আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৪০৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے بازؤوں کو اپنی رانوں پر بھچا لے اور اپنی دونوں ہتھلیوں کو جوڑ لے، گویا میں اب بھی نبی ﷺ کی منتشر انگلیاں دیکھ رہا ہوں، یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہتھیلیوں کو رکوع کی حالت میں جوڑ کر دکھایا (یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ فَخِذَيْهِ وَلْيَجْنَأْ ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ طَبَّقَ كَفَّيْهِ فَأَرَاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی " وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ " تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے کون شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے فرمائی تھی کہ پیارے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي تَعْنُونَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو القاسم ﷺ ! کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری نمناک مٹی کو ایک انگلی پر اٹھالے گا ؟ نبی ﷺ اس کی بات سن کر اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور اسی پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہ کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق تھا
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَبَلَغَكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْمِلُ الْخَلَائِقَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالسَّمَوَاتِ عَلَى أُصْبُعٍ وَالْأَرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالشَّجَرَ عَلَى أُصْبُعٍ وَالثَّرَى عَلَى أُصْبُعٍ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) حمص نامی شہر میں سورت یوسف کی تلاوت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی ہے، حضرت ابن مسعود (رض) اس کے قریب گئے تو اس کے منہ سے شراب کی بدبو آئی، انہوں نے فرمایا کہ تو حق کی تکذیب کرتا ہے اور شراب بھی پیتا ہے ؟ بخدا ! میں تجھ پر حد جاری کئے بغیر تجھے نہیں چھوڑوں گا، چناچہ انہوں نے اس پر حد جاری کی اور فرمایا بخدا ! مجھے یہ سورت نبی ﷺ نے اسی طرح پڑھائی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ فَدَنَا مِنْهُ عَبْدُ اللَّهِ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ فَقَالَ أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ لَا أَدَعُكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ حَدًّا قَالَ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ وَقَالَ وَاللَّهِ لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ منیٰ کے میدان میں، میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ را سے میں حضرت عثمان غنی (رض) سے ملاقات ہوگئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، حضرت عثمان غنی (رض) فرمانے لگے کہ ابو عبدالرحمن ! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں تاکہ وہ ماضی کی باتیں یاد کرایا کرے، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا آپ نے تو یہ بات کہی ہے، ہم سے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے گروہ نوجواناں ! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بھی اور حضرت ابوبکر (رض) و عمر (رض) کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس شخص کو خوب جانتا ہوں جو جہنم سے سب سے آخر میں نکلے گا، وہ ایک شخص ہوگا جو اپنی سرین کے بل گھستا ہوا جہنم سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا کہ جا، جنت میں داخل ہوجا، وہ جنت میں داخل ہوگا تو دیکھے گا کہ سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ چکے، وہ لوٹ کر عرض کرے گا پروردگار ! یہاں تو سب لوگوں نے اپنے اپنے ٹھکانے قبضے میں کر لئے ہیں (میں کہا جاؤں ؟ ) اس سے کہا جائے گا کہ کیا تجھے اپنی مصیبتوں کا وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو گرفتار تھا ؟ وہ کہے گا جی ہاں ! پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو تمنا کر، وہ تمنائیں ظاہر کرے گا، اس سے کہا جائے گا کہ تو نے جتنی چیزوں کی تمنا کی، تجھے وہ بھی دی جاتی ہیں اور دنیا سے دس گنا بڑی (حکومت یا دنیا) تجھے مزید دی جاتی ہے، وہ عرض کرے گا پروردگار ! تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّنِي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيُقَالُ لَهُ انْطَلِقْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَذْهَبُ يَدْخُلُ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ قَالَ فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ قَالَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ تَمَنَّهْ فَيَتَمَنَّى فَيُقَالُ إِنَّ لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلوں تو کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أَحْسَنْتُ فِي الْإِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ إِذَا أَحْسَنْتَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِذَا أَسَأْتَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا، یہ سن کر حضرت اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی، یہودی میرے حصے کا منکر ہوگیا، میں اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لے آیا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ "
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَقَالَ الْأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ احْلِفْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ مَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک دن نبی ﷺ ابوبکر (رض) کے ساتھ میرے پاس سے گذرے اور فرمایا اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، لیکن میں اس پر امین ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا کوئی ایسی بکری تمہارے پاس ہے جس پر نر جانور نہ کو دا ہو ؟ میں نبی ﷺ کے پاس ایسی بکری لے کر آیا، نبی ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو اس میں دودھ اتر آیا، نبی ﷺ نے اسے ایک برتن میں دوہا، خود بھی پیا اور حضرت ابوبکر (رض) کو بھی پلایا، پھر تھن سے مخاطب ہو کر فرمایا سکڑ جاؤ، چناچہ وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے، تھوڑی دیر بعد میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے بھی یہ بات سکھا دیجئے، نبی ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی کہ اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، تم سمجھداربچے ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نبی ﷺ کے پاس ایک اندر سے کھدا ہوا پتھر لے کر آئے اور اس میں دودھ دوہا، نبی ﷺ نے بھی اسے نوش فرمایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے اور میں نے بھی اسے پیا، تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے بھی یہ قرآن سکھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسل نے فرمایا تم سمجھدار بچے ہو، چناچہ میں نے نبی ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر ستر سورتیں یاد کرلیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ بِإِسْنَادِهِ قَالَ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مَنْقُورَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ وَشَرِبْتُ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ قَالَ إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو قلب محمد ﷺ کو سب سے بہتر پایا اس لئے اللہ نے ان ہی کو اپنے لئے منتخب فرما لیا اور انہیں پیغمبری کا شرف عطاء کر کے مبعوث فرمایا : پھر قلب محمد ﷺ کو نکال کر دوبارہ اپنے بندوں کے دلوں پر نظر فرمائی تو نبی ﷺ کے صحابہ کرام (رض) کے دل کو سب سے بہترین پایا، چناچہ اللہ نے انہیں اپنے نبی کا وزیر بنادیا، جو ان کے دین کی بقاء کے لئے اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں، اس لئے مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جو چیز مسلمانوں کی نگاہوں میں بری ہو، وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ فَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ يُقَاتِلُونَ عَلَى دِينِهِ فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ سَيِّئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہوسکتا ہے تمہیں ایسی اقوام کا زمانہ بھی ملے جو نماز کو اپنے وقت مقررہ سے ہٹا کر پڑھیں، اگر تم انہیں پاؤ تو نماز کو اس کے وقت مقررہ پر اپنے گھر میں ہی پڑھ لینا، پھر جب وہ پڑھیں تو ان کے ساتھ بھی شریک ہوجانا اور اسے نفلی نماز سمجھ لینا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ صَلَاةً لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِذَا أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ فِي الْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہوگئی یا بیشی ؟ بہرحال ! جب سلام پھیرا تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا نماز کے بارے کوئی نیا حکم نازل ہوگیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، کیا ہوا ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا آپ نے تو اس اس طرح نماز پڑھائی ہے، یہ سن کر نبی ﷺ نے اپنے پاؤں موڑے اور سہو کے دو سجدے کر لئے، پھر جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہوجائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کرلے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرلے۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ قَالَ لَا وَمَا ذَاكَ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَثَنَى رِجْلَيْهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّلَاةَ فَإِذَا سَلَّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز عشاء کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَيُؤْخَذُ بِعَمَلِهِ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ ﷺ نے حرام قرار نہیں دیا، نیز تعویذ لٹکانے کو اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الرُّكَيْنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ تَخَتُّمَ الذَّهَبِ وَجَرَّ الْإِزَارِ وَالصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ قَالَ جَرِيرٌ إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ نَتْفَهُ وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے، فرمایا ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں، چناچہ میں نے تلاوت شروع کردی اور جب میں اس آیت پر پہنچا " وہ کیسا وقت ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے، تو میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُلَيْمَانُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ قُلْتُ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنَّنِي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا قَالَ رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ دُمُوعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنو بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو عبدالرحمن ! آپ اس آیت کو کس طرح پڑھتے ہیں " من ماء غیر اٰسن " یاء کے ساتھ الف کے ساتھ ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کیا اس آیت کے علاوہ تم نے سارا قرآن یاد کرلیا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ (آپ اس سے اندازہ لگالیں) میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اشعار کی طرح ؟ حالانکہ رکوع اور سجدہ بھی نماز کا حصہ ہے، بہت سے لوگ قرآن کریم کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا، البتہ اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت اس طرح کرے کہ وہ اس کے دل میں راسخ ہوجائے تو وہ فائدہ مند ہوتی ہے، میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ یہ کہہ کر حضرت ابن مسعود (رض) اٹھ کھڑے ہوئے اور اندرچلے گئے، تھوڑی دیر میں علقمہ آئے اور وہ بھی اندر جانے لگے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ حضرت ابن مسعود (رض) سے ان مثالوں کے متعلق پوچھئے گا جن کے مطابق نبی ﷺ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھتے تھے ؟ چناچہ انہوں نے اندر جا کر ان سے یہ سوال کیا اور باہر آنے کے بعد فرمایا کہ حضرت ابن مسعود (رض) کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ أَيَاءً تَجِدُهَا أَوْ أَلِفًا مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ غَيْرِ يَاسِنٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَوَكُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ إِنَّنِي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ الصَّلَاةِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَلَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَكِنَّهُ إِذَا قَرَأَهُ فَرَسَخَ فِي الْقَلْبِ نَفَعَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَلْقَمَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ لَنَا عَنْ النَّظَائِرِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک انصاری کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضاء حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے اس سے کہا اے دشمن خدا ! تو نے جو بات کہی ہے، میں نبی ﷺ کو اس کی اطلاع ضرور دوں گا، چناچہ میں نے نبی ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کردی جس پر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَسْمًا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
tahqiq

তাহকীক: