কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪২০৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٥۔۔۔ ابومجلز سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عمر (رض) نے مدینہ کی ایک دیوار سے ٹیک لگائی اور وہ ایسے لوگ تھے کہ ایک پاؤں پر دوسراپاؤں رکھنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) نے ایسا کیا ۔ ابن راھویہ و صحیح
42035- عن أبي مجلز قال: استلقى عمر بن الخطاب في حائط من حيطان المدينة، وكان أقوام يكرهون أن يضع إحدى رجليه على الأخرى حتى صنع عمر."ابن راهويه وصحح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے آٹے کو اچھی طرح گدندھاکرو وہ دہراپسا ہوا ہے۔ ابن ابی شیبۃ وابوعبید فی الغریب بلفظ احدالریعین
42036- عن عمر قال: املكوا العجين فهو الطحنين."ش وأبو عبيد في الغريب بلفظ: إحدى الريعين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وضو فرماتے تو دائیں طرف سے پسند فرماتے اور جب جوتا پہنتے تو اور جب کنگھی کرتے تب ۔ ضیاء
42037- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن في الطهور إذا تطهر، وفي ترجله إذا ترجل، وفي انتعاله إذا انتعل."ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا دایاں ہاتھ کھانے اور وضو کے لیے اور بایاں ہاتھ استنجاء اور دوسری ضرورت کے لیے فارغ رکھتے۔ ضیاء
42038- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفرغ يمينه لمطعمه ولوضوئه، ويفرغ يساره للاستنجاء ولحاجته."ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٣٩۔۔۔ عبدالرحمن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ تھے آپ نے تھوکناچاہا لیکن آپ کی دائیں جانب فارغ تھی آپ نے دائیں جانب تھوکنا ناپسند کیا اور آپ نماز میں بھی نہ تھے۔ رواہ عبدالرزاق
42039- عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع عبد الله بن مسعود فأراد أن يبصق وما عن يمينه فارغ فكره أن يبصق عن يمينه وليس في صلاة."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : کفار کی مجلسوں میں برابری سے نہ بیٹھو اور نہ ان کے بیماروں کی عیادت کرو اور نہ ان کے جنازوں میں حاضرہو۔ ابن جریر وضعفہ
42040- عن علي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا تساووهم في المجالس - يعني الكفار، ولا تعودوا مرضاهم، ولا تشهدوا جنائزهم"."ابن جرير وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤١۔۔۔ اسی طرح محمد بن الحنفیۃ سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : علی اپنی خواتین کو حکم دو کہ زیور کے بغیر نماز نہ پڑھیں اگرچہ ایک دھاگہ ہی گلے میں ڈال لیں۔ طبرانی فی الاوسط
42041- أيضا عن محمد ابن الحنفية عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا علي! مر نساءك لا يصلين عطلا " ولو أن يتقلدن سيرا"."طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٢۔۔۔ حزام بن ہشام بن حبیش خزاعی سے روایت ہے فرمایا : میں نے اپنے والد کو ام معبد سے روایت کرتے سنا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایک دودھ والی بکری بھیجی تو وہ ان کی طرف واپس کردی میں نے آوازدے کر کہا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ بکری واپس بھیج دی ہے تو آپ نے فرمایا : لیکن انھیں بغیر دودھ کے بکری چاہیے چنانچہ انھوں نے بکری کا بچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا۔ رواہ ابن عساکر
42042- عن حزام بن هشام بن حبيش الخزاعي قال: سمعت أبي يذكر عن أم معبد أنها أرسلت إلى النبي صلى الله عليه وسلم بشاة لبن، فردت مرجوعة نحوها، فناديت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ردها، فقال: لا، ولكن أراد شاة ليس لها لبن، فأرسلت إليه بعناق جذعة."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٣۔۔۔ (مسندعلقمۃ بن علاثۃ العامری) ابن مندہ سہل بن السہری، احمد بن محمد بن عمرالقرشی، سعید بن عثمان ، موسیٰ ابن داؤد، یس بن ربیع، اعمش، ان کی روایت میں صالح سے روایت ہے کہ مجھ سے علقمہ بن علاثہ (رض) نے بیان کیا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سرکھائے۔ ابن عساکر وقال عن ھذاحدیث عریب حدا
42043- مسند علقمة بن علاثة العامري ابن منده أنبأنا سهل بن السرى أنبأنا أحمد بن محمد بن عمر القرشي حدثنا سعيد بن عثمان عن موسى بن داود عن قيس بن الربيع عن الأعمش عن صالح قال: حدثني علقمة بن علاثة قال: أكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رؤسا."كر وقال: هذا حديث غريب جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٤۔۔۔ (مسندسمرۃ بن جندب) اسے دوہومشقت میں نہ ڈالو اور کچھ دودھ تھن میں رہنے دو ۔ طبرانی فی الکبیر، عن ضراربن الازور الاسدی
42044- مسند سمرة بن جندب احلبها ولا تجهد، ودع دواعي اللبن."طب - عن ضرار بن الأزور الأسدي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٥۔۔۔ (مسندضرار بن الازور) میرے پاس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے اور میں دودھ دوہ رہا تھا آپ نے فرمایا : تھن میں کچھ دودھ رہنے دینا۔ ابویعلی
42045- "مسند ضرار بن الأزور" مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أحلب فقال: "دع داعي اللبن"."ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٦۔۔۔ (اس طرح) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک تازاجنائی اونٹنی ہدیہ میں آئی آپ نے مجھے اس کا دودھ دوہنے کا حکم دیاتو میں نے اس کا دودھ دوبا، میں نے جب اسے پکڑا کہ اچھی طرح دوہ لوں آپ نے فرمایا : ایسانہ کروتھنوں میں کچھ دودھ رہنے دوا سے مشقت میں نہ ڈالو۔ بخاری فی تاریخہ، مسنداحمد وابن مندہ، ابن عساکر
42046- "أيضا" أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم لقحة فأمرني أن أحلبها فحلبتها، فلما أخذت لأجهدها قال: "لا تفعل، دع داعي اللبن، لا تجهدها"."خ في تاريخه، حم وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق گزران زندگی
٤٢٠٤٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی کی شکایت کی، آپ نے فرمایا : کبوتروں کا ایک جوڑا رکھ لوتمہارے انس کے لیے کافی ہے ان کے انڈے کھاؤگے اور ایک مرغ رکھ لو مونس بھی ہوگا اور تمہیں نماز کے لیے بھی جگائے گا۔ وکیع فی العزلہ، عقیلی فی الضعفاء وقال فیہ میمون بن عطاء بن یزید منکر الحدیث، ابن عدی وقال فیہ یحییٰ بن میمون ومیمون بن عطاء وحارث الثلاثۃ ضعفاء ولعل البلاء فیہ من یحییٰ بن میمون التمار وقال فی المیزان : میمون بن عطاء لایدری من ذاوقدضعفۃ الازدی، روی عنہ یحییٰ بن میمون البصری التماراحد الھل کی حدیثا فی اتخاذ الھمام
42047- عن علي أنه شكا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحدة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "لو اتخذت زوجا من حمام فآنسك وأكلت من فراخه، واتخذت ديكا فآنسك وأيقظك للصلاة". "وكيع في العزلة، عق وقال: فيه ميمون بن عطاء بن يزيد منكر الحديث، عد وقال: فيه يحيى بن ميمون وميمون بن عطاء وحارث - الثلاثة ضعفاء، ولعل البلاء فيه من يحيى بن ميمون التمار؛ وقال في الميزان: ميمون بن عطاء لا يدرى من ذا؟ وقد ضعفه الأزدي، روى عنه يحيى بن ميمون البصري التمار أحد الهلكي حديثا في اتخاذ الحمام".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٢۔۔ مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادیاکرو۔ مسلم ابن ماجہ عن ابی برزۃ۔
43012- اعزل الأذى عن طريق المسلمين."م "، هـ - عن أبي برزة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٣۔۔ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وفاداری کے زیادہ لائق ہے۔ بخاری عن ابن عباس۔
43013- اقضوا الله تعالى فالله أحق بالوفاء." خ - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٤۔۔ اللہ تعالیٰ (سے کردہ) کا عہد ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔ طبرانی فی الکبیر عن ابی امامہ۔

کلام :۔۔ ضعیف الجامع ٣٨٣١۔
43014- عهد الله تعالى أحق ما أدى."طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٥۔۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے خیروشرکو پیدا فرمایا اور وہ شخص خوش ہو جس کے ہاتھ کو میں نے بھلائی کی قدرت دی اور اس کے لیے خرابی ہے جس کے ہاتھ کو میں نے برائی پر قدرت دی۔ طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس۔

کلام :۔۔ ضعیف الجامع ١٦١٩۔
43015- إن الله تعالى قال: أنا خلقت الخير والشر، فطوبى لمن قدرت على يده الخير، وويل لمن قدرت على يده الشر." طب -عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٦۔۔ بیشک کچھ لوگ خیر کے لیے چابیوں اور شر کے لیے تالوں کی حیثیت رکھتے ہیں جب کہ کچھ لوگ خیر کے لیے بندش اور شر کے لیے کشادگی کا باعث ہوتے ہیں تو اس کے لیے خوش خبری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کی کنجیاں اس کے ہاتھوں میں عطا کردیں اور خرابی ہے جس کے ہاتھوں میں شر کی کنجیاں ہیں۔ ابن ماجہ، عن انس۔

کلام :۔۔ اسنی المطالب ٣٦٤، التمیز ٤٨۔
43016- إن من الناس مفاتيح للخير مغاليق للشر، وإن من الناس مفاتيح للشر مغاليق للخير، فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه، وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه. "هـ - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٧۔۔ اللہ کے پاس خیر و شر کے خزانے ہیں جن کی کنجیاں مرد ہیں تو اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جو خیر کی کنجی اور شر کے لیے تالا ہے اور خرابی ہے اس کے لیے جو شر کی چابی بنا اور خیر کی بندش کا ذریعہ بنا۔ طبرانی فی الکبیر والضیاء عن سھل بن سعد۔
43017- عند الله خزائن الخير والشر مفاتيحها الرجال، فطوبى لمن جعله مفتاحا للخير مغلاقا للشر، وويل لمن جعله مفتاحا للشر مغلاقا للخير."طب والضياء - عن سهل بن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحتیں اور حکمتیں اس کے تین ابواب ہیں باب اول۔۔۔ مواعظ اور ترغیبات اس کی کئی فصلیں ہیں۔ فصل اول۔۔۔ مفردات
٤٣٠١٨۔۔ یہ خیر خزانے ہیں اور ان خزانوں کی چابیاں ہیں سو ان کی چابیاں مرد ہیں سو اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خیر کی چابی اور شر کاتالا بنایا اور اس شخص کے لیے خرابی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے چابی اور خیر کا تالا بنایا۔ ابن ماجہ، حلیہ الاولیاء عن سھل بن سعد۔

کلام :۔۔ ضعیف الجامع ٢٠٢١، ضعیف ابن ماجہ ٤٦۔
43018- إن هذا الخير خزائن، لتلك الخزائن مفاتيح، فمفاتيحه الرجال، فطوبى لعبد جعله الله مفتاحا للخير مغلاقا للشر، وويل لعبد جعله الله مفتاحا للشر مغلاقا للخير." هـ ، حل - عن سهل ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক: