আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৪১৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ہمراہ جمرہ عقبہ کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہوگیا، انہوں نے وہاں کھڑے ہو کر فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اسی جگہ وہ ذات کھڑی ہوئی تھی جس پر رمی کرتے ہوئے سورت بقرہ نازل ہوئی تھی، پھر حضرت ابن مسعود (رض) نے اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنر کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ وَقَفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ يَدَيْ الْجَمْرَةِ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهَا قَالَ هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَوْقِفُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَوْمَ رَمَاهَا قَالَ ثُمَّ رَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا ثُمَّ انْصَرَفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھ سے پہلے اللہ نے جس امت میں بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اس کی امت میں سے ہی اس کے حواری اور اصحاب بھی بنائے جو اس نبی کی سنت پر عمل کرتے اور ان کے حکم کی اقتداء کرتے، لیکن ان کے بعد کچھ ایسے ناہل آجاتے جو وہ بات کہتے جس پر خود عمل نہ کرتے اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الْحَارِثِ أَظُنُّهُ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم اسی کے قریب قریشی افراد جن میں قریش کے علاوہ کسی قبیلے کا کوئی فرد نہ تھا، نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، بخدا ! میں نے مردوں کے چہروں، روشن رخ اس دن ان لوگوں سے زیادہ حسین کبھی نہیں دیکھا، دوران گفتگو عورتوں کا تذکرہ آیا اور لوگ خواتین کے متعلق گفتگو کرنے لگے، نبی ﷺ بھی ان کے ساتھ گفتگو میں شریک رہے، پھر میں نے چاہا کہ نبی ﷺ سکوت اختیار فرمائیں، چناچہ میں ان کے سامنے آگیا، نبی ﷺ نے محسوس کیا اور تشہد (کلمہ شہادت پڑھنے) کے بعد فرمایا اما بعد ! اے گروہ قریش ! اس حکومت کے اہل تم لوگ ہی ہو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ کرو، جب تم اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہوجاؤ گے تو اللہ تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کر دے گا جو تمہیں اس طرح چھیل دے گا جیسے اس ٹہپنی کو چھیل دیا جاتا ہے، اس وقت نبی ﷺ کے دست مبارک میں ایک ٹہنی تھی، نبی ﷺ نے اسے چھیلا تو وہ اندر سے سفید، ٹھوس اور چکنی نکل آئی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَرِيبٍ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَيْسَ فِيهِمْ إِلَّا قُرَشِيٌّ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ صَفْحَةَ وُجُوهِ رِجَالٍ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْ وُجُوهِهِمْ يَوْمَئِذٍ فَذَكَرُوا النِّسَاءَ فَتَحَدَّثُوا فِيهِنَّ فَتَحَدَّثَ مَعَهُمْ حَتَّى أَحْبَبْتُ أَنْ يَسْكُتَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَإِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تَعْصُوا اللَّهَ فَإِذَا عَصَيْتُمُوهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَنْ يَلْحَاكُمْ كَمَا يُلْحَى هَذَا الْقَضِيبُ لِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ لَحَا قَضِيبَهُ فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ يَصْلِدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکی دور میں ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس چند صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی میرے ساتھ چلے، لیکن وہ آدمی جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر نہ ہو، یہ سن کر میں نبی ﷺ کے ساتھ چلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے ساتھ ایک برتن لے لیا جس میں میرے خیال کے مطابق پانی تھا، میں نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوا، چلتے چلتے ہم لوگ جب مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر پہنچتے تو میں نے بہت سے سیاہ فام لوگوں کا ایک جم غفیر دیکھا، نبی ﷺ نے ایک خط کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔ چناچہ میں اپنی جگہ کھڑا رہا اور نبی ﷺ ان کی طرف بڑے جوش و خروش کے ساتھ بڑھ رہے تھے، رات بھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ طویل گفتگو فرمائی اور فجر ہوتے ہی نبی ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے فرمانے لگے اے ابن مسعود ! کیا تم اس وقت سے کھڑے ہوئے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ میرے آنے تک یہیں کھڑے رہنا۔ پھر نبی ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے پاس وضو کا پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اب جو میں نے برتن کھولا تو اس میں نبیذ تھی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ بخدا ! میں نے جب یہ برتن لیا تھا تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ اس میں پانی ہوگا لیکن اس میں تو نبیذ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا عمدہ کھجور اور طہارت بخش پانی ہی تو ہے اور اسی سے وضو فرما لیا۔ جب نبی ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو دو آدمی آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ ہماری خواہش ہے کہ آپ ہماری بھی امامت فرمائیں، نبی ﷺ نے انہیں بھی اپنے پیچھے صف میں کھڑا کرلیا اور ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فراغت ہوئی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ تھے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ نصیبین کے جن تھے، میرے پاس اپنے کچھ جھگڑوں کا فیصلہ کرانے کے لئے آئے تھے، انہوں نے مجھ سے زاد سفر بھی مانگا تھا جو میں نے انہیں دے دیا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز تھی جو آپ انہیں زاد راہ کے طور پردے سکتے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے انہیں لید دی ہے، انہیں جو بھی مینگنی ملتی ہے وہ جو بن جاتی ہے اور جو بھی ہڈی ملتی ہے اس پر گوشت آجاتا ہے، اسی وجہ سے نبی ﷺ نے مینگنی اور ہڈی سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ لِيَقُمْ مَعِي رَجُلٌ مِنْكُمْ وَلَا يَقُومَنَّ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْغِشِّ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ فَقُمْتُ مَعَهُ وَأَخَذْتُ إِدَاوَةً وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَعْلَى مَكَّةَ رَأَيْتُ أَسْوِدَةً مُجْتَمِعَةً قَالَ فَخَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ قُمْ هَاهُنَا حَتَّى آتِيَكَ قَالَ فَقُمْتُ وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَتَثَوَّرُونَ إِلَيْهِ قَالَ فَسَمَرَ مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا حَتَّى جَاءَنِي مَعَ الْفَجْرِ فَقَالَ لِي مَا زِلْتَ قَائِمًا يَا ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَمْ تَقُلْ لِي قُمْ حَتَّى آتِيَكَ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَفَتَحْتُ الْإِدَاوَةَ فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَخَذْتُ الْإِدَاوَةَ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مَاءً فَإِذَا هُوَ نَبِيذٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ قَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْهَا فَلَمَّا قَامَ يُصَلِّي أَدْرَكَهُ شَخْصَانِ مِنْهُمْ قَالَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَؤُمَّنَا فِي صَلَاتِنَا قَالَ فَصَفَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى بِنَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَؤُلَاءِ جِنُّ نَصِيبِينَ جَاءُوا يَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ فِي أُمُورٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ وَقَدْ سَأَلُونِي الزَّادَ فَزَوَّدْتُهُمْ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَهَلْ عِنْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ تُزَوِّدُهُمْ إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ قَدْ زَوَّدْتُهُمْ الرَّجْعَةَ وَمَا وَجَدُوا مِنْ رَوْثٍ وَجَدُوهُ شَعِيرًا وَمَا وَجَدُوهُ مِنْ عَظْمٍ وَجَدُوهُ كَاسِيًا قَالَ وَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يُسْتَطَابَ بِالرَّوْثِ وَالْعَظْمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے نماز کے درمیان اور اختتام کا تشہد سکھایا ہے اور جب درمیان نماز یا اختتام نماز پر اپنے بائیں سرین پر بیٹھتے تو یوں کہتے تھے کہ " تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں " پھر اگر نماز کا درمیان ہوتا تو نبی ﷺ تشہد پڑھ کر کھڑے ہوجاتے تھے اور اگر اختتام نماز ہوتا تو تشہد کے بعد نبی ﷺ جو چاہتے دعاء مانگتے، پھر سلام پھیر دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ يُسَلِّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو حضرت ابن مسعود (رض) سے یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس جاتے تھے یا بائیں جانب سے ؟ انہوں نے فرمایا نبی ﷺ جہاں سے چاہتے تھے واپس چلے جاتے تھے اور آپ ﷺ کی واپسی اکثر بائیں جانب سے اپنے حجرات کی طرف ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنْ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنْ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ كَانَ يَنْصَرِفُ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ حَيْثُ أَرَادَ كَانَ أَكْثَرُ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی اپنے حجرات کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ أَنَّ الْأَسْوَدَ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَّةَ مَا يَنْصَرِفُ مِنْ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن لوگ اکٹھے تھے، اس وقت حضرت عمر (رض) کی طرف سے حضرت عماربن یاسر (رض) کوفہ کے گورنر تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) وزیر خزانہ تھے، حضرت ابن مسعود (رض) نے سائے کو دیکھا تو وہ تسمہ کے برابر ہوچکا تھا، وہ فرمانے لگے کہ اگر تمہارے ساتھی (گورنر) نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی نکل آئیں گے، بخدا ! حضرت ابن مسعود (رض) کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نماز، نماز کہتے ہوئے باہر نکل آئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ إِذْ نَظَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى الظِّلِّ فَرَآهُ قَدْرَ الشِّرَاكِ فَقَالَ إِنْ يُصِبْ صَاحِبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْ الْآنَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا فَرَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ كَلَامِهِ حَتَّى خَرَجَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَقُولُ الصَّلَاةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھنیچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہوگیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا اور اس کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہوجایا کرنا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ قَالَ فَأَقَامَ الظُّهْرَ لِيُصَلِّيَ فَقُمْنَا خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ عَمِّي ثُمَّ جَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ قَامَ بَيْنَنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفًّا وَاحِدًا قَالَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً قَالَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ وَأَلْصَقَ ذِرَاعَيْهِ بِفَخِذَيْهِ وَأَدْخَلَ كَفَّيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ قَالَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو شریح خزاعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) کے دور خلافت میں سورج گرہن ہوا، مدینہ منورہ میں اس وقت حضرت ابن مسعود (رض) بھی تھے، حضرت عثمان (رض) نکلے اور لوگوں کو سورج گرہن کی نماز ہر رکعت میں دو رکوعوں اور دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی اور نماز پڑھا کر اپنے گھر واپس تشریف لے گئے جبکہ حضرت ابن مسعود (رض) عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ، کے حجرے کے پاس ہی بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہمیں سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، اس لئے جب تم ان دونوں کو گرہن لگتے ہوئے دیکھو تو فورا نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو، اس لئے کہ اگر یہ وہی بات ہوئی جس سے تمہیں ڈرایا جاتا ہے ( اور تم نماز پڑھ رہے ہو) تو تم غفلت میں نہ ہو گے اور اگر یہ وہی علامت قیامت نہ ہوئی تب بھی تم نے نیکی کا کام کیا اور بھلائی کمائی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْخَطْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَبِالْمَدِينَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ فَخَرَجَ عُثْمَانُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ وَجَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتْ الَّتِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَاكْتَسَبْتُمُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک ؟ فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ قَالَ سَعْدٌ قُلْتُ لِأَبِي حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک ؟ فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ وَرُبَّمَا قَالَ الْأُولَيَيْنِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه نُوحُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا وہ شخص ہوگا جو جہنم میں سے سب سے آخر میں نکلے گا، وہ ایک شخص ہوگا جو اپنی سرین کے بل گھستا ہوا جہنم سے نکلے گا، اس سے کہا جائے گا کہ جا، جنت میں داخل ہوجا، وہ جنت میں داخل ہوگا تو اسے خیال آئے گا کہ سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ چکے اور جنت تو بھر چکی (میں کہاں جاؤں) اس سے کہا جائے گا کہ جا، جنت میں داخل ہوجا، تین مرتبہ اس طرح ہوگا، پھر اللہ اس سے فرمائے گا کہ جا، تجھے دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ عطاء کیا جاتا ہے، وہ عرض کرے گا پروردگار ! تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ یہ شخص تمام اہل جنت میں سب سے کم تر درجہ کا آدمی ہوگا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ حَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ وَجَدْتُهَا مَلْأَى فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى ثَلَاثًا فَيَقُولُ اذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا قَالَ يَقُولُ رَبِّ أَتَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ وَكَانَ يُقَالُ هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین مقرر کیا گیا ہے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَيْسَ يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے دور باسعادت میں معجزات کو برکات سمجھتے تھے اور تم ان سے خوف محسوس کرتے ہو، دراصل حضرت ابن مسعود (رض) دشمن کے زمین میں دھنسنے کی خبر سنی تھی، وہ مزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، پانی نہیں مل رہا تھا، نبی ﷺ کی خدمت میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس میں ڈالا اور انگلیاں کشادہ کر کے کھول دیں، نبی ﷺ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ پڑے اور نبی ﷺ فرماتے جا رہے تھے وضو کے لئے آؤ، یہ برکت اللہ کی طرف سے ہے، میں نے اس سے اپنا پیٹ بھرا اور لوگوں نے بھی اسے پیا، وہ مزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کھانے کی تسبیح سنتے تھے حالانکہ لوگ اسے کھا رہے ہوتے تھے۔
قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَسَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ بِخَسْفٍ قَالَ كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطْلُبُوا مَنْ مَعَهُ يَعْنِي مَاءً فَفَعَلْنَا فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِي إِنَاءٍ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّيْهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ فَمَلَأْتُ بَطْنِي مِنْهُ وَاسْتَسْقَى النَّاسُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا اور جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا اور اللہ اس سے ناراض ہوگا، یہ سن کر اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک کنواں مشترک تھا، ہم اس کا مقدمہ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا أَوْ تَصِفُهَا لِزَوْجِهَا أَوْ لِلرَّجُلِ كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ أَوْ قَالَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَسَمِعَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ابْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ فِيَّ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رَجُلٍ اخْتَصَمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِئْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے " ولقد راہ نزلۃ اخری " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے جن سے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ الدُّرُّ وَالْيَاقُوتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس ان کے گھر تشریف لے گئے، نماز کا وقت آیا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کہنے لگے اے ابو عبدالرحمن ! آگے بڑھیے کیونکہ آپ ہم سے علم میں بھی بڑے ہیں اور عمر میں بھی بڑے ہیں، انہوں نے فرمایا نہیں آپ آگے بڑھیے، ہم آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لئے آپ ہی کا زیادہ حق بنتا ہے، چناچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) آگے بڑھ گئے اور جوتے اتار دیئے، جب نماز ختم ہونے پر انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت ابن مسعود (رض) فرمانے لگے جوتے اتارنے کی کیا ضرورت ہے، کیا وادی مقدس میں تھے، میں نے نبی ﷺ کو موزوں اور جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ حَدِيثِ عَلْقَمَةَ فَهُوَ هَذَا الْحَدِيثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ قَالَ لَا بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ فَأَنْتَ أَحَقُّ قَالَ فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ مَا أَرَدْتَ إِلَى خَلْعِهِمَا أَبِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ أَنْتَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ
tahqiq

তাহকীক: