আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৮০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رحم ایک شاخ ہے جس نے رحمن کی آڑ تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑے اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا اللہ اسے توڑے دے گا
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ صَالِحًا مَوْلَى التَّوْأَمَةِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ آخِذَةٌ بِحُجْزَةِ الرَّحْمَنِ يَصِلُ مَنْ وَصَلَهَا وَيَقْطَعُ مَنْ قَطَعَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف چار مرتبہ عمرہ کیا ہے، ایک مرتبہ حدیبیہ سے، ایک مرتبہ ذیقعدہ کے مہینے میں اگلے سال عمرۃ القضاء، ایک مرتبہ جعرانہ سے اور چوتھی مرتبہ اپنے حج کے موقع پر
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ عَمْروٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والوں کو رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھالی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اخْتَصَمَ رَجُلَانِ فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ وَهُوَ كَاذِبٌ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی۔ (١) خدیجہ بنت خویلد (رض) (٢) فاطمہ (رض) بنت محمد ﷺ (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم (رض) جو فرعون کی بیوی تھیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ خَطَطْتُ هَذِهِ الْخُطُوطَ قَالُوا لَا قَالَ أَفْضَلُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) تشریف فرما تھے، نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ﷺ فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤ جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالُوا نَعَمْ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی ﷺ نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی ﷺ کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھان احرام ہوتا تو نبی ﷺ کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا قَالَ وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوا کر پہن لی، پھر فرمانے لگے کہ میرا آج کا دن تو اسی میں مصروف رہا، ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور ایک نظر تمہیں، پھر آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ ثُمَّ قَالَ شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ ثُمَّ رَمَى بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنالیا اور اسے فروخت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھان احرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے) یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔ حضرت عباس (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی ﷺ نے اسے مستثنی فرما دیا
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ نبی ﷺ نے شراب نوشی کی سزا جاری نہیں فرمائی، ہوا اس طرح کہ ایک آدمی شراب پی کر مدہوش ہوگیا، راستے میں وہ ادھر ادھر لڑھکتا چلا جا رہا تھا کہ ایک شخص اسے مل گیا اور اسے پکڑ کر نبی ﷺ کے پاس لے جانے لگا، جب وہ حضرت عباس (رض) کے گھر کے قریب ہوا تو وہ شخص اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگا اور حضرت عباس (رض) کے گھر میں گھس کر پیچھے سے جا کر ان سے چمٹ گیا، لوگوں نے نبی ﷺ سے یہ واقعہ ذکر کیا تو نبی ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا کہ اس نے ایسا کیا ہے ؟ پھر نبی ﷺ نے اس کے متلعق کوئی حکم نہیں دیا
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي فَجٍّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ قَدْ فَعَلَهَا ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهُمْ فِيهِ بِشَيْءٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے ان کا کیا بنے گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ فَمَا لِلَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی فرمائش کی، انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے، نبی ﷺ نے دعاء کی تو اسی لمحے مشرق کی طرف سے ایک گھٹا اٹھی جو آہستہ آہستہ بلند ہونے اور پھیلنے لگی، نبی ﷺ نے جب یہ دیکھا تو آپ ﷺ بےہوش ہو کر گرپڑے، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کے پاس آکر انہیں اٹھایا اور آپ ﷺ کے منہ سے نکلنے والے تھوک کو صاف کیا جو دونوں جبڑوں کی طرف سے نکل رہا تھا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانَ الْيَمَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ ادْعُ رَبَّكَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ قَالَ فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَالَ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو لایا گیا جو بتوں کے پچاری بن گئے تھے، انہوں نے ان لوگوں کو نذر آتش کردیا، حضرت ابن عباس (رض) کو پتہ چلا تو فرمایا نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِأُنَاسٍ مِنْ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا فَأَحْرَقَهُمْ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا، راوی نے امام مالک (رح) سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا نہیں، صرف بیع و شراء میں ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ قَالَ عَمْرٌو إِنَّمَا ذَاكَ فِي الْأَمْوَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو اس پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی ﷺ نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی ﷺ کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی ﷺ نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ و حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ أَيْضًا فَأَسْنَدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے اسلام قبول کرلیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا) اور میری بیوی کو اس کا علم تھا، نبی ﷺ نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر دوسرے شوہر سے پہلے شوہر کی طرف واپس لوٹا دیا۔
حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَسْلَمَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ إِسْلَامِي فَنَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخِرِ وَرَدَّهَا عَلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہوجاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہوجاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَكُونُ الْحَاجَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ كَذَبَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارَ
tahqiq

তাহকীক: