আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৭৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت امیر معاویہ (رض) کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، حضرت امیر معاویہ (رض) خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، حضرت ابن عباس (رض) نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی ﷺ نے ان کا استلام نہیں کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جاسکتا، اس پر حضرت ابن عباس (رض) نے یہ آیت پڑھی کہ تمہارے لئے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ صَدَقْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی اور خالہ کو یا دو پھوپھیوں اور دو خالاؤں کو جمع کرے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش ونگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کے نقش و نگار ریشم کے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيَّ قَالَ قَالَ خُصَيْفٌ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُصْمَتِ مِنْهُ فَأَمَّا الْعَلَمُ فَلَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد مسواک فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ چند صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا جب زمانہ جاہلیت میں اس طرح ہوتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کسی عظیم آدمی کی پیدائش یا کسی عظیم آدمی کی موت واقع ہونے والی ہے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری (رح) سے پوچھا کیا زمانہ جاہلیت میں بھی ستارے پھینکے جاتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! لیکن نبی ﷺ کی بعثت کے بعد سختی ہوگئی) نبی ﷺ نے فرمایا ستاروں کا پھینکا جانا کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں ہوتا اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کردیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ چند صحابہ کرام (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا،۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کردیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ فَاسْتَنَارَ قَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ يُولَدُ عَظِيمٌ أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ سَمَاءً حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ وَيَقْرِفُونَ وَيَنْقُصُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو با ربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ ﷺ کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ ﷺ کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ دراصل نبی ﷺ ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَلَمَّا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس آئے تو فرمایا کہ ٢٩ کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ابو القاسم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض نمازوں میں جہری قراءت فرماتے تھے اور بعض میں خاموش رہتے تھے، اس لئے جن میں نبی ﷺ جہری قراءت فرماتے تھے ان میں ہم بھی قراءت کرتے ہیں اور جن میں آپ ﷺ سکوت فرماتے تھے، ہم بھی ان میں سکوت کرتے ہیں، کسی نے کہا شاید نبی ﷺ سری قراءت فرماتے ہوں ؟ اس پر وہ غضب ناک ہوگئے اور کہنے لگے کہ کیا اب نبی ﷺ پر بھی تہمت لگائی جائے گی ؟
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِنَّ نَبِيُّ اللَّهِ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ فَقِيلَ لَهُ فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھو لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً وَيُسْنِدُ ذَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت فضل (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی ﷺ کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل (رض) نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ہم ایک صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گئے، اسے چڑنے کے لئے چھوڑ دیا، لیکن نبی ﷺ نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ روزے سے تھے، لیکن جب مقام " کدید " میں پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا اور نبی ﷺ کے آخری فعل کو بطور حجت لیا جاتا ہے، سفیان سے کسی نے پوچھا کہ یہ آخری جملہ امام زہری (رح) کا قول ہے یا حضرت ابن عباس (رض) کا ؟ تو انہوں نے فرمایا حدیث میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِسُفْيَانَ قَوْلُهُ إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَذَا فِي الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے ؟ فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کریں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ اقْضِهِ عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے نبی ﷺ کو کسی بات پر قسم دلائی، نبی ﷺ نے فرمایا قسم نہ دلاؤ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وادی محسر میں نہ رکو اور ٹھیکری کی کنکریاں اپنے اوپر لازم کرلو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ " روحاء " نامی جگہ میں تھے کہ سواروں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، نبی ﷺ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا مسلمان، پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا پیغمبر ہوں، یہ سنتے ہی ایک عورت جلدی سے گئی اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! کیا اس کا حج ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক: