بالماء، إذا هو تكلم أصغيتم له إكراما له، وإذا أمامكم رجل شيخ أشبه الناس بك خلقا ووجها كلكم تؤمونه - تريدونه - وإذا أمامه ناقة عجفاء شارف فإذا أنت يا رسول الله كأنك تتبعها.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أما ما رأيت من الطريق السهل الرحب اللاحب فذاك ما حملتكم عليه من الهدى وأنتم عليه، وأما المرج الذي رأيت فالدنيا وغضارة عيشها، مضيت أنا وأصحابي لم تتعلق منا، ولم نردها ولم تردنا؛ ثم جاءت الرعلة الثانية من بعدنا وهم أكثر منا أضعافا، فمنهم المرتع ومنهم الآخذ الضغث، ونجوا على ذلك؛ ثم جاء عظم الناس فمالوا على المرج يمينا وشمالا فإنا لله وإنا إليه راجعون! وأما أنت فمضيت على طريق صالحة فلم تزل عليها حتى تلقاني، وأما المنبر الذي رأيت فيه سبع درجات وأنا في أعلاها درجة الدنيا سبعة آلاف سنة وأنا في آخرها ألفا، وأما الرجل الذي رأيت على يميني الآدم السبل فذاك موسى، إذا تكلم يعلو الرجال بفضل كلام الله إياه، والذي رأيته عن يساري التار الربعة الكثير خيلان الوجه كأنما حمم شعره فذاك عيسى ابن مريم نكرمه لإكرام الله إياه، وأما الشيخ الذي رأيت أشبه الناس بي خلقا ووجها فذاك أبونا إبراهيم كلنا نؤمه ونقتدي به، وأما الناقة التي رأيت ورأيتني أتبعها فهي الساعة، علينا تقوم، لا نبي بعدي ولا أمة بعد أمتي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠١٩۔۔۔ عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں ایک شخص میرے پاس آکر کہنے لگا : اٹھو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل دیا اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میرے بائیں طرف گھاٹی ہے تو اس شخص نے کہا : اس میں نہ چلنا یہ بائیں طرف والوں کے راستہ ہیں پھر میں نے اپنے دائیں ایک گھاٹی دیکھی تو اس نے مجھے کہا : اس میں چلو پھر وہ مجھے ایک پہاڑپرلے آیا مجھے کہنے لگا : اس پرچڑھو تو میں جب بھی چڑھنے کا ارادہ کرتا تو پیچھے گرپڑتا میں نے ایسا کئی بار کیا۔ پھر مجھے ایک ستون کے پاس لے گیا جس کا سرا آسمان پر اور اس کی بنیادزمین میں ہے اس کی چوٹی پر ایک حلقہ ہے مجھے کہا کہ اس پرچڑھو، میں نے کہا : میں اس پر کی سے چڑھ سکتا ہوں اس کا سرا آسمان پر ہے تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اوپر پھینک دیا اور میں حلقہ کے ساتھ لٹک گیا پھر اس نے ستون کو ماراتو وہ گرگیا اور حلقہ کے ساتھ لٹکتارہ گیا یہاں تک کہ صبح ہوگئی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ان سے ساراقصہ بیان کیا آپ نے فرمایا : تم نے اپنے دائیں طرف جو راستے دیکھے تو وہ دائیں طرف والے لوگوں کے راستے ہیں اور وہ پہاڑشہداء کی منزلیں ہیں جس تک تم ہرگز نہیں پہنچوگے اور رہاوہ ستون تو وہ اسلام کا ستون ہے۔ اور وہ حلقہ اسلام کا حلقہ ہے جسے تم مرتے دم تک تھا مے رکھو گے۔ پھر فرمایا : کیا تمہیں پتہ ہے اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور فرمایا : تم سے فلاں فلاں یداہوں گے اور فلاں سے فلاں اور فلاں سے فلاں پیدا ہوگا، اس کی اتنی اتنی عمرایسا ایساعمل اور اتنا اتنا اس کا رزق ہوگا پھرا س میں روح پھونکی جاتی ہے۔ رواہ ابن عساکر
42019- عن عبد الله بن سلام قال: بينا أنا نائم إذ أتاني رجل فقال لي: قم! فأخذ بيدي فانطلقت معه فإذا أنا بجواد عن شمالي، فقال: لا تأخذ فيها فإنها طرق أصحاب الشمال؛ وإذا أنا بجواد عن يميني، فقال لي: خذ ههنا! فأتى بي جبلا فقال لي: اصعد! فجعلت إذا أردت أن أصعد خررت على أستي، فعلت ذلك مرارا، ثم انطلق بي حتى أتى عمودا رأسه في السماء وأسفله في الأرض وفي أعلاه حلقة فقال لي: اصعد فوق هذا! فقلت له: كيف أصعد فوق هذا ورأسه في السماء! فأخذ بيدي فزجل " بي فإذا أنا متعلق بالحلقة ثم ضرب العمود فخر وبقيت متعلقا بالحلقة حتى أصبحت، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقصصته عليه. فقال: "أما الطرق التي رأيت عن يمينك فهي طرق أصحاب اليمين، وأما الجبل فهو منازل الشهداء ولن تناله، وأما العمود فهو عمود الإسلام، وأما العروة فهي عروة الإسلام لم تزل مستمسكا بها حتى تموت" ثم قال: "أتدري خلق الله الخلق"؟ قلت: لا، قال: "خلق الله آدم فقال: تلد فلانا وتلد فلانا، ويلد فلان فلانا، ويلد فلان فلانا، أجله كذا وكذا، وعمله كذا وكذا، ورزقه كذا وكذا، ثم ينفخ الروح فيه"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠٢٠۔۔۔ عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے کہا : یارسول اللہ ! میں نے خواب میں ایک شخص دیکھا وہ میرے پاس آیا اور میرا ہاتھ پکڑکرچل دیا یہاں تک کہ ہم دوراستوں تک پہنچ گئے ایک میری دائیں جانب دوسرامیری بائیں طرف میں نے بائیں طرف چلنا چاہاتو اس نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور مجھے دائیں طرف سے آملا پھر مجھے لے کر چل دیا کہ ہم ایک پہاڑ تک پہنچے میں نے اس پرچڑھنے کی کوشش تو جب بھی چڑھتا سرین کے بل گرپڑتا میں روپڑا پھر وہ مجھے لے کر ایک ستون کے پاس پہنچا جس کی چوٹی آسمان میں ایک حلقہ ہے تو اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکرلگائی تو میں حلقہ تک پہنچ گیا اور میں نے اسے تھام لیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری آنکھ سو جائے وہ دائیں بائیں طرف والا راستہ جس میں تمہیں چلے تو وہاں راستہ دوزخیوں کا اور دایاں جنتیوں کا اور وہ حلقہ مضبوط کڑا ہے اور ٹھوکر مارنے والاملک الموت ہے اس کڑے کو تھامے ہی تمہاری موت واقع ہوگی۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اور ارشاد فرمایا : یہ آدم ہے اس کی فلاں اولاد ہوگی اور فلاں کی اولاد ہوگی اور فلاں کی بھی اولاد ہوگی فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے چاہا پھر انھیں ان کے اعمال اور عمریں دکھائیں۔ رواہ ابن عساکر
42020- عن عبد الله بن سلام قال: قلت: يا رسول الله! إني رأيت في المنام رجلا جاءني فأخذ بيدي فانطلق بي حتى انتهينا إلى طريقين: إحداهما عن يميني والأخرى عن شمالي، فأردت أن آخذ اليسرى فأخذ بيدي فألحقني باليمنى، ثم انطلق بي حتى انتهينا إلى جبل فأردت أن أصعد فيه فجعلت كلما صعدت وقعت على أستي فأبكي ثم انطلق إلى عمود في رأسه حلقة فضربني ضربة برجله فإذا أنا في رأس الحلقة مستمسك بالحلقة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "نامت عينك! أما الطريق الذي أخذت يمينا وشمالا فإن اليسرى طريق أهل النار - واليمنى طريق أهل الجنة، وأما الجبل فإنه عمل الشهداء ولن تبلغه، وأما العمود فعمود الإسلام، وأما الحلقة فالعروة الوثقى، وأما الضارب فملك الموت، تموت وأنت مستمسك بالعروة الوثقى".ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله تبارك وتعالى خلق آدم فقال: هذا آدم! يولد له فلان، ويولد لفلان فلان، ولفلان فلان - قال ما شاء الله من ذلك ثم أراه الله أعمالهم وآجالهم"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠٢١۔۔۔ حضرت عائشۃ (رض) سے روایت ہے فرمایا : مدینہ میں ایک عورت تھی جس کا خاوند تاجر تھا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگیـ: یارسول اللہ ! میرا خاوند تجارت کے نکل گیا اور مجھے حمل میں چھوڑ گیا میں نے خواب میں دیکھا : کہ میرے گھر کا ستون گرگیا اور میں نے ایسابچہ جناجس کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی بہت نمایاں ہے آپ نے فرمایا : انشاء اللہ تعالیٰ ، تیرا خاوند صحیح سالم واپس آئے گا اور تولڑکا جنے گی۔ رواہ الدیلمی
42021- عن عائشة قالت: كانت امرأة من أهل المدينة لها زوج تاجر أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقالت: يا رسول الله! إن زوجي خرج تاجرا وتركني حاملا، فرأيت في المنام أن سارية بيتي انكسرت، وأني ولدت غلاما أحور! فقال: "خير إن شاء الله تعالى! يرجع زوجك عليك صالحا، وتلدين غلاما"."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠٢٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں گندگی میں چل رہاہوں اور میرے سینے میں دوتل یانشان ہیں اور مجھ پر ایک منقش چاد رہے آپ نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچا ہے تو مسلمانوں کے معاملہ کے ذمہ دارہوگے اور دو سال ان کے حاکم ہوگے۔ رواہ الدیلمی
42022- عن عائشة قالت: قال أبو بكر: يا رسول الله! إني رأيت في المنام كأني أطأ في عذرة، وأن في صدري خالين أو شامتين، وعلي رداء حبرة؛ فقال: "لئن صدقت رؤياك لتلين أمر الناس، ولتلين سنتين"."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر خواب لوگوں سے بیان نہ کیا جائے
٤٢٠٢٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر ! میں نے دیکھا کہ میں کھجورکاحلوہ کھارہا ہوں اور میرے گلے میں ایک کٹھلی آگئی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرانے لگے : تو ابوبکر (رض) نے کہا : یارسول اللہ ! اس کی تعبیر آپ جانتے ہیں آپ نے فرمایا : تم تعبیر کرو۔ آپ نے کہا : آپ کے مال غنیمت میں خیانت ہوگی۔ رواہ الدیلمی
42023- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر! إني رأيت أني آكل حيسا فعرضت لي نواة في حلقي" - فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فقال: هو ما تعلم يا رسول الله! فقال: "عبرها أنت"، فقال: تخان في غنيمتك."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کی مباح صورتیں
٤٢٠٢٤۔۔۔ زھری سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) آلتی پالتی مار کر بیٹھتے تھے اور پیٹھ کے بل سوتے تھے اور ایک پاؤں اٹھاکر دوسرا اس پر رکھتے تھے۔ رواہ ابن سعد
42024- عن الزهري قال: كان عمر بن الخطاب يجلس متربعا، ويستلقي على ظهره ويرفع إحدى رجليه على الأخرى."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کی مباح صورتیں
٤٢٠٢٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں زیادہ سونے والا آدمی تھا اور میں مغرب کی نماز پڑھ کر وہیں سوجاتا مجھ پر وہی کپڑے ہوتے یوں میں عشاء سے پہلے سوجایا کرتا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے مجھے اس بارے میں رخصت دی ۔ مسنداحمد
42025- عن علي قال: كنت رجلا نؤما وكنت إذا صليت المغرب وعلي ثيابي نمت ثم فأنام قبل العشاء، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فرخص لي."حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند کی مباح صورتیں
٤٢٠٢٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی باندی سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) رات کا کھانا کھاکر پھر وہیں سوجاتے اور آپ پر عشاء سے پہلے والے کپڑے ہوتے۔ رواہ عبدالرزاق
42026- عن سرية علي قالت: كان علي يتعشى ثم ينام وعليه ثيابه قبل العشاء."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی ممنوع صورتیں
٤٢٠٢٧۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو منہ کے بل سوتے دیکھ کر فرمایا : یہ ایسا لیٹنا ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ رواہ ابن النجار
42027- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى رجلا منبطحا على وجهه فقال: إن هذه لضجعة ما يحبها الله."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کی ممنوع صورتیں
٤٢٠٢٨۔۔۔ حضرت فاطمۃ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے تو میں صبح کے وقت سوئی ہوئی تھی آپ نے اپنے پاؤں سے مجھے حرکت دے کر فرمایا : بیٹی ! اٹھو (اللہ تعالیٰ ) اپنے رب کے رزق کو دیکھو غافلوں میں شامل نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فجر کے طلوع ہونے سے طلوع شمس تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتا ہے۔ رواہ ابن النجار، کلام۔۔۔ (اللآلی ٢، ١٥٧۔
42028- عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا مضجعة متصحبة فحركني برجله وقال: "يا بنية! قومي فاشهدي رزق ربك ولا تكوني من الغافلين، فإن الله يقسم أرزاق الناس ما بين طلوع الفجر إلى طلوع الشمس"."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٢٩۔۔۔ (مسندالصدیق ) عبادۃ بن نسی سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جب سواری تھک گئی ہو تو اس کے پاؤں اس ڈر سے نہ کاٹو کہ دشمن اپنے پکڑلے گا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42029- مسند الصديق عن عبادة بن نسي قال قال أبو بكر: لا تعقروا دابة وإن حسرت "."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٠۔۔۔ حمید بن ہلال سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت ابوبکر (رض) نے اپنی بیماری میں دائیں طرف تھوکا پھر فرمایا میں نے صرف اسی بارتھوکا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
42030- عن حميد بن هلال قال: بزق أبو بكر عن يمينه في مرضة مرضها فقال: ما فعلته غير هذه المرة."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا تم میں سے جب کوئی اونٹ خریدے تو بڑا اور لمبااونٹ خریدے اکر وہ اس کی خیر سے محروم رہا تو اس کے ہانکنے سے محروم نہیں رہے گا۔ اور اپنی عورتوں کو کتان کا کپڑانہ پہنا کیونکہ موٹا نہیں ہوتا اس سے جسم نمایاں ہوتا ہے۔ اپنے گھروں کو درست کرو اور سانپوں کو ڈراؤ اس سے پہلے کہ وہ تمہیں ڈرائیں ان کے مسلمان تمہارے سامنے نہیں آئیں گے۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ
42031- عن عمر قال: إذا اشترى أحدكم جملا فليشتره عظيما طويلا، فإن أخطأه خيره لم يخطئه سوقه، ولا تلبسوا نساءكم القباطي، فإنه إن لا يشف فإنه يصف، وأصلحوا مثاويكم، وأخيفوا الهوام أن تخيفكم، فإنه لا يبدو لكم منهن مسلم."عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٢۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : سورج کی طرف اپنی پیشانیاں کیا کرو کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے۔ ابن ابی شیبۃ وابوذرالھروی فی الجامع
42032- عن عمر قال: استقبلوا الشمس بجباهكم، فإنها حمام العرب."ش وأبو ذر الهروي في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٣۔۔۔ محمد بن یحییٰ بن جنادہ سے روایت ہے فرمایا : حضرت جس کا کوئی مال ہو تو وہ اسے درست کرے جس کی کوئی زمین ہو وہ اسے آباد کرے کیونکہ عنقریب ایسا دور آئے گا کہ تم ایسے شخص کے پاس آؤ جو صرف اپنے دوست کودے گا۔ ابن ابی الدنیا
42033- عن محمد بن يحيى بن جنادة قال: قال عمر: من كان له مال فليصلحه، ومن كانت له أرض فليعمرها، فإنه يوشك أن تجيء من لا يعطى إلا من أحب."ابن أبي الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : سانپوں کو اس سے پہلے کہ تمہیں ڈرائیں انھیں ڈراؤ، نیزے پھینکا کرومعدبن عدنان کی مشابہت اختیار کرو کھردرالباس پہنو سرکودوحصوں میں کنگھی کرکے مان نکال کر تقسیم کرو اور آرزو سے دوررہو اور عاجزی کے گھر میں نہ رہو اور سانپو کو ڈراؤ اسے پہلے کہ وہ تمہیں ڈرائیں اپنے گھروں کو ٹھیک رکھو۔ ابوعبید فی الغریب ابن ابی شیبۃ
42034- عن عمر قال: أخيفوا الهوام قبل أن تخيفكم، وانتضلوا وتمعددوا واخشوشنوا، واجعلوا الرأس رأسين، وفرقوا عن المنية، ولا تلثوا بدار معجزة، وأخيفوا الحيات من قبل أن تخيفكم، وأصلحوا مثاويكم."أبو عبيد في الغريب ش".
tahqiq

তাহকীক: