আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৩৮৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، میرے والد نے پوچھا کیا آپ نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے ؟ فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৮৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے گروہ نسواں ! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو ، کیونکہ تمہاری جہنم میں اکثریت ہے ایک عورت جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی، کھڑی ہو کر کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی بہت کرتی ہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৮৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ فِي السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا، عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہم سے ہمارے والد نے اپنے گھر میں اپنے کمرے میں بیان فرمائی تھی، شاید جعفر بن یحیی، یا یحییٰ بن خالد کی اولاد میں سے کسی نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا تھا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا بِهِ فِي بَيْتِهِ فِي غُرْفَتِهِ أُرَاهُ سَأَلَهُ بَعْضُ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى أَوْ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ يَحْيَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي اسْمُهُ يُوَاطِئُ اسْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آجائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي وَيُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے کہ نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوئی جسے میں نے نبی ﷺ کے منہ سے نکلتے ہی یاد کرلیا، ابھی وہ سورت نبی ﷺ کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی، مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سی آیت ختم کی " فبای حدیث بعدہ یؤمنون " یا " واذاقیل لہم ارکعوا لایرکعون " کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا اور جلدی سے ایک سوراخ میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے شر سے تمہاری اور تمہارے شر سے اس کی بچت ہوگئی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ أَوْ قِيلَ لَهُمْ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ سر زمین حبشہ جانے سے پہلے ابتداء میں ہم نبی ﷺ کو دوران نماز سلام کرتے ( تو آپ ﷺ جواب دے دیتے تھے، ) لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، اس پر مجھے دور اور نزدیک کے اندیشے ہونے لگے، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ ﷺ سے اس کے متعلق سوال پوچھا، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہتا ہے کرلیتا ہے، اس معاملے میں اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم دوران نماز باتیں نہ کیا کریں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ حَتَّى قَضَوْا الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أُحْدِثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی معاملے میں قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال حاصل کرلے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا، پھر نبی ﷺ نے اس کی تائید کے لئے قرآن کریم کی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت فرمائی کہ جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی سی قیمت لے لیتے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور اللہ ان سے کلام تک نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی مکرم سرور دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ روک کر رکھتا ہے اس کے مال کو گنجا سانپ بنادیا جائے گا، وہ اس سے بچ کر بھاگے گا اور وہ سانپ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہے گا کہ میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر حضرت ابن مسعود (رض) نے اس کی تائید میں قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی کہ عنقریب ان کی گردن میں قیامت کے دن وہ مال و دولت طوق بنا کر ڈالاجائے گا جس میں وہ بخل کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ فَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفاء بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک رہ جاؤ گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرٍ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد میں حضرت ابن مسعود (رض) کی تشریف آوری کا انتظار کر رہے تھے، اتنی دیر میں یزید بن معاویہ نخعی آگئے، وہ کہنے لگے میں جا کر دیکھوں ؟ اگر وہ گھر میں ہوئے شاید میں انہیں آپ کے پاس لاسکوں ؟ چناچہ تھوڑی دیر میں حضرت ابن مسعود (رض) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا اور نبی ﷺ بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سُلَيْمَانُ سَمِعْتُ شَقِيقًا يَقُولُ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فَجَاءَنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ قَالَ فَقَالَ أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرَ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ فَجَاءَنَا فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَيُذْكَرُ لِي مَكَانُكُمْ فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو الکنود کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، حضرت ابن مسعود (رض) کی اس پر نگاہ پڑگئی، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے سونے کے چھلے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْكَنُودِ أَصَبْتُ خَاتَمًا يَوْمًا فَذَكَرَهُ فَرَآهُ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي يَدِهِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلَقَةِ الذَّهَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا اور سب لوگوں نے اسے دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا گواہ رہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے، اس وقت خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی ہیں چبھوتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے حق آگیا اور باطل کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ لوٹا کر لاسکتا ہے، نیز یہ کہ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا بیشک باطل تو بھاگنے والا ہے ہی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی نے ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ يَقْدُمُهَا وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ يَحْيَى الْجَابِرَ عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ فَقَالَ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ منیٰ کے میدان میں تھے کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے مار ڈالو، ہم جلدی سے اس کی طرف بڑھے لیکن وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَالَ فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهَا فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
شقیق کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن مسعود (رض) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا اور نبی ﷺ بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِي عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَخْرُجُ إِلَيْنَا فَيَقُولُ إِنَّنِي لَأُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
তাহকীক: