আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩২৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ وَفِينَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ومِقْسَمٌ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ قَالَ سَعِيدٌ كُلُّكُمْ بَلَغَهُ مَا قِيلَ فِي الطَّعَامِ قَالَ مِقْسَمٌ حَدِّثْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَنْ لَمْ يَكُنْ يَسْمَعُ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ وَسَطَهُ وَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ أَوْ حَافَتَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے پیٹ کے بچے کو مار دینے کے مسئلے میں نبی ﷺ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، تو حضرت حمل بن مالک بن نابغہ (رض) آگئے اور فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں دو عورتوں کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو بیلن یا خیمہ کا ستون دے مارا، جس کے صدمے سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مرگئے، نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا، اس کے بدلے میں ایک غلام قتولہ کے ورثاء کو دے دیا جائے اور اس عورت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے کہا کہ مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد کے حوالے یہ روایت دوسری طرح سنائی ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ تم نے مجھے شک میں ڈال دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ وَأَنْ تُقْتَلَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَقَدْ شَكَّكْتَنِي قَالَ ابْنُ بَكْرٍ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتَيَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ابو ودیعہ جن کا نام کذام تھا نے اپنی بیٹی کا نکاح ایک شخص سے کردیا، ان کی بیٹی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ اس کا نکاح فلاں شخص سے زبردستی کیا جارہا ہے، نبی ﷺ نے اسے اس کے شوہر سے الگ کردیا اور فرمایا کہ عورت کو مجبور نہ کیا کرو، پھر اس کے بعد اس لڑکی نے حضرت ابو لبابہ انصاری (رض) سے شادی کرلی، یادر ہے کہ وہ شوہر دیدہ تھی حضرت ابن عباس (رض) سے اسی روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ کچھ عرصے بعد وہ خاتون دوبارہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور بتایا کہ اس کے نئے شوہر نے اسے چھولیا ہے (لہذا وہ اب اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے) نبی ﷺ نے اسے پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا (کیونکہ دوسرے شوہر کا ہمبستری کرنا شرط ہے، چھونا نہیں) اور فرمایا اے اللہ ! اگر اس کی قسم اسے رفاعہ کے لئے حلال کرتی ہے تو اس کا نکاح دوسری مرتبہ مکمل نہ ہوگا، پھر وہ حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت فاروق اعظم (رض) کے پاس ان دونوں کے دور خلافت میں بھی پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آئی لیکن ان دونوں نے بھی اسے روک دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَقَالَ لَا تُكْرِهُوهُنَّ قَالَ فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَتْ ثَيِّبًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَزَادَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بَعْدُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنْ قَدْ مَسَّهَا فَمَنَعَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ إِيمَانُهُ أَنْ يُحِلَّهَا لِرَفَاعَةَ فَلَا يَتِمَّ لَهُ نِكَاحُهَا مَرَّةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَتْ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي خِلَافَتِهِمَا فَمَنَعَاهَا كِلَاهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی ﷺ کا گذر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھنیچ رہا تھا، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُ إِنْسَانًا بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے نبی ﷺ کا گذر ایک شخص پر ہوا جو ایک دوسرے آدمی کی ناک میں رسی ڈال کر اسے کھنیچ رہا تھا، نبی صلی اللہ نے اپنے ہاتھ سے اس رسی کو کاٹا اور فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے طواف کراؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ قُدْهُ بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر چند لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا بنو اسماعیل ! تیر اندازی کیا کرو، کیونکہ تمہارے باپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ فَقَالَ رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سالم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کے پاس ایک آدمی آیا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ میں نے تمہاے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے اپنا سر دائیں یا بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھا ہوگا اور اس کے زخموں سے خون رس رہا ہوگا، وہ کہتا ہوگا کہ پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا رَأْسَهُ إِمَّا قَالَ بِشِمَالِهِ وَإِمَّا بِيَمِينِهِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو ان کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ بخدا ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا نبی ﷺ نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ اے اللہ ! حقیقت حال کو واضح فرما اور ان کے درمیان لعان کروا دیا اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ أَوْ إِغْفَارِهِ قَالَ وَعَفَارُ النَّخْلِ أَوْ إِغْفَارُهَا أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ ثُمَّ تُعْفَرُ أَوْ تُغْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ قَالَ فَوَجَدْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشًا سَبْطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ رَجُلٌ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ جَعْدٌ قَطَطٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کیا میں تمہیں نبی ﷺ کا وضو کرنے کا طریقہ نہ بتاؤں ؟ یہ کہ کر پانی منگوایا اور دائیں ہاتھ سے چلو بھر کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالنے لگے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَجَعَل يَغْرِفُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى الْيُسْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی اور بائیں جانب ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ قُمْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شِمَالِهِ فَأَدَارَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ مردہ ہے، فرمایا اس کا صرف کھان احرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيْتَةٍ فَقَالَ أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا قَالُوا وَكَيْفَ وَهِيَ مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حُرِّمَ لَحْمُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے وضو کیا، پھر شانہ کا گوشت تناول فرمایا : پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَزَّ مِنْ كَتِفٍ فَأَكَلَ ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں کو حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگئے، لیکن انہوں نے اپنی نماز نہیں توڑی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُصَلِّي أَنَا وَالْفَضْلُ مُرْتَدِفَانِ عَلَى أَتَانٍ فَقَطَعْنَا الصَّفَّ وَنَزَلْنَا عَنْهَا ثُمَّ دَخَلْنَا الصَّفَّ وَالْأَتَانُ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ لَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ فَجِئْنَا وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا : نبی ﷺ کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ لَمْ يَدْخُلْ وَأَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو بنو بیاضہ کے ایک غلام نے سینگی لگائی، نبی ﷺ نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کبھی نہ دیتے اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چناچہ انہوں نے اس سے کچھ مقدار کو کم کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ قَالَ وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ بَعْضَ خَرَاجِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے پاس رات گذاری، نبی ﷺ رات کے کسی حصے میں نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، میں بائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں سے ہر رکعت میں میرے اندازے کے مطابق سورت مزمل کے بقدر قیام کیا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ
tahqiq

তাহকীক: