আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৩৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو کالا خضاب لگائیں گے، یہ لوگ جنت کی بو بھی نہ پاسکیں گے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَحْمَدُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ قَالَ حُسَيْنٌ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم ﷺ ! ہم آپ سے چند باتیں پوچھانا چاہتے ہیں، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کئے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر کون سا کھان احرام کرلیا تھا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفاء عطا فرمادی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیں گے اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ مرغوب تھا ؟ انہوں نے کہا بخدا ! ایسا ہی ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْقَوْلِ سِحْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ الرُّوحُ غَرَضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی ﷺ نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی اور نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ام ایمن (رض) بھی رونے لگیں، کسی نے ان سے کہا کیا تم نبی ﷺ کی موجودگی میں رو رہی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ جب نبی ﷺ بھی رو رہے ہیں تو میں کیوں نہ روؤں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں رو نہیں رہا، یہ تو رحمت ہے مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةً لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَصَاحَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقِيلَ أَتَبْكِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتُ أَرَاكَ تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَسْتُ أَبْكِي إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ إِنَّ الْمُؤْمِنَ بِكُلِّ خَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنَّ نَفْسَهُ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
قیس بن حبتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سفید، سبز اور سرخ مٹکے کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے متعلق نبی ﷺ سے سب سے پہلے بنو عبد القیس کے وفد نے سوال کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں یہ تلچھٹ حاصل ہوتا ہے، ہمارے لئے کون سے برتن حلال ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دبائی، مزفت، نقیر اور حنتم میں کچھ بھی نہ پیو، البتہ مشکیزوں میں پی سکتے ہو، پھر فرمایا کہ اللہ نے شراب، جوا اور کو بہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہے، سفیان کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ سے کو بہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی طبل بتایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْجَرِّ الْأَبْيَضِ وَالْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالُوا إِنَّا نُصِيبُ مِنْ الثُّفْلِ فَأَيُّ الْأَسْقِيَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ مَا الْكُوبَةُ قَالَ الطَّبْلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نظر کا لگ جانا برحق ہے اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ دُوَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا بہترین سرمہ " اثمد " ہے جو سوتے وقت لگانے سے بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ يُنْبِتُ الشَّعْرَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ وَخَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ فَالْبَسُوهَا وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ گذشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہوجاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہوجاتیں اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہوجاتی اور جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہوگئی ہے، چناچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا اور ان میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس بھی گذرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آکر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیداہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا فَيَكُونُ مَا سَمِعُوا حَقًّا وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ فَبَثَّ جُنُودَهُ فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک مرتبہ کچھ یہودی آئے اور کہنے لگے کہ اے ابو القاسم ﷺ ہم آپ سے پانچ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے ہمیں ان کا جواب دے دیا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع کرنے لگیں گے، نبی ﷺ نے سے اس بات پر وعدہ لیا جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، جب وہ یہ کہہ چکے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اللہ اس پر وکیل ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا اب اپنے سوالات پیش کرو، انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ نبی کی علامت کیا ہوتی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ انہوں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ یہ بتائیے کہ بچہ مؤنث اور مذکر کس طح بنتا ہے ؟ فرمایا دو پانی ملتے ہیں، اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ مذکر ہوجاتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچی پیدا ہوتی ہے، انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ یہ بتائیے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اوپر کس چیز کو حرام کیا تھا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں عرق النساء نامی مرض کی شکایت تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اونٹ کا دودھ سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے انہوں نے اس کے (دودھ اور) گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا، وہ کہنے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھر انہوں نے چوتھا سوال یہ پوچھا کہ یہ رعد (بادلوں کی گرج چمک) کیا چیز ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میں لو ہے کا ایک گرز ہوتا ہے جس سے یہ بادلوں کو مارتا ہے اور اللہ نے جہاں لے جانے کا حکم دیا ہوتا ہے انہیں وہاں تک لے کرجاتا ہے، وہ کہنے لگے کہ ہم جو آواز سنتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ اس کی آواز ہوتی ہے، انہوں نے اس پر بھی نبی ﷺ کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ اب ایک سوال باقی رہ گیا ہے، اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے، ہر نبی کے ساتھ ایک فرشتا ہوتا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے، آپ کے پاس کون سا فرشتہ آتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جبرئیل ! وہ کہنے لگے کہ وہی جبرئیل جو جنگ لڑائی اور سزا لے کر آ تا ہے، وہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو رحمت، نباتات اور بارش لے کر آتا ہے تب بات بن جاتی، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورت بقرہ کی یہ آیت نازل فرمائی قل من کان عدالجبرئیل۔۔۔۔۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ وَكَانَتْ لَهُ هَيْئَةٌ رَأَيْنَاهُ عِنْدَ حَسَنٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا موقع آگیا، چناچہ ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے گائے اور اونٹ کو دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى وَالطَّالَقَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ قَالَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جمعیت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے یہاں رات گذاری، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی، ان فی خلق السماوات والارض واختلاف اللیل والنہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحانک فقنا عذاب النار تک۔ پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے توسمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَوْ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ حَجَّاجٍ شَكَّ مَنْصُورٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ مَنْصُورٌ وَحَدَّثَنِي عَوْنٌ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ
tahqiq

তাহকীক: