আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২১০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ قَابِلٍ وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات جو نازل فرمائی ہیں کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں، وہ ظالم ہیں، وہ فاسق ہیں یہ یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے نازل ہوئی تھیں زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر غالب آگیا تھا اور ان لوگوں میں اس فیصلے پر رضا مندی کے ساتھ صلح ہوگئی تھی کہ غالب آنے والے قبیلے نے مغلوب قبیلے کے جس آدمی کو بھی قتل کیا ہوگا، اس کی دیت پچاس وسق ہوگی اور مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے جس آدمی کو قتل کیا ہوگا، اس کی دیت سو وسق ہوگی، یہ لوگ اس معاہدے پر برقرار رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ دونوں گروہ ہی مغلوب ہو کر رہ گئے، لیکن نبی ﷺ نے ان پر کوئی لشکر کشی فرمائی اور نہ ان کی زمینوں کو روندہ، بلکہ نبی ﷺ نے ان سے معاہدہ صلح کرلیا، اس دوران مغلوب قبیلے نے غالب قبیلے کے ایک آدمی کو قتل کردیا، اس غالب قبیلے نے مغلوب قبیلے والوں کو کہلا بھیجا کہ ہمیں دیت کے سو وسق بھیجو، مغلوب قبیلے والوں نے کہا کہ کیا یہ بات بھی ان قبیلوں میں ہوسکتی ہے جن کا دین بھی ایک ہو، نسب بھی ایک ہو اور شہر بھی ایک ہو اور کسی کی دیت پوری اور کسی کی نصف ہو ؟ پہلے ہم لوگ تمہیں یہ مقدار تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے دیتے رہے لیکن اب جبکہ محمد ﷺ آگئے ہیں، ہم تمہیں یہ دیت کسی صورت نہیں دے سکتے، قریب تھا کہ ان دونوں گروہوں میں جنگ چھڑ جائے کہ یہ دونوں گروہ نبی ﷺ کو حکم بنانے پر راضی ہوگئے۔ پھر غالب قبیلے کو یاد آیا اور وہ کہنے لگا کہ بخدا ! محمد ﷺ تمہیں ان کی نسبت دگنی دیت نہیں دلوائیں گے اور یہ لوگ کہہ بھی ٹھیک رہے ہیں کہ یہ ہمارے ڈر، خوف اور تسلط کی وجہ سے ہمیں دگنی دیت دیتے رہے ہیں اس لئے کسی ایسے آدمی کو خفیہ طور پر محمد ﷺ کے پاس بھیجو جو ان کی رائے سے تمہیں باخبر کرسکے، اگر وہ تمہیں وہی دیت دلواتے ہیں جو تم چاہتے ہو تو انہیں اپنا حکم بنالو اور اگر وہ نہیں دلواتے تو تم ان سے اپنا دامن بچاؤ اور انہیں اپنا ثالث مقرر نہ کرو۔ چناچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو نبی ﷺ کی خدمت میں خفیہ طور پر بھیجا تاکہ نبی ﷺ کی رائے معلوم کر کے اس کی مخبری کرسکیں، جب وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی ساری تفصیلات اور ان کے عزائم سے باخبر کردیا اور یہ آیات نازل فرمائیں، اے پیغمبر ! آپ کو وہ لوگ غم میں مبتلا نہ کردیں جو کفر میں آگے بڑھتے ہیں ان لوگوں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ پھر حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بخدا ! یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے نازل ہوئی ہے اور اللہ نے اس آیت میں یہی دو گروہ مراد لئے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمْ الْكَافِرُونَ وَ أُولَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ وَ أُولَئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْيَهُودِ وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتْ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى ارْتَضَوْا أَوْ اصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الْعَزِيزَةُ مِنْ الذَّلِيلَةِ فَدِيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَهُ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ فَدِيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَذَلَّتْ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَوْمَئِذٍ لَمْ يَظْهَرْ وَلَمْ يُوطِئْهُمَا عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصُّلْحِ فَقَتَلَتْ الذَّلِيلَةُ مِنْ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا فَأَرْسَلَتْ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنْ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ فَقَالَتْ الذَّلِيلَةُ وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي حَيَّيْنِ قَطُّ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ إِنَّا إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ذَلِكَ فَكَادَتْ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ارْتَضَوْا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ ذَكَرَتْ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضِعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ وَلَقَدْ صَدَقُوا مَا أَعْطَوْنَا هَذَا إِلَّا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبُرُ لَكُمْ رَأْيَهُ إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبُرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنْ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا وَاللَّهِ نَزَلَتْ وَإِيَّاهُمَا عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا اور جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَسْتَمِعْ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَةً وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں ؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدًا لَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ قَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ قَالَ قُلْتُ عَنْ صِيَامِهِ قَالَ إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا قُلْتُ كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی ﷺ نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث ! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنْ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ احد کے دن شہداء کے متعلق یہ حکم دیا کہ ان سے لو ہے کے ہتھیار اور کھالیں اتار لی جائیں اور فرمایا انہیں ان کے خون کے ساتھ انہی کپڑوں میں دفن کردو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ بِالشُّهَدَاءِ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمْ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ وَقَالَ ادْفِنُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جاملا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کیا ہو، اس کی قوم نے اسے یہ آیت پہنچا دی اور وہ توبہ کر کے واپس آگیا، نبی ﷺ نے اس کی توبہ قبول فرما لی اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنْ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ فَرَجَعَ تَائِبًا فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ وَخَلَّى عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ " اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نبی ﷺ نے تین چکروں میں رمل کیا ہے، رکن یمانی تک آپ ﷺ اپنی رفتار سے چلتے رہتے اور جب حجر اسود پر پہنچتے تو رمل شروع کردیتے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے اور یہ سنت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي وَمَشَى حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ ثُمَّ يَرْمُلُ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَتْ سُنَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حجر اسود کا رخ کر کے مسجد حرام میں تشریف فرما تھے، کہ اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیتا ہے تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا الْحَذَّاءُ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَقْبِلًا الْحُجَرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حسن عرفی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے ایک مرتبہ یہ تذکرہ چھڑ گیا کہ کتا، گدھا اور عورت نمازی کے آگے سے گذر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر قرار دے کر اچھا نہیں کیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ میں خود ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں سامنے کے رخ سے نبی ﷺ کے قریب ہوگیا تو میں اس سے اتر پڑا اور اسے چھوڑ کر خود نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا نبی ﷺ نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی مجھے میرے فعل سے منع فرمایا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک بچی آکر صفوں میں گھس گئی اور جا کر نبی ﷺ سے چمٹ گئی نبی ﷺ نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی اس بچی کو منع فرمایا : نیز ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی ﷺ کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی ﷺ کے آگے سے گذرنے لگا، تو نبی ﷺ نے اسے روک دیا، اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نمازی کے آگے سے گذرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ قَالَ بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَفَلَا تَقُولُونَ الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جو شخص حج کے لئے آیا، بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو اس کا حج پورا ہوگیا اور عمرہ ہوگیا، اللہ کا طریقہ اور نبی ﷺ کی سنت یہی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ وَصَارَتْ عُمْرَةً كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا سَيْفٌ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا اگر میں نے محمد ﷺ کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کرلیتے تو مرجاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا اور اگر وہ لوگ جو نبی ﷺ سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ حَدَّثَنَا فُرَاتٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ قَالَ فَقَالَ لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ لَمَاتُوا وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام کیا اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ اس کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی ﷺ کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے پانی پلاؤ، چناچہ نبی ﷺ کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی ﷺ نے نوش کر کے فرمایا اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا، پھر نبی ﷺ نے جا کر صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا فَقَالَ نَاوِلُونِي فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے روزہ دار ہونے کی حالت میں محرم ہو کر سینگی لگوائی، نبی ﷺ پر اس کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی، اسی بناء پر نبی ﷺ روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ قَالَ فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ طائف کے دن اعلان کردیا کہ جو غلام ہمارے پاس آجائے گا، وہ آزاد ہے، چناچہ کوئی غلام جن میں حضرت ابو بکرہ (رض) بھی شامل تھے وہاں سے نکل آئے اور نبی ﷺ نے انہیں آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنْ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنْ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کردیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کردو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے، چناچہ نبی ﷺ نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ قَالَ ثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ خَبِيثُ الدِّيَةِ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زوال آفتاب کے وقت یا اس کے بعد جمرات کی رمی کی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
তাহকীক: