আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৮২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سورت مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، بخدا ! نبی ﷺ نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا تھا اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کرلوں۔ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس (رض) کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ (رض) کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت عروہ بن زبیر (رح) سے فرمایا اے عروہ ! اپنی والدہ سے پوچھئے، کیا آپ کے والد نبی ﷺ کے ساتھ نہیں آئے تھے، کہ انہوں نے احرام باندھا تھا ؟
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا عُرَيَّةُ سَلْ أُمَّكَ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَ أَبُوكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ گذشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہوجاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہوجاتیں اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہوجاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہوگئی ہے، چناچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا اور ان میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس سے بھی گذرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آکر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى قَالَ فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ قَالَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ قَالَ فَبَثَّ جُنُودَهُ قَالَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ فَأَخْبَرُوهُ قَالَ فَقَالَ هُوَ الَّذِي حَدَثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا کہ شراب کا مشکیزہ آپ کے لئے ہدیہ لایا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے شراب کو حرام کردیا ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو ، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خریدو فروخت بھی حرام کردی ہے چناچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَأَقْبَلَ بِهَا يَقْتَادُهَا عَلَى بَعِيرٍ حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكَ قَالَ رَاوِيَةُ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ قَالَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَهَا قَالَ لَا قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ وَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَقَالَ مَاذَا قُلْتَ لَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ فَخَرَجَتْ فِي التُّرَابِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی ہے، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کھی نہ دیتے اور نبی ﷺ جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی ﷺ کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی ﷺ نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چناچہ انہوں نے اسے ایک مد کردیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ وَكَانَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَكَانَ يَحْجُمُهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ وَنِصْفٌ فَشَفَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَجُعِلَ مُدًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ (رض) سے) نکاح فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ وَأَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو ١٣ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں )
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام (رض) کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچالے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ مسلمان نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ " کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔۔۔۔۔۔ " والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جبکہ آپ ﷺ تشریف فرما تھے ایک یہودی کا گذر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابو القاسم ! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھائے گا اور اس شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدردانی کرنے کا حق تھا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چناچہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی ﷺ نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی ﷺ کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو مبارک پانی آکر لے جائیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ عَلَى فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں حضرت عمر فاروق (رض) بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی ﷺ کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کردو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں اور بعض کی رائے حضرت عمر (رض) والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ ہائے افسوس ! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی ﷺ کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَفَاةُ قَالَ هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ قَالَ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ يَكْتُبُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ وَغُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا عَنِّي فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اس وقت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور خانہ کعبہ تو آپ کے سامنے ہوتا ہی تھا اور ہجرت کے بعد بھی سولہ مہینے تک آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، بعد میں آپ ﷺ کو خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے بالا خانہ میں تھے کہ حضرت عمر فاروق (رض) حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيَدْخُلُ عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کردیا، اس لئے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے متصلا بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ عَلَيْهِ نِصْفُ دِينَارٍ قَالَ وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
তাহকীক: