আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩২২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا، چناچہ ہم حلال ہوگئے اور عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ فَحَلَلْنَا فَلُبِسَتْ الثِّيَابُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے مختلف کونوں کی طرف رخ انور کر کے کھڑے ہوئے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا لَيْثٌ قَالَ قَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ اسْتَقْبَلَ زَوَايَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سفر اور حضر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا لَيْثٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی ﷺ کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ ﷺ نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے اور تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ صَاحِبُ الْحِلَى أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَإِنْ هُوَ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانے کا گوشت ہڈی سے نوچ کر تناول فرمایا : پھر تازہ وضو کیئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ (رض) کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام " مغیث " تھا میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی ﷺ نے بریرہ کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، نبی ﷺ نے فیصلہ فرمادیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی ﷺ نے انہیں خیار عتق دیا اور نبی ﷺ نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے بریرہ کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ (رض) کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہوگئی ہے)
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا وَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ فَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ قَضَى أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ هَمَّامٌ مَرَّةً عِدَّةَ الْحُرَّةِ قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب بنو عبد القیس کا وفد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتادیں ؟ نبی ﷺ نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا : نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اللہ ہی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا اور نبی ﷺ نے انہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استمعال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے) انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ پھر ہم کن برتنوں میں پانی پیا کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا چمڑے کے مشکیزوں میں جن کا منہ باندھا جاسکے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ أَمَرَهُمْ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ يَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَنْ يَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ يُعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْمَغَانِمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ فَقَالُوا فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ الْأَشَجُّ أَخُو بَنِي عَصَرٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں، پھر میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ و حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَو کے عوض نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے رہن رکھی ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهُ طَعَامًا لِأَهْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید فارسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کی حیات میں مجھے خواب میں حضور نبی مکرم سرور دو عالم ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، یاد رہے کہ یزید قرآن کے نسخے لکھا کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس سعادت کے حصول کا تذکرہ کیا، انہوں نے بتایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے شیطان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ میری شباہت اختیار کرسکے اس لئے جسے خواب میں میری زیارت ہو، وہ یقین کرلے کہ اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے، کیا تم نے خواب میں جس ہستی کو دیکھا ہے ان کا حلیہ بیان کرسکتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! میں نے دو آدمیوں کے درمیان ایک ہستی کو دیکھا جن کا جسم اور گوشت سفیدی مائل گندمی تھا، خوبصورت مسکراہٹ، سرمگیں آنکھیں اور چہرے کی خوبصورت گولائی لئے ہوئے تھے، ان کی ڈاڑھی یہاں سے یہاں تک بھری ہوئی تھی اور قریب تھا کہ کہ پورے سینے کو بھر دیتی، (عوف کہتے ہیں کہ مجھے معلوم اور یاد نہیں کہ اس کے ساتھ مزید کیا حلیہ بیان گیا تھا) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر تم نے بیداری میں ان کی زیارت سے اپنے آپ کو شاد کام کیا ہوتا تو شاید اس سے زیادہ ان کا حلیہ بیان نہ کرسکتے (کچھ فرق نہ ہوتا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ قَالَ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَكِ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ قَدْ مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ قَالَ عَوْفٌ لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنْ النَّعْتِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ سے سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ (رض) سے) نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیا، جو نبی ﷺ کے پاس آگئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ مِنْ رَقِيقِ الْمُشْرِكِينَ
tahqiq

তাহকীক: