আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২২২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے قربانی، رمی اور حلق یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو اس کا حکم پوچھا گیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الذَّبْحِ وَالرَّمْيِ وَالْحَلْقِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ لَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے بھنے ہوئے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا نُتَفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔
حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّحَّةَ وَالْفَرَاغَ نِعْمَتَانِ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ أَوْ ذِرَاعٍ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو، اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنْ ابْنِ عَبِّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ دُعَاءِ الْكَرْبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ماہ رجب اور شعبان کو ہمارے لئے مبارک فرما اور ماہ رمضان کی برکتیں ہمیں عطاء فرما، نیز آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمکتا ہوا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ وَكَانَ يَقُولُ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ وسفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرْبُوعَ الْخَلْقِ فِي الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام (رض) کو حکم دیا کہ اس احرام کو عمرے کا احرام بنالو، کیونکہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی ہے، اگر پہلے آجاتی تو میں تمہیں پہلے ہی اس کا حکم دے دیتا، اس لئے اب جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے حلال ہوجانا چاہئے، نبی ﷺ کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَإِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَأَمَرْتُكُمْ بِهَا وَيَحِلُّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
نیز فرمایا قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَخَلَّلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی سفر میں تھے، رات کے آخری حصے میں آپ ﷺ نے پڑاؤ کیا اور سو گئے اور آنکھ اس وقت تک نہیں کھلی جب تک سورج نہ نکل آیا، نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر نبی ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ رخصت کی جو سہولت ہمیں دی گئی ہے مجھے اس کے بدلے میں اگر دنیا ومافیہا بھی دے دی جائے تو میں خوش نہ ہوں گا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنْ اللَّيْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَسُرُّنِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَا يَعْنِي الرُّخْصَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کردیا، اس لئے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ قَالَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ أَفْطَرَ قَالَ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَوْ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام (رض) کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی ﷺ ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آرہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتادوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي قَابُوسُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا قَالَ حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہ شہر حرام ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چناچہ نبی ﷺ نے اسے مستثنی فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةٌ مِنْ النَّهَارِ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی ﷺ نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن نا پسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا اور فرمایا یہ ایسی چیز ہے جسے میں نے کبھی نہیں کھایا، البتہ جو کھانا چاہتا ہے وہ کھالے، چناچہ اسے نبی ﷺ کے دستر خوان پر دوسروں نے کھالیا۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْخَيَّاطُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ سَمْنٌ وَأَقِطٌ وَضَبٌّ فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ ثُمَّ قَالَ لِلضَّبِّ إِنَّ هَذَا الشَّيْءَ مَا أَكَلْتُهُ قَطُّ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَأْكُلَهُ فَلْيَأْكُلْهُ قَالَ فَأَكَلَ عَلَى خِوَانِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ صُدَاعٍ كَانَ بِهِ أَوْ شَيْءٍ كَانَ بِهِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَحْيُ جَمَلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو (اور کوئی شخص اسے قتل کردے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ دِيَةَ الْعَبْدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کو غسل دینے پر اتفاق رائے ہوگیا، تو اس وقت گھر میں صرف نبی ﷺ کے اہل خانہ ہی تھے مثلا ان کے چچا حضرت عباس، حضرت علی، فضل، قثم، اسامہ بن زید (رض) اور صالح اسی دوران گھر کے دروازے پر کھڑے حضرت اوس بن خولی انصاری خزرجی بدری (رض) نے حضرت علی (رض) کو پکار کر کہا کہ اے علی (رض) میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمارا حصہ بھی رکھنا، حضرت علی (رض) نے ان سے فرمایا اند آجاؤ، چناچہ وہ بھی داخل ہوگئے اور اس موقع پر موجود رہے گو کہ انہوں نے غسل میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اپنے سینے سے سہارا دیا، جبکہ قمیص جسم پر ہی تھی، حضرت عباس (رض) ، فضل اور قثم (رض) پہلو مبارک بدل رہے تھے، حضرت علی (رض) ان کا ساتھ دے رہے تھے، حضرت اسامہ اور صالح پانی ڈال رہے تھے اور حضرت علی (رض) غسل دے رہے تھے، نبی ﷺ کی کوئی ایسی چیز ظاہر نہیں ہوئی جو میت کی ظاہر ہوا کرتی ہے، حضرت علی (رض) غسل دیتے ہوئے کہتے جارہے تھے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ حیاومیتا کتنے پاکیزہ رہے، یاد رہے کہ نبی ﷺ کو غسل پانی اور بیری سے دیا گیا تھا غسل سے فراغت کے بعد صحابہ (رض) نے نبی ﷺ کے جسم مبارک کو خشک کیا، پھر وہی کیا جو میت کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی انہیں تین کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا جن میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار سرخ یمنی چادر تھی، پھر معلوم ہوا کہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ اور حضرت ابو طلحہ (رض) جن کا اصل نام زید بن سہل تھا، اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں تو حضرت عباس (رض) نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو حضرت ابوعبیدہ (رض) کے پاس بھیجا اور دوسرے کو ابو طلحہ (رض) کے پاس اور دعاء کی کہ اے اللہ ! اپنے پغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چناچہ حضرت ابو طلحہ (رض) کے پاس جانے والے آدمی کو حضرت ابوطلحہ (رض) مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آگیا، اس طرح نبی ﷺ کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا اجْتَمَعَ الْقَوْمُ لِغَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْبَيْتِ إِلَّا أَهْلُهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِغَسْلِهِ نَادَى مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيِّ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَكَانَ بَدْرِيًّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ نَشَدْتُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ ادْخُلْ فَدَخَلَ فَحَضَرَ غَسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَلِ مِنْ غَسْلِهِ شَيْئًا قَالَ فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ وَكَانَ الْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَقُثَمُ يُقَلِّبُونَهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَصَالِحٌ مَوْلَاهُمَا يَصُبَّانِ الْمَاءَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يَغْسِلُهُ وَلَمْ يُرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ مِمَّا يُرَى مِنْ الْمَيِّتِ وَهُوَ يَقُولُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا حَتَّى إِذَا فَرَغُوا مِنْ غَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُغَسَّلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ جَفَّفُوهُ ثُمَّ صُنِعَ بِهِ مَا يُصْنَعُ بِالْمَيِّتِ ثُمَّ أُدْرِجَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ ثُمَّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ فَقَالَ لِيَذْهَبْ أَحَدُكُمَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَضْرَحُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَلْيَذْهَبْ الْآخَرُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَلْحَدُ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَهُمَا حِينَ سَرَّحَهُمَا اللَّهُمَّ خِرْ لِرَسُولِكَ قَالَ فَذَهَبَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبُ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا عُبَيْدَةَ وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِي طَلْحَةَ أَبَا طَلْحَةَ فَجَاءَ بِهِ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا اے ابوالعباس ! مجھے تو نبی ﷺ کے احرام کی بابت صحابہ کرام (رض) کے اختلاف پر بڑا تعجب ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس وقت اس بات کو لوگوں میں سے زیادہ میں جانتا ہوں، نبی ﷺ ساری زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا، یہیں سے لوگوں میں اختلاف ہوگیا، نبی ﷺ حج کے ارادے سے نکلے، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھ چکے تو وہ یہیں بیٹھے بیٹھے حج کا احرام باندھ لیا لوگوں نے اسے سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کرلیا، پھر نبی ﷺ سواری پر سوار ہوئے، جب اونٹنی نبی ﷺ کو لے کر سیدھی ہوگئی تو آپ ﷺ نے دوبارہ احرام کی نیت والے الفاظ کہے، کچھ لوگوں نے یہ الفاط سن لئے کیونکہ لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں آتے تھے، اکٹھے ہی سارے نہیں آجاتے تھے، یہ لوگ بعد میں کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے اس وقت احرام باندھا تھا جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر سیدھی ہوگئی تھی۔ پھر نبی ﷺ آگے روانہ ہوئے، جب بیداء کی چوٹی پر چڑھے تو دوبارہ تلبیہ کہا، کچھ لوگوں نے اس وقت کو یاد رکھا اور کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے بیداء کی چوٹی پر احرام باندھا ہے، جبکہ نبی ﷺ نے احرام کی نیت تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی کرلی تھی۔ البتہ تلبیہ کا اعادہ اس وقت بھی کیا تھا جب آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر چلنے لگی تھی اور اس وقت بھی جب آپ ﷺ بیداء کی چوٹی پر چڑھے تھے، اس لئے جو شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ احرام کی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی احرام کی نیت کرلے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظُوا عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ
tahqiq

তাহকীক: