আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩৩০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تاجروں سے راستہ ہی میں مل کر اپنی مرضی کے بھاؤ سودا خرید لیا جائے یا کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے خریدو فروخت کرے، راوی نے جب حضرت ابن عباس (رض) سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ شہری دیہاتی کے لئے دلال نہ بنے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا اگر میں نے محمد ﷺ کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو جَهْلٍ لَئِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ لَأَطَأَنَّ عَلَى عُنُقِهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ فَعَلَ لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آج رات مجھے خواب میں اپنے پروردگار کی زیارت ایسی بہترین شکل و صورت میں نصیب ہوئی جو میں سب سے بہتر سمجھتا ہوں، پروردگار نے مجھ سے فرمایا اے محمد ! ﷺ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ملا اعلی کے فرشتے کس بات میں جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں، اس پروردگار نے اپنا دست مبارک میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوئی اور میں نے اس کی برکت سے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کی معلومات حاصل کرلیں، پھر اللہ نے فرمایا اے محمد ! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کفارات سے کیا مراد ہے ؟ بتایا کہ نمازوں کے بعد مسجد میں رکنا اپنے قدموں پر چل کر جمعہ کو آنا اور مشقت کے باوجود (جیسے سردی میں ہوتا ہے) اچھی طرح وضو کرنا، جو شخص ایسا کرلے اس کی زندگی بھی خیر والی ہوجائے اور موت بھی خیر والی ہوئی اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجائے گا گویا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو اور اے محمد ﷺ جب تم نماز پڑھا کرو تو یہ دعاء کیا کرو کہ اے اللہ ! میں آپ سے نیکیوں کی درخواست کرتا ہوں، گناہوں سے بچنے کی دعاء کرتا ہوں اور مساکین کی محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ جب آپ اپنے بندوں کو کسی آزمائش میں مبتلا چاہیں تو مجھے اس آزمائش میں مبتلا کئے بغیر ہی اپنی طرف اٹھا لیں، راوی کہتے ہیں کہ درجات سے مراد کھانا کھلانا، سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز پڑھنا ہے جب لوگ سو رہے ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ أَحْسِبُهُ يَعْنِي فِي النَّوْمِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ نَحْرِي فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ قَالَ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَقُلْ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً أَنْ تَقْبِضَنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ قَالَ وَالدَّرَجَاتُ بَذْلُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد ﷺ کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہو کے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، حضرت فاطمہ (رض) نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ اگے بڑھ کر آپ کو قتل کردیں گے اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاساہو رہا ہے، نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا بیٹی ! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ۔ نبی ﷺ نے وضو کیا اور مسجد حرام تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے وہ یہ رہے، لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا لیں اور ان کی ٹھوریاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی ﷺ کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی ﷺ کی طرف بڑھا، نبی ﷺ ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہوگئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاهَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ قَالَ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِكَ فِي الْحِجْرِ قَدْ تَعَاهَدُوا أَنْ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ قَالَ يَا بُنَيَّةُ أَدْنِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هُوَ هَذَا فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَلَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَحَصَبَهُمْ بِهَا وَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ قَالَ فَمَا أَصَابَتْ رَجُلًا مِنْهُمْ حَصَاةٌ إِلَّا قَدْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جھنڈا مہاجرین کی طرف سے حضرت علی (رض) کے پاس ہوتا تھا اور انصار کی طرف سے حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس اور جب جنگ زوروں پر ہوتی تو نبی ﷺ انصار کے جھنڈے کے نیچے ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَايَةَ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونَ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا آپ نبی ﷺ کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! اگر نبی ﷺ کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور عورتوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ دینے کا حکم دیا، چناچہ انہوں نے اپنے کانوں اور گلوں سے اپنے زیورات اتارے اور انہیں صدقہ کرنے کے لئے حضرت بلال (رض) کو دے دیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ هَلْ شَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا قَرَابَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَوَعَظَ النِّسَاءَ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَأَهْوَيْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَتَصَدَّقْنَ بِهِ قَالَ فَدَفَعْنَهُ إِلَى بِلَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) ابطح میں پڑاؤ کرنے کے قائل نہ تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے یہاں صرف حضرت عائشہ (رض) کی وجہ سے قیام کیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى أَنْ يَنْزِلَ الْأَبْطَحَ وَيَقُولُ إِنَّمَا أَقَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُودَى الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گذاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی ﷺ کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی، نبی ﷺ عشاء کی نماز پڑھ کر گھر داخل ہوئے اور چمڑے کے بنے ہوئے اس تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئے جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، میں نے بھی آکر اس تکیے کے ایک کونے پر سر رکھ دیا، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ بیدار ہوئے، دیکھا تو ابھی رات کافی باقی تھی چناچہ آپ ﷺ نے دوبارہ بستر پر واپس آکر تسبیح و تکبیر کہی اور سوگئے۔ دوبارہ جب نبی ﷺ بیدار ہوئے تو رات کا ایک یا دوتہائی حصہ بیت چکا تھا، لہذا اب نبی ﷺ کھڑے ہوگئے، قضاء حاجت کی اور ستون خانے میں لٹکی ہوئی مشک کے پاس آئے جس میں پانی تھا، اس سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، پھر سر اور کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے اور اپنی جائے نماز پر جا کر کھڑے ہوگئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کچھ کیا جو نبی ﷺ نے کیا تھا اور آکر نبی ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، ارادہ یہ تھا کہ نبی ﷺ کی نماز میں شریک ہو جاؤنگا، نبی ﷺ نے تھوڑی دیر تو کچھ نہیں کیا، جب آپ ﷺ سمجھ گئے کہ میں ان ہی کی نماز میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں تو اپنا دہنا ہاتھ بڑھا کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔ نبی ﷺ اس وقت تک دو رکعتیں پڑھتے رہے جب تک آپ ﷺ کو رات کا احساس باقی رہا، جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ ﷺ نے چھ رکعتیں پڑھیں اور ساتویں میں وتر کی نیت کرلی، جب روشنی ہوگئی تو نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سوگئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی ﷺ نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر (رح) سے پوچھا کہ یہ کوئی اچھا کام ہے ؟ حضرت سعید (رح) نے جواب دیا کہ بخدا ! میں نے بھی یہی بات حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا خبردار ! یہ حکم تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نہیں ہے، یہ حکم نبی ﷺ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سوتے میں بھی ان کی حفاظت کی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَبِتُّ عِنْدَهَا فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَاهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجْبٍ فِيهَا مَاءٌ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ قَالَ يَزِيدُ حَسِبْتُهُ قَالَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ حَتَّى إِذَا أَضَاءَ الْفَجْرُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَهُ ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا أَحْسَنَ هَذَا فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَهْ إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا جمرہ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہوجائے گا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی ﷺ کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الرَّجُلِ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ أَيَتَطَيَّبُ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ الْمِسْكَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَمِنْ الطِّيبِ هُوَ أَمْ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی ﷺ کے پاس سے ہٹتے تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا، اس لئے نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی اگر وہ سواری پر نہ ہوتے تو انہیں چلنا ہی زیادہ محبوب ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِّثْنِي عَنْ الرُّكُوبِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا مَاذَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجَتْ الْعَوَاتِقُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ عِنْدَهُ أَحَدٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ وَهُوَ رَاكِبٌ وَلَوْ نَزَلَ لَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ إِذَا فَاتَنِي الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے اونٹ پر سوار مسجد میں داخل ہوئے، ان کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید (رض) بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی ﷺ نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ حضرت اسامہ (رض) کو دے دیا اور فرمایا تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، یہی وجہ ہے اب ہم اسے بدلنا نہیں چاہتے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلہ خریدے، اسے قبضہ سے قبل آگے مت فروخت کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ قَالَ مِسْعَرٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ أَوْ عَلَفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم پلایا جو انہوں نے کھڑے کھڑے نوش فرما لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنْ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) آیت ذیل کی وضاحت فرماتے ہیں کہ ہم نے اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جو نبی ﷺ کو شب معراج بیداری میں آنکھوں سے دکھائی گئی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ شَيْءٌ أُرِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَقَظَةِ رَآهُ بِعَيْنِهِ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
tahqiq

তাহকীক: