আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৩৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے بارگاہ رسالت مآب میں حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا اور ان کے حسن جمال کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ وَذَكَرَ مِنْ جَمَالِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنْ النَّسَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی ﷺ نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی ﷺ روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گذر ایک آدمی پر ہوا جس کی ران دکھائی دے رہی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اپنی ران کو ڈھنکو، یون کہ مرد کی ران شرمگاہ کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَفَخِذُهُ خَارِجَةٌ فَقَالَ غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرأت کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی یا حضرت زید بن ثابت کی ؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت (رض) کی، فرمایا نہیں، دراصل نبی ﷺ ہر سال جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس میں نبی ﷺ نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرأت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) غلبت الروم کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آجائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات حضرت صدیق اکبر (رض) سے ذکر کی، حضرت ابوبکر (رض) نے نبی ﷺ سے ذکر کردی، نبی ﷺ نے فرمایا رومی ہی غالب آئیں گے، حضرت ابوبکر (رض) نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کردی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کرلیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آگئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آگئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، حضرت صدیق اکبر (رض) نے پانچ سال کی مدت مقرر کرلی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دئیے تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔ سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ دراصل قرآن میں بضع کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چناچہ اس عرصے میں رومی غالب آگئے اور سورت روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ الم غُلِبَتْ الرُّومُ قَالَ غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ قَالَ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْتُمْ كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ قَالَ أُرَاهُ قَالَ الْعَشْرِ قَالَ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ الم غُلِبَتْ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ قَالَ يَفْرَحُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس (رض) نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے) اس نے کہا اماں جان ! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہوجائے، آپ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی ﷺ اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گرپڑا تھا نبی ﷺ نے وہاں پڑاؤ کرلیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل (علیہ السلام) لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس ! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُثَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ذَكْوَانُ حَاجِبُ عَائِشَةَ أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ فَجِئْتُ وَعِنْدَ رَأْسِهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بِنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَكَبَّ عَلَيْهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ وَهِيَ تَمُوتُ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا أُمَّتَاهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ لِيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَيُوَدِّعْكِ فَقَالَتْ ائْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ قَالَ فَأَدْخَلْتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ أَبْشِرِي فَقَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوحُ مِنْ الْجَسَدِ كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ وَأَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَكَانَ ذَلِكَ فِي سَبَبِكِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ الرُّخْصَةِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ جَاءَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ فَأَصْبَحَ لَيْسَ لِلَّهِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ إِلَّا يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہوجائے اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے طے ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔
حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ دباء، حنتم، نقیر، مزفت اور کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ وَالزَّهْوُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ رمضان کی تیرہ تاریخ کو پیش آیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی ﷺ نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو مجھے دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑ دیا اور کہنے لگے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ک ف ر لکھا ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) نے پوچھا کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ تو نہیں سنا البتہ نبی ﷺ نے یہ ضرور فرمایا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھنا ہو تو اپنے پیغمبر کو مجھے دیکھ لو، رہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو وہ گندمی رنگ کے گھنگھریالے بالوں آدمی ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک سرخ اونت پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی ہے اور گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ ذَكَرُوهُ يَعْنِي الدَّجَّالَ فَقَالَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ ذَاكَ وَلَكِنْ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ طُوَالٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَقَدْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي قَالَ أَبِي قَالَ هُشَيْمٌ الْخُلْبَةُ اللِّيفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) نے ایک مرتبہ جب کہ بہت بارش ہو رہی تھی، منادی کو حکم دیا، چناچہ اس نے یہ اعلان کردیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر نماز پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّهُ قَدْ رَفَعَهُ قَالَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَتْ شَاةٌ فِي بَعْضِ بُيُوتِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے اور جب سجدے میں جانے کا ارادہ کرتے تو فرماتے، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ هُوَ يَحْيَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی پیدائش پیر کے دن ہوئی، آپ ﷺ کو نبوت پیر کے دن ملی، آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی پیر کے دن فرمائی، مدینہ منورہ تشریف آوری پیر کے دن ہوئی، وفات پیر کے دن ہوئی اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر بھی پیر کے دن ہی رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَتُوُفِّيَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو میدان عرفات میں کھڑے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنے پیچھے حضرت فضل (رض) کو سوار کر رکھا تھا، ایک دیہاتی آکر نبی ﷺ کے قریب کھڑا ہوگیا، اس کے پیچھے اس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی، فضل اسے دیکھنے لگے، نبی ﷺ سمجھ گئے اور ان کا چہرہ موڑنے لگے، پھر فرمایا لوگو ! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ پھر نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ نبی ﷺ مزدلفہ پہنچ گئے، جب آپ ﷺ نے مزدلفہ میں وقوف کیا تو اپنے پیچھے حضرت اسامہ (رض) کو بٹھالیا، پھر فرمایا لوگو ! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے سکون سے چلو، پھر نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ منیٰ آپہنچے۔ مزدلفہ ہی میں نبی ﷺ بنوہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے پیارے بچو ! تم روانہ ہوجاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ وَاقِفًا وَقَدْ أَرْدَفَ الْفَضْلَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَوَقَفَ قَرِيبًا وَأَمَةٌ خَلْفَهُ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَلَا الْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ قَالَ ثُمَّ أَفَاضَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا قَالَ فَلَمَّا وَقَفَ بِجَمْعٍ أَرْدَفَ أُسَامَةَ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ قَالَ ثُمَّ أَفَاضَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَتْ مِنًى فَأَتَانَا سَوَادَ ضَعْفَى بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَهُمْ فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ يَا بَنِيَّ أَفِيضُوا وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم علیہماالسلام کی تصویریں دیکھیں، انہیں دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ سن چکے تھے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو (پھر بھی انہوں نے یہ تصویریں بنا رکھی ہیں) یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تصویر ہے، ان کا کیا حالت بنا رکھا ہے، کہ یہ پانسے کے تیر پکڑے ہوئے ہیں ؟
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ أَمَّا هُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
کریب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کا ایک بیٹا مقام قدید یا عسفان میں فوت ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا کریب ! دیکھ کر آؤ کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں ؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو کچھ لوگ جمع ہوچکے تھے، میں نے انہیں آکر بتادیا، انہوں نے پوچھا کہ ان کی تعداد چالیس ہوگی ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر جنازے کو باہر نکالو، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان فوت ہوجائے اور اس کے جنازے میں چالیس ایسے افراد شریک ہوجائیں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ ان کی سفارش مردے کے حق میں ضرور قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ يَا كُرَيْبُ انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنْ النَّاسِ قَالَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدْ اجْتَمَعُوا لَهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ يَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جِنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہوگیا، جب آپ نبی ﷺ کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی ﷺ نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ ارْجِعَا قَالَ فَرَجَعَا قَالَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ قَالَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنْ الْخَلْوَةِ
তাহকীক: