আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৩৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مسعودی کا کہنا ہے کہ میں نے عدی بن ثابت سے زیادہ اہل تشیع کے بارے کسی کی بات عمدہ نہیں دیکھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ قَالَ مَا أَدْرَكْنَا أَحَدًا أَقْوَمَ بِقَوْلِ الشِّيعَةِ مِنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کتے کی قیمت استعمال کرنا حرام ہے، اگر تمہارے پاس کوئی شخص کتے کی قیمت مانگنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ قَالَ فَإِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا اے ابو العباس ! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرلے وہ حلال ہوجاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَلْهُجَيْمٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي تَفَشَّغَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم ﷺ ہم آپ سے چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا تم جو چاہو مجھ سے سوال پوچھو، لیکن مجھے سے اللہ کے نام پر اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس وعدے کے مطابق جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، وعدہ کرو کہ میں تمہیں جو جواب دوں گا اگر تم نے اسے صحیح سمجھا تو تم اسلام پر مجھ سے بیعت کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اب پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ سے چار چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، ایک تو آپ ہمیں یہ بتائیے کہ وہ کون سا کھانا تھا جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا ؟ دوسرا یہ بتائیے کہ عورت اور مرد کا پانی کیسا ہوتا ہے اور بچہ نر کیسے ہوتا ہے ؟ تیسرا یہ بتائیے اس نبی امی کی نیند میں کیا کیفیت ہوتی ہے ؟ اور چوتھا یہ کہ ان کے پاس وحی لانے والا فرشتہ کون ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھ سے اللہ کو سامنے رکھ کر وعدہ کرتے ہو کہ اگر میں نے تمہیں ان سوالوں کے جواب دے دیئے تو تم میری اتباع کرو گے ؟ انہوں نے نبی ﷺ سے بڑے مضبوط عہد و پیمان کر لئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کو نازل کیا، کیا تم جانتے ہو کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) بہت سخت بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام پر یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفاء عطاء فرما دی تو وہ اپنا سب سے مرغوب مشروب اور سب سے مرغوب کھانا اپنے اوپر حرام کرلیں گے اور انہیں کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور مشروبات میں اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ مرغوب تھا انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اسی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آجائے، اللہ کے حکم سے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے، چناچہ اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے وہ لڑکا ہوتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے ؟ انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہ۔ پھر فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی، کیا تم جانتے ہو کہ اس نبی امی کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہ، وہ یہودی کہنے لگے کہ اب آپ یہ بتائیے کہ کون سا فرشتہ آپ کا دوست ہے ؟ اس پر ہم آپ سے مل جائیں گے یا جدا ہوجائیں گے، نبی ﷺ نے فرمایا میرے دوست جبرئیل امین ہیں اور اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے وہی اس کے دوست رہے ہیں، یہ سن کر وہ یہودی کہنے لگے کہ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اگر ان کے علاوہ کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع ضرور کرتے اور آپ کی تصدیق کرتے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل امین کی موجودگی میں تمہیں اس تصدیق سے کیا چیز روکتی ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ وہ ہمارا دشمن ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، قل من کان عدالجبریل۔۔۔۔۔۔ کانہم لایعلمون اور اس وقت وہ اللہ کے غضب پر غضب کو لے کر لوٹے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْيَهُودِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَلَكِنْ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى بَنِيهِ لَئِنْ حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا فَعَرَفْتُمُوهُ لَتُتَابِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ قَالُوا فَذَلِكَ لَكَ قَالَ فَسَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ أَخْبِرْنَا أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ مَاءُ الْمَرْأَةِ وَمَاءُ الرَّجُلِ كَيْفَ يَكُونُ الذَّكَرُ مِنْهُ وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فِي النَّوْمِ وَمَنْ وَلِيُّهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ لَئِنْ أَنَا أَخْبَرْتُكُمْ لَتُتَابِعُنِّي قَالَ فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ وَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ إِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ عَلَى مَاءِ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ عَلَى مَاءِ الرَّجُلِ كَانَ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ فَأَنْشُدُكُمْ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ قَالُوا وَأَنْتَ الْآنَ فَحَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنْ الْمَلَائِكَةِ فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ فَإِنَّ وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ قَالُوا فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ سِوَاهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ لَتَابَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ قَالُوا إِنَّهُ عَدُوُّنَا قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ فَعِنْدَ ذَلِكَ بَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ حَدَّثَنَا شَهْرٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی ﷺ نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا بِعَرَفَةَ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ قَالَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور سنان بن سلمہ حج کے لئے روانہ ہوئے، سنان کے پاس ایک اونٹنی تھی وہ راستے میں تھک گئی اور وہ اس کی وجہ سے عاجز آگئے، میں نے سوچا کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، چناچہ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو میں نے سنان سے کہا کہ آؤ، حضرت ابن عباس (رض) کے پاس چلتے ہیں، ہم وہاں گئے، وہاں پہنچے تو حضرت ابن عباس (رض) کے پاس ایک بچی بیٹھی ہوئی تھی، مجھے ان سے دو کام تھے اور میرے ساتھی کو ایک، وہ کہنے لگا کہ میں باہر چلا جاتا ہوں، آپ تنہائی میں اپنی بات کرلیں ؟ میں نے کہا ایسی کوئی بات ہی نہیں (جو تخلیہ میں پوچھنا ضروری ہو) پھر میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ میرے پاس ایک اونٹنی تھی جو راستے میں تھک گئی، میں نے دل میں سوچا تھا کہ میں مکہ مکرمہ پہنچ کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ کچھ اونٹنیاں کہیں بھجوائیں اور جو حکم دینا تھا وہ دے دیا، جب وہ شخص جانے لگا تو پلٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو کیا کروں ؟ فرمایا اسے ذبح کر کے اس کے نعل کو اس کے خون میں رنگ دینا اور اسے اس کی پیشانی پر لگا دینا، نہ خود اسے کھانا اور نہ تمہارا کوئی ساتھی اسے کھائے۔ میں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ میں غزوات میں شرکت کرتا ہوں، مجھے اس میں مال غنیمت کا حصہ ملتا ہے، میں والدہ کی طرف سے کسی غلام یا باندی کو آزاد کردیتا ہوں تو کیا میرا ان کی طرف سے کسی کو آزاد کرنا ان کے لئے کفایت کرے گا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ سنان بن عبداللہ جہنی کی اہلیہ نے ان سے کہا کہ نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، وہ حج نہیں کرسکی تھیں، کیا ان کی طرف سے میرا حج کرنا ان کے لئے کفایت کر جائے گا ؟ نبی ﷺ نے جواب دیا کہ اگر ان کی والدہ پر کوئی قرض ہوتا اور وہ اسے ادا کر دیتیں تو کیا وہ ادا ہوجاتا یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر اسے اپنی والدہ کی طرف سے حج کرلینا چاہیے، انہوں نے سمندر کے پانی کے بارے بھی سوال کیا تو فرمایا کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَ سِنَانٍ بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ فَعَيَّ بِشَأْنِهَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَعِنْدَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ لِي حَاجَتَانِ وَلِصَاحِبِي حَاجَةٌ فَقَالَ أَلَا أُخْلِيكَ قُلْتُ لَا فَقُلْتُ كَانَتْ مَعِي بَدَنَةٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لَئِنْ قَدِمْتُ مَكَّةَ لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ وَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ فَلَمَّا قَفَّا رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا وَاصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا وَاضْرِبْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي فَأُغْنَمُ فَأُعْتِقُ عَنْ أُمِّي أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَرَتْ امْرَأَةُ سَلْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُمِّهَا تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَحْجُجْ أَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلْتَحْجُجْ عَنْ أُمِّهَا وَسَأَلَهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا رب بڑا رحیم ہے، اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں سے سات سو تک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب کردیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف وہی شخص ہلاک ہوسکتا ہے جو ہلاک ہونے والا ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَةً إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سورت ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي ص
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبدالرحمن بن وعلہ (رح) وسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّا نَغْزُو أَهْلَ الْمَغْرِبِ وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ وَعَامَّةُ أَسْقِيَتِهِمْ الْمَيْتَةُ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دِبَاغُهَا طُهُورُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ ﷺ روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ ﷺ دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِي سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی، وہ یقین کرلے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میرے تخیل کو کسی پر طاری نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَنْسُبْهُ عَفَّانُ أَكْثَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَإِيَّايَ رَأَى فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً لَا يَتَخَيَّلُنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی ﷺ کی سواری لائی گئی، جب نبی ﷺ کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسل اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزُ حِمَارٍ أَوْ قَالَ رِجْلُ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
tahqiq

তাহকীক: