আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৬৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے، یہ بات نبی ﷺ نے فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ أَوْ وَحْيٌ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شعبہ جو حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس (رض) غسل جنابت کرتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے برتن میں ڈالنے سے پہلے ساتھ مرتبہ دھوتے، ایک مرتبہ وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے ؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نہیں پتہ، فرمایا تیری ماں نہ رہے، تجھے کیوں نہیں پتہ ؟ پھر انہوں نے نماز والا وضو کرلیا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہا لیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح غسل فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهَا سَبْعًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ فَسَأَلَنِي كَمْ أَفْرَغْتُ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ وَلِمَ لَا تَدْرِي ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ يَعْنِي يَغْتَسِلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے یا صباحاہ کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے ؟ سب نے کہا کیوں نہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں، ابو لہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اس لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورت لہب نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَصَعِدَ عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَى يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ إِلَيْهِ وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي لُؤَيٍّ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کو اپنے صحابہ (رض) میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے عمرے کی طرف سے ذبح کرلو، یہ تمہارے لئے کافی ہوجائیں گی، حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے حصے میں اس موقع پر ایک جنگلی بکرا آیا تھا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ وَقَالَ اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے لڑکے ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو اور جان رکھو ! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے اور یاد رکھو ! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ وَأَنَا قَدْ رَأْيَتُهُ فِي طَرِيقٍ فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَأَنَا صَبِيٌّ رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَوْ يَا غُلَيِّمُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ فَقُلْتُ بَلَى فَقَالَ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور بنو عبد المطلب کا ایک غلام ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ہم سامنے کے رخ سے نبی ﷺ کے قریب ہوئے تو ہم اس سے اترپڑے اور اسے چھوڑ کر خود نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی ﷺ نے اپنی نماز کو نہیں توڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، کہ بنو عبد المطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور نبی ﷺ سے چمٹ گئیں، نبی ﷺ نے اپنی نماز کو نہیں توڑا، نیز ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی ﷺ کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی ﷺ کے آگے سے گذرنے لگا، تو انہوں نے نماز نہیں توڑی۔
حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَأَرْخَيْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِينَا يَرْعَى فَلَمْ يَقْطَعْ قَالَ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ فَفَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَلَمْ يَقْطَعْ وَسَقَطَ جَدْيٌ فَلَمْ يَقْطَعْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِمُّ مِنْ فَضْلِهَا فَقَالَتْ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ثُمَّ جَعَلَهُ بَعْدُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُq
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سید بن ابی الحسن (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو العباس ! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، مجھے اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق فتوی دیجئے، حضرت ابن عباس (رض) نے اسے دو مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، چناچہ وہ قریب ہوگیا پھر انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا میں تمہیں وہ بات بتادیتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے کہ ہر مصور جہنم میں جائے گا اور اس نے جتنی تصاویر بنائی ہوں گی اتنے ہی ذی روح پیدا کیئے جائیں گے جو جہنم میں اسے مبتلاء عذاب رکھیں گے، اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذمی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاجْعَلْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے خط لکھ کر پانچ سوالات پوچھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لوگ سمجھتے ہیں کہ ابن عباس (رض) خوارج سے خط و کتابت کرتا ہے، واللہ اگر مجھے کتمان علم کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی اس کا جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ یہ بتائیے، کیا نبی ﷺ اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے ؟ ان کے لئے حصہ مقرر کرتے تھے ؟ بچوں کو قتل کرتے تھے، یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ اور خمس کس کا حق ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے جوابا لکھا کہ نبی ﷺ اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے اور وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں، نبی ﷺ نے ان کا حصہ مقرر نہیں کیا تھا البتہ انہیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے، نبی ﷺ نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن ہے) آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا ؟ یاد رکھئے ! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی، ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق تھا لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمِي لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَأَخْبِرْنِي عَنْ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ تَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَإِنَّا كُنَّا نُرَى أَنَّهُ لَنَا فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت مؤخر فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی اندھے کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنْ السَّبِيلِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ انصار سے بغض نہیں کرسکتا، یا یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اسے مبغوض نہ رکھتے ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْ إِلَّا أَبْغَضَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ شب معراج کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی اور صبح کے وقت میں واپس مکہ مکرمہ بھی پہنچ گیا تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ لوگ میری بات کو تسلیم نہیں کریں گے، اس لئے میں سب سے الگ تھلگ غمگین ہو کر بیٹھ گیا، اتفاقا وہاں سے دشمن اللہ ابو جہل کا گذر ہوا، وہ آکر نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے ؟ فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہوا ؟ نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور استہزائیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ کیا آپ کے ساتھ کچھ ہوگیا ہے ؟ فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہوا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ آج رات مجھے سیر کرائی گئی ہے، ابو جہل نے پوچھا کس جگہ کی ؟ فرمایا بیت المقدس کی، اس نے کہا کہ پھر آپ صبح ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں۔ ابو جہل نے نبی ﷺ کی فوری طور پر تکذیب کرنا مناسب نہ سمجھا تاکہ اگر وہ قریش کو بلا کر لائے تو وہ اپنی بات سے پھر ہی نہ جائیں اور کہنے لگا کہ اگر میں آپ کی قوم کو آپ کے پاس بلا کر لاؤں تو کیا آپ ان کے سامنے بھی یہ بات بیان کرسکیں گے نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر اس نے آواز لگائی اے گروہ بنو کعب بن لوئی ! ابو جہل کی آواز پر لگی ہوئی مجلسیں ختم ہوگئیں اور سب لوگ ان دونوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، ابو جہل انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ آپ نے مجھ سے جو بات بیان فرمائی ہے، وہ اپنی قوم کے سامنے بھی بیان کر دیجئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے آج رات سیر کرائی گئی ہے، لوگوں نے پوچھا کہاں کی ؟ فرمایا بیت المقدس کی، لوگوں نے کہا کہ پھر آپ صبح کے وقت ہمارے درمیان واپس بھی پہنچ گئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر کوئی تالی بجانے لگا اور کوئی اپنے سر پر ہاتھ رکھنے لگا، کیونکہ ان کے خیال کے مطابق ایک جھوٹی بات پر انہیں تعجب ہو رہا تھا، پھر وہ کہنے لگا کہ کیا آپ ہمارے سامنے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کرسکتے ہیں ؟ دراصل اس وقت لوگوں میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو وہاں کا سفر کر کے مسجد اقصی کو دیکھے ہوئے تھا، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد اقصی کی کیفیت بیان کرنا شروع کی اور مسلسل بیان کرتا ہی چلا گیا، یہاں تک کہ ایک موقع پر مجھے کچھ التباس ہونے لگا تو مسجد اقصی کو میری نگاہوں کے سامنے کردیا گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ مسجد اقصی کو دارعقال یا دار عقیل کے پاس لا کر رکھ دیا گیا ہے، چناچہ میں اسے دیکھتا جاتا اور بیان کرتا جاتا، اس میں کچھ چیزیں ایسی بھی تھیں جو میں پہلے یاد نہیں رکھ سکا تھا، لوگ یہ سن کر کہنے لگے کہ کیفیت تو بخدا ! انہوں نے صحیح بیان کی ہے (لیکن اسلام قبول کرنے کے لئے کوئی بھی مائل نہ ہوا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ مَا هُوَ قَالَ إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالَ إِلَى أَيْنَ قَالَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ يُرِ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالُوا إِلَى أَيْنَ قُلْتُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالُوا ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ قَالُوا وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عُقَيْلٍ فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعْتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ
tahqiq

তাহকীক: