আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩২৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی دوسرے کی باندی سے قربت کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، جس شخص نے زمانہ جاہلیت میں ایسا کیا ہو، میں اس قربت کے نتیجے میں ہونے والے بچے کو اس کے عصبہ ملحق قرار دیتا ہوں اور جو شخص بغیر نکاح کے کسی بچے کو اپنی طرف منسوب کرنے کا دعوی کرتا ہے (اور یہ کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، حالانکہ اس بچے کی ماں سے اس کا نکاح نہیں ہوا) تو وہ بچہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہو مورث (دونوں میں سے کسی کو دوسرے کی وراثت نہیں ملے گی)
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ سَلْمٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ وَمَنْ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ (رض) نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں، اگر ہم محرم نہ ہوتے تو اسے تم سے قبول کرلیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَقَالَ لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت دی ہے جبکہ اس میں رنگ کا کوئی ذرہ یا نشان نہ ہو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ ابو طالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی ﷺ بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، خواجہ ابو طالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابو جہل آکر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ خواجہ ابو طالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، خواجہ ابو طالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا چچا جان ! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا وہ کون سا کلمہ ؟ فرمایا " لاالہ الا اللہ " یہ سن کر وہ لوگ کپڑے جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے، اس پر سورت ص نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ ان ہذا لشیء عجاب پر پہنچے۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْهُمْ أَبُو جَهْلٍ فَقَالُوا يَا أَبَا طَالِبٍ ابْنُ أَخِيكَ يَشْتِمُ آلِهَتَنَا يَقُولُ وَيَقُولُ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ فَأَرْسِلْ إِلَيْهِ فَانْهَهُ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَبُو طَالِبٍ وَكَانَ قُرْبَ أَبِي طَالِبٍ مَوْضِعُ رَجُلٍ فَخَشِيَ إِنْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَمِّهِ أَنْ يَكُونَ أَرَقَّ لَهُ عَلَيْهِ فَوَثَبَ فَجَلَسَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا إِلَّا عِنْدَ الْبَابِ فَجَلَسَ فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ قَوْمَكَ يَشْكُونَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَشْتُمُ آلِهَتَهُمْ وَتَقُولُ وَتَقُولُ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ يَا عَمِّ إِنِّي إِنَّمَا أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ قَالُوا وَمَا هِيَ نَعَمْ وَأَبِيكَ عَشْرًا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَامُوا وَهُمْ يَنْفُضُونَ ثِيَابَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى بَلَغَ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، یار رسول اللہ ! ﷺ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتی ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَأَقْضِيهِ عَنْهَا قَالَ أَرَأَيْتَكِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ كُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قراءت کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی یا حضرت زید بن ثابت (رض) کی ؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت (رض) کی، فرمایا نہیں، دراصل نبی ﷺ ہر سال جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس میں نبی ﷺ نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتِبِ يُقْتَلُ يُودَى لِمَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ میں زید بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک بزرگ گذرے جن کا نام ابو سعید شرحبیل تھا، زید نے ان سے پوچھا اے ابو سعید ! آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا امیرالمومنین کے پاس سے، میں نے انہیں ایک حدیث سنائی، اگر یہ حدیث سچی ہو تو میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی یہ حدیث سنائیے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَمَرَّ شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ فَقَالَ يَا أَبَا سَعْدٍ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ فَقَالَ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثْتُهُ بِحَدِيثٍ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ حَقًّا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ قَالَ حَدِّثْ بِهِ الْقَوْمَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین (علیہ السلام) سے ان کی ملاقت ہوتی اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی ﷺ جضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ ﷺ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَكَانَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ " اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ إِنَّهُ يُنْبِتُ الشَّعْرَ وَيَجْلُو الْبَصَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أُعْطِيَ النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى أُنَاسٌ أَمْوَالَ النَّاسِ وَدِمَاءَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْعَطَّارُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (نبی ﷺ کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ کی عمر ٤٠ برس تھی) آپ ﷺ اس کے بعد ١٣ برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال مبارک ہوگیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا يُوحَى إِلَيْهِ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی ﷺ منبر کی طرف منتقل ہوگئے تو کھجور کا وہ تنا نبی ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی ﷺ اگر اسے خاموش نہ کراتے تو یہ قیامت تک روتا رہی رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ وَقَالَ لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ حَدَّثَنَاه الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا : پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَظْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے آیت قرآن " فان جاءوک فا حکم بینہم او اعرض عنہم۔۔۔۔۔۔ " کی تفسیر میں منقول ہے کہ بنو نضیر کے لوگ اگر بنو قریضہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتے تو وہ انہیں نصف دیت دیتے اور اگر بنو قریضہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتے تو وہ انہیں پوری دیت ادا کرنے پر مجبور ہوتے، نبی ﷺ دونوں قبیلوں کے درمیان برابر برابر دیت مقرر کردی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ قَالَ كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا قَتِيلًا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا إِلَيْهِمْ نِصْفَ الدِّيَةِ وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ قَتِيلًا أَدَّوْا إِلَيْهِمْ الدِّيَةَ كَامِلَةً فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنهُمْ الدِّيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ حیض و نفاس والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے اور سارے مناسک حج ادا کرتی رہے، سوائے اس کے کہ پاک ہونے سے پہلے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ وَتُحْرِمُ وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سورت ص میں سجدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا، اس وقت میری عمر دس سال تھی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ
tahqiq

তাহকীক: