আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩২৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ ﷺ روزے سے تھے، لیکن مقام غدیر میں پہنچے تو لوگوں کو سخت پیاس لگی کیونکہ دوپہر کا وقت تھا، لوگ اپنی گردنیں اونچی کرنے لگے اور انہیں پانی کی خواہش شدت سے محسوس ہونے لگی، تو نبی ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يَعْنِي عَطَاءً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَتْ شَاةٌ أَوْ دَاجِنَةٌ لِإِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَوْ مَسْكِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) اور ابن عمر (رض) نے مسح علی الخفین کے متعلق سوال کیا تو میں اس وقت وہیں موجود تھا، حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کے حق میں فیصلہ دیا تھا، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد (رض) سے کہا اے سعد ! یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے موزوں پر مسح کیا ہے، لیکن سورت مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں ؟ آپ کو یہ بات کوئی بھی نہیں بتائے گا کہ نبی ﷺ نے سورت مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے، اس پر حضرت عمر (رض) خاموش ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَهُ سَعْدٌ وَابْنُ عُمَرَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَضَى عُمَرُ لِسَعْدٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ يَا سَعْدُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَلَكِنْ أَقَبْلَ الْمَائِدَةِ أَمْ بَعْدَهَا قَالَ فَقَالَ رَوْحٌ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ لَا يُخْبِرُكَ أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهِمَا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ فَسَكَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہڈی والاگوشت کھا رہے تھے کہ مؤذن آگیا، نبی صلی اللہ نے اسے رکھا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَوَضَعَهُ وَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کس بناء پر وضو کر رہا ہوں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے نفی میں جواب دیا، انہوں نے بتایا کہ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھا لئے تھے، اب ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں، حضرت ابن عباس (رض) کہنے لگے کہ آپ جس بناء پر وضو کر رہے میں تو اس کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ میں نے نبی ﷺ کو دستی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد آپ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں فرمایا : راوی حدیث سلیمان بن یسار مذکورہ دونوں صحابہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ قَالَ لَا قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ قَالَ وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت میمونہ (رض) کے چھوڑے ہوئے پانی سے غسل کرلیا کرتے تھے، راوی حدیث عبدالرزاق کہتے ہیں کہ دراصل میں نے اپنے استاذ سے دو جنبی مرد و عورت کے ایک ہی پانی سے غسل کرنے کا مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنا دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ عِلْمِي وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَذَلِكَ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ إِخْلَاءِ الْجُنُبَيْنِ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سوئے اور جاگے، حضرت عمر (رض) نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ نماز، اس پر نبی ﷺ باہر تشریف لائے وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی ﷺ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں، نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سر پر رکھا اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ الصَّلَاةَ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے پھر راوی نے مکمل دعاء ذکر کی اور یہ بھی کہا، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ طَاوُسًا أخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَهَجَّدَ مِنْ اللَّيْلِ فَذَكَرَ نَحْوَ دُعَاءِ سُفْيَانَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَعْدُكَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، وہ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے اور تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ الْبَشَرِ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ يَدْخُلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَيُدَارِسَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد حضرت صدیق اکبر (رض) جب مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی ﷺ کے رخ زبیا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی ﷺ پر ڈال دی گئی تھی اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَشَفَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى عَلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور تیل خوشبو لگایا کرو ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ مجھے علم نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ طَاوُسٌ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر ایک مقبرہ پر ہوا جو اس پہلے راستے پر واقع تھا (حضرت ابن عباس (رض) نے ہاتھ سے ریت کے تودے کے پیچھے کی طرف اشارے سے فرمایا) اور فرمایا کہ یہ بہترین قبرستان ہے، میں نے اس شخص سے پوچھا جنہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ کیا نبی ﷺ نے اس کے کسی گوشے کی تخصیص فرمائی تھی لیکن وہ مجھے یہ نہ بتاسکے کہ نبی ﷺ نے کس جگہ کو خاص کیا تھا سوائے اس کے کہ وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے رہے، لیکن ہم یہ بات سنتے تھے کہ نبی ﷺ نے اس حصے کو خاص کیا جو بیت اللہ کے سامنے تھا۔ فائدہ : بظاہر اس قبرستان سے مراد جنت المعلی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ أَوْ قَالَ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَقَالَ نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي أَخَصَّ الشِّعْبَ قَالَ هَكَذَا قَالَ فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایام والی عورت سے ہمبستری میں ایک دینار کا نصاب مقرر کیا ہے اور اگر مرد نے اس سے اپنی خواہش اس وقت پوری کی جبکہ خون تو منقطع ہوچکا تھا لیکن ابھی اس نے غسل نہیں کیا تھا تو اس صورت میں قربت پر نصف دینار واجب ہوگا اور یہ سب تفصیل نبی ﷺ سے منقول ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ وَغَيْرُهُ عَنْ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ فِي الْحَائِضِ نِصَابَ دِينَارٍ فَإِنْ أَصَابَهَا وَقَدْ أَدْبَرَ الدَّمُ عَنْهَا وَلَمْ تَغْتَسِلْ فَنِصْفُ دِينَارٍ كُلُّ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کو ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، خواہ چاند نظر نہ آیا ہو اور وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو ٣٠ کی گنتی پوری کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُنْكِرُ أَنْ يُتَقَدَّمَ فِي صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا لَمْ يُرَ هِلَالُ شَهْرِ رَمَضَانَ وَيَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ تَرَوْا الْهِلَالَ فَاسْتَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ لَيْلَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَوْ رَمَضَانَ قَالَ رَوْحٌ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے بھائی حضرت فضل (رض) کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا، کہ میں تو روزے سے ہوں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی ﷺ کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی ﷺ نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں ( تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَلَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عُمَرَ أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ فرض نمازوں سے فراغت کے بعد اونچی آواز سے اللہ کا ذکر کرنا نبی ﷺ کے دور باسعادت میں تھا اور مجھے تو لوگوں کے نماز سے فارغ ہونے کا علم ہی جب ہوتا کہ میں یہ آواز سن لیتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنْ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے پاس ایک رات گذاری، نبی ﷺ رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، مشکیزے سے وضو کر کے کھڑے ہوگئے، میں بھی نبی ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھ کر کھڑا ہوا، مشکیزے سے وضو کیا اور بائیں جانب آکر کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ مجھے کمر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِكَ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي يَعْدِلُنِي كَذَلِكَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ اور کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کیا میں تمہارے سامنے سفر میں نبی ﷺ کی نماز کے متعلق بیان نہ کروں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں، فرمایا نبی ﷺ کے پڑاؤ کی جگہ میں اگر سورج اپنی جگہ سے ڈھلنا شروع ہوجاتا تو آپ ﷺ سوار ہونے سے پہلے ظہر اور عصر کو جمع فرما لیتے اور اگر پڑاؤ کے موقع پر ایسا نہ ہوتا تو آپ ﷺ اپنا سفر جاری رکھتے اور جب عصر کا وقت آتا تو پڑاؤ کرتے اور ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھتے، اسی طرح اگر مغرب کا وقت پڑاؤ میں ہی ہوجاتا تو اسی وقت مغرب اور عشاء کی جمع فرما لیتے، ورنہ سفر جاری رکھتے اور عشاء کا وقت ہوجانے پر پڑاؤ کرتے اور مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی پڑھ لیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ وَعَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ قَالَ قُلْنَا بَلَى قَالَ كَانَ إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعَصْرُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا حَانَتْ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ الْعِشَاءُ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক: